ہندوستانی موسیقی - سلطان حسین شرقی اور استاد نعمت خاں سدا رنگ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-11-05

ہندوستانی موسیقی - سلطان حسین شرقی اور استاد نعمت خاں سدا رنگ

Sultan Hussain Sharqi, Ustad Namat Khan Sadarang and Indian Music
سلطان حسین شرقی
ہندوستان کے اسلامی عہد کی تاریخ میں جون پور کے شرقی فرماں رواؤں کا خاندان بہت مشہور ہے ۔ اس خاندان کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ فیروز شاہ تغلق بادشاہ دہلی کے چھوٹے بیٹے محمد شاہ نے ملک سرور خواجہ سرا کو وزارت کے منصب پر فائز کر کے " خان جہاں" کے خطاب سے سرفراز کیا۔ جب اس کا بیٹا ناصر الدین محمود بادشاہ ہوا تو اس نے 792ھ خواجہ جہاں کو"ملک الشرق" کا خطاب دیا اور جون پور بہار اور ترہت کی حکومت اس کے سپرد کی ۔ اس نے ملک کا بہترین انتظام کیا اور جون پور کو اپنی حکومت کا پایہ تخت بنایا ۔ لیکن ناصر الدین محمود کی وفات کے بعد اس نے سلطان الشرق کا لقب اختیار کر کے"شرقی "خاندان کی بنیاد ڈالی اور سکے اور خطبے میں اپنا نام جاری کیا۔ اس خاندان میں یکے بعد دیگرے چھ فرماں رواں ہوئے جنہوں نے کل 97 برس حکومت کی ۔ اس خاندان کے چوتھے فرماں رواں سلطان محمد بن ابراہیم شرقی نے جب 862ھ میں انتقال کیا تو اس کی جگہ اس کے بڑے بیٹے محمود شاہ کو تخت پر بٹھایا گیا مگر وہ نالائق تھا اور امور جہاں داری کا سلیقہ نہ رکھتا تھا ۔ اس لئے صرف پانچ مہینے حکومت کرنے کے بعد امراء اور اعیان مملکت نے اس کو تخت سے اتار کر اس کے چھوٹے بھائی سلطان حسین کو تخت پر بٹھا دیا۔ سلطان حسین فن حکمرانی میں نہایت قابل تھا ۔ اس نے سلطنت کا بخوبی انتظام کیا ۔اس نے دس سال حکومت کی۔ چار برس معزل رہا اور 905ھ(1499ء) میں وفات پائی۔
سلطان حسین امور سلطنت کے علاوہ فن موسیقی کا ایسا ماہر تھا کہ کسی گویے کو خاطر میں نہ لاتا تھا۔
سلطان حسین نے ہندی موسیقی میں نہایت عمدہ اضافے ہی نہیں کیے بلکہ کئی راگوں میں اس نے اصلاح بھی کی ہے اور مختلف راگنیوں کے میل جول سے نئے نئے راگ اور راگنیاں ایجاد کیں۔ کتاب"راگ درپن" کے مطابق حضرت امیر خسروؒ اٹھارہ نئے راگوں کے موجد ہوئے ۔ چنانچہ انہوں نے مجیر، ساز گیری، ایمن، عشاق ، موافق ، زیلف ، فرغانہ سرپردہ ، غارا، فرودست، غنم، قول، ترانہ ،نگار، بسیط، شہانہ اور سہیلہ کا اضافہ کیا۔ ہندی موسیقی میں امیرنے قول ، قلبانہ ، نقش، گل اور ترانہ کا جو اسکول قائم کیا اس لحاظ سے وہ اس کے پہلے نائک کہے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سات نائک مشہور گزرے ہیں۔ جن میں امیر کے بعد دوسرا نمبر سلطان حسین شرقی کا ہے۔ تیسرا چنچل سین، چوتھا بازبہادر فرماں روائے مالوہ، پانچواں سورج خان قوال ، چھٹا چاند خان کبیر اور ساتواں غلام رسول لکھنوی۔ ان دھنوں میں گانے کے ماہروں کو قوال کہتے ہیں ۔ تمام اہل فن کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ امیر خسروؒ کے بعد سلطان حسین ایسا نائک قوال نہیں ہوا۔
کانہڑا مشہور راگ ہے ۔ اس کی اٹھارہ قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ جن میں باگیسری قوالی جو گونڈ اور ملار کے میل سے خواجہ امیر خسروؒ نے بنائی اور دوسری شہانہ بھی انہی کی ایجاد ہے ۔ اس صنف میں کانہڑے کی دو قسمیں شاہ حسین شرقی کی ایجاد ہیں ۔ ان میں سے ایک قسم"حسینی" ہے کنباند اور میگھ راگ سے مرکب ہے اور دوسری رعنہ جوسندورہ کافی سے مرکب ہے ۔ اسی طرح یمن کی تین قسمیں یمن، ایمن اور کلیان ہیں۔ پھر کلیان کی بھی تین قسمیں شدھ کلیان، یمن کلیان اور شیام کلیان ہیں ۔ اس تیسری قسم شیام کلیان کی جو قسمیں حسین شاہ نے ایجاد کی ہیں ان کے نام یہ ہیں: گورشیام، بھوپال شیام، گنبھیر شیام، ہو ہو شیام، پوربی شیام، رام شیام ، بسنت شیام ، براری شیام اور گونڈ شیام ان میں جن جن راگوں کے نام آئے ہیں ان کو شیام کلیان کے ساتھ ملا کر ترتیب دیا گیا ہے ۔ کیونکہ ہر ایک میں اس راگ کی سنگت ہے ۔ اسی طرح جیج یا حجاز کے ساتھ یمن کو ملا کر انہوں نے ایک اور راگ ایجاد کیا ہے ۔ ہندی موسیقی میں ٹوڑی راگنی بہت مشہور اور مقبول عام ہے ۔ اس کے ساتھ اور راگوں کے سر ملا کر کل چودہ قسمیں اس کی بنائی گئی ہیں جن میں سے ٹوڑی براری امیر خسروؒ کی ایجاد ہے اور سارنگ برہنس اور نیشا پور سے بنائی گئی ہے ۔ سلطان حسین نے بھی ٹوڑی کی دو قسمیں ایجاد کی ہیں۔ مثلاً نوڑی جون پوری جو مالسری اور بھیرویں سے مرکب ہے۔ رسولی ٹوڑی جو دھنا سری اور ملتانی سے مرکب ہے ، بہملی ٹوڑی جوگھنڈ یا بہار راگنی سے مرکب ہے ۔ یہ بہت کم گائی جاتی ہے ۔
اسی طرح بھیرویں کی سات قسمیں ہیں جن میں شدھ بھیرویں سلطان حسین شاہ کی ایجاد ہے ۔ جس میں شدھ نام کی مشہور دھن کو بھیرویں کے ساتھ ملایا گیا ہے ۔ آساوری میں جون پوری ٹوڑی کو ملا کر حسین شاہ نے ایک نئی راگنی ایجاد کی ہے جو ان کے پایہ تخت کے نام سے "جون پوری" کہلاتی ہے ۔ مختلف راگوں کی ترکیب سے اور راگنیوں کی آمیزش سے سلطان نے ایسے لطیف نغمے ایجاد کئے ہیں جو ہندی موسیقی کی جان ہیں۔ گانے میں جو مسجع فقرے استعمال کیے جاتے ہیں ، قدیم موسیقی کی اصطلاح میں اسکی آٹھ قسمیں ہیں جن کو کبت، من ، چھند، دترو، ٹھا ، پر بندھ اور نربیدان کہتے ہیں۔ ان فقروں کو تک بھی کہتے ہیں ۔ ان میں سے متاخرین نے جن فقروں پر گانے کا دارومدار رکھا وہ "دھروپد" ہے جس کو عرف عام میں"دھر پد" کہتے ہیں۔ دھر پد میں چار چرن یا فقرے یا تک ہوتے ہیں۔ اول کو استائی، دوسرے کو انترا، تیسرے کو سنچائی یا بھوگ اور چوتھے کو ابہوگ کہتے ہیں۔ دھر پد کے مقابلہ میں امیر خسروؒ نے ترانہ ایجاد کیا۔ سلطان حسین نے دھر پد میں ایک نی اور عمدہ طریقہ ایجاد کرکے رواج دیا جو آج تک مستعمل ہے۔ انہوں نے آہنگ میں تصرف کرکے اسے اور رنگین بنادیا۔ اور اس کو"خیال" کے نام سے موسوم کیا۔اس میں انہوں نے بڑی جدت پیدا کی ہے۔ قدیم زمانے میں اس میں عموماً عشق حقیقی کا اظہار ہوتا تھا۔ہوتے ہوتے اس میں مجازی رنگ بھی شامل ہوگیا۔ سلطان حسین نے اس کے مجازی رنگ کو اور بھی چوکھا کردیا۔ اس میں انہوں نے دو مصرعے بے قافیہ و ضرب استعمال کیے کہ جہاں ضرب تمام ہو عشق و عاشقی اور فراق اور رزمیہ کا ذکر ہو ۔ اس کا نام "چٹکلا "رکھا جو عموماً رزمیہ ہوتا ہے ۔
ان تمام ایجادات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلطان حسین کو موسیقی میں بہت بڑا دخل تھا اور وہ اسی بنا پر فن کے مشہور نائک مانے جاتے تھے۔

استاد نعمت خاں سدا رنگ
استاد نعمت خاں سدا رنگ نام ور بین کار تھے 1670ء میں پیدا ہوئے۔ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلے(1748ء۔1719ء) کے درباری گائک تھے ۔ نعمت خاں کے والد پرمول خان بھی بین کار تھے اور میاں تان سین ک ے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ سدا رنگ کلاسیکی موسیقی کے منفرد شاعر ، اختراع کار اور موسیقار تھے اور کلاسیکی موسیقی کو ان کی سب سے بڑی دین استھائی یا خیال گانے کا انوکھا انداز تھا۔ سدار رنگ کا یہ نایاب تحفہ موسیقی کے لئے ایک بے نظیر ایجاد تھی ۔ یہ اختراع اس قدر مقبول ہوئی کہ ہر فن کار اور گھرانے کے موسیقار نے اس کو اپنایا۔ سدارنگ کے بعد اور بھی کئی دانش وروں نے خیال گائکی میں مزید اختراعیں کیں جن میں بڑے میاں محمد خان (قوال بچہ وفات 1840ء) کا نام فہرست ہے ۔ سدا رنگ کے زمانہ تک بھارتی سنگیت میں دھر پد، ہوری، چھند، پربندھ، استھائی یا خیال قسم کی چیزیں گائی جاتی تھیں جن میں سب سے زیادہ مقبول استھائی یا خیال تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ماحول میں سدا رنگ کو گائکی کے اندازمیں اختراع کرنے کی سوچ اور جستجو کیوں ہوئی؟ اس سلسلہ میں ہمارے پاس تین روایتیں ہیں جو مختلف کتابوں سے حاصل کی گئی ہیں۔
ایک روایت کے مطابق سدا رنگ کی کسی دوسرے درباری موسیقار سے تکرار ہوگئی جو ان کے گانے پر اعتراض کیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ سدا رنگ کو بڑے دھرپد تو یاد ہی نہیں بلکہ ان دھرپدوں کی تو اس کو ہوا ہی نہیں لگی ۔ لیکن خیال گائکی کی باتیں بہت کرتا ہے ۔ اس قسم کی باتیں اور نکتہ چینی کے باعث سدا رنگ کو استھائی یا خیال میں جدت پیدا کرنے کا خیال آیا اور انہوں نے اس فن کار کو جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے ایسی ایجاد کروں کہ ہندوستان میں گائکی کا انداز ہی بدل جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔
دوسری روایت اس سلسلہ میں یہ ہے کہ چونکہ سدا رنگ کا مقام درباری فن کاروں میں بہت بلند تھا ۔ لہٰذا دوسرے گویے ان سے حسد کرتے تھے۔ اسی دربار میں ایک نام ور سارنگی نواز بھی تھے چنانچہ درباری گویوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر محمد شاہ سے کہا کہ اگر بین اور سارنگی اکٹھی بجائی جائے تو یہ ایک نیا اور انوکھا رنگ ہوگا ۔ بادشاہ نے حکم صادر کردیا لیکن سدا رنگ نے انکار کردیا جس کی وجہ سے ان کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا لیکن نعمت خان ولی سے بھاگ کرمتھرا چلے گئے اور روپوش ہوگئے ۔ اسی ماحول میں انہوں نے شاگرد بنائے اور ان کو دل کھول کر تعلیم دی۔ اپنی استھائیوں میں سدا رنگ کا تخلص استعمال کیا اور بادشاہ کا نام بھی شامل کیا اور اس طرح ان کے بولوں میں سدا رنگ محمد شاہ یا محمد شاہ سدا رنگ کاتخلص شامل ہوا ۔ جب شاگرد تیار ہوگئے تو ان کو خفیہ طور پر دہلی لایا گیا اور کسی ترکیب سے دربار میں پیش کیا۔ بادشاہ کے حکم پر شاگردوں نے گانا گایا۔ خیالوں کے بولوں میں بار بار سدا رنگ کا تخلص ہونے سے بادشاہ نے پوچھا کہ سدار نگ کون ہے ۔ جب پتا چلا کہ سدا رنگ ان کے استاد نعمت کا تخلص ہے تو بادشاہ کو تمام واقعہ یاد آگیا اور اس نے سدا رنگ کو دربار میں بلایا، قصور معاف کردیا اور انعام سے نوازا۔
تیسری روایت کے مطابق بادشاہ نے سدا رنگ کو شاہی حرم کی لڑکیوں کو گانا سکھانے کا حکم دیا، اس وقت سدا رنگ نے سوچاکہ دھر پد کے چاروں مثلاً استھائی، انترا، سنچاری اور ابھوگ کو دو حصوں میں یعنی استھائی اور انترے پر مشتمل کرکے لڑکیوں کو سکھایا جائے۔چنانچہ انہوں نے استھائی میں سے دھر پد اور ہوری میں سے بول تانیں لے کر ایک مرکب بنایا۔ جس سے ان کا ٹھاٹح اور بھی شاندار ہوگیا ۔ پھر آہستہ آہستہ اس چیز میں راگ کی بڑھت بھی شروع کردی جو بادشاہ کو بہت پسند آئی اور ہر خاص و عام میں مقبول ہوئی ۔ اس کے ساتھ اور بھی نئی ترکیبیں مثلاً سروں کا اتار چڑھاؤ ، گانے کے بولوں کو گھٹا اور بڑھا کر خوب صورتی کے ساتھ سم پر لانا، راگ کے کسی سر پر ٹھہرنا اور دل کش باتیں نکالنا، ٹیپ کی آوازپر زیادہ سے زیادہ ٹھہرنا ، خوبصورتی اور نکھار کے لئے ، مرکی، پھندا، گمک، مینڈھ، گھسیٹ وغیرہ کا استعمال کیا۔یہ تمام چیزیںبلمپت میں ادا کرنے کے بعدمدہیہ لے میں اور پھر درت لے میں بھی پوری طرح ظاہر کرنا اس کے علاوہ دھر پد کا تال یعنی مردنگ میں بجائے جانے والے ٹھیکے چھوڑ دئیے۔ دائیں بائیں سے بجنے والے ٹھیگوں میں استھائیاں بٹھائیں۔
سدا رنگ نے اپنی استھائیاں مختلف زبانوں میں بھی لکھیں۔ مثلاً برج بھاشا ، راجھستانی ، فارسی وغیرہ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موسیقی کے میدان میں سدا رنگ کا کوئی ثانی نہیں اور ان کا ترتیب دیا ہوا اندازہمیشہ زندہ اور مقبول رہے گا۔ استاد مکرم 1743ء میں فوت ہوئے اور دہلی میں سپرد خاک ہوئے۔

***
ماخوذ از کتاب: "کیا صورتیں ہوں گی" (فنِ موسیقی پر معلومات افزا اور نایاب مضامین کا مجموعہ)
تالیف: پروفیسر شہباز علی
مضمون : برصغیر کی موسیقی کی ترقی و ترویج میں مسلمانوں کا کردار (مضمون نگار: ایم۔اے۔شیخ)

Sultan Hussain Sharqi, Ustad Namat Khan Sadarang and Indian Music. Essay by: M.A.Shaikh

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں