میر کلّو کی گواہی - ڈراما از انجم مانپوری - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-04-05

میر کلّو کی گواہی - ڈراما از انجم مانپوری

meer-kallu-ki-gawahi-anjum-manpuri
نور محمد انجم مانپوری (پیدائش: 1300ھ م 1881ء - وفات: 27/اگست 1958ء)
اپنے عہد کے ممتاز شاعر اور طنز و مزاح نگار تھے جو گیا (بہار) میں پیدا ہوئے اور وہیں انتقال کیا۔ ندوۃ العلما لکھنؤ میں دوران تعلیم جید عالم دین اور دانشور سید سلیمان ندوی ان کے ہم سبق اور ہم جلیس تھے۔ ان کی ادبی زندگی کا سب سے اہم موڑ رسالہ "ندیم" کا اجرا ہے جو ان کی ادارت میں 1931 سے 1938 تک نکلتا رہا۔ مانپوری کی زیادہ تر مزاحیہ تحریریں "ندیم" ہی میں شائع ہوئیں، چنانچہ جب اگست-1931 کے شمارہ میں مانپوری کا شاہکار "میر کلّو کی گواہی" شائع ہوا تو طنز و مزاح کی دنیا میں مانپوری کی دھوم مچ گئی۔ یہ ڈراما مانپوری کی بذلہ سنجی، حاضر جوابی اور برجستگی کا ایک عمدہ تخلیقی نمونہ ہے اور اردو کی ظریفانہ ادبی روایت میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ڈراما کو آڈیو شکل میں یوٹیوب پر پیش کیا جا چکا ہے۔
تعمیرنیوز کی جانب سے سائبر دنیا میں پہلی بار تحریری شکل میں پیش خدمت ہے۔
احسن اپنے گواہوں کے نہ آنے کی وجہ سے مقدمہ کی تاریخ بڑھانے کے لئے مہلت کی درخواست دے کر بار لائبریری میں اطمینان سے بیٹھا ہوا اپنے وکیل سے باتیں کر رہا تھا کہ اس کا کارپرداز گھبرایا ہوا پہنچا اور بولا کہ گواہوں کی پکار ہو چکی ہے ، حاکم نے مہلت کی درخواست نامنظور کر دی، گواہ حاضر نہ ہوں گے تو مقدمہ خارج کر دیا جائے گا۔ احسن کی بدحواسی دیکھ کر اس کے وکیل نے کہا کہ گبھرانے کی کون سی بات ہے۔ گواہی دینے والوں کی یہاں کمی نہیں۔ چنانچہ فن گواہی کے مشہور ماہر، اور پیشہ وار گواہوں کے استاد میر کلو صاحب بلائے گئے۔ وکیل صاحب نے احسن سے پانچ روپے لے کر ان کے حوالے کئے اور ساتھ لئے اجلاس پر پہنچ گئے۔ میر صاحب حاکم کو سلام کر کے کٹہرے میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ احسن سخت متحیر تھا کہ مقدمہ کی حالت سے میر صاحب بالکل واقف نہیں۔ مدعا علیہ کون ہے، کیا نام ہے ، کتنی رقم کا دعویٰ ہے ، نہ کچھ بتلایا گیا نہ اظہار کی کوئی تعلیم دی گئی، آخر یہ اظہار کریں گے تو کیا؟ غریب سمجھا کہ مقدمہ ہوا چوپٹ۔ فریق کے وکیل کو پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ احسن کا کوئی اصلی گواہ نہیں آیا ہے ، میر کلو کو کٹہرے میں دیکھ کر اور بھی خوش ہوا کہ یہ بھاڑے کا ٹٹو کہاں تک چلے گا؟ اگرچہ چیف کے سوالات سے مقدمہ کی نوعیت کا اندازہ کچھ میر صاحب نے اپنی ذہانت سے لگا لیا اوریہ بھی سمجھ گئے کہ احسان علی خاں اصلی مقروض کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب بہ حیثیت وارث ان کے بیٹے شاہد خاں پر نالش دائر کی گئی ہے۔ لیکن احسان علی خاں جنہوں نے تمسک لکھا تھا ان کی صورت شکل، وضع، عمر سے واقفیت نہ ہونے کے باعث دل میں کچھ سونچنے لگے کہ فریق کے وکیل نے جرح کے سوالات شروع کر دئے۔ میر صاحب دروغ حلفی کے جرم میں ایک بار سزا پا چکے تھے، اس لئے پہلا سوال ان سے یہی کیا گیا۔

وکیل: میر کلو صاحب ! آپ کبھی جیل کی بھی سیر کر آئے ہیں؟

میر صاحب: آج کل کون ملک کا خادم ایسا ہے جو جیل سے نہ آیا ہو۔

وکیل: آپ کو ملک کی کس خدمت کے صلہ میں یہ فخر حاصل کرنے کا موقع ملا؟

میر صاحب: وہی قانون شکنی۔

وکیل: کس قانون کے توڑنے کی خدمت آپ نے اپنے ذمہ لی تھی۔

میر صاحب: گاندھی جی نے نمک کے قانون توڑنے کا بیڑا اٹھایا تھا ، اور بعض لیڈروں نے جنگلات کے قانون کی خلاف ورزی کو اپنے ذمہ لیا۔ میرے خیال میں سب سے زیادہ ضرورت قانون شہادت کی اصلاح کی ہے۔ اسی لئے قانون شکنی کے لئے میں نے اس کو منتخب کیا۔

وکیل: (حاکم کو مخاطب کر کے) حضور یہ دروغ حلفی کے جرم میں سز ا پا چکے ہیں، مگر اپنی زبان سے صاف اقرار کرنا نہیں چاہتے۔

حاکم: تو آپ اس فیصلہ کی نقل داخل کر سکتے ہیں ، دوسرا سوال کیجئے۔

وکیل: کیوں میر صاحب، احسان علی مرحوم کو آپ جانتے تھے؟

میر صاحب: اے حضور! جاننے کی ایک ہی کہی، خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے، ہم دونوں ایک جان دو قالب تھے، نہ مجھے ان کے بغیر آرام نہ ان کو میرے دیکھے بغیر چین۔

وکیل: ان کی عمر کیا تھی؟

میر صاحب: یہی تیس اور ساٹھ کے درمیان ہی تھی۔

وکیل: یہ تیس اور ساٹھ کے درمیان کہنے سے کام نہیں چلے گا، صاف کہئے وہ بوڑھے تھے یا جوان؟

میر صاحب: عمر کے لحاظ سے تو بہت زیادہ بوڑھے نہیں تھے مگر اکثر بیمار رہنے کی وجہ سے بوڑھے معلوم ہوتے تھے۔

وکیل: بال سفید تھے یا سیاہ؟

میر صاحب: نزلہ کی وجہ سے بال سفید ہو گئے تھے لیکن جب خضاب لگاتے تھے تو جوان معلوم ہوتے تھے۔

وکیل: رنگ گورا تھا یا کالا؟

میر صاحب: نہایت ہی گورے چٹے آدمی تھے لیکن وہی بیماری کی وجہ سے رنگ کچھ سانولا سا ہو گیا تھا۔

وکیل: لانبے تھے یا ناٹے؟

میر صاحب: قد تو لانبا تھا لیکن کمر جھک جانے کی وجہ سے ناٹے معلوم ہوتے تھے۔

وکیل نے جھلاکر کہا سوال کا صاف جواب کیوں نہیں دیتے؟ یہ کیا لانبے تھے اور ناٹے بھی گورے بھی تھے اور سانولے بھی۔ بال سفید تھے اور سیاہ بھی۔ اس سے حلیہ کا کہیں صحیح اندازہ مل سکتا ہے ؟

میر صاحب: جناب خفا ہونے کی تو کوئی بات نہیں ایک دو روز کی ملاقات ہوتی تو البتہ اس وقت کی خاص وضع اور صورت کو بیان کرتا۔ برسوں رات دن کا ساتھ رہا، جن مختلف حالتوں میں میں نے دیکھا صاف صاف کہہ دیا۔

وکیل: اچھا احسان علی مرحوم داڑھی بھی رکھتے تھے یا نہیں؟

میر صاحب: وہ عجیب آزاد وضع اور رندانہ مشرب کے آدمی تھے، جی میں آیا تو چاروں ابروؤں کا صفایا بول دیا، اور کبھی داڑھی بڑھائی تو خواجہ خضر کو بھی مات دے دی۔

وکیل: فضول گوئی کی ضرورت نہیں، میں نے پوچھا تھا کہ داڑھی رکھتے تھے یا نہیں، صرف ہاں یا نہیں کہہ دیتے، اس کے علاوہ کچھ زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں، دنیا بھر کے قصہ سے ہمیں مطلب نہیں۔

میر صاحب: بہتر، آئندہ سے انہیں دو لفظوں میں جواب دوں گا۔

وکیل: احسان علی خاں مرحوم برابر رہتے کہاں تھے؟

میر صاحب: "جی ہاں"

وکیل: یہ جی ہاں، کیا؟ میں پوچھتا ہوں کہ کہاں رہتے تھے، تو آپ فرماتے ہیں، جی ہاں، یہ اس سوال کا جواب ہوا؟

میر صاحب: جناب ہی نے فرمایا تھا کہ جواب میں صرف ہاں یا نہیں کہو۔

وکیل: میں نے ہر سوال کے لئے تھوڑے ہی یہ جواب بتلایا تھا، اچھا اب کہئے کہ وہ کہاں رہتے تھے۔

میر صاحب: اپنے مکان میں۔

وکیل: لاحول ولا قوۃ ! عجیب سمجھ ہے، میرا اس سے مطلب یہ ہے کہ شہر میں رہتے تھے یا دیہات میں؟

میر صاحب: دونوں جگہ، کبھی شہر کبھی دیہات۔

وکیل: دیہات میں ان کا مکان کس رخ کا ہے ، آپ تو وہاں بھی ساتھ جاتے ہوں گے؟

میر صاحب: جی ہاں برابر ساتھ دیہات بھی جایا کرتا تھا۔

وکیل: اصلی سوال کو آپ کھا گئے ، دیہات میں ساتھ رہنے کو میں نہیں پوچھتا، اس کا جواب دیجئے کہ وہاں مکان کس رخ کا ہے ؟

میر صاحب: (اتنی دیر میں جواب سوجھ گیا) شہر میں رہنے والوں کا دیہات میں اکثر تیر بہک جاتا ہے۔ وہاں جب جب گیا سمت کا مجھے صحیح پتہ ہی نہ لگا۔

وکیل: یہ روپے کس کام کے لئے انہوں نے لئے تھے؟

میر صاحب: اپنی ضرورت کے لئے۔

وکیل: کون سی ضرورت، کیا کوئی خاص ضرورت آپڑی جو بغیر قرض لئے کام نہیں چلتا؟

میر صاحب: وہ نہایت ہی اولوالعزم تھے، خاص اور عام دونوں ضرورتیں ان کے لئے ایک تھیں۔ اپنے پاس دو چار ہزار روپے رکھنا ضروری سمجھتے تھے۔

وکیل: کب روپے انہوں نے لئے؟

میر صاحب: جب ضرورت پڑی۔

وکیل: کتنے دن ہوئے؟

میر صاحب: تین سو ساٹھ دنوں کا ایک سال ہوتا ہے اب حساب کرنا اور جوڑ کر بتانا کہ سب ملا کر کتنے دن ہوئے ذرا مشکل ہے۔

وکیل: دنوں کو جوڑ کر بتانے کو میں نہیں کہتا، یہ بتلائیے کہ کتنے سال ہوئے؟

میر صاحب: تمسک کی مرقومہ تاریخ کو دیکھ کر آپ بھی جوڑ سکتے ہیں کہ کتنے سال ہوئے۔

وکیل: تو صاف کہئے کہ ہمیں یاد نہیں۔

میر صاحب: جی ہاں پڑھنا چھوڑے ہوئے زمانہ ہو گیا، اب حساب واقعی یاد نہیں۔

وکیل: حساب کے بھولنے یا یاد رکھنے کا سوال نہیں، تمسک کب لکھا گیا تھا، کتنا زمانہ ہوا یہ یاد ہے یا نہیں؟

میر صاحب : زمانے کے بارے میں جو آپ پوچھتے ہیں تو جہاں تک مجھے یاد آتا ہے انہوں نے اپنی زندگی ہی کے زمانے میں قرض لیا تھا۔

وکیل صاحب اس اول فول جواب سے سمجھ گئے کہ مقدمہ کے متعلق یہ حضرت کچھ بھی نہیں جانتے صرف دفع الوقتی کر رہے ہیں۔ لیکن غصہ تو اس کا تھا کہ اور باتوں کے جاننے کا کیا ذکر مدعا علیہ کی صورت تک نہیں دیکھی اور برسوں کی ملاقات ایک طرف رہی۔ رات دن ایک ساتھ رہنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اس پر کہیں سے گرفت میں نہیں آتے، آخر سوچ کر ایک ایسا سوال کیا جس سے وکیل صاحب کو یقین تھا کہ واقفیت اور دوستی کا سارا بھانڈا ہی پھوٹ جائے گا۔ وکیل صاحب نے سوال کیا۔

وکیل: کہئے میر صاحب،احسان علی صاحب مرحوم سے آپ کی دلی دوستی تھی، برسوں ایک ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے، ان کا حرف تو آپ ضرور پہچانتے ہوں گے؟

میر صاحب: یہی تو ایک کمال مرحوم میں تھا جس پر وہ برابر فخر کیا کرتے تھے وہ نہایت ہی خوشنویس ہفت قلم تھے، ہمیشہ مختلف شان سے لکھا کرتے تھے۔ قلم پر اتنا اختیار تھا کہ ان کا ایک خط کبھی دوسرے سے ملا ہی نہیں۔

اس جواب کے بعد وکیل صاحب نے سپر رکھ دی۔ دو بجے سے مقدمہ شروع ہوا تھا چار بجنے کو چند ہی منٹ باقی رہ گئے تھے۔ حاکم نے مسکرا کر وکیل صاحب سے پوچھا کہ اور کچھ پوچھنا ہے۔ وکیل صاحب نے کہا، جی نہیں۔ لیکن یکایک ایک بات یاد آ گئی۔ حاکم سے کہا کہ حضور! صرف ایک اور سوال کر کے جرح ختم کر دیتا ہوں۔ مسل کے کاغذات میں ایک جگہ احسان علی خاں مرحوم کے مرض الموت کا ضمناً تذکرہ تھا اس کو دماغ میں رکھ کر وکیل صاحب نے سوال کیا۔

وکیل: میر صاحب، یہ تو بتلائیے کہ احسان علی خاں مرحوم مرے کس بیماری سے؟

میر صاحب: (رونی صورت بناکر) ہائے رونا تو اسی کا ہے کہ ان کے علاج میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا گیا۔ حکیم، وید، ڈاکٹر سب کا علاج کیا گیا مگر کسی کو اصل مرض کا پتہ ہی نہیں لگا کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ "چوں قضا آید طبیب ابلہ شود۔"
جناب وکیل صاحب سچی بات تو یہ ہے کہ ان کو موت کی بیماری تھی۔

چار بج چکے تھے اجلاس برخواست ہوا۔ احسن کو دوسرے روز اپنے گواہوں کے لانے کے لئے کافی موقع مل گیا۔ اور یہ صرف میر صاحب کی بدولت ہوا۔ اس روز سے ہر شخص کو یقین ہو گیا کہ گواہوں کو سچے ہونے سے زیادہ ذہین اور حاضر جواب ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
میر کلو کی گواہی - بازگشت آن لائن ادبی فورم کی پیش کش اور گفتگو
ماخوذ از رسالہ:
"ندیم" ، شمارہ: اگست-1931

Meer Kallu ki Gawahi. Humorous Drama by: Anjum Manpuri

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں