دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ - سابق ریاست حیدرآباد کی امداد - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-12-17

دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ - سابق ریاست حیدرآباد کی امداد

darul-uloom-nadwatul-ulama-hyderabad-help
دارالعلوم ندوۃ العلماء کو ہندوستان کی ایک اہم ترین دانش گاہ کی حیثیت حاصل ہے جس کے چرچے بیرونی ممالک خاص کر مسلم لکوں میں بھی ہیں۔ندوۃ العلماء نے 1316ھ م 1898ء میں لکھنومیں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔ پہلے ابتدائی درجہ قائم ہوا اور پھر یہ مدرسہ بتدریج ترقی کرتے کرتے دارالعلوم کے درجے پر پہنچا ۔ یہ وہ نامور دانش گاہ ہے جس سے ابتداء ہی سے عظیم المرتبت شخصیتیں اور جید علم وابستہ رہے اور اب مولانا ابوالحسن ندوی جیسے مفکر اسلام اس کے ریکڑ ہیں جنہیں عالم اسلام میںنہایت عزت و احترام سے دیکھاجاتا ہے ۔ سابق ریاست حیدرآباد نے بیرون ریاست علمی تعمیری سر گرمیوں اور اعلیٰ مقاصد کی سر پرستی کے لئے فیاضی کے جو مظاہرے کئے تھے ندوۃ العلماء کو دی گئی امداد بھی ان میں شامل ہے ۔

ندوۃ العلماء لکھنو کو سابق ریاست حیدرآباد کی جانب سے پچاس سال سے زیادہ مدت تک مالی امداد دی جاتی رہی ۔ یہ امداد جو پہلے پہل 1895ء میں منظور ہوئی تھی آصف جاہی ریاست کے خاتمے 1948ء تک جاری رہی۔ ابتداء میں ایک سو روپے ماہور امداد جاری ہوئی تھی جو تقریباً ربع صدی تک جاری رہنے کے بعد دیڑھ سال کے لئے مسدود کردی گئی ۔بعد ازاں 1923 میں دوبارہ دارالعلوم ندوۃ العلما کے نام امداد جاری ہوئی اوراس امداد کو ایک سو روپے ماہوار سے بڑھاکر تین سو روپے ماہوار کردیا گیا ۔ 1944ء میں اس امداد میں مزید اضافہ ہوا اور امداد چھ سو روپے ماہوار کردی گئی ۔ مستقل مالی امداد دینے کے علاوہ دو مرتبہ دس ہزار اور تقریباً نو ہزار روپے کلدار ادا کرکے ادارہ ندوۃ العلما کو قرض کے بوجھ سے بھی نجات دلائی گئی ۔ آندھرا پردیش سٹیٹ آرکائیوز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں محفوظ ریکارڈ کے ذخائر سے ندوۃ العلماء اور دارالعلوم سے متعلق چند مسلیں دستیاب ہوئی ہیں جن کا مطالعہ اور تجزیہ کرنے کے بعد ان کو دی گئی مالی امداد کی کارروائیوں کا خلاصہ ذیل میں پیش کیاجاتا ہے۔

آصف جاہی خاندان کے چھٹے حکمراں نواب میر محبوب علی خاں آصف سادس (دور حکمرانی 1884ء۔1911ء) کے عہدمیں جبکہ وقار المہام(صداعظم) تھے ندوۃ العلما لکھنو کے نام پچاس روپے ماہوار امداد 1304 ف م 1895ء میں جاری ہوئی تھی۔چند ماہ بعد مولوی محمد علی کی درخواست پر ان کی پچاس روپے ماہانہ امداد بھی ندوۃ العلماء کے نام منتقل کردی گئی۔ اس طرح ندوۃ العلما کی امداد ایک سو روپے ماہوار ہوگئی ۔ ندوۃ العلماء کو یہ مالی امداد جاری تھی کہ سید آل احمد وکیل آنریری مجسٹریٹ امروہہ نے ایک درخواست مورخہ 2 دسمبر 1914ء حکومت حیدرآباد کے نام روانہ کی جسمیں ندوۃ العلماء کو دی جانے والی امداد کے بارے میں ایک ریزولیوشن درج تھا ۔ اس ریزلیوشن میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ ندوۃ العلماء کو جو امداد ریاست حیدرآباد سے دی جاتی ہے اس کو اس وقت تک روک دیاجائے جب تک کہ ندوہ مذکوراپنی اصلی جمہوری حالت پر نہ آجائے اور قوم اس کی اصلاح نہ کرلے۔
ندوۃ العلماء کے بارے میں شکایت وصول ہونے پر ایک عرضداشت آخری آصف جاہی فرمان روا نواب میر عثمان علی خان آصف سابع(دور حکمرانی 1911ء ۔ 1948) کی خدمت میں پیش کی گئی جس پر انہوں نے رزیڈنسی سے تحقیقات کروانے کے لئے بذریعہ فرمان مورخہ 22؍مارچ 1915ء حکم صادر کیا ۔ اس حکم کی تعمیل میں رزیڈنسی سے تحقیقات کروائی گئی ۔ اور رزیڈنسی سے تحقیقات کے بارے میں رپورٹ وصول ہونے پر ایک عرضداشت کے ذریعہ کیفیت تحقیقات کو آصف سابع کے ملاحظے میں پیش کیا گیا جس پر بذریعہ فرمان مورخہ 7 ستمبر 1915ء یہ احکام صادر ہوئے کہ ندوۃ العلماء کو جو امداد دی جاتی ہے فی الحال امتحاناً جاری رکھی جائے اور پولیٹکل ڈپارٹمنٹ کے توسط سے رزیڈنسی کو لکھاجائے کہ ندوہ میں قطعی انتظامات ہونے پر اس کی اطلاع ہماری حکومت کو دی جائے کیونکہ ہماری امداد کا مستقل طور پر جاری رہنا ندوہ کے متعلق قطعی انتظامات ہونے پر منحصر ہے ۔ اس فرمان کی تعمیل میں ندوۃ العلما کی امداد جاری رہی لیکن اس بارے میں کوئی قطعی تصفیہ ہونے تک ماہوار امداد کو 1331 ف/نومبر 1921ء سے مسدود کردیا گیا۔

1922ء کے اوائل میںندوۃ العلما لکھنوکے اراکین نے ایک درخواست دارالعلوم کی مالی امداد کے لئے روانہ کی ۔ اس درخواست کی ابتداء میں ندوۃ العلماء کے مختصر تعارف کے بعد لکھا گیا کہ دارالعلوم کا طالب علم علوم عربیہ میں پوری مہارت رکھتا ہے ۔ وہ عربی اور اردومیں بے تکلف تقریر کر نے کے علاوہ انگریزی ادب میں بھی کار آمد معلومات رکھتا ہے اور ضروریات زمانہ سے باخبر ہونے کے ساتھ دنیوی زندگی میں بھی کسی طبقے سے پیچھے نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دارالعلوم ندوۃ العلما کی شہرت ہندوستان سے گزر کر مصرو شام تک پہنچ گئی ہے چنانچہ مصر کے ایک عالم علامہ رشید رضا نے ندوۃ العلماء کے قائم کردہ اصول پرمصرمیں ایک مدرسہ قائم کیا ہے جو دارالعلوم ندوۃ العلماء کی کامیابی کا بڑا ثبوت ہے ۔ درخواست میں دارالعلوم کی اہم ضروریات کے بارے میں بتایا گیا کہ دارالعلوم کی عمارت پر نواسی ہزار روپے صرف ہوچکا ہے اور ابھی بیالیس ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ دارالاقامہ کی تجویز ملتوی کردی گئی ہے جس کے لئے ایک لاکھ اسی ہزار روپے درکار ہیں۔ کتب خانہ کرایہ کے مکان میں ہے اس کے لئے موزوں اور مناسب عمارت کی ضرورت ہے۔ ایک مسجد کی سخت ضرورت ہے کیونکہ دارالعلوم کے گرد دور دور تک مسجد نہ ہونے سے طلبہ دارالعلوم کے ہال میں نماز پڑھتے ہیں ۔
اساتذہ اور ملازمین کے لئے احاطہ دارالعلوم میںمکانات تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور طلبہ کے وظائف کے لئے رقم درکار ہے ۔ درخواست کے آخر میں لکھا گیا کہ طلبہ کی تعداد میں اضافے سے ندوۃ العلماء کے ارکان کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن وہ دل شکستہ اور مایوس نہیں ہیں انہیں خدا پربھروسہ ہے اور وہ آصف سابع کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جن کی فیاضی اور گہر ریزی سے ملک کی قومی اور مذہبی درسگاہیں روز افزوں پروان چڑھ رہی ہیں ۔ ناظم و معتمد امور مذہبی نے اس درخواست کے بارے میں رائے دی کہ دارالعلوم کی عمارت ناتمام ہے جس کی تکمیل کے لئے بیالیس ہزار روپے کی ضرورت ہے اگر اس قدر رقم منظور کی جائے تو اس کی تکمیل کا سہرا حکومت حیدرآباد کے سر رہے گا۔ صدر الصدور نے لکھا کہ ندوۃ العلما کے ابتدائی قیام سے انہیںاس کی خدمت کی سعادت حاصل رہی ہے ۔ ہندوستان کے ان مقدس علما نے جو علم و فضل اور تقدس کے لحاظ سے مسلمانوں کے لئے سرمایہ ناز تھے اس مجلس کی بنیاد ڈالی اور اس کی نشوونما میں سعی کی۔ دارالعلوم ندوۃ العلما کی مثال نے ہندوستان کے دوسرے مشہور مدارس عربیہ کو بھی اصلاح کی جانب مائل کیا اور اس ملک میں علوم عربیہ کی بقا و ترقی میں دارالعلوم ندوۃ العلما نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔ آخر میں انہوں نے تحریر کیا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے نام پانچ سو روپے ماہوار اور دارالعلوم کی عمارت کی تکمیل کے لئے بیالیس ہزار روپے یکمشت امداد مناسب رہے گی۔ باب حکومت نے رائے دی کہ جدید امداد غیر ضروری ہے۔ ایک سو روپے ماہانہ جو پہلے دئیے جاتے تھے ۔ وہ تین سال کے لئے جاری رکھے جاسکتے ہیں بشرطیکہ آصف سابع پسند فرمائیں ۔

آصف سابع نے باب حکومت کی رائے نظر انداز کرتے ہوئے بذریعہ فرمان مورخہ 22؍ اپریل 1923ء دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو کے نام تین سو روپے کلدار ماہانہ یکم رمضان 1341ھ م 18؍اپریل 1923ء سے جاری کرنے کے احکام صادر کئے ۔
اس امداد کے جاری ہونے کے تقریباً ساڑھے چار سال بعد مولانا سید سلیمان ندوی ، معتمد دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو نے ایک درخواست مورخہ 24؍ربیع الثانی 1346ھ م 21؍اکتوبر 1927ء آصف سابع کی خدمت میں روانہ کی جسمیں انہوں نے لکھا کہ دارالعلوم مذکور کی روز افزوں ضرورت اور بعض نئے درجوں کے افتتاح اور حدیث شریف کے لئے ایک خاص مستند درس کے قیام کے سبب سوا اس کے چارہ نہیں کہ دوبارہ اس مرکز امید آستانہ اقدس کی طرف رخ کیاجائے اور پانسو ماہوار کی مزید امداد شاہی کی درخواست کی جائے اس درخواست پر صدالصدور اور صدرالمہام امورمذہبی نے امداد میں اضافہ کی سفارش کی لیکن ناظم و معتمد امور مذہبی نے لکھا کہ اس محکمہ میں اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس بارے میں باب حکومت میں بالاتفاق طے پایا کہ موجودہ امداد کافی ہے مزید امداد کے لئے کوئی وجہ نہیں پائی جاتی ۔ جب اس کارروائی کی تفصیلات ایک عرضداشت کے ذریعہ آصف سابع کی خدمت میں پیش کی گئیں توانہوں نے باب حکومت کی قرار داد سے اتفاق کیا اور بذریعہ فرمان مورخہ 4؍مارچ 1929ء یہ حکم صادر کیا، موجودہ امداد سردست کافی ہے اضافہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

ناظم ندوۃ العلما کی جانب سے تقریباً پندرہ سال بعد پھر ایک درخواست حکومت ریاست حیدرآباد کو بھیجی گئی ۔ اس درخواست میں دارالعولوم کی تفصیلی کیفیت اور موجودہ حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ مالی پریشانیاں ناقابل برداشت ہوگئی ہیں ماہانہ امداد میں اضافہ کے ساتھ ہی ساتھ پندرہ ہزار روپے قرض کے بوجھ سے بھی سبکدوش کرنے کی استدعا کی گئی۔ ایک عرضداشت میں اس درخواست کا خلاصہ، اس پر محکمہ فینانس کی رائے اور باب حکومت کی قرار داد کو درج کرکے اس آصف سابع کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ جس پر آصف سابع نے حسب ذیل فرمان مورخہ 2؍مارچ 1944ء کے ذریعہ ماہانہ امداد میں اضافہ اور قرض کی ادائی کے لئے دس ہزار روپے کئے۔

کونسل کی رائے کے مطابق مذکورہ مدرسہ کی موجودہ امداد میں تین سو روپے کلدار ماہانہ کا اضافہ کیا جائے یکم اردی بہشت سے اور ادائی قرضہ کے لئے فینانس کی مجوزہ گنجائش سے یکمشت دس ہزار کلدار دئے جائیں یعنی منجانب گورنمنٹ حیدرآباد چھان بین کر کے راست قرضہ اداہونا مناسب ہوگا اور اگر اس مقدار میں کامل ادائی نہیں ہوسکتی ہے تو اسوقت پھر اس پر غور ممکن ہے۔
اس فرمان کی تعمیل میں ڈاکٹر ناظر یار جنگ رکن مجلس انتظامی ادارہ ندوۃ العلما لکھنو کو نظامتامور مذہبی نے بحیثیت نمائندہ حیدرآباد حسابات کا معائنہ کرکے قرضوں سے متعلق رپورٹ کرنے کے لئے لکھا ۔ چنانچہ انہوں نے تنقیح کے بعد رپورٹ روانہ کی کہ قرضہ جات کی رقم اٹھارہ ہزار نو سو ترپن روپے پندرہ آنے ایک پائی۔1۔15۔18953 ہے۔ اس لئے بہ لحاظ منظوری دس ہزار روپے کلدار قرض کی ادائیگی کے لئے بھیج دئے گئے ۔ اب ندوۃ العلما ء دس ہزار روپے قرض کے بارے میں سبکدوش ہوچکا تھا مگر ابھی تقریباً نو ہزار روپے واجب الادا تھے اور آصف سابع نے اپنے فرمان میں لکھا تھا کہ اگر اس مقدار (دس ہزار روپے ) میں کامل ادائی نہیں ہوسکتی ہے تو اس وقت پھر اس پر غور ممکن ہے ان حالات کے پیش نظر اندرون ایک سال سید عبدالعلی ناظم ندوۃ العلما لکھنو نے ناظم امورمذہبی کے نام ایک درخواست میں لکھا کہ بقیہ قرض کی ادائی کے لئے مناسب کارروائی کی تحریک فرماکر ممنون فرمائیں۔
اس درخواست پر معتمد عدالت و کوتوالی و امورعامہ نے لکھا کہ ادارہ ندوۃ العلما لکھنو ہندوستان کے بڑے اور موقراداروں میں سے ہے اور اسے بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے ۔ مولانا سید سلیمان ندوی اس کارروائی کے سلسلے میں حیدرآباد آئے ہوئے ہیں۔بہتر ہوگا کہ اسکا جلد تصفیہ کردیاجائے ۔ محکمہ فینانس نے رائے دی کہ منظوری کی صورت میں قرض کی ادائی بعد تحقیق و اطمینان راست حکومت حیدرآباد کے ذریعہ کی جائے گی۔ باب حکومت نے قرض کی ادائی کے لئے قرار دادمنظورکی۔ ایک عرضداشت میں اس کارروائی کی ساری تفصیلات اور باب حکومت کی قرار داد لکھ کر اسے آصف سابع کے ملاحظے میں پیش کیاگیا جس پر آصف سابع نے قرض کی ادائی کے لئے رقمی منظوری دیدی ۔ اس بارے میں جو فرمان مورخہ 15؍ مئی 1954ء صادر ہوا تھا اس کا متن درج ذیل ہے ۔

کونسل کی رائے کے مطابق ادارہ ندوۃ العلما لکھنو کو ادائی قرضہ جات کے لئے 1۔15۔8953 روپے بشرائط مجوزہ فینانس بطور امداد دئیے جائیں۔


ماخوذ:
قدرداں حیدرآباد
(آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذخائر سے اخذ کردہ مواد کی بنیاد پر قلم بند کیے گئے تحقیقی مضامین)
ڈاکٹر سید داؤد اشرف
سن اشاعت: دسمبر 1996
ناشر : شگوفہ پبلی کیشنز

Darul Uloom Nadwatul Ulama, Islamic institution at Lucknow helped by State of Hyderabad. Research Article by: Dr. Dawood Ashraf

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں