ناول کالی دنیا - سراج انور - آخری قسط: 20 - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-10-19

ناول کالی دنیا - سراج انور - آخری قسط: 20

kali-dunya-siraj-anwar-ep20


پچھلی قسط کا خلاصہ :
جیگا نے ان سب کو ایک کیبن میں بند کر کے ان سب کو ڈھائی انچ کے اجسام میں تبدیل کر دیا اور پھر ایک دوسرے کیبن میں ایک موٹے چوہے کو چھوڑا اور اسے ختم کرنے کے لیے سوامی اور جیک کو حکم دیا۔ اور اسی شرط پر اس نے ان تمام کے قد کو واپس اصل قد کے برابر کر دینے کی حامی بھری۔ بڑی مشکلوں سے سوامی اور جیک نے چوہے کو ہلاک کر دیا۔ پھر جیگا نے انہیں اپنا منصوبہ بتایا کہ کیسے وہ ہماری دنیا کو ختم کرے گا؟
۔۔۔ اب آپ آگے پڑھیے۔
جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ دیوار کی گھڑی چھ بجا رہی ہے۔ میں سمجھ گیا کہ صبح ہو چکی ہے۔ میں نے کروٹ بدل کر بقیہ ساتھیوں کو بھی اٹھانا چاہا، مگر یہ دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ نجمہ اور اختر اپنے بستروں پر موجود نہیں ہیں۔ میں گھبرا کر جان سے پوچھنے ہی والا تھا کہ اچانک سامنے والے کیبن میں مجھے جیگا داخل ہوتا ہوا نظر آیا۔ وہ اس وقت بہت خوش نظر آتا تھا۔ مجھے بستر پر بیٹھے دیکھ کر کہنے لگا۔
"کہیے فیروز صاحب، بہت دیر تک سوئے۔"
"ہاں تھکن کی وجہ سے ہم لوگ پورے گیارہ گھنٹے تک سوتے رہے۔" میں نے جواب دیا۔
"آپ غلط سمجھ رہے ہیں جناب۔ گیارہ گھنٹے نہیں بتیس گھنٹے کہئے۔ آپ کل شام کو سوئے تھے اور آج شام کو اٹھ رہے ہیں۔ آپ لوگ تو واقعی گھوڑے بیچ کر سوئے تھے۔" اتنا کہہ کر وہ بری طرح ہنسا اور کہنے لگا:
"چلئے اچھا ہوا۔ آپ اب تازہ دم ہوکر میرا مشن پورا ہوتا ہوا دیکھیں گے مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی دنیا کو ختم کر رہا ہوں۔ مگر یہ جو کچھ میں کر رہا ہوں شاگو کو نیچا دکھانے کے لئے کر رہا ہوں۔ وہ آپ کی دنیا کو بچانا چاہتا ہے لیکن ضد میں آکر میں اب اسے ختم کر دوں گا۔"
جیگا سے یہ سن کر ہم لوگ تئیس گھنٹے تک سوتے رہے، مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے نجمہ اور اختر کے بارے میں پوچھنے کے لئے مونہہ کھولا ہی تھا کہ جیگا نے پھر کہا۔
"اسی ٹیلی ویژن سیٹ پر آپ کو اپنی دنیا کے پرخچے اڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ باری باری آپ دنیا کے ہر بڑے ملک کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے۔ اور آخر میں جب یہ جزیرہ جس میں اس وقت آپ اور ہم موجود ہیں خلا میں پہنچ جائے گا ، تب آپ اپنی دنیا کی گولائی کو دیکھیں گے۔ آپ کے سائنس داں تو اسی حسرت میں رہے کہ کسی صورت سے چاند یا مریخ پر پہنچ کر یہ دیکھیں کہ وہاں سے دنیا کیسی نظر آتی ہے! لیکن آج میں حقیقتاً یہ چیز آپ کو اس سیٹ پر دکھا دوں گا۔ آپ اپنی دنیا کو آسمان میں ٹنگا ہوا دیکھیں گے۔ ہلکے سبز رنگ کا گولا بٹن دباتے ہی آپ کو اس طرح پھٹتا ہوا نظر آئے گا جس طرح ربڑ کا غبارہ پھٹتا ہے۔ بس ابھی چندمنٹ کے اندر اندر یہ دل چسپ تماشا آپ کو دکھائی دے گا۔ مگر ہاں یہ بتائیے کہ آپ کے دونوں بچے کہاں ہیں۔ وہ مجھے نظر نہیں آتے۔۔۔؟"
نہ جانے کیا بات تھی یا شاید قدرت ہی مجھ سے یہ الفاظ کہلوا رہی تھی۔ میں نے جلدی سے جھوٹ بولا۔
"وہ دونوں اسی خیال میں ہیں کہ صبح ہوئی ہے۔ شاید اندر ہال میں کوئی غسل خانہ تلاش کرنے گئے ہیں۔"
"چلئے کوئی بات نہیں، میرے روبوٹ انہیں وہ جگہ دکھادیں گے۔میں کچھ دیر تک انتظار کرلیتا ہوں۔"

اتنا کہہ کر جیگا تو مشینوں اور آلات کو چیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔ اور ادھر ہماری حالت تھی کہ دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ دنیا کو ختم ہونے سے ہم اب کسی طرح نہیں روک سکتے تھے۔ جیگا کے بارے میں ہمیں علم تھا کہ وہ ضدی ہے جو اس کے دل میں ہے وہ اسے پورا کئے بغیر ہرگز نہ رہیگا۔ ہمیں بیٹھے بیٹھے شاید آدھ گھنٹہ گزرگیا مگر نجمہ اور اختر واپس نہیں آئے۔ اب تو مجھے بھی فکر ہونے لگی۔ بار بار یہ وہم مجھے پریشان کرنے لگا کہ شاید نجمہ اور اختر کو اغوا کیا گیا ہیاو ر اس اغوامیں یقینا جیگا کا ہاتھ ہے۔ خوف اور دہشت کی وجہ سے میرا حلق سوکھ گیا۔ جان، امجد، جیک اور سوامی بھی گھبرائی ہوئی نظروں سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ جیگا بھی اب شاید نجمہ اور اختر کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا تھا۔ اس لئے اس نے کہا۔
" آخر وہ دونوں کہاں گئے۔ ایسا تو نہیں کہ وہ سیر کرتے کرتے آگے تک چلے گئے ہوں۔"
"میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔" میں نے جواب دیا۔ "میں خود بھی پریشان ہوں۔"
"خیر کوئی مضائقہ نہیں۔جیگا نے ایک خاص کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ شاید وہ بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں، چلئے، انہیں ایسا کرنے دیجئے اور اب ٹیلی ویژن کے پردے کی طرف دیکھئے۔ آپ کی دنیا چشم زدن میں تبا ہ ہونے والی ہے۔۔۔ خوب غور سے دیکھئے۔"

ہم لوگ نجمہ اور اختر کو تو بھول گئے اور خوفزدہ نگاہوں سے سامنے دیکھنے لگے۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر بمبئی کا ساحل نظر آ رہا تھا۔ اس کے بعد مختلف عمارتیں نظر آنے لگیں۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے جیگا کی کمر کے پیچھے لگی ہوئی کچھ مشینوں میں آڑی ترچھی روشنیاں ناچنے لگیں۔ شیشے کی نلکیوں میں سوبیا دوڑنے لگی۔ ڈائلوں کی سوئیاں تھرتھرانے لگیں۔ اور ایک عجیب قسم کا شور کمرے میں بلند ہونے لگا جیگا کے منحوس چہرے پر اس وقت ایک بھیانک تبسم نظر آتا تھا۔

"دیکھ لیجئے۔۔ میرا ہاتھ جس لیور پر رکھا ہوا ہے اسے دباتے ہی آپ کو ٹیلی ویژن سیٹ پر پٹاخے چھوٹتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جب ملک ختم ہونے لگیں گے تو میں اس جزیرے سمیت خلا میں پہنچ جاؤں گا اور تب آپ اپنی دنیا کو پہلی مرتبہ کئی لاکھ میل کی بلندی سے پھٹتے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھیں گے۔"
"نہیں نہیں۔۔۔۔ خدا کے لئے ایسا مت کرو۔" جان نے چلا کر کہا:
"کروڑوں لوگ بے موت مارے جائیں گے۔"
"مجھے لوگوں کی کیا پروا۔۔۔۔۔ میں انسان تو ہوں نہیں جو کسی پر رحم کروں۔"جیگا نے سفاکی سے جواب دیا۔
"بلونت! مان جاؤ۔۔۔ ایسا مت کرو ، آخر تمہیں اس سے کیا فائدہ پہنچے گا؟" میں نے گڑگڑا کر کہا۔
"کیا یہ فائدہ کم ہے کہ میں اس جزیرے کا مالک بن جاؤں گا جہاں سوبیا کا خزانہ ہے۔ دنیا میں رہ کر تو شاید آپ لوگ مجھے مارنے کی سوچتے لیکن جب میں اس جزیرے ہی کو خلامیں لے جاؤں گا تو کوئی میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ " وہ زہریلے انداز میں مسکرایا۔
"مجھ کو میرے ارادے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔ بس اب میں اپنا کام کرتاہوں۔"
اتنا کہہ کر جیگا نے ایک بٹن دبایا اور گڑ گڑاہٹ کا شور یکایک بڑھ گیا۔ اس وقت جیگا عجیب عجیب حرکتیں کر رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو ، وہ لگاتار ہنس رہا تھا۔ ہمیں ایک دو مرتبہ گھور کر دیکھ لیتا اور پھر ہنسنے لگتا۔ اچانک ہنستے ہنستے وہ چپ ہوگیا اور بائیں طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ ہم نے بھی جب اس طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ دو روبوٹ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جیگا کے کیبن کی طرف آ رہے ہیں۔
"کیا بات ہے۔۔ موڈل نمبر آٹھ کے روبوٹس۔ میری اجازت کے بغیر تم یہاں کیوں آئے ہو؟"
روبوٹس نے کوئی جواب نہ دیا اور وہ آگے بڑھتے گئے۔ جیگا نے جلدی سے ایک مائیکرو فون اٹھایا اور کچھ بٹن دبا کر بولا۔
"کیا چاہتے ہو۔۔ جاؤ واپس جاؤ۔۔ میں حکم دیتا ہوں واپس جاؤ۔"
روبوٹس اب بھی آگے بڑھ رہے تھے اور اب وہ فورس شیلڈ کے قریب پہنچ گئے تھے۔

"تم روبوٹس نہیں ہو۔۔ تم نمبر آٹھ کے روبوٹس نہیں ہو۔"جیگا نے گھبرا کر کہا۔"وہیں رک جاؤ، ورنہ میں تمہارا کنٹرول ختم کر دوں گا۔ تمہارے اندر کی مشینری اور پرزے توڑ دوں گا۔ میں کہتا ہوں رک جاؤ، آخر تمہیں اس نافرمانی کی جرات کیسے ہوئی؟"
روبوٹس نے جیگا کی دھمکی کی ذرا بھی پرواہ نہ کی اور وہ اب فورس شیلڈ میں داخل ہونے لگے۔ پہلی مرتبہ مجھے اس حقیقت کا پتہ لگا کہ فورس شیلڈ دراصل دھوئیں کی ایک چادر ہے مگر دور سے شیشہ نظر آتی ہے۔ روبوٹس جب فور س شیلڈ کے اندر داخل ہوگئے تو جیگا گھبر اکر اپنی کرسی سے اٹھ گیا اور بجلی سے چلنے والی کچھ مشینوں کے سوئچ اوپر نیچے کرنے لگا۔ شاید وہ روبوٹس کا کنٹرول بند کرنا چاہتا تھا۔

" یہ سب احتیاط بے کار ہے جناب۔ اب آپ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔"
اس آواز کو سنتے ہی میں اچانک اچھل پڑا۔ یہ اختر کی آواز تھی۔ اتنا کہتے ہی اختر نے داہنی طرف لگا ہوا ایک بٹن دبایا اور پھر اس کے لوہے کا لباس اوپر سے نیچے تک اس طرح کھل گیا۔ جیسے صندوق کا ڈھکنا کھل جاتا ہے۔ اختر نے اس کے بعد نجمہ کو بھی ایسا ہی کرنے کے لئے کہا اور نجمہ نے بھی اپنے لوہے کا لباس اسی طرح اتار دیا جیسے کہ اختر نے اتارا تھا۔ ان دونوں کو جیگا کے کمرے میں نتہاً کھڑے دیکھ کر میرا دل لرزنے لگا۔۔ خدا جانے جیگا ان کا کیا حشر کرے؟ اس نے اچانک ایک مشین کی طرف بڑھنا چاہا۔ مگر اختر نے جلدی سے اپنی جیب کے اندر سے ایک نرالی قسم کا ریوالور نکال کر اس کا رخ جیگا کی طرف کردیا اور کہنے لگا۔
"نہیں جناب یہ نہیں ہوگا۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ آپ خطرے کا الارم بجا کر اپنے جکاریوں ، زوکوں اور آدم خوروں کو بلانا چاہتے ہیں مگر سیارہ زہرہ کے اس عجیب و غریب ریوالور کی قاتل شعاعیں آپ کو ایسا نہ کرنے دیں گی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ شعاعیں آپ کو مفلوج کر دیں گی اور آپ اپنی جگہ سے ذرا سی بھی جنبش نہ کر سکیں گے۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ آپ براہ کرم خاموش کھڑے رہیے۔"

"شاباش! اختر شاباش۔۔۔ تم نے کمال کر دیا۔"میں اپنے کیبن میں سے چیخا۔
"ابا جی آپ بالکل نہ گھبرائے۔۔۔ جیگا صاحب سے دو دو ہاتھ کرنے کا ارادہ میں اور نجمہ آپا اب سے بہت پہلے کر چکے تھے"۔
اختر نے میری طرف دیکھے بغیر کہا، کیوں کہ اس کی نظریں جیگا پر لگی ہوئی تھیں۔
"ہم نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ آپ لوگ جلد سے جلد اس اس کیبن سے باہر آ جائیے۔"
اختر تھا تو آخر لڑکا ہی اور مجھے اس پر زیادہ اعتبار بھی نہ تھا مجھے خطرہ تھا کہ کہیں اس کی سوچی ہوئی تجویز غلط ثابت نہ ہوجائے اور جیگا کہیں اس پر غالب نہ آجائے ، اختر اور نجمہ کو ایسے وقت ہماری ضرورت پڑ سکتی تھی۔ اس لئے ہم لوگ جلدی سے کیبن کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ اخٹر نے صرف ایک نظر ہماری طرف دیکھا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر جیگا نے بھاگنا چاہا مگر اپنے اس ارادے میں اسے ناکامی ہوئی کیوں کہ اختر نے اسے دیکھ لیا اور چلا کر کہا۔
"خبردار۔۔۔ آپ بھاگنے کی کوشش نہ کریں ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔" جیگا بھاگتے بھاگتے ایک دم رک گیا۔ اور پھر پریشان ہوکر کہنے لگا۔
"مم۔۔۔۔۔م۔۔۔ میں بھاگ نہیں رہا۔ لیکن مجھے تم اتنا اور بتادو کہ تمہارے پاس روبوٹ کا یہ لباس کہاں سے آیا؟"
"یہ کہانی آپ کو میں ضرور سناؤں گا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کی طاقت اب ختم ہونے والی ہے۔ آخری وقت میں یہ کہانی سننا آپ کے لئے بہت فائدے مند ہوگا۔ نجمہ آپا۔۔ تم بھی اپنا ایسا ہی ریوالوار نکال کر اپنے پرانے چچا بلونت پر تان لو۔ کیوں کہ یہ ضرورت سے زیادہ چالاک واقع ہوئے ہیں۔"

نجمہ نے جب اس کا کہنا مان کر ایساہی کیا تو اختر مجھ سے کہنے لگا۔
"ابا جی آپ لوگ ہمارے قریب آجائیے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم سے کوئی چوک ہوجائے اس لئے آپ ہماری مدد کے لئے قریب ہی کھڑے رہئے، مگر بلونت چچا سے ہم دونوں ہی اکیلے نمٹ لیں گے۔ کیونکہ صرف ہم دونوں ہی یہ کام کرسکتے ہیں۔ آپ کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ یہ دعویٰ کس حد تک سچا ہے۔ بے فکر رہئے، بلونت چچا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔"
یہ سنتے ہی ہم سب کو بڑی حیرت ہوئی۔ زیادہ کچھ بولنے کا کیونکہ موقع نہیں تھا اس لئے ہم نے اختر کی بات مان لی اور اس سے چند قدم پیچھے آکر کھڑے ہوگئے۔ اختر کو اب اطمینان ہوگیا اور اس نے پھر کہنا شروع کیا۔

"سنئے میرے پیارے بلونت چچا۔۔ !
میں آپ کو اب ایک دلچسپ کہانی سنارہا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جب ہم آپ کی حدود میں آئے تو آپ نے اپنی موت کا راز خود ہی ہمیں بتا دیا۔میں نے یہ بات اپنے ذہن میں جمالی اور پھر نجمہ آپا س اس سلسلے میں بہت دیر تک مشورہ کرتا رہا۔ کل شام کو ہم دونوں جان بوجھ کر آپ کی سرنگوں میں کھوگئے تھے۔ اور وہاں ہم نے ایک سرنگ کے اندر موڈل نمبر آٹھ کے دو روبوٹس کو دیکھا۔ ان کی پشت ہماری طرف تھی ، وہ دونوں بجلی کی کچھ مشینوں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے جسموں میں سے دو تار نکل کر دیوار میں لگے ہوئے بجلی کے ایک بورڈ میں جا رہے تھے۔ ان تاروں کے آخر میں دو پلگ لگے ہوئے تھے۔ اور یہ پلگ بجلی کے بورڈ کے دو الگ الگ سوکٹس میں پیوست تھے۔ میں سمجھ گیا کہ روبوٹس اپنے جسم میں لگی ہوئی بیٹری کو چارج کر رہے ہیں۔ ہمارے سامنے جہازوں میں کئی بار ڈائنمو کے ذریعے اسی طرح بیٹریوں کو چار کیا جاتا تھا۔ ہم دونوں نے چپکے سے آگے بڑھ کر پلگ کے نیچے والے سوئچ بندکردئیے اور روبوٹس کے سروں پر جلنے والی روشنیاں یکایک بجھ گئیں اور ان کے حرکت کرتے ہوئے ہاتھ نیچے گر گئے۔ ہم سمجھ گئے کہ روبوٹس کی بیٹریاں ختم ہوچکی ہیں۔ اگر انہیں چارج نہ ہونے دیا جائے تو روبوٹس بارہ گھنٹے میں بالکل ختم ہو جائیں گے۔"

یہ سنتے ہی اچانک بلونت نے اپنی جگہ سے حرکت کرنی چاہئے مگر اختر نے بھانپ لیا اور بولا:
"میں آپ سے کہہ چکا ہوں کہ ہلنے کی ذرا بھی کوشش نہ کریں ورنہ نتیجہ کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ میں ایک دلچسپ کہانی سنا رہا ہوں اور آپ بےتابی سے ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں۔۔ ؟
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم نے احتیاطاً سوئچ بورڈ میں سے پلگ بھی نکال دئیے اور پھر فوراً ہی یہاں واپس آ گئے۔ شام کے پانچ بجے ہم دونوں خاموشی سے اٹھے اور پھر اس سرنگ میں پہنچ گئے جہاں روبوٹ اب خاموش بیٹھے تھے۔ ہم نے بڑی مشکل سے اور محنت کے بعد ان کے جسم کو کھولا۔ اندر گراریاں اور بجلی کا سامان بھرا ہوا تھا۔ وہ سامان اور کل پرزے نکال کر ہم نے ایک طرف پھینک دئیے۔ ان کے ریوالور اپنے قبضے میں کئے اور خود روبوٹس کے جسموں میں داخل ہوکر اس جگہ آگئے۔ چلنے میں ہمیں تکلیف اور دقت تو بے شک ہوئی مگر کیا کرتے؟ مجبوری تھی! آ پ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روبوٹس کا یہ خاص دھات کا بنا ہوا لباس بہت ضروری تھا۔ کیونکہ صرف یہی دھات آپ کی فورس شیلڈ میں سے گزر سکتی ہے۔ ہمارے سامنے کئی مرتبہ ایسے روبوٹ اس فورس شیلڈ میں سے گزرے ہیں۔۔۔ کیوں ٹھیک ہے نا؟"

جیگا نے تو خیر کچھ جواب نہ دیا مگر میں یہ باتیں سن کر اچنبھے میں رہ گیا۔ میں نے کبھی خواب میں بھی یہ نہ سوچا تھا کہ اختر اتنا عقل مند بھی ہو سکتا ہے۔ میں دل ہی دل میں اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ جیگا کا چہرہ اس وقت بالکل زرد تھا اور وہ بڑی بے چینی کے عالم میں کبھی اختر کو کبھی نجمہ کو اور کبھی اپنی عجیب و غریب مشینوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے برعکس اختر جیگا کو بری طرح گھور رہا تھا۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے نجمہ سے کہا۔
"نجمہ آپا۔۔ اب تم اپنا وہ ڈبہ نکال لو۔۔۔"
"کیسا ڈبہ۔۔۔؟" جیگا نے گھبرا کر پوچھا۔
"سوبیا کا ڈبہ۔۔ گھبرائیے مت ، تھوڑی سی سوبیا ہم نے اپنے اس ضروری کام کے لئے پہلے سے بچا کر رکھ لی تھی۔ آپ کو تو سوبیا کا صرف آدھا حصہ دیا گیا تھا۔"
جیگا نے یہ سن کر ایک زبردست قہقہ لگایا اور پھر بولا:
"لیکن سوبیا کی زہریلی کرنیں مجھ پر تو اثر نہیں کر سکتیں۔"
"کیوں نہیں کر سکتیں؟" اختر نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"جب آفاقی ہار اس میں ڈالا جائے گا تو کیا تب بھی اثر نہ کریں گی؟"
"کیا کہتے ہو۔۔۔ احمق لڑکے کیا تو نے آفاقی ہار بھی چرا لیا؟"جیگا نے اس طرح کہا جیسے اسے اس کی موت نظر آ گئی ہو۔
"چرایا نہیں بلکہ وہ پہلے ہی سے میرے پاس محفوظ ہے۔"
میں یہ سن کر اچانک چونک گیا اور اپنے ساتھیوں کو اس طرح حیرت سے دیکھنے لگا گویا اختر کی یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی ہو۔

اختر نے اپنا ریوالور والا ہاتھ ذرا آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
"اس کی بھی ایک کہانی ہے، میرے پیارے چچا۔ سنئے اور سن کر اپنے بھتیجے کی عقلمندی پر عش عش کیجئے۔۔ میں جانتا تھا کہ اپنی کالی دنیا میں آنے کے بعد آپ ہم سے آفاقی ہار اور سوبیا ضرور حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ سوبیا تو خیر پاپا نے نجمہ آپا کو پہلے ہی سے دے دی تھی اور نجمہ آپا نے اسے اپنے کپڑوں میں چھپا لیا تھا۔ مگر اس کام سے بہت پہلے گرگٹ والے غار میں سے ہم دونوں نے آفاقی ہار جیسے کچھ دانے تلاش کئے تھے۔ اباجی نے مجھ سے پوچھا بھی تھا مگر میں نے انہیں گول مول جواب دے دیا تھا۔ میں دراصل سب کو لا علم رکھنا چاہتا تھا اور میں نے یہی کیا۔ ان دانوں کو ایک دھاگے میں پرو کر میں نے ایک نقلی آفاقی ہار بنالیا اور پھر یہی ہار نجمہ آپا کے گلے میں ڈال دیا۔ اصلی آفاقی ہار میں نے اپنے پاس رہنے دیا۔ ہار جب تک میرے پاس رہا، بے اثر رہا۔ اسی لئے آپ کو اور آپ کے جکاریوں کو معلوم ہی نہ ہو سکا کہ ہار میرے پاس ہے۔ آپ چوں کہ اس ہار سے ڈرتے تھے اس لئے آپ نے خود اسے دیکھنے کی خواہش بھی نہیں کی اور اس طرح آپ نے نقلی ہار حاصل کر لیا۔"
"شاباش اختر شاباش۔۔ میں تم پر جتنا فخر کروں کم ہے۔" میں خوشی سے بے قابو ہو کر چیخ اٹھا۔
"تم نے یہ بات بہت بری کی۔ لاؤ وہ ہار مجھے دیدو۔۔۔ شاباش جلدی دے دو۔" جیگا نے گھبرا کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس کی پیشانی پیسنے میں ڈوبی ہوئی تھی۔

"خبردار بلونت چچا۔۔ وہیں کھڑے رہو۔۔" اختر نے ڈانٹ کر کہا:
یہ ہار تمہیں دینے کے بجائے میں نجمہ آپا کو کیوں نہ دے دوں جن کے پاس پہنچتے ہی یہ اپنا اثر دکھائے!"
"نہیں نہیں۔۔۔ ایسا مت کرنا اختر۔۔۔ میں برباد ہو جاؤں گا۔۔۔ مجھ پر رحم کرو اختر۔۔۔"جیگا خوف کے مارے لرزنے لگا۔
"جب تم کسی پر رحم کرنا نہیں جانتے تو ہم تم پر کیوں رحم کریں؟" اختر نے بے رحمی سے کہا۔
"بابا۔۔۔ جلدی کرو۔۔ اس کم بخت پر رحم کرنا بے وقوفی ہے۔" سوامی نے بے چینی سے کہا۔

اختر نے بلونت کو مسکرا کر دیکھا اور پھر اپنی جیب میں سے آفاقی ہار نکال لیا ہار کو دیکھتے ہی جیگا کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ نجمہ سوبیا کا ڈبہ ہاتھ میں لئے ہوئے کھڑی تھی۔ اختر نے اب یہ ہار نجمہ کو دے دیا ہار کا نجمہ کے ہاتھ میں جانا تھا کہ اچانک جیگا اس طرح کپکپانے لگا جیسے اس پر مرگی کا دورہ پڑا ہو ، یوں لگا جیسے اس کی جان نکل رہی ہو۔ انسان کی مرتے وقت جو کیفیت ہوتی ہے ، ہوبہو وہی حالت اس کی ہونے لگی۔ نجمہ ہار ہاتھ میں لئے اسے دیکھ رہی تھی کہ میں نے چلا کر کہا۔
"نجمہ ہار سوبیا میں ڈال دو۔۔۔ سوچ کیا رہی ہو؟"

اتنا سنتے ہی جیگا نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اس طرح اٹھایا جیسے نجمہ کو منع کر رہا ہو۔ اس کے جسم سے پسینہ بہنے لگا۔ رنگ اچانک سبز ہونے لگا۔ قد گھٹنے لگا اور صورت خوفناک ہونے لگی۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی اصلی شکل میں واپس آ رہا تھا۔ نجمہ نے میری آواز سن کر ہار سوبیا میں ڈال دیا اور پھر یکایک ہم نے عجیب دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ جیگا زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ اس کا جسم پگھل رہا تھا اور اس میں سے دھواں نکل رہا تھا اور پھر کچھ ہی دیر بعد اس کا جسم اس طرح پھٹ گیا جیسے کوئی بم پھٹتا ہے۔
ایک زبردست آواز ہوئی۔ مجھے یوں لگا جیسے کہ زمین ہل رہی ہو۔ میں نے بس اتنا دیکھا کہ اختر کوئی چیز اٹھا کر جیگا کی خاص مشینوں پر ماررہا ہے۔ جیسے ہی مشینیں ٹوٹیں وہ فورس شیلڈ بھی ختم ہو گئی۔ یہ دیکھ کر ہم سب اس کی مدد کو پہنچ گئے۔ میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اختر کو سینے سے لگالیا اور نجمہ کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ مگر یہ وقت محبت جتانے کا نہیں تھا۔ جس جگہ ہم موجود تھے وہاں اب دھواں ہی دھواں بھر گیا تھا اور زمین اس طرح ہل رہی تھی جیسے کہ ابھی پلٹ جائے گی۔ ہمیں دور اور قریب سے بار بار دھماکوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ دھواں ا س قدر تھا کہ ہمیں کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ بڑی مشکل کے بعد جیگا کی کرسی کے پیچھے ایک دروازہ نظر آیا۔ ہم لوگ دوڑ کر اس میں داخل ہوگئے۔ ایک چھوٹا سا زینہ نظر آیا جو شاید اوپر جا رہا تھا۔ بغیر سوچے سمجھے ہم اس زینے پر چڑھنے لگے۔ زینہ اتنا اونچا تھا کہ اس کی سیڑھیاں ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتی تھیں۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ہم کتنی سیڑھیاں چڑھتے تھے کیوں کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا ، اوپر سے راکھ اور چٹانیں نیچے گرنے لگیں۔ ہر طرف خاک ہی خاک اڑنے لگی اور پھر اس خاک کے اندر سے ایک بہت ہی تیز روشنی مجھے دکھائی دی۔ شاید یہ سورج کی روشنی تھی۔ میں ابھی آنکھیں پھاڑ کر اس روشنی کو پہچاننے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ اچانک ایک زب ردست دھماکہ ہوا اور پھر مجھے ہوش نہ رہا کہ کیا ہوا؟

جب میری بےہوشی دور ہوئی تو میں نے دیکھا کہ میں ایک جزیرے کے اوپر پڑا ہوا ہوں۔ میرے پاس میرے ساتھی بھی ہیں۔ قریب ہی ایک ایسا گڑھا تھا جسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا تھا کہ شاید اس جگہ کوئی بم پڑا ہے۔ اس گڑھے میں جھانکنے کے بعد میں حیران رہ گیا کیونکہ یہ گڑھا نہیں بلکہ ایک گہرا غار تھا۔جس میں سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں غار کے پتھر جگہ جگہ سے ٹوٹ گئے تھے۔ پہلے تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ غار کس قسم کا ہے۔
مگر آہستہ آہستہ جب میرا دماغ کام کرنے لگا تو مجھے پچھلی تمام باتیں ایک ایک کرکے یاد آںے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ جیگا کے خاص کیبن سے یہ زینہ در حقیقت پاتال سے اوپر زمین کی سطح تک جاتا تھا۔ ہم جب اس زینے پر چڑھ رہے تھے تو جیگا کی کالی دنیا ایک دھماکے کے ساتھ ختم ہوگئی اور ہم لوگ بڑی مشکل کے بعد اوپر تک پہنچے مگر پھر راتے ہی میں سیڑھیوں پر گر گئے۔ لیکن اس وقت تو ہم سب جزیرے کے اوپر تھے۔ پھر بھلا کون ہمیں زمین سے اٹھا کر یہاں تک لایا؟

میرے باقی ساتھیوں کو آہستہ آہستہ ہوش آرہا تھا۔ جان نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا اور شاید اس کی سمجھ میں بھی یہ معاملہ نہ آیا۔ جہاں ہم لوگ پڑے ہوئے تھے وہ جگہ سمندر سے بہت قریب تھی۔ساحل پر لا تعداد درخت اگے ہوئے تھے اس لئے سمندر صاف نظر نہ آتا تھا۔ ابھی میں جان سے اپنی موجودہ حالت کے بارے میں پوچھ گچھ کرہی رہا تھا کہ اچانک دو لمبے اور کالے ستون چلتے ہوئے ہم سے کچھ فاصلے پر آکر رک گئے۔ ان ستونوں کو دیکھتے ہی جان چلا اٹھا۔
"شاگو۔۔۔!"
" جی ہاں میں شاگو ہوں۔۔۔" ان لمبے ستونوں سے آواز آئی:
"آداب عرض ہے مسٹر جان۔"
میں نے جلدی سے گھبرا کراوپر دیکھا تو میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں شاگو کے چہرے کو اچھی طرح دیکھنے کے لئے مجھے تقریباً لیٹنا پڑا۔ امجد سوامی جیک اور بچے بھی اب ہوش میں آ چکے تھے اور سہمی ہوئی نظروں سے شاگو کو دیکھ رہے تھے۔ جب انہوں نے جان کی زبانی اس کا نام سنا تو ان کی گھبراہٹ دور ہوئی اور وہ حیرت سے شاگو کو دیکھنے لگے۔
"آداب عرض۔۔۔"جان نے چلا کر جواب دیا۔
"مگر مجھے آپ کو یہاں دیکھ کر حیرت ہورہی ہے۔"
"ہونی بھی چاہئے۔" شاگو نے مسکرا کر کہا۔
"میں تو دراصل آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی مہربانیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے اور آپ کی پارٹی کے ممبروں نے سیارہ زہرہ اور اس کے باسیوں کی جو مدد کی ہے، میں اس کے لئے بہت ممنون ہوں، آپ لوگوں کا یہ کارنامہ ہماری تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھاجائے گا۔ خاص کر آپ کے بچوں کے ہم بہت احسان مند ہیں کہ اتنی سی عمر میں انہوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں اور بڑی ہمت و بہادری کا ثبوت دیا۔ میرے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں جو انہیں تحفے کے طور پر دوں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ دور خلا کے رہنے والے ایک شخص کی یہ تعریف انہیں پسند آئے گی اور وہ اسے قبول کریں گے۔"
اختر اور نجمہ کے چہرے پھول کی طرح کھل گئے۔ وہ کچھ کہنا ہی چاہتے تھے کہ شاگو نے پھر کہا۔

"سیارہ زہرہ کی حکومت آپ کی شکر گزار ہے، مسٹر جان کہ اسے آپ نے ایک بہت بڑے دشمن سے نجات دلائی۔اس کے ساتھ ہی ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ کبھی آپ حضرات ہمارے سیارے میں آکر ہمارے مہمان بنیں۔"
"ضرور ضرور۔۔۔" جان نے مسرت سے بے قابو ہوتے ہوئے کہا۔
"میں شکریے کے ساتھ یہ دعوت قبول کرتا ہوں۔"
"عنایت۔۔۔ نوازش"۔ شاگو نے کہا۔
"ہماری دنیا یہاں سے لاکھوں اور کروڑوں میل دور ہے۔ آپ جب بھی خواہش کریں گے ہمارے خاص راکٹوں میں آپ وہاں آ سکتے ہیں۔ آپ کو وہاں لے جانے کا انتظام ہمارے ذمہ ہوگا۔"
"ہم ضرور آئیں گے، ہمیں وہاں آکر مسرت ہوگی"۔ جان نے چلا کر کہا۔
"شکریہ۔۔۔ رہیں آپ کی مہربانیاں تو ان کا صلہ یہ ہے کہ آپ سب کے گھروں کو سونے اور ہیرے جواہرات سے بھر دیا گیا ہے۔ دنیا کی کوئی ایسی نعمت اور دولت نہیں چھوڑی گئی جس کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ جب آپ وہاں پہنچیں گے تو اس دولت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ جب تک آپ کی یہ دنیا قائم ہے یہ دولت آپ کے کام آتی رہے گی۔ اس کے علاوہ مسٹر فیروز اور ان کے بچوں کو ایک خاص انعام میں اور دینا چاہتا ہوں۔ یہ ان کی اس بہادری کے صلے میں ہے جو انہوں نے جیگا کے خاص کمرے میں دکھائی تھی۔ وہ انعام یہ ہے کہ ایک خاص اسٹیمر اس وقت اس جزیرے کے پاس ہی لنگر انداز ہورہا ہے اور اس اسٹیمر میں فیروز صاحب کی بیگم زرینہ ، ان کا اور اپنے بچوں کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں۔"
"سچ۔۔۔ کیا آپ سچ کہہ رہے ہیں؟"میں نے خوشی سے پاگل ہوتے ہوئے کہا۔
"امی۔۔۔ یعنی ہماری پیاری امی کیا یہاں موجود ہیں؟" اختر اور نجمہ خوشی سے دیوانے ہوگئے اور پھر اٹھ کر سمندر کو دیکھنے لگے۔
"یوں نہیں، میرے ہاتھ پر تشریف لے آئیے۔" شاگو نے یہ کہہ کر اپنا لمبا چوڑا میدان جیسا ہاتھ ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ہم تینوں جلدی سے اس ہاتھ پر چڑھ گئے۔ شاگو نے اپنا ہاتھ اوپر کیا اور تب ہم نے تقریباً دو سو فٹ کی بلندی سے دیکھا کہ واقعی میرا ایک خاص اسٹیمر سمندر کے اندر لنگر انداز ہے۔
"بس بس۔۔۔ براہ کرم ہمیں نیچے اتار دیجئے، ہم اپنی امی کے پاس جانا چاہتے ہیں۔" اختر نے چلا کر کہا۔

اور اس کے بعد جو کچھ ہو وہ اتنا ہے کہ شاگو تو جزیرے کے اندر چلا گیا جہاں شاید اس کا راکٹ کھڑا تھا ، کچھ ہی دیر بعد ہم نے اس راکٹ کو آسمان کی طرف تیزی سے اڑتے ہوئے دیکھا۔ اپنا مختصر سا سامان اٹھا کر ہم لوگ بھاگتے ہوئے ساحل پر پہنچے۔ میرے ملاح کشتیاں لئے ہوئے کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی سلام کیا اور خوشی کی وجہ سے ان کے آنسو بہنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم لوگ ان کشتیوں میں بیٹھ کر اسٹیمر میں آگئے۔۔ دیکھئے آگے کے حالات لکھتے ہوئے میرے قلم میں خوشی کی وجہ سے پھر لرزا پیدا ہوگیا ہے۔۔۔ میاں بیوی اور ماں بچوں کا یہ ملاپ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ سب کے آنسو بہہ رہے تھے اور سب باربار ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے۔ اس ملاپ کو دیکھ کر اسٹیمر میں جتنے بھی لوگ تھے وہ بھی زار و قطار رو رہے تھے۔

اسٹیمر کے چلنے کے بعد زرینہ نے مجھے بتایا کہ ایک دن اسے ایک خط ملا۔ جس میں ایک تحریر کے ساتھ ہی ایک نقشہ بھی تھا۔ کسی نامعلوم شخص نے اس خط میں لکھا تھا کہ اگر زرینہ اپنے بچوں سے ملنا چاہے تو وہ اپنے خاص اسٹیمر میں بیٹھ کر نقشے کے مطابق فلاں جزیرے میں فلاں تاریخ تک پہنچ جائے اور سمندر ہی میں انتظار کرے۔ اس کے بچے اسے مل جائیں گے۔ لہذا اس نے ایسا ہی کیا اور اپنے اسٹیمر میں بیٹھ کر اس جزیرے کے پا س آگئی۔ جب میں نے زرینہ کو یہ بتایا کہ ہم لوگوں کو یہ نئی زندگی صرف نجمہ اور اختر کی وجہ سے ملی ہے تو وہ خوشی سے جھوم اٹھی اور دونوں بچوں کو اس نے گلے سے لگا لیا۔

جب ہمارا سٹیمر بمبئی کے ساحل سے لگا تو مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے ساحل پر میلہ لگا ہوا ہے۔ میرے دوست، ملازم، اخبار والے اور حکومت کے بڑے بڑے افسر ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ امجد کے والد کو چوں کہ میں اسٹیمر ہی میں سے وائر لیس کے ذریعے اطلاع دے چکا تھا اس لئے وہ بھی وہاں آگئے تھے۔ ہمارے ساحل پر اترتے ہی بینڈ بجنے لگے۔ فوٹو گرافر تصویریں اتارنے لگے اور اخباری نمائندے اختر اور نجمہ سے مختلف باتیں پوچھنے لگے۔ امجد کے والد اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی میں بے حد پریشان تھے۔ امجد کو دیکھتے ہی انہوںنے دوڑ کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ جب ان کا دل ہلکا ہوا وہ ہم سے سفر کی مختصر کہانی سنتے رہے۔ یہ کہانی جب اخباری نمائندوں نے لکھنی شروع کی تو میں نے انہیں منع کردیا کیوںکہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ کہانی میں نے اپنے سفر نامے کی صورت میں لکھ دی ہے۔ اگر یہ پہلے ہی سے کہیں چھپ جاتی تو پھر اس سفر نامہ کو پڑھنے میں کیا لطف آتا!

کافی دیر بعد جب امجد ہم سے جدا ہونے لگا تو بڑا افسردہ تھا، اور بار بار نجمہ کو اداس نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ نجمہ بھی کنکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر میرے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹنے لگے، میں نے زرینہ کے کان میں آہستہ آہستہ اس سے کچھ مشورہ کیا اور پھر امجد کے والد سے کہا۔
"آپ کے صاحبزادے نے ہمارا بڑا ساتھ دیا ہے اور بڑی مدد کی ہے۔ ہم ان کا یہ احسان کبھی نہ بھولیں گے۔"
"یہ آپ کی عنایت ہے جو ایسا سوچتے ہیں۔" امجد کے والد نے جواب دیا:
"بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اس کی مدد نہ کرتے تو شاید میں پھر کبھی اس کی صورت نہ دیکھ سکتا تھا۔"
"یہ تو مجھے آپ شرمندہ کر رہے ہیں" میں نے انکساری سے کہا۔
"ارے ہاں مجھے یاد آیا، امجد نے اپنی ایک امانت ابھی تک مجھ سے وصول نہیں کی۔"
"امانت۔۔۔ کون سی امانت؟" امجد نے حیرت سے کہا۔
"تم بھول گئے۔۔۔ تم نے ایک ہیرے کی حفاظت کی تھی۔ ہر وقت اس کا خیال رکھا تھا۔ اور وہ ہیرا میرے پاس تمہاری امانت کے طور پر ابھی تک محفوظ ہے۔"
"کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ کون سا ہیرا؟"
"یہ رہا وہ ہیرا۔۔۔" میں نے نجمہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
" لو امجد اس قیمتی ہیرے کو میری طرف سے قبول کرو۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ اس ہیرے کو پا کر تمہیں خوشی حاصل ہوگی۔"
اب کیا یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ نجمہ تو شرما کر زرینہ کے پیچھے چھپ گئی اور امجد خوشی سے بےقابو ہوکر دوڑ کر مجھ سے لپٹ گیا۔


Novel "Kaali Dunya" by: Siraj Anwar - Last-episode:20

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں