اردو قواعد کی تدوین - ضرورت آغاز اور تاریخ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-07-12

اردو قواعد کی تدوین - ضرورت آغاز اور تاریخ

urdu-grammar-editing-rules-history-necessity
زبانوں کے لئے قواعد کی ضرورت

یہ کہا جا چکا ہے کہ اردو کا اصل وطن دہلی اور اس کا نواحی علاقہ ہے اور سینکڑوں سال میں ترقی کرتی ہوئی یہ اپنے موجودہ درجے پر پہنچی ہے۔ ابتداً یہ اس علاقے کی بول چال کی عوامی آپ بھرنش تھی جو اس علاقے کی پراکرت سے نکلی تھی اور رفتہ رفتہ رواج عام پا گئی تھی۔ نہ اس کے منضبط قاعدے تھے اور نہ ان کی ضرورت تھی تاہم اس کی اپنی ایک ساخت تھی ، اپنا ایک انداز اور اپنا ایک ڈھانچہ تھا جو ڈھیلا ڈھالا اور غیر محکم و غیر منضبط ہوتے ہوئے بھی اپنی منفرد اور ممتاز شناخت رکھتا تھا اور اسی کی بنا پر اس کو 'زبانِ دہلوی' کا نام دیا گیا تھا اور دوسری علاقائی بولیوں سے الگ اور ممتاز کیا گیا تھا۔
اہل زبان کو اپنی بولی اور زبان کے اس ڈھانچے کو سمجھنے اور اس کی ساخت کے اس انداز کو جاننے کی ضرورت نہیں ہوتی جن پر وہ زبان مبنی ہوتی ہے۔ ان کا فطری ذوق اس کو صحیح بولنے اور سمجھنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ لیکن غیروں کا اختلاط اور خود اہل زبان کے بگڑنے کا خطرہ رہتا ہے۔ جب تک زبان بول چال تک محدود ہوتی ہے۔ یہ خطرہ اہمیت نہیں رکھتا لیکن زبان کے تحریری اور تدوینی بننے کے بعد زبان کا بگاڑ ماقبل کی تحریروں اور تدوینوں کے فہم میں خلل انداز ہوتا ہے اور اس کے ضبط و استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اصل زبان سے اس کے اندرونی اصول و ضوابط کا، جن کے سہارے زبان کی انفرادیت قائم ہوتی ہے، استخراج شروع ہو جاتا ہے اور اصول و ضوابط کی تدوین و ترتیب کا وقت آجاتا ہے۔ ان اصول و ضوابط سے جہاں زبان میں استحکام آتا ہے وہاں غیروں کو اس کے حاصل کرنے اور سیکھنے میں غیر معمولی سہولت ہوتی ہے۔


اردو قواعد کی تدوین کی ابتدا

اردو اپنے معتبر اور مستند ادوار سے ہی تحریری اور تصنیفی زبان بن چکی تھی اور خود دہلی میں ہی اس کا معیار مقرر اور مستند محاورہ قائم ہو چکا تھا لیکن قبل ازیں کہ اس کے قواعدکی تدوین ہو، دہلی اجڑ گئی اس کے زبان داں منتشر ہو گئے۔ اکثر نے لکھنو کا رخ کیا، لکھنو اودھی کا علاقہ تھا، پھر شہروں شہروں کے لوگوں کی آمد ورفت تھی، کچھ بستے اور کچھ رخصت ہو جاتے، ان حالات نے دہلی کے مستند یا معیاری محاورہ کے بگڑ جانے کے قریبی امکانات پیدا کر دئے۔ چنانچہ دہلی والے محاورۂ دہلی کو محفوظ رکھنے اور زبانِ دہلی میں ضبط و استحکام لانے کے لئے اس کی قواعد کی تدوین کی طرف متوجہ ہوئے۔ انشاء اللہ خاں انشاء نے لکھنو میں بیٹھ کر اردو کی پہلی قواعد کی کتاب دریائے لطافت کے نام سے 1807ء میں مرتب کی۔


{ اگرچہ اہل مغرب نے اٹھارویں صدی کے اوائل سے ہی اردو قواعد کی تدوین شروع کر دی تھی۔ اس سلسلے کا پہلا معلوم مصنف جان جوشوا کیٹلہ ہے جس نے 1715ء میں لاطینی میں اردو قواعد مرتب کی۔ اس کے بعد بنیامین شلزہنو نے 1741ء میں ہندستانی کے قواعد لکھے۔ انگریزی میں سب سے پہلے جس نے اردو قواعد پر قلم اٹھایا مسٹر گلسٹن ہے، اس کے بعد 1765ء میں مسٹر ہیڈلے نے اردو قواعد پر کتاب لکھی۔ ان کے علاوہ اور دوسرے مغربی مصنفین بھی ہیں جو اٹھارویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے متعدد ادنی اور اعلیٰ قواعد کی کتابیں مرتب کر چکے ہیں۔ اٹھارویں صدی کا اختتامی دہا تھا کہ 1796ء میں گل کرایسٹ نے اپنی مجوزہ کتاب 'ہندوستانی لسانیات' کی جلد اول کے تیسرے حصے میں ہندستانی قواعد شائع کی۔ }


دریا ئے لطافت انشاء کی طباعی، شوخ طبعی اور ذہانت کا نہایت قابل قدر نمونہ ہے۔ اس کی اہمیت اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ ہندوستانی مصنفین کی لکھی ہوئی کتابوں میں پہلی قابل اعتنا تصنیف ہے بلکہ اردو کی ہیئت، اس کے لسانی مزاج، اس کے ارتقائی مدارج، اس کے الفاظ و تراکیب کے رد و قبول کے معیار، اس کے مقامی محاوروں کے فرق، اس کے غیر مقامی محاورے ، اس کی زنانی بولیوں، ٹھولیوں کے نمونے، ایسی حقیقتیں ہیں جن کی قدر سے اہل علم واقف ہیں۔ پھر اس کی نہایت بکارآمد ، نادر اور دلچسپ لسانی بحثیں جو اپنا الگ اور مستقل مقام رکھتی ہیں۔ کتاب کی زبان فارسی ہے اور وہی اس وقت تک بالعموم تصنیفی زبان سمجھی جاتی تھی ، انشاء کی کچھ تو اپنی افتاد طبع اور کچھ اس وقت کے لکھنو کا عوامی تعیش پسندانہ مزاج، چنانچہ مثالوں اور نمونوں میں اس مزاج کی کافی رعایت ہے۔


دریائے لطافت سے کچھ پہلے 1806ء میں امانت علی شیدا نے اردو صرف میں "صرفِ اردو" کے نام سے ایک ابتدائی رسالہ لکھا تھا لیکن اول تو وہ اردو قواعد کے "حصۂ صرف" تک محدود تھا، دوسرے یہ کہ اس میں وہ بحث و تحقیق اور جامعیت نہ تھی جو دریائے لطافت کی خصوصیت ہے، اس لئے اس سے دریائے لطافت کی اولیت مجروح نہیں ہوتی۔


'دریائے لطافت' کے بعد کی اردو قواعد کی تصنیفات

قریب قریب اسی زمانے میں گورکھپور کے ایک فاضل عبدالرحیم نے جو ایام طالب علمی میں لکھنؤ اور دہلی میں ایک مدت تک رہ چکے تھے، 'دستور زبان اردو' کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کا مخطوطہ خدا بخش اورینٹیل پبلک لائبریری میں محفوظ ہے۔ میں اسے نہیں دیکھ سکا ہوں۔ وہاج الدین علوی کا بیان ہے کہ :
"قواعد کی چند قدیم کتابوں میں اس رسالے کا مقام منفرد اور ممتاز ہے۔ گل کرائسٹ اور انشاء اللہ خاں کی قواعد کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گورکھپوری نے جس سائنسی ٹیکنیک اور ژرف نگاہی سے صرف و نحو کی تشریح کی ہے وہ ان حضرات کے یہاں مفقود ہے ، اس رسالے کے ذریعہ اردو میں پہلی بار لسانیات کے اصول وضع کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے"۔
(بحوالہ: جرنل خدا بخش لائبریری، شمارہ: 32، ص:20-21)۔


1810ء میں روشن علی انصاری نے "رسالہ صرف و نحو" کے نام سے اردو قواعد پر ایک رسالہ لکھا۔ اسی زمانے میں بہادر علی حسینی نے گل کرایسٹ کی اردو قواعد کا اردو میں ترجمہ کیا۔ محمد ابراہیم نے 1823ء میں اپنی 'قواعد اردو' مرتب کی۔ 1840ء کے لگ بھگ سر سید احمد خاں نے بھی اردو کے کچھ قواعد مرتب کئے۔ 1845ء میں مولوی احمد علی دہلوی کی قواعد 'فیض کا چشمہ' دہلی سے طبع ہوئی۔ اسی سال امام بخش صہبائی کی 'قواعد اردو' دہلی سے شائع ہوئی۔ اس سے قبل غالباً پہلے صہبائی نے اردو قواعد پر ایک رسالہ بھی لکھا تھا جو بالکل ابتدائی نوعیت کا تھا۔ 1857ء کے لگ بھگ اور اس کے بعد تدریسی ضرورتوں کے تحت اردو قواعد کی سیکڑوں مختصر کتابیں لکھی جاتی رہیں۔ ان لکھنے والوں میں مولوی کریم الدین ، مولوی اسماعیل میرٹھی۔ نواب حیدر جنگ بہادر، راجہ شیو پرشاد۔ رائے درگا پرشاد وغیرہ بہت سے لوگ شامل ہیں۔


بیسویں صدی کی قواعد کی اہم کتاب مولوی فتح محمد خاں جالندھری کی 'مصباح القواعد' ہے جو اپنی جامعیت اور تفصیل نیز امثلہ و شواہد کے لئے اشعار کی تلاش کے لحاظ سے کافی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ اگرچہ 1903ء میں مرتب ہو چکی تھی ، لیکن رفاہ عام پربس لاہور سے شائع 1904ء میں ہوئی اور قبول عام پایا، بعد کے قواعدنگار بھی اس سے مستغنی نہیں۔


اردو قواعدکی کتابوں کا مشترکہ عیب

قواعد کی ان سب کتابوں کا مشترکہ عیب یہ ہے کہ ان میں فارسی قواعد کی کتابوں کے توسط سے یا بلا توسط اور براہ راست عربی قواعد کا تتبع کیا گیا ہے۔ عربی سامی زبان کی شاخ ہے جب کہ اردو آریائی بولی ہے ، اس کی قواعد میں آریائی پراکرت کی پیروی ہونی چاہئے تھی لیکن چونکہ اردو کے قواعد نگاروں کے سامنے پراکرت کے قواعد نہ تھے اور فارسی عربی کے عالم ہونے کی بنا پر عربی قواعد کا سکہ ان کے دل پر بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے عربی قواعد کو یا فارسی قواعد کو جو عربی قواعد کا چربہ تھے، سامنے رکھ کر اردو کے قواعد مرتب کر دیے۔ عربی قواعد کی تقلید کی وجہ سے ان سے اردو کی آریائی خصوصیات برابر نظر انداز ہوتی رہیں اور اردو قواعد میں بہت سے کھانچے رہ گئے۔ دور ازکار تاویلوں کی ضرورت پڑی اور بہت سی مصطلحات بے معنی ہی نہیں بلکہ مضحکہ خیز ہو گئیں۔


آریائی قواعد پر مبنی اردو قواعد کی کتابیں

اردو قواعد کے اس عیب کو غالباً سب سے پہلے بابائے اردو ڈاکٹر عبدالحق مرحوم نے محسوس کیا اور اس کے قواعد میں آریائی پراکرت کا تتبع کر کے اس کے مفصل اور معیاری قواعد مرتب کئے جو 'قواعد اردو' کے نام سے 1914ء میں الناظر پریس، لکھنو میں پہلی بار طبع ہوئے۔


ڈھاکہ یونیورسٹی کے عربی فارسی اور اسلامیات کے صدر پروفیسر فدا علی خاں صاحب فدا رامپوری بھی اردو قواعد کے اس عیب کو محسوس کرتے تھے ، چنانچہ انہوں نے بھی ڈاکٹر عبدالحق کے قواعد مرتب کرنے کے ہی زمانے میں وقتاً فوقتاً اردو قواعد آریائی پراکرت کے تتبع میں مرتب کرنے شروع کر دئے تھے جو 'قواعد اردو' کے شائع ہونے کے بعد تک جاری رہے لیکن کچھ دوسرے کاموں میں مصروفیت کی بنا پر چھوڑ دئے اور یادگار کے طور پر کچھ مرتب اور کچھ غیر مرتب نامکمل یادداشتیں مسودات کی صورت میں محفوظ رہ گئیں۔ یادداشتوں کا یہ مسودہ 'حصۂ املا' اور 'حصۂ صرف' تک ہی ہوا تھا اور 'حصہ صرف' بھی بحث اسم و فعل تک اور وہ بھی نامکمل۔ بحث نحو بالکل نہیں۔ اسم و فعل کی بحثوں میں بھی بعض مجوزہ فصلیں مرتب نہیں ہوئی تھیں۔


ڈاکٹر عبدالحق کی قواعد کے بعد غالباً اردو قواعد پر کوئی اہم اور قابل ذکر کتاب شائع نہیں ہوئی۔ مختصر اور درسیاتی کتابیں ہزاروں کی تعداد میں برابر شائع ہوتی رہیں، تا ایں کہ 1971ء میں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی سابق صدر شعبہ اردو کراچی یونیورسٹی کراچی کی 'جامع القواعد' شائع ہوئی ہے۔ جامع القواعد، جدید لسانیاتی نظریوں کو سامنے رکھ کر ایک آریائی زبان کی حیثیت میں اردو قواعد کی نہایت مفصل اور اہم کتاب ہے۔
تمہیدی ابواب میں اردو کے تاریخی پس منظر ، اس کے لسانی ڈھانچے ، اس کی قواعد نویسی کے آغاز، ارتقاء اور اس کے صوتی نظام پر نہایت قابل قدر تفصیلات جمع کر دی گئیں ہیں۔ قواعد کے استقرا اور استیعاب میں خاں صاحب مولوی فتح محمد خاں کی 'مصباح القواعد' اور ڈاکٹر عبدالحق کی 'قواعد اردو' خاص طور سے ان کے سامنے ہیں اور ان سے خاصا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔


ڈاکٹر صدیقی کی جامع القواعد کا زمانہ تالیف ہی ہوگا کہ 1961-62ء سے ہی مرحوم ڈاکٹر شوکت سبز واری نے اردو کے مزاج اور منہاج کو سامنے رکھ کر اس کے قواعد پر غور و فکر کرنا شروع کر دیا تھا اور یادداشتوں کو لکھنے کا آغاز ہو گیا تھا تا ایں کہ 1971ء میں مرحوم نے کتاب کی ابتدا بھی کر دی تھی۔ کچھ ہی ابتدائی بحثیں لکھنے پائے تھے کہ 19/مارچ 1973ء کو مرحوم کا انتقال ہو گیا اور یہ بحثیں بھی نظر ثانی کے بغیر ہی رہ گئیں۔ ڈاکٹر مشفق خواجہ نے یادگار کے طور پر ان ابتدائی بحثوں کو اپنے رسالے "اسلوب" کے غالباً 1982ء کے کسی شمارے میں ناظم آباد، کراچی سے سید قدرت نقوی کے توضیحی اور انتقادی حواشی کے ساتھ شائع کر دیا۔ پھر نومبر 1987ء کے اسلوب میں دوبارہ شائع کیا۔


ڈاکٹر شوکت سبز واری مرحوم کی اردو لسانیات اور اردو کے تاریخی پس منظر پر بہت وسیع اور گہری نظر تھی، انہوں نے اس کی تاریخ پر بہت اصالت سے غور کیا تھا۔ آریائی زبانوں کے قواعد اور اردو کے مزاج اور اس کے خصوصی انداز پر ان کو عبور تھا اس لئے قواعد پر چند بحثوں کا یہ مسودہ جو 'صرف' کی چند فصلوں تک محدود ہے ، بقول مشفق خواجہ، فائدے سے خالی نہیں اور اپنی موجودہ صورت میں بھی اردو قواعد میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔


یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
قواعد اردو - از ڈاکٹر مولوی عبدالحق - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ
دریائے لطافت - اردو لسانیات از انشاء اللہ خاں انشاء - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ
***
ماخوذ از کتاب: قواعد اردو (مولف: خاں بہادر پروفیسر فدا علی خاں صاحب)۔
ناشر: خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ۔ سن اشاعت: 1995ء

Urdu grammar and editing rules, history and necessity.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں