ٹررےفیک : حیدرآبادی ٹریفک کی صحیح حرفی عکاسی - انشائیہ از عابد معز - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-02-24

ٹررےفیک : حیدرآبادی ٹریفک کی صحیح حرفی عکاسی - انشائیہ از عابد معز

hyderabad-traffic-essay-abid-moiz
عنوان پڑھنے میں آپ کو تکلیف اور جھنجھلاہٹ ہوئی ہوگی۔ ہمارے مضمون کا عنوان "ٹریفک" ہے۔ ہم نے دانستہ طور پر ٹریفک کو 'ٹررے فیک' لکھا ہے تاکہ حیدرآبادی ٹریفک کی صحیح حرفی عکاسی ہو سکے۔ غلط املا کی طرح ہمارے شہر کی ٹریفک بھی غلط ، تکلیف دہ ، مشکل ، بے ہنگم اور TERRIFIC (خطرناک) ہے۔

تیز اور سبک رفتاری ٹریفک کی شان ہوتی ہے۔ حیدرآبادی ٹریفک کی بات ہی کچھ اور ہے۔ تیز رفتاری دور کی رہی ہماری ٹریفک کی کوئی رفتار ہی نہیں ہے، نہ تیز اور نہ ہی سست۔ ہماری ٹریفک چلتی بھی نہیں بلکہ گرتے ، اٹھتے، سنبھلتے اور آرام کرتے ہوئے رینگتی ہے اور اکثر اوقات رینگتے رینگتے تھک کر رک جاتی ہے۔
ٹریفک رکنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ اکثر و بیشتر ٹریفک بغیر کسی وجہ کے رک جاتی ہے۔ ہمہ اقسام کی سواریاں مختلف سمتوں سے آپس میں بھڑ جاتی ہیں۔ ہر ایک سواری جلد نکلنے کی کوشش میں پھنس کر رکاوٹ کا باعث بن جاتی ہے۔ رکی ہوئی ٹریفک کو صاف کرنے کے لئے پولس کے جوان ہارن کے شور شرابے میں بے بسی اور لاچارگی سے سیٹیاں بجاتے ہوئے ڈنڈا گھماتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں گاؤں کی یاد دلاتا ہے جہاں بعض اوقات مختلف سمتوں سے آنے والی بھیڑ بکریوں کے جتھوں کی مڈبھیڑ ہو جاتی ہے۔ مجبور و بے بس چرواہے آوازیں نکال کر انہیں الگ کر کے اپنی اپنی سمت لے جانا چاہتے ہیں۔

جلوس، بارات اور چار لوگوں کا مل کر ایک ساتھ چلنا ٹریفک کے لئے وبال جان ہوتا ہے۔ چند ایک دلچسپ واقعات بھی ٹریفک کو مفلوج کر دیتے ہیں جیسے کابلی خاں کا قوت باہ کے لئے حلوہ بیچتے وقت لوگوں کا ہجوم اور کھیل تماشہ کرنے والوں کے اطراف بچوں کا جمع ہونا۔ شادیوں کے موسم میں ٹریفک کی ناکہ بندی کی جاتی ہے۔ وہ سڑک جسے آپ برسوں دفتر جانے کے لئے استعمال کرتے آ رہے ہیں ، اچانک شامیانے میں غائب ہو جاتی ہے اور "آیا بنا آیا ہریالا بنا آیا" ریکارڈ آپ کی دلجوئی کرنے لگتا ہے۔ شادی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے منزل کو جانا پڑتا ہے یا پھر کسی اور راستے سے اپنی منزل مقصود کو پہنچنا پڑتا ہے۔
ملازمین اپنے مطالبات منوانے کے لئے دفاتر کے آس پاس راستوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریفک معطل کر دیتے ہیں۔ طلباء کا حال کچھ ان سے مختلف نہیں ہے۔ کلاس روم سے زیادہ وہ سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔

عام زندگی میں سوشلزم کا دور تک پتہ نہیں ہے۔ سوشلزم صرف ایک نعرہ ہے لیکن ہماری ٹریفک سوشلزم پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ ہر قسم کی سواری کو یکساں عزت و آزادی حاصل ہے۔ بیل گاڑی کے پچھے فیٹ کار بصد احترام رینگتی نظر آئے گی۔ ٹھیلے کے ساتھ قدم ملا کر کئی ٹن بوجھ اٹھائے لاری چلتی دکھائی دے گی۔ رکشا اور موٹر سیل میں دوڑ ہوگی۔ ہم نے ایک مرتبہ پیادے کے پیچھے کار کو چلتے ہوئے دیکھا، ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی لڑکا کھلونا کار کھینچے چلا جا رہا ہے۔ ہماری سوشلسٹ ٹریفک میں ہر قسم کی گاڑیاں تیز اور سست رفتار ، نئی اور پرانی ، آرام اور تکلیف دہ ، مسافر اور مال بردار ایک ہی رفتار سے ایک ہی سڑک پر چلتی نظر آئیں گی۔ انسان اور جانور کا فرق بھی روا نہیں رکھا جاتا۔ انسان کے ساتھ جانور بھی ٹریفک کا حصہ ہوتے ہیں۔

ہماری ٹریفک شور شرابے والی ٹریفک ہے۔ پیادے سے لے کر ہر قسم کی سواری آواز کرتی ہے۔ بعض مرتبہ ٹریفک کی آواز پر صور اسرافیل کا گماں گذرتا ہے۔ گھبرا کر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ بیل گاڑی روڈ رولر کھینچتی چلی آ رہی ہے۔ معمولی موٹر سیکل بھی ایسی آواز کرتی ہے جیسے مخالف ملک کا ٹینک دندناتا ہوا حملہ کرنے آ رہا ہو۔ زور دار آواز سے کان کے پردے لرز اٹھتے ہیں۔ آس پاس کی عمارتیں کپکپا اٹھتی ہیں، مگر ماحول سے بےنیاز موٹر سیکل سوار ہیڈفون لگائے انگریزی گانا سنتا اور سفر کا لطف اٹھاتا ہوا گزر جاتا ہے۔

ہماری ٹریفک کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ سواریاں چلتے ہوئے سڑک پر کچھ نہ کچھ چھوڑتی یا گراتی ہوئی جاتی ہیں۔ ہر سواری کم سے کم دھواں ضرور چھوڑتی ہے۔ بعض انجن پر گیاس پلانٹ کا گماں ہوتا ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ کبھی بھی سفید اور اجلے کپڑے پہن کر کھلے بندوں حیدرآبادی ٹریفک میں نہ نکلیں۔ ہم سے اس قسم کی غلطی ایک مرتبہ ہو چکی ہے۔ ٹینو پال کا اشتہار بنے ایک سواری کے پیچھے اتراتے چل رہے تھے کہ انجن نے دھواں چھوڑا۔ کھانستے ہوئے ہم غبار ٹریفک سے نکلے تو اپنوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ سفید کپڑے تو خیر سے سیاہ ہو چکے تھے ، ہمارے چہرے کی رنگت بھی کئی دن تک تبد یل رہی۔ مال بردار گاڑیاں دھواں چھوڑنے کے علاوہ اپنے مال کا کچھ نہ کچھ حصہ سڑک پر گراتی ہوئی گزرتی ہیں جس سے پیچھے آنے والوں کو کرتب بازی کرتے ہوئے بچنا پڑتا ہے۔ چند سواریاں تیل گرا کر اپنے پیچھے آنے والی ٹریفک کو چاروں شانے چت کر دیتی ہیں۔

ہمارے شہر کی ٹریفک ممنوعہ کام کرنے پر مصر رہتی ہے۔ "نو پارکنگ" میں سواریاں ٹھیرائیں گے ، غلط سمت سے راستہ چلیں گے، ممنوعہ سڑکیں استعمال کریں گے، منتخب جگہوں کو چھوڑ کر جہاں سے جی چاہے سڑک عبور کریں گے، ٹریفک سگنل پر توجہ نہیں دیں گے اور ہیلمٹ نہیں پہنیں گے۔ ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی کو روکنے اور قانون پر عمل کروانے کے لئے ٹریفک پولیس کا محکمہ ہوتا ہے۔ ٹریفک پولس سیٹی بجاتی ، ڈنڈے لہراتی اور چالان کرتے ہوئے بھی ٹریفک کو ممنوعہ کام سے باز رکھنے میں ناکام ہے۔
اکثر "ٹریفک ویک " اور "ٹریفک پندرهواڑہ " منایا جاتا ہے۔ پولس عوام سے التجا کرتی ہے منت سماجت کرتی ہے۔ انہیں یقین دلاتی ہے کہ پس عوام کی دوست ہے اور وہ عوام کو سمجھانے اور منانے کے علاوہ غیرت دلانے کے لئے کمسن بچوں سے ٹریفک کنٹرول کرواتی ہے۔ پھر بھی ہم نے کبھی نہ سدھرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

ٹریفک نقطہ نظر سے ہم نے عوام کو دو طرح کے خیالوں کا حامی پایا ہے۔ "ٹریفک برائے زندگی" اور "زندگی برائے ٹریفک"۔ پہلے خیال کے حامی ، محتاط ہوتے ہیں۔ اپنی زندگی کو ٹریفک کے شر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کم سے کم سفر کرتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے لئے دوسروں کی خدمات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کو دفتر سے موپیڈ ملی تو انہوں نے اسے چلانے کے لیے ذاتی خرچ پر ڈرائیور رکھا ہے۔ موصوف ڈرائیور کے پیچھے سفر کرتے ہوئے ہدایات دیتے ہیں۔
ٹریفک برائے زندگی قسم کے لوگ پیدل چلتے وقت بھی گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ چاروں طرف دیکھنے کے علاوہ اوپر بھی د یکھ کر گناہوں کی معافی مانگ لیتے ہیں۔

"زندگی برائے ٹریفک" نقطہ نظر کے حامیوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ زندگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے خود ان کی اور دوسروں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ تیز رفتاری اور بے توجہی سے کوئی حادثہ نہ ہوا تو اسے ڈرائیونگ کہتے ہیں جو ایک فن ہے۔ حادثہ ہونے پر بدقسمتی پر محمول کیا جاتا ہے۔

ٹریفک کی خطرناک خوبی حادثات ہیں۔ بغیر کسی وجہ سے لے کر کئی وجوہات کی بنا پر حادثات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ سڑک کے کنارے لگے پوسٹر ٹریفک کی توجہ بٹورتے ہوئے حادثے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک مرتبہ لاری ڈرائیور کی آنکھیں بوسٹر کو گھورتی رہیں ، ذہن فلمی حسینہ میں الجھا رہا اور لاری سامنے کی دکان میں گھس پڑی تھی۔
سوشلزم بھی حادثات کی ایک وجہ ہے۔ ایک حادثے میں اسکوٹر سوار نے گدھے سے ٹکرا کر ہسپتال سے اوپر کی راہ لی جبکہ گدھا دو لتی جھاڑتے ہوئے ٹریفک میں گم ہو گیا۔ وجہ کچھ بھی ہو حادثے کا شکار زندگی بنتی ہے۔ ٹریفک حادثات کی ترجمانی کے لئے ایک شعر تصرف کے ساتھ پیش خدمت ہے:
ہوں تو سفر حیات کا خاصہ طویل تھا
ہم ٹریفک کی راہ سے ہو کر گزر گئے
(اشاعت: جون-1983ء)
یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
ماخوذ:
واہ حیدرآباد (مزاحیہ مضامین از: عابد معز)
ناشر: زندہ دلانِ حیدرآباد (سنِ اشاعت: جنوری 1994ء)۔

Terrific, Hyderabad's Traffic. Humorous Essay by: Abid Moiz

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں