مارما ڈیوک پکتھال اور ترجمۂ قرآن مجید - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-10-26

مارما ڈیوک پکتھال اور ترجمۂ قرآن مجید

فرمان -- بملاحظہ:- عرضداشت صیغۂ تعلیمات معروضۂ 25/محرم الحرام 1347ھ جو قرآن شریف کا بامحاورہ و موثر انگریزی زبان میں صحیح ترجمہ کرنے کے لیے مسٹر پکتھال کو دو سال کی رخصت بسالم ماہوار دینے کی نسبت ہے۔ || حکم:- مذکور کام کے لیے مسٹر پکتھال کو دو سال کی رخصت بسالم ماہوار دی جائے۔ 27/محرم الحرام 1347ھ
قرآن مجید کے شہرہ آفاق مترجم ، کئی معیاری علمی، ادبی اور تحقیقی کتابوں کے مصنف اور مشہور صحافی مارما ڈیوک پکتھال1875ء میں انگلستان میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے انگلستان اور یورپ کے ممالک کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی ۔ پکتھال نے مصر ، ترکی، بیروت ، شام اور بیت المقدس کی سیاحت کی جہاں کافی عرصے تک ان کا قیام رہا۔ ان ملکوں کی سیاحت اور قیام کے دوران پکتھال نے عربی زبان کی تحصیل مکمل کی اور اسلام کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کیا ۔ انہوں نے اپنے گہرے اور وسیع مطالعے کی بنیاد پر 1914ء میں اسلام قبول کیا۔
محمد مارما ڈیوک پکتھال1920ء میں بمبئی آئے ۔ مشہور اخبار بمبئی کرانیکل کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور1924ء تک یہ ذمہ داری نبھاتے رہے ۔ چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی خدمت کے لئے سابق ریاست حیدرآباد کی حکومت کی نظر انتخاب پکتھال پرپڑی۔ اس وقت ان کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی لیکن ان کی غیر معمولی قابلیت اور اعلیٰ صلاحیتوں کے پیش نظر اس رکاوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں اس خدمت کے منظور ہ گریڈ کی انتہائی یافت ایک ہزار روپے کلدار ماہوار کی پیشکش کی گئی ۔ پکتھال نے اس پیشکش کو قبول کیا۔ وہ جنوری 1925ء میں حیدرآباد آکر چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی خدمت پر رجوع ہوئے ۔ انہوں نے چادر گھاٹ ہائی اسکول کی ترقی کے لئے بڑی محنت اور طلبہ کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی اور چادر گھاٹ ہائی اسکول کو ایک مثالی درس گاہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
ڈاکٹر احمد محی الدین جو پکتھال کے دور میں چادر گھاٹ ہائی اسکول کے طالب علم تھے، اپنے ایک مضمون مطبوعہ ماہنامہ 'سب رس' ، حیدرآباد سپٹمبر 1994ء میں لکھتے ہیں کہ :
پکتھال کے مراسم مصر، ترکی اور برطانیہ کے اعلی عہدیداروں سے تھے، اسی زمانے میں وہ سیول سرویس کے منتخب افراد کی تربیت بھی کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ترجمہ قرآن کے کام میں غرق تھے مگر حیرت ہے کہ اس مصروفیت کے باوجود وہ بلا ناغہ سوائے جمعہ کی تعطیل کے، دن بھر مدرسے میں موجود رہتے۔ دوپہر کے وقفے میں نماز ظہر کی امامت بھی کرتے اور اسی گھنٹے میں اسکول کے صحن میں کچھ دیر کے لئے لڑکوں سے بے تکلف گفتگو بھی کرتے تھے ۔ ان کی گفتگو میں لطیف ظرافت جھلکتی رہتی تھی ۔ طلبہ ان کی مسکراہٹ کبھی نہیں بھول سکتے ۔

حیدرآباد میں وہ محکمہ نظامت اطلاعات عامہ اور سیول سروس ہاؤس کے نگراں کار بھی مقرر کئے گئے تھے ۔ حیدرآباد کا معروف انگریزی رسالہ 'اسلامک کلچر' 1927ء میں پکتھال کی ادارت میں جاری ہوا جسے پکتھال نے بلند پایہ علمی اور تحقیقی جریدہ بنانے کے لئے سخت محنت کی۔ حیدرآباد کے قیام تک وہی اس رسالے کے ایڈیٹر تھے۔

قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ پکتھال کا عظیم کارنامہ ہے۔ حیدرآباد کی ملازمت کے دوران ترجمے کے کام کو مکمل فرصت اور یکسوئی کے ساتھ انجام دینے کے لئے انہیں پوری تنخواہ کے ساتھ دو سال کی رخصت منظور کی گئی۔ پکتھال ترجمہ مکمل ہونے پر مصر گئے اور وہاں انہوں نے جامعہ ازہر کے اساتذہ اور دیگر علماء سے اپنے ترجمے پر مشورہ لیا اور قرآن مجید کے مشکل مقامات پر بحث و مباحثہ کیا جس کی روشنی میں انہوں نے اپنے ترجمے پر کہیں کہیں نظر ثانی بھی کی ۔
ان کا ترجمہ 1930ء میں The Meanning of tha Glorious Koran کے نام سے بیک وقت لندن اور نیویارک سے شائع ہوا ۔ گورنمنٹ سنٹرل پریس حیدرآباد سے بھی دو جلدوں میں اس کی اشاعت عمل میں آئی۔ اس ترجمے کے اب تک بے شمار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
محمد مارماڈیوک پکتھال کا انگریزی ترجمہ لازوال ہے ۔ اس سے ہمیشہ استفادہ کیاجائے گا۔ ریاست حیدرآباد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قرآن حکیم کے اس مترجم کو اس نے سر آنکھوں پر بٹھایا اور عظیم ترین مترجم کے لئے ممکنہ سہولتیں فراہم کیں ۔ یہی نہیں بلکہ اس ترجمے کی تکمیل کے بعد بھی اس مترجم قرآن کے ساتھ شایان شان سلوک روا رکھا۔
پکتھال کو صرف دس سالہ ملازمت پر ان کی اہم خدمات کے پیش نظر بطور خاص نصف تنخواہ کا وظیفہ پانچ سو روپے کلدار ماہانہ منظور کیا گیا اور ان کے انتقال پر ان کی بیوہ کو دو سو پونڈ سالانہ وظیفہ تا حیات مقرر کیا گیا۔

مارما ڈیوک پکتھال کی حیات اور کارناموں پر اردو میں چند مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں حیدرآباد کی ملازمت کے بارے میں معلومات ملتی ہیں لیکن حیدرآباد میں ان کی دس سالہ ملازمت کے بارے میں حسب ذیل تفصیلی، مستند اور اہم مواد جو آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز کے ریکارڈ پر مبنی ہے پہلی بار پیش کیا جا رہا ہے ۔

چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی جائداد کے انتظام کے متعلق سر راس مسعود ناظم تعلیمات نے اپنی ایک تحریک میں لکھا کہ :
"محکمہ تعلیمات کی ترقی کے لئے یہ امر ہمیشہ پیش نظر رہا ہے کہ فرسٹ گریڈ ہائی اسکولوں میں کم ازکم ایک ہائی اسکول کا پرنسپال قابل انگریز رہا کرے ۔ اسی اصول کے مدنظر چادر گھاٹ ہائی اسکول کی صدارت پر پہلے شاکراس اور ان کے تبادلے پر کرک پیاٹرک مامور کئے گئے تھے۔ اب کرک پیاٹرک کا انتقال ہو چکا ہے اس لئے اس جائیداد کے لئے مارما ڈیوک پکتھال کا نام پیش کیاجاتا ہے ۔ پکتھال آج کل کی علمی دنیا میں مشاہیر میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے انگلستان اور یورپ کے دیگر ممالک میں تعلیم پائی ہے ۔ انگریزی ، جرمن ، فرانسیسی اطالوی اور ہسپانوی زبانوں سے واقف ہونے کے علاوہ وہ عربی میں بھی بہت اچھی استعداد رکھتے ہیں ۔ وہ 1876ء میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلامی ممالک میں عربوں، ترکوں اور مصریوں کی صحبت میں گزارا ہے ۔ اسلامی ممالک کے بارے میں ان کی بہت سی تصانیف ہیں۔ انگلستان اور امریکہ کے تمام معتبر اخبارات اور رسائل میں ان کتابوں کی تعریف و توصیف کے ساتھ اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ مشترقی ممالک کے حالات اور تمدن کو سمجھنے کے لئے ان کا مطالعہ لازمی ہے ۔ یہ کتابیں اس قدر مقبول ہوئی ہیں کہ ان کا ترجمہ فرانسیسی، جرمن ، دینش، ہنگرین اور روسی زبانوں کے علاوہ ایشیا کی متعدد زبانوں میں بھی ہوا ہے ۔
مارما ڈیوک پکتھال کے خلوص اور ہمدردی کی بنا پر ترکی کی حکومت ان کو اپنے ایک صوبہ کا گورنر مقرر کرنے کا ارادہ کر رہی تھی لیکن جنگ کا آغاز ہونے کی وجہ سے یہ تقرر عمل میں نہ لایا نہ جا سکا تاہم ان کے لئے جو عزت و وقعت ترکوں کے دلوں میں تھی اس کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ ترکی کی ایک اہم شاہراہ کو ان کے نام سے موسوم کرنے کی تجویز تھی ۔
پکتھال 1924ء سے چند ماہ قبل تک بمبئی کرانیکل کے ایڈیٹر تھے چونکہ ان کے جیسے قابل اور مشہور یورپین کی خدمات سے مستفید ہونے کا ہندوستان میں شاذ و نادر ہی موقع ملتا ہے اس لئے محکمہ تعلیمات کے لئے ان کی خدمات جلد سے جلد حاصل کی جائیں ۔ چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی جائیداد (500 تا 1000 روپے) پر اس سے بہتر کوئی انتظام نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں مارما ڈیوک پکتھال سے یہی استفسار کرنے کی اجازت دی جائے کہ آیا وہ اس خدمت کو دو سال تک اس کے انتہائی گریڈ ایک ہزار روپے ماہوار کے ساتھ قبول کرنے کے لئے آمادہ ہیں یا نہیں؟"

معتمد تعلیمات اور محکمہ فینانس نے ناظم تعلیمات کی پیش کردہ اہم تحریک سے مکمل طور پر اتفاق کیا۔ ان سفارشات پر نواب میر عثمان علی خان آصف سابع نے اپنے فرمان مورخہ 22/ڈسمبر 1924ء کے ذریعہ چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی جائیداد پر دو سال کے لئے ایک ہزار روپے کلدار ماہوار پر مارما ڈیوک پکتھال کے تقرر کے احکام صادر کرتے ہوئے لکھا کہ اس پیشکش کی نسبت پکتھال جو کچھ جواب دیں اس کی اطلاع آصف سابع کو دی جائے ۔ اس فرمان کی تعمیل میں پکتھال کو فوراً بذریعہ تار مطلع کیا گیا ۔ انہوں نے اطلاع دی کہ انہیں یہ پیشکش قبول ہے اور انہوں نے 15/جنوری 1925ء کو اپنی خدمت کا جائزہ بھی حاصل کر لیا۔

فرمان -- بملاحظہ:- عرضداشت صیغۂ تعلیمات معروضۂ 23/جمادی الثانی 1355ھ جو مسز پکتھال کے وظیفۂ رعایتی کی نسبت ہے۔ || حکم:- کونسل کی رائے کے مطابق اس مقدمہ کے خاص حالات کے مدنظر مسز پکتھال کے نام دو سو پونڈ سالانہ وظیفۂ رعایتی تاحیات جاری کیا جائے۔ 29/جمادی الثانی 1355ھ
مارماڈیوک پکتھال کی منظورہ دو سالہ مدت جب ختم ہونے کو تھی تو ان کی خدمت کو مستقل قرار دینے کے بارے میں ایک عرضداشت آصف سابع کے احکام کے لئے پیش کی گئی جس میں پکتھال کی اطمینان بخش کار گزاری کی بنا پر ان کی ملازمت کو مستقل قرار دینے کے لئے ناظم و معتمد تعلیمات اور محکمہ فینانس کی سفارشات درج تھیں۔ ان سفارشات کو منظور کرتے ہوئے آصف سابع نے چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپال کی جائیداد پر پکتھال کو مستقل قرا ر دینے کے احکام صادر کئے ۔ چونکہ پکتھال انگریز تھے اور انگلستان کے باشندے تھے اس لئے ان کے استقلال سے متعلق رزیڈنسی سے بھی مشورہ کیا گیا تھا جس کا جواب تاخیر سے وصول ہوا یعنی پکتھال کو مستقل قرار دینے کا فرمان جاری ہونے کے بعد۔
رزیڈنسی کے مراسلے میں لکھا گیا کہ رزیڈنٹ کو شبہ ہے کہ آیا پکتھال کا مستقل تقرر مناسب رہے گا ۔ پکتھال کو مزید دو سال کی توسیع دی جائے تو انہیں (رزیڈنٹ) کوئی اعتراض نہیں اور بعد ختم مدت مزید غور ہو سکتا ہے ۔ رزیڈنسی سے اس مراسلے کی وصولی پکتھال کو مستقل قرار دینے کے احکام کو التوا میں رکھتے ہوئے ان کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کے لئے عرضداشت پیش کی گئی جس پر آصف سابق نے فرمان مورخہ 27/فروری 1927ء کے ذریعہ پکتھال کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع منظور کی۔

پکتھال نے حیدرآباد کی ملازمت کے دوران قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ مکم کرنے کا ارادہ کیا چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں ایک درخواست بتوسط ناظم تعلیمات پیش کی جس میں انہوں نے لکھا کہ حکومت ریاست حیدرآباد کی ملازمت میں داخل ہونے سے قبل انہوں نے قرآن پاک کا ترجمہ شروع کر دیا تھا تاکہ اس کے محاسن، جوش اور دبدبہ کا کچھ اظہار ہو سکے جو موجودہ ترجموں میں مفقود ہے، یہاں آنے کے بعد انہیں اپنے گوناگوں فرائض میں اس قدر منہمک ہونا پڑا کہ ترجمے کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے فرصت نہیں ملی۔ وہ قرآن پاک کے ایک ثلث کا ترجمہ کر چکے ہیں جس میں آٹھ ماہ صرف ہوئے تھے۔ بقیہ کام کی تکمیل کے لئے کامل فرصت کے ساتھ دو سال کی مدت درکار ہوگی ۔ اس مدت میں وہ ترجمے کو حواشی و مقدمے کے ساتھ مکمل کر لیں گے ۔ انہیں علماء سے مشورہ اور کتب خانوں سے مدد لینے کے لئے یورپ، مصر اور الجریا بھی جانا پڑے گا۔ اس لئے ان کی استدعا ہے کہ انہیں دو سال کی رخصت بطور خاص پوری تنخواہ کے ساتھ منظور کی جائے۔ پکتھال نے اپنی درخواست میں یہ بھی لکھا کہ قرآن پاک کے موجودہ ترجموں میں مولوی محمد علی کا ترجمہ محنت سے کیا گیا ہے مگر اس کی انگریزی ایسی ہے کہ کوئی انگریز اس کو روا نہیں رکھ سکتا ۔ دوسرے تراجم ایسے لوگوں کے ہیں جو قرآن پاک کو مقدس نہیں سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے طرز عبارت میں کوئی احتیاط روا نہیں رکھی۔ پکتھال نے درخواست میں خود اپنے بارے میں لکھا کہ وہ عربی کے مختلف السنہ بخوبی جانتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت میں ذوق و شوق کے ساتھ انہوں نے اپنی عمر صرف کی ہے۔ انگریزی ان کی مادری زبان ہے اور بحیثیت مصنف انہیں کسی حد تک شہرت حاصل ہو چکی ہے ۔ ان کی تمنا ہے کہ لندن میں مسجد نظامیہ کی تعمیر ختم ہونے سے پہلے قرآن پاک کا ترجمہ صاف اور موثر انگریزی میں شائع ہو جائے جو لندن کے ہر کتب فروش کی دکان پر مل سکے اور جس کو انگریز مسرت کے ساتھ پڑھ سکیں اور آسانی سے سمجھ سکیں ۔

ناظم تعلیمات نے اس درخواست پر یہ رائے تحریر کی کہ قرآن پاک کے بہترین اور صحیح ترجمے کا موقعہ حاصل ہو رہا ہے ۔ اگر آصف سابع پکتھال کی درخواست کو منظور فرمائیں تو تمام اسلامی دنیا پر احسان ہوگا ۔ اس وقت دنیائے ادب میں پکتھال کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جو قرآن پاک کا ترجمہ اس خوبی سے کر سکے کہ اس کے حقیقی حسن میں فرق نہ آئے ۔ لہذا وہ پرزور سفارش کرتے ہیں کہ اس خاص کام کے لئے حسب استدعا پکتھال کو دو سال کی رخصت پوری تنخواہ کے ساتھ منظور کی جائے اور انہیں یورپ، مصر اور الجیریا جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ وہاں کے علماء سے مشورہ اور کتب خانوں سے مدد لیں ۔

ناظم تعلیمات کی رائے اور سفارشات سے معتمد و صدر المہام تعلیمات، محکمہ فینانس اور مہاراجہ سرکشن پرشاد صدر اعظم نے کامل اتفاق کیا۔ آصف سابع نے ان سفارشات کی بنیاد پر فرمان مورخہ 16/جولائی 1928ء کے ذریعہ قرآن شریف کے انگریزی زبان میں ترجمے کے لئے پکتھال کو پوری تنخواہ کے ساتھ دو سال کی رخصت منظور کی۔

ابتداء میں مارما ڈیوک پکتھال کا تقرر دو سال کے لئے ہوا تھا جس کے بعد انہیں دو سال کی توسیع دی گئی تھی ۔ چار سال کی مدت پوری ہونے پر ان کی مدت ملازمت میں دو بار تین سال کی توسیع دی گئی ۔ آخری تین سالہ مدت منظورہ جب قریب الختم تھی، پکتھال نے انہیں ملازمت سے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش کرنے کے لئے درخواست دی۔ پکتھال کی جانب سے وظیفہ کے لئے دی گئی درخواست پر ناظم تعلیمات نے لکھا کہ :
"تاریخ ابتدائی ملازمت سے توسیع کی مدت ختم ہونے تک پکتھال کی جملہ مدت ملازمت 10 سال اور عمر 60 سال ہوتی ہے ۔ پکتھال نے زمانۂ ملازمت میں نہ صرف پرنسپال کی خدمت قابل تحسین طریقے پر انجام دی ہے بلکہ اپنے مفوضہ فرائض کو انجام دیتے ہوئے محکمہ نظامت اطلاعات عامہ اور سیول سرویس ہاؤس کی نگرانی کی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ انہوں نے قرآن پاک کا وہ بے مثل ترجمہ انگریزی میں کیا ہے کہ قرآن کریم کے جتنے ترجمے انگریزی زبان میں آج تک ہوئے ہیں ان سب میں پکتھال کا ترجمہ بہترین سمجھا جاتا ہے۔
ازروئے ضابطہ استحقاق سے زیادہ وظیفہ نہیں دیا جا سکتا تھا لیکن پکتھال کا تقرر ان کی مستند قابلیت کی وجہ سے اور خاص حالات کے تحت عمل میں آیا تھا ۔ ان کی خدمات قابل قدر اور قابل ستائش رہی ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر پکتھال کو ان کی دس سالہ ملازمت پر بطور خاص نصف تنخواہ کا وظیفہ ان کی خدمت کی قدر دانی کے معاوضے سے منظور کیا جائے۔"
ناظم تعلیمات کی رائے اور سفارشات سے معتمد و صدر المہام تعلیمات اور محکمہ فینانس نے اتفاق کیا اور ارباب حکومت نے بھی ان سفارشات کو قبول کرتے ہوئے قرارداد منظور کی۔
آصف سابع نے ان سفارشات کو منظور کرتے ہوئے اپنے فرمان مورخہ 26 اگست 1934ء کے ذریعہ احکام صادر کئے کہ مسٹر پکتھال کو ان کی خواہش کے مطابق جنوری 1935ء سے ریٹائر کر کے ان کے نام پانچ سو روپے کلدار وظیفہ بطور خاص جاری کیا جائے ۔

پکتھال وظیفہ پر سبکدوش ہونے کے بعد لندن چلے گئے جہاں ان کا 19/مئی 1936ء کو انتقال ہوا ۔ پکتھال کے انتقال کی اطلاع ملنے پر آصف سابع نے از خود تحریری طور پر استفسار کیا:
"مسٹر پکتھال نے اس ریاست میں مختلف خدمات عمدگی سے ایک عرصہ تک انجام دیں۔ اس کے مد نظر ان کی بیوہ اس ریاست سے وظیفہ پانے کی مستحق ہے ۔ کونسل کی رائے عرض کی جائے کہ بیوہ کے نام کس قدر وظیفہ جاری ہونا مناسب ہے۔"
ان احکام کی تعمیل میں ارباب حکومت کی سفارشات پیش کی گئیں اور آصف سابع نے بذریعہ فرمان مورخہ 16 سپٹمبر 1936ء مسز پکتھال کے نام دو سو پونڈ سالانہ وظیفہ رعایتی تاحیات جاری کرنے کے احکام جاری کئے۔

ماخوذ از کتاب:
قدرداں حیدرآباد۔ تصنیف: ڈاکٹر سید داؤد اشرف
(آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذخائر سے اخذ کردہ مواد کی بنیاد پر قلمبند کیے گئے تحقیقی مضامین کا مجموعہ۔ سن اشاعت: 1996)
ناشر: شگوفہ پبلی کیشنز ، معظم جاہی مارکٹ، حیدرآباد۔

Marmaduke Pickthall & Quran English translation. Article: Dr. Syed Dawood Ashraf.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں