دکنی تذکروں کی امتیازی خصوصیات - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-02-08

دکنی تذکروں کی امتیازی خصوصیات

deccani-tazkare
جنوبی ہند کے مختلف علاقوں میں تحریر کردہ تذکروں کو " دکنی تذکرے " کا نام دیاجاتا ہے۔ یعنی دکنی تذکروں سے مراد دکن کے علاقوں میں لکھی گئی وہ تمام کتابیں تصور کی جائیں گی جن سے شاعروں اور ادیبوں کی سوانح لکھی گئی ہو اور ان کے طرز تحریر کے نمونے پیش کئے گئے ہوں۔ دکن میں لکھے گئے تذکروں کی طویل فہرست ہے۔ جن میں نہ صرف سوانحٰ مواد دستیاب ہوتا ہے بلکہ دکنی میں شعروادب کے عہد کے بارے میں بھی معلومات فراہم ہوتی ہے۔ اگرچہ دکنی تذکروں میں شخصیات اور ان سے متعلق متن کی پیشکشی کا دائرہ محدود ہے ، لیکن اس حقیقت سے گریز نہیں کیا جا سکتا کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو کئی حیثیتوں سے برتا ہے۔ اور لفظ تذکرے کے معنی کو ہمہ گیر حیثیت دے دی۔ دکنی تذکروں کی امتیازی خصوصیات یہی ہے کہ تذکرہ نویسوں نے دکن میں جس قدر تذکرے لکھے ان میں ہر اعتبار سے فن تذکرہ کو منفرد حیثیت کا حامل بنانے کی کوشش کی۔ دکنی تذکروں میں یہ روایت عام نظر آتی ہے کہ یہاں تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو نہ صرف خصوصی حیثیت دلانے کی کوشش کی بلکہ تذکرہ کی فارسی روایت کو بھی توڑ دیا۔ جس کے نتیجہ میں دکنی تذکرہ نویس اس فن کو صرف تاریخ یا سوانح کے طور پر استعمال نہیں کرتے بلکہ تذکرہ کے مفہوم کو وسیع معنی کا علمبردار بناکر اسے خصوصیت بخشتے ہیں جن کی وجہ سے دکنی تذکرے امتیازی حیثیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔
دکن میں تحریر کردہ مطبوعہ وغیر مطبوعہ لا تعداد تذکروں کا محاکاتی جائزہ لیاجائے تو محسو س ہوتا ہے کہ دکن کے تذکرہ نویسوں نے تذکرہ کے لفظ کو تاریخ ، سوانح، سیرت، شخصی سوانح، ادبی سوانح، مذہبی سوانح، کارنامۂ ملازمت، تاریخ ادارہ، ذخیرہ معلومات، تاریخ عمارت، تاریخ شجرہ اور تاریخ خطابات کے طور پر استعمال کیا۔ لفظ تذکرہ کو اس ہمہ گیری کے استعمال کرنے کا امتیازی وصف دکنی تذکرہ نویسوں ہی کو حاصل ہے ،جنوبنی ہند کے تذکرہ نویسوں کے مقابلہ میں شمالی ہند کے تذکرہ نگار اس امتیازی خصوصیت کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دکن کے فن کاروں نے تذکرہ کی فنی روایت سے کسی قد رعلیحدگی اختیار کرتے ہوئے جدت پسندی کو فن کی خصوصیت میں شامل کیا جب کہ ایسی منفرد مزاجی شمالی ہند کے تذکرہ نویسوں میں کمیاب رہی۔ یہی وجہ ہے کہ دکنی تذکرے رنگا رنگی خصوصیات کے حامل ہیں۔ جن میں سوانح کے ساتھ ساتھ کارناموں اور تاریخ و سیرت کی جھلکیاں بھی پوری طرح واضح ہیں۔ فن تذکرہ کی روایت سے کسی قدر اختلاف کرکے اسے جدت پسندی سے وابستہ کرنا دکنی تذکروں کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے۔ جن خصوصیات کی بنا پر دکنی تذکرے منفرد حیثیت کے حامل قرار دئے گئے ہیں۔ بطور ثبوت پیش کرنے کے لئے چند عنوانات قائم کئے گئے ہیں تاکہ یہ دلیل پیش کی جاسکے کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو کس قدر منفرد مزاجی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

1۔ تذکرہ بطور کارنامۂ ملازمت
2۔ تذکرہ بطور تاریخ ادارہ
3۔ تذکرہ بطور ذخیرہ معلومات
4۔ تذکرہ بطور تاریخ عمارت
5۔ تذکرہ بطور شجرہ
6۔ تذکرہ بطور خطبہ و خطابات
7۔ تذکرہ بطور سیرت
8۔ تذکرہ بطور شخصی سوانح
9۔ تذکرہ بطور ادبی سوانح
10۔ تذکرہ بطور مذہبی سوانح
11۔ تذکرہ بطور تاریخ

دکنی تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو کسی ایک مخصوص صنف کے لئے محدود نہیں رکھا بلکہ لفظ تذکرہ کو اتنی جامعیت بخش دی کہ تذکرہ کافی روایت سے علیحدہ ہوگیا۔ دکن میں تذکرہ کی روایت ایک علمی دھن کی حیثیت سے فروغ پائی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر تذکرہ نویس نے لفظ تذکرہ کی معنویت کو اپنے مخصوص طرز فکر سے وابستہ کر کے روایت شکنی اور فن تذکرہ کی اصولی بندشوں کو لامحدود کردیا۔

تذکرہ بطور کارنامہ ملازمت
دکن میں تحریر کردہ تذکروں کی طویل فہرست میں چند ایسے تذکرے بھی ہیں جن میں سوانحی حالات سے زیادہ ملازمت کے کارناموں کو پیش کیا گیا ہے یعنی دکنی تذکرہ نویسوں نے صرف حالاتِ زندگی کی پیشکشی کو تذکرہ کا روپ نہیں دیا بلکہ زندگی کی ایک بہت بڑی ضرورت ملازمت کے حالات کو بھی ضروری تصور کرکے فن تذکرہ کی روایت میں شامل کیا۔ چنانچہ دکنی تذکرہ نویسوں کی تحریروں میں دو ایسے تذکرے بھی شامل ہیں جن میں دوران ملازمت پیش آنے والے حالات کو تذکرہ کے روپ میں ظاہر کیا گیا ہے اس خصوص میں محمد تراب علی تذکرہ ملازمت کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
"چونکہ میرے لئے اس وقت تک کسی مستقل جائیداد کا تعین نہیں ہوا ہے اور جس کے لئے اکثر مجھے سرکار میں یا ددہی کرنی پڑتی ہے اور ان حالات کے ضروری حصے کو باربار عرض کرنا اور عرائض یاددہی میں ان کا لکھنا طوالت سے خالی نہ تھا اس لئے بعض ضروری کاغذات کو جمع کرکے طبع کروائے ہیں۔
(بحوالہ: تذکرہ ملازمت از محمد تراب علی خاں، مطبوعہ مشیر دکن حیدرآباد، 1319ف)

تذکرہ کے فن کو کارنامہ ملازمت کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے محمد تراب علی نے اپنی کتاب"تذکرہ ملازمت" میں ملازمت کے کارناموں کے مراسلوں اور ستائشی مراسلوں کو یکجا کر کے تذکرہ کا روپ دے دیا ہے۔ کتاب کے حصہ اول میں ملازمت کے حالات اور اس کے وثائق پیش کئے گئے ہیں۔ اور حصہ دوم میں نتائج کارگزاری اور لیاقت نامہ جات مرقومہ افسران بالا جمع کردئے گئے ہیں۔ حصہ اول میں 53؍مراسلوں کے ذریعہ خط و کتابت کا حوالہ دیا گیا ہے اسی طرح حصہ دوم میں 55 مراسلوں کے ذریعہ ان کی خدمات کو اپنے سراہنے اور آفیسروں کے ذریعہ احکامات کے اجرا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ محمد تراب علی ایک استاد کی حیثیت سے اپنی ملازمت انجام دے رہے تھے اور انہوں نے یہ تذکرہ اپنی جز وقتی ملازمت کو ہمہ وقتی میں تبدیل کرنے کے لئے تحریر کیا۔ کتاب کے آخر میں ان کی تقرری کے لئے اسپیشل تحصیلدار کی سفارش کا ذکر ملتا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ محمد تراب علی نے ملازمت کے مراسلوں کو ترتیب دے کر اسے تذکرہ کا نام دے دیا۔ در حقیقت یہ تراب علی کی ملازمت کے زمانے کا تذکرہ ہے اور انہوں نے دوران ملازمت اپنی ذات سے ظہور میں آنے والی خدمات کو تحریر ی روپ دے کر اسے تذکرہ کی صنف میں شامل کردیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکن میں تحریر کردہ تذکرے صرف سوانحی مواد یپش کرنے کی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ دکنی تذکرہ نویسوں نے زندگی میں در پیش تمام مسائل کے دوران اختیار کردہ رویے کو تذکرہ کی شکل دے دی جس کی مثال" تذکرہ ملازمت" سے دی جاسکتی ہے۔ جس کے وسیلے سے تراب علی نے ملازمت کے کارناموں کو مرتب کرکے اسے تذکرہ کا نام دے دیا ہے۔

دکن میں مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تذکروں کی فہرست میں اس قبیل کے کئی تذکرے ملتے ہیں۔ جن میں اس فن کو ملازمت کے کارناموں کے لئے بھی مختص کیا گیا ہے جس کی ایک مثال "تذکرہ زیبا" (مولف: سید شرف الدین، مطبوعہ: شمس المطابع حیدرآباد 1345ھ) سے دی جا سکتی ہے۔ اس تذکرہ کو سید محمد تقی اور سید شرف الدین نے ترتیب دیا۔ درحقیقت یہ تذکرہ لطیف یار جنگ کی ملازمت محکمہ آبکاری میں ان کی خدمات سے متعلق ستائشی مواد پیش کرتا ہے۔ اس تذکرہ میں وداعی اور تہنیتی تقاریب کی روئیداد اور تقاریر کو بطور تذکرہ پیش کیا گیا ہے۔ لطیف یار جنگ کی وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوشی اور سید محمد تقی کے تقرر کی تہنیت میں یہ تذکرہ لکھا گیا۔ جس میں مختلف نظمائے آبکاری اور صیغہ دار اور انسپکٹرس کے احساسات اور جذبات کو جو وداعی تقایر کے دوران پیش کئے گئے۔ تذکرے کی شکل دے دی گئی ہے اس تذکرہ میں تقایر کے ساتھ ساتھ قصائد اور قطعات بھی درج ہیں۔ مخمس کی شکل میں یادگار نظمیں بھی تحریر کی گئی ہیں۔ اس طرح یہ تذکرہ ایک گلدستہ کی حیثیت رکھتا ہے جس میں لطیف یار جنگ کی ملازمت اور ان کے کارناموں کو سراہتے ہوئے انہیں وداع کیا گیا اور نئے ناظم کی حیثیت سے سید محمد تقی کا استقبال کیا گیا۔ در حقیقت یہ تذکرہ وداعی و استقبالیہ تقریب کی ایک روائیداد ہے جس میں نثر و نظم کے ذریعہ خراج عقیدت یپش کرنے کے طریقے کو روا رکھا گیا ہے۔ قصیدہ نما نظمیں اور نثری مضامین کے جائزے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سید شرف الدین نے اپنے اس تذکرے کو بطور کارنامہ ملازمت پیش کرتے ہوئے خراج عقیدت کے طریقہ کو اپنایا جس سے یہ بات پائے ثبوت کو پہنچتی ہے کہ دکن کے تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو امتیازی خصوصیت کا حامل بنانے کے لئے اس کی ہیئت میں کئی تبدیلیاں کیں جس کی وجہ سے تذکرہ دکنی دور میں ایک فعال صنف کی حیثیت کا حامل ہوگیا۔

تذکرہ بطور تاریخ ادارہ
دکنی تذکروں کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ دکن میں لکھے گئے تذکرے صرف سوانحی مواد کی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ دکن کے تذکرہ نویسوں نے ادارہ جات کی تاریخ لکھنے کے لئے بھی تذکرے کے فن کو بروئے کار لائیے۔ دورِ قدیم سے ہی یہی روایت چلی آرہی تھی کہ کسی کی شخصیت اور کارناموں کے بارے میں مواد پیش کرنے کوتذکرے کا نام دیاجائے۔ دکنی تذکرہ نویسوں نے نہ صرف اس قدیم انداز کی روایت شکنی کی بلکہ تذکرہ کو فنی طور پر متعدد قسم کے اظہارات سے بھی وابستہ کردیا جس کی ایک بہترین مثال دکن میں تحریر کردہ تذکروں میں ادارہ جات کی تاریخ کو یکجا کرنے سے دی جاسکتی ہے۔ دکن میں لکھے گئے تذکروں میں تذکرہ دارالعلوم اور تذکرہ شعبہ قانون یہ ایسے تذکرے ہیں جن میں ادارے اور شعبہ جات کی تاریخ کو منضبط کرنے ک ثبوت ملتا ہے۔

"تذکرہ دارالعلوم" (مطبوعہ حیدرآباد دکن، 1362ھ) نصیر الدین ہاشمی کا تحریر کردہ تذکرہ ہے جس میں انہوں نے حیدرآباد کے مشہور مدرسہ دارالعلوم کی ابتدا سے تاریخ درجے کی ہے۔ حیدرآباد میں تعلیم کی شروعات کے اعتبار سے دارالعلوم سب سے پہلے مدرسہ معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ مدرسہ دارالعلوم کی ابتداء، محرکات، طرز تعلیم، اساتذہ، طلباء اور اس عہد کی تعلیمی مشغولیات کے بارے میں تفصیلات بھی پیش کرتا ہے۔ ریاست حیدرآباد میں نصابی اور تعلیمی تحریکات کے ابتدائی دور میں اس مدرسہ کا قیام عمل میں آیا یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کی تعلیمی تاریخ میں اس مدرسہ کو اولیت حاصل ہے ، نصیر الدین ہاشمی نے"تذکرۂ دارالعلوم " لکھ کر نہ صرف اس مدرسہ میں درس و تدریس کے طریقوں کے بارے میں تفصیلات تحریر کی ہیں بلکہ اس تذکرے کے ذریعہ کی تاریخ تحریر کرنے کی روایت کو بھی فروغ دیا ہے۔ نصیر الدین ہاشمی کے اس تذکرے س دکنی تذکروں میں اس فن کو بطور تاریخ ادارہ تحریر کرنے کی کوشش کا پتہ چلتا ہے۔

دکن میں تذکرے کے فن کو متعدد مفاہم کے لئے استعمال کیا گیا، تذکرہ نویسوں نے کسی ادارہ۔ اسوسی ایشن، تنظیم اور انجمن کی تاریخ کو مبسوط کتابی شکل دے کر اسے بھی تذکرے کے نام سے معنون کیا۔ جس کی ابتدائی مثال نصیر الدین ہاشمی کی کتاب"تذکرہ دارالعلوم " سے دی گئی۔ دکن میں تحریر کردہ اسی قبیل کا ایک اور تذکرہ دستیاب ہوا ہے ، جسے عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ قانون نے ترتیب دیا اور "تذکرہ شعبۂ قانون" (مطبوعہ عثمانیہ یونیورسٹی بزم قانون، حیدرآباد 1944ء) کے نام سے جامعہ عثمانیہ س ملحقہ شعبہ قانون کی تاریخ کو تحقیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ بزم قانون جامعہ عثمانیہ کی جانب سے مرتب کردہ اس کتاب میں تاریخی استدلال واضح ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ یونیورسٹی میں قانون کے شعبہ کے قیام اور اس شعبہ کے تحت تعلیم کے آغاز کے ساتھ ساتھ مختلف عہدوں میں ڈگری یافتگان اور نامور وکلاء کے بارے میں تفصیل درج کی جائے۔ در حقیقت اس تذکرے سے مختلف سنین میں قانون کی ڈگری لینے والوں کی تفصیل اور ان کی عوام میں مقبول پریکٹس کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ بزم قانون کے ان ہونہار وکلاء کی تعلیمی زندگی کا خاکہ پیش کیا ہے جو سندیا فتگی کے بعد ریاست حیدرآباد اور ملک کے نامور ماہر قانون اور منصف قرار دئیے گئے۔

جامعہ عثمانیہ کے قیام کے بعد سے شعبہ قانون کی ترقی اور اس شعبہ سے وابستہ اساتذہ اور طلباء کے کارنامے اور ان کی مصروفیات کو درج کرتے ہوئے اس تذکرے میں حیدرآباد کے ڈگری یافتہ قانون کے زمانہ طالب علمی کے حالات درج کئے گئے ہیں۔ در حقیقت یہ تذکرہ ایک رپورٹ کی شکل رکھتا ہے۔ جس میں ہر سنہ میں سند یافتہ طلباء کی تفصیل ان کی کامیابی کے درجے کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔ اس تذکرہ کو تاریخ ادارہ کے صیغہ میں اس لئے شمار کیاجاتا ہے کہ توسط سے شعبہ قانون کی تفصیلات کا علم ہوتا ہے۔

تذکرہ بطور ذخیرۂ معلومات
دکن میں تحریر کردہ تذکروں کے جائزے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سر زمین کے تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو ایک فعال صنف کے درجہ دینے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ رہا کہ دکن میں تحریر کردہ تمام تذکرے متعدد فنون اور اندازو اظہار کے نمائندہ ہوگئے ، ابتدائی طور پر چند تذکرے دکنی زبان میں لکھے گئے۔ لیکن رفتہ رفتہ دکنی زبان اور لب و لہجہ میں فرق پیدا ہوا اور تذکرے عام ادبی زبان میں لکھے جانے لگے۔ دکن کے تذکرہ نویسوں کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ انہوں نے اس فن کو سیماب صفت حیثیت دینے کی کوشش کی اور تذکرے کو طرح طرح کے انداز سے وابستہ کردیا۔ چنانچہ دکن میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے تذکرے کو خیرہ معلومات کی حیثیت دے دی۔ اس خصوصیت کے حامل تذکروں کی فہرست میں محمود صمدانی کی کتاب "تذکرہ طاعون" کو ادبی طور پر بیماری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی دکنی تصنیف کا درجہ دیاجاسکتا ہے۔

محمود صمدانی نے "تذکرہ طاعون" میں مختلف طبی معلومات کے ذریعہ مرض طاعون کی ابتداء اس کے تدارک کے لئے انتظامات اور مرض سے نجات کے بارے میں تفصیلات درج کی ہیں۔ اس تذکرے کو طبی کتاب کا درجہ نہیں دیاجاسکتا۔ کیونکہ تذکرہ نگار نے بنیاد طور پر اس کتاب کو ہندوستانی ماحول میں لکھا اور کسی قدر مرض طاعون کے بارے میں معلومات فراہم کر کے انہیں کتابی شکل دے دی۔ اس کتاب میں مرض طاعون کے بارے میں چیدہ چیدہ معلومات کو جزوی طور پر تحریر کیا گیا ہے۔ مواد کے اعتبار سے کتاب کو تذکرے کی سرشت میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ اس تذرے میں شخصی تذکرے کا عکس نہیں ملتا اور نہ ہی مرض طاعون کی تاریخ میں اس تذکرے میں پیش کی گئی ہے بلکہ مرض کی شروعات اور اس کی روک تھام کے بارے میں معلومات اکٹھا کی گئی ہیں۔ اس لئے اس کی حیثیت کسی قدر معلوماتی کتاب کی ہوجاتی ہے مرض طاعون کے بارے میں اس تذکرے سے مکمل متن دستیاب نہیں ہوتا چونکہ تذکرے کی خصوصیت ہوتی ہے کہ اس صنف میں صاحب شخصیت کے بارے میں چند اہم معلومات کو اکٹھا کردیاجاتا ہے اور اس فن میں تحقیقاتی متن نہیں ہوتا اور یہی انداز تذکرہ طاعون میں اختیار کیا گیا ہے۔ چند معلومات کو اکٹھا کر کے طاعون کے بارے میں اہم مواد فراہم کردیا گیا ہے اس لئے اس تذکرہ کو فنی اعتبار سے معلومات فراہم کرنے والے تذکرے کا درجہ دیاجاتا ہے۔

دکنی تذکروں میں یہ امتیازی خصوصیت پائی جاتی ہے کہ شمالی ہند کے مقابلہ میں یہاں کے ادیبوں اور شاعروں نے اس فن کو جامع ترین ہیئت کے طور پر استعمال کیا اور تذکرے کی معنویت کو اس حد تک ہمہ گیر بنادیا کہ اس کی حیثیت ایک سیال صنف سخن کی ہوگئی۔

تذکرہ بطور تاریخ عمارت
عمارتوں کی تاریخ لکھنے کی روایت کو بطور تذکرہ پیش کرنے کا انداز بھی دکن میں فروغ پاتا رہا۔ دکنی تذکرہ نویسوں نے فن تذکرے کو صرف شخصیات اور سیرت کی حد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس فن کو وسعت دیتے ہوئے عمارتوں کی تاریخ تحریر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا اس خصوص میں تحقیق کے دوران سالار جنگ میوزیم لائبریری کے قلمی کتب خانہ میں ایک مخطوطہ دستیاب ہوا ہے جو تاریخ کے شعبہ میں 511 نمبر پر محفوظ ہے "آثار الاوثان" (قلمی نسخہ، سالار جنگ میوزیم لائبریری حیدرآباد) کے زیر عنوان سید محمد محی الدین خاں نے ایسی تاریخی عمارتوں کی تفصیل پیش کی جو مذہبی طور پراہمیت کی حامل ہے۔ چنانچہ اس کتاب کو انہوں نے معابد مقدسہ اہل ہنود کا نام بھی دیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ان تمام مورتیوں کا تذکرہ کیا ہے جو پہاڑوں میں پتھر کو تراش کر بنائی گئی ہیں۔ در حقیقت یہ قلمی کتاب بت پرستی پر اعتقاد رکھنے والے افراد کے لئے یہ معلومات فراہم کرتی ہے کہ پہاڑوں پر کس طرح صناعی کے ساتھ عمارتیں تعمیر کی گئیں اور ان میں دیوی دیوتاؤں کے بت بنائے گئے۔ سید محمد محی الدین خان نے آثار الاوثان میں ابتدائی طور پر کوہستانی دیویوں کے بانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ہر فرقہ کے مندروں کی علامات اور ان کی تعداد کے بارے میں تفصیلات درج کی ہیں، در حقیقت مندر کا شمار ایک مذہبی عمارت کی حیثیت سے کیاجاتا ہے۔ اسی لئے اس کتاب کو تاریخ عمارت کے صیغہ میں شمار کیاجاتا ہے۔

تذکرہ آثار الاوثان مندروں کی عمارات اور دیوی اور دیوتاؤں کے حالات کی نمائندگی کرتا ہے مصنف نے پچھتر (75) مورتیوں کے نام اور ان کے حالات قلمبند کرنے کے بعد اورنگ آباد کے پہاڑی مندروں کی عمارتوں اور ایلورہ اور ایجنٹہ کے غاروں میں تراشیدہ مورتیوں کی تفصیل پیش کی ہے۔ ابتدائی طو پر کتاب کا آغاز مقدمہ سے کیا گیا ہے۔ پوری کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب میں پہاڑیوں پر آباد مندروں کی عمارت اور بتوں کے بارے میں مختصر سی تفصیل درج کی گئی ہے ایلورہ کے تمام 16غاروں کا تذکرہ موجود ہے۔ جس کے ساتھ ہی اجنٹا کے 29 غاروں کے بارے میں تفصیلات درج کرتے ہوئے بیڑ، مومن آباد، کروسہ، مدراس،بجواڑہ، مہاولی پور، برابار، راجگڑھ، سپتا مرہٹی،انفنٹہ، ناسک، کٹک، کاٹھیاواڑ، راجپوتانہ کے مختلف غاروں اور دیویوں کی عمارتوں کے بارے میں اس تذکرے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اردو ادب میں غالباً یہ پہلا تذکرہ ہے جس میں عمارتوں کی تاریخ کو درج کرنے کے لئے مندروں کا انتخاب کیا گی ہے۔ مصنف نے در عجائبات جہان ہندوستان کے زیر عنوان تشریح کردی ہے کہ درحقیقت ہندوستان کے پہاڑی علاقوں میں جو عجیب و غریب مندروں کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں وہ اپنے دور کی یادگار ہیں۔
اگرچہ اس کتاب میں تاریخی عنصر شامل ہے۔ لیکن اس قلمی نسخے کو تاریخ میں شمار نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ سید محمد محی الدین نے اس کتاب میں تاریخی شواہد اور ٹھوس ثبوت سے کام نہیں لیا بلکہ جس طرح اردو تذکروں میںعامیانہ انداز اختیار کیاجاتا ہے۔ اس طرح اس کتاب میں پہاڑوں پر تعمیر شدہ مندروں کا تذکرہ کیا ہے۔ سید محی الدین خاں اورنگ آباد عدالت کے ناظم صدر کے عہدے پر فائز تھے ، اس کتاب کی تحریر کا منشا یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی تحریر کے ذریعہ اردو داں طبقہ تک پہاڑیوں پر آباد مندروں کی عمارات اور ان میں موجود مورتیوں کے بارے میں معلومات پہنچانا چاہتے ہیں۔
یہ کتاب قلمی نسخے کی حالت میں خوشخط نستعلیق طرز تحریر کا بہترین نمونہ ہے ، جو 1300ھ میں تصنیف کی گئی اور اسی دور میں کتابت بھی کی گئی، آثار الاوثان مجموعی اعتبار سے دیولوں کی عمارتوں کا ایک بہترین تذکرہ ہے جس میں کسی قدر تاریخی عکس بھی شامل ہے چونکہ دیول یا مندر کا شمار بھی ایک عمارت میں کیاجاتا ہے اور ایلورہ اور اجنٹا کے غاروں کی تراش کا مقصد بھی مورتیوں میں ایستادہ کرنا تھااسی لئے اس کتاب کو تاریخ عمارت کا درجہ دیاجائے گا اور اس کتاب میں محفوظ متن تذکرے کے اندا ز کو پیش کرتا ہے۔ اسی لئے آثار الاوثان کو دکن میں تحریر کردہ تذکرے کی حیثیت دی جاتی ہے۔

تذکرہ بطور شجرہ
دکن میں تحریر کردہ تذکروں کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے کہ یہاں کے ادیبوں نے فن کو ہمیشہ جیتا جاگتا رکھنے کے لئے جدید تقاضوں سے منسلک رکھا جس کی مثال دکنی تذکروں سے دی جاسکتی ہے۔ عموماً کوئی صنف ادب جب جدید تقاضوں ک پابجائی سے غیر محرم ہوجاتی ہے تو لازمی طور پر ادب میں اس کا شمار کلاسیکی طرز میں کردیاجاتا ہے۔ دکنی تذکروں کے مطالعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دکن کے ادیبوں نے اس صنف کو جدید ادب سے وابستہ کرنے کے لئے نئے نئے تجربے کئے اور اسے ہر آہنگ سے وابستہ رکھنے کی کوشش کی۔ چنانچہ قدیم دور میں تذکرے کا مفہوم جو کلاسیکی طرز سے وابستہ تھا اس روایت کو توڑنے کا حق دکنی تذکرہ نویسوں نے انجام دیا اور فن تذکرہ کو ایک متحرک صنف ادب قرار دینے کی کوشش کی جس کی بہترین مثال تذکرہ کو بطور شجرہ استعمال کرنے سے دی جاسکتی ہے۔ کئی کتابیں مطبوعہ حالت میں دیکھی گئی جن میں تذکرہ کی روایت کو شجرہ کے طور پر پیش کرنے کا ثبوت ملتا ہے لیکن یہاں پر صرف مخطوطات سے بحث کی جاتی ہے۔ مطبوعہ تذکرے کی فہرست میں "تذکرہ قادریہ" (از محمد عبدالقادر مطبوعہ حیدرآباد دکن 1286ھ) اور "تذکرہ اولیاء ابعلائیہ" میں تذکرے کو بطور شجرہ پیش کرنے کا مواد ملتا ہے۔ اسی طرح قلمی نسخوں میں شجرۃ المحمود اور شجرۃ الانصاب" اور سلسلہ مشائخ طریقت بھی تذکرے کو بطور شجرہ استعمال کرنے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

شجرۃ المحمود محمد منیر الدین چشتی محمودی کا تحریر کردہ مخطوطہ ہے جو اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے۔ فہرست میں اسے مجامع 475 کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس کی سن تاکلیف 1303ھ درج کی گئی ہے۔ در حقیقت تذکرہ سلسلہ چشتیہ کے بزرگان دین کے حالات اور کرامات کے علاوہ ان کے شجرہ کی تفصیل پیش کرتا ہے۔ سلسلہ چشتیہ سے وابستہ 195 بزرگان دین کے سلسلے کو ظاہر کرتے ہوئے محمد منیر الدین نے اس تصنیف کا آغاز حضرت علی سے کیا ہے اور اختتام اپنے مرشد شیخ محمود میاں کے والد کے حالات درج کرکے شجرہ کی تفصیل بھی پیش کی ہے۔ محمد منیر الدین حیدرآباد کے متوطن صوفی اور شاعر تھے، منیر تخلص اور شیخ محمود میاں گجراتی کے مرید اور خلیفہ تھے۔ اس کتاب کے ذریعہ انہوںنے تذکرے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدت سے کام لیا ہے۔ اور شجرہ نویسی کو تذکرہ کے فن میں شامل کردیا ہے۔ اس مخطوطہ کی خصوصیت یہی ہے کہ اس کی وجہ سے دکن میں تحریر کردہ تذکروں میں اس مخطوطہ کو اہمیت کے ساتھ شامل کیاجاتا ہے۔

تذکرے کی صنف میں حسب نسب کو بطور تذکرہ پیش کرنے والے مصنف گردھاری پرشاد باقی ہیں جن کا تذکرہ شجرۃ الانساب دکنی تذکروں میں ایک اہم مخطوطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تذکرہ اسٹیٹ سنٹرل لائبریری کے شعبہ ٔ مخطوطات میں 307 تذکرے میں درج ہے۔ گردھاری پرشاد حیدرآباد کے متوطن تھے اور ان کا تخلص باقی تھا۔ گردھاری پرشاد کے اس مخطوطہ میں" علم الانساب" کا انداز غالب ہے۔ لیکن یہ مخطوطہ تذکرے کے ضمن میں شامل کیاجاتا ہے۔ گردھاری پرشاد نے اس تذکرے کو شجرہ کی تفصیل کی طرح نسب کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی اس تصنیف میں کسی قدر تاریخی استدلال کے ذریعے بتایا ہے کہ علم الانساب کی تاریخ کسب سے شروع ہوئی اور نسب جانچنے کا طریقہ اقوام میں کب سے رائج ہوا۔ اگرچہ اس تصنیف میں تاریخی استدلال موجود ہے لیکن اس کا شمار تذکرے میں کیاجاتا ہے۔ متن اور مواد کی ترتیب میں تذکرے کا فن جن بے اعتدالیوں سے وابستہ رہتا ہے۔ وہ عکس علم الانساب میں پوری طرح اجاگر ہے۔ اسی لئے اس تصنیف کو تذکرے کا درجہ دیا گیا ہے۔ دکنی تذکروں میں ایک منفرد فنی خصوصیت اور ہیئتی اعتبار سے علیحدہ طرز کی نمائندگی گردھاری پرشاد کے اس تذکرے میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔

دکنی مخطوطات کی فہرست میں فدا علی درویش کا ایک ایسا قلمی نسخہ بھی دریافت ہوا ہے جو تذکرے کو شجرہ کے طور پر استعمال کرنے کی دلیل پیش کرتا ہے۔ "سلسلہ مشائخ طریقت" ایک ایسا مخطوطہ ہے جس میں فدا علی درویش نے مختلف مشائخین کے سلسلہ طریقت کو تذکرے کے روپ میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ اس قلمی نسخہ کا شمار تذکرے میں ہوتا ہے لیکن شجرہ پیش کرنے کی خصوصیات اس تصنیف میں موجود ہے۔ یہ تذکرہ عثمانیہ یونیورسٹی لائبریری کے شعبہ مخطوطات میں قلمی(270)پر درج ہے۔ فدا علی درویش حیدرآباد کے متوطن تھے ، جس میں تفصیلی طور پر مختلف مشائخین کے سلسلہ طریقت کو پیش کیا گیا۔ چونکہ یہ تذکرہ دکن میں تحریر کیا گیا اسی لئے اس کا شمار دکنی تذکروں میں پیش کیاجاتا ہے۔ پیر، پیغمبر اور اولیائے کرام کے علاوہ مشائخین سے اکتساب فیض اور بیعت کے طریقے سے متعلق حالات اور واقعات کو بطور تذکرہ پیش کرنے کی جدت سب سے پہلے فدا علی درویش نے کی۔ اس تذکرے کے ذریعہ مشائخین کے خانقاہی نظام اور بیعت کرنے کی تاریخ کو تذکرہ کے انداز میں پیش کیا ہے۔ اس لحاظ سے دکنی تذکروں میں اس تصنیف کی حیثیت ایک منفرد تذکرہ کی ہوجاتی ہے جو شجرہ کے ساتھ ساتھ بیعت کی تاریخ بھی پیش کرتا ہے۔ جس سے ثبوت ملتو ہے کہ دکنی تذکرے متعدد طرز اسلوب سے وابستہ رہے۔

تذکرہ بطور خطبہ و خطابات
عام طور پر خطبات سے مراد ذی حیثیت افراد کے وہ الفاظ ہیں جو معنوی حیثیت سے جامع ہونے کے علاوہ اپنے اندر کشش بھی رکھتے ہیں۔ امیر و امراء، بادشاہ و سلاطین اور پیر طریقت کی جانب سے عطا کردہ وہ علمی کام جو صاحب شخصیت کی خصوصیت اور اس کی فطرت کی غمازی کرے وہ خطبات کہلاتا ہے ، جو نہ صرف انسان کی شخسیت کو قدآور بناتا ہے بلکہ انہی خطبات کی وجہ سے انسان کو سماج میں بلند مقام بھی ملتا ہے۔ خطبات کی حیثیت صرف صوری نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعہ خطبہ دینے والوں کی زباندانی کا پتہ چلتا ہے۔ چونکہ جنوبی ہند میں بھی مختلف علماء و صوفیا موجود تھے۔ اس لئے دکن میں خطبات کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ جس کے نتیجہ میں تذکرہ کو بطور خطبات رواج دینے کا سلسلہ شروع ہوا، دکنی تذکرہ نویسوں نے خطبوں کی تاریخ مرتب کرنے کا ایک نیا طریقہ ا پنایا۔ اس کے ذریعہ نہ صرف خطبات کی تاریخ مدون کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ علماء اور فضلاء نے مختلف مذہبی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے جو خطبے دئیے ان کی بھی تفصیل پیش کی گئی۔ دکنی تذکروں کے مخطوطات کی طویلی فہرست میں"تذکرہ خطابات" اور "کشکول" ایسی تصانیف ہیں جس میں خطبات کی تفصیل درج ہے۔

"تذکرۃ الخطابہ" دکنی تذکروں میں اہمیت کا حامل تذکرہ ہے جسے محمد عثمان عمادی نے لکھا ہے کہ اس تذکرے کے ذریعہ پیغمبر اسلام، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عثمان غنی، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت علی ، حضرت طارق بن زیاد ،حضرت عمر بن عبدالعزیز اور شیخ عبدالقادر عمادی کے خطبوں کو تالیف کی شکل میں پیش کیا گیا ہے در حقیقت اس تذکرہ کو خطبوں کے تذکروں میں شامل کیاجاسکتا ہے۔ محمد عثمان عمادی نے اس تذکرے میں اسلام کے نامور اشخاص کے خطبات کو یکجا کر کے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ در حقیقت حریت کی روح خطبات کے ذریعہ مسلمانوں میں پھیلتی گئی۔ دکنی تذکروں میں اس تالیف کی حیثیت منفرد سمجھی جاتی ہے اور اس امر کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں کی جدت طبع نے اس فن کو مختلف حسیات سے فروغ دیتے کی کوشش کی ہے، محمد عثمان عمادی کا یہ تذکرہ دکنی تذکروں میں اس وجہ سے علیحدہ مقام رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ مولف نے تذکرہ کی روایت میں جدت کی بنیاد قائم کی اور فن کو شخصی تذکرہ سے علیحدہ کرکے خطبات کے تذکرہ سے مربوط کردیا۔

دکنی تذکروں کی فہرست میں"کشکول" بھی اپنی علیحدہ حیثیت رکھتا ہے۔ فرید الدین خاں خوئشگی نے اس تذکرہ میں ابتدائی طور پر وجود انسان اور سترہ علوم سے بحث کرتے ہوئے پانچ ابواب کے بعد مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو خطابات سے نوازاہے۔ چنانچہ وہ بزرگوں اور حکمائے متقدمین کی درجہ بندی کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
1۔ فرقہ اول: حکمائے متوصفین (نبوت و رسالت کے قائل۔ طابع احکام)
2۔فرقہ دوم: حکمائے متکلمین (نبوت و رسالت کے قائل۔ طابع احکام)
3۔فرقہ سوم: علمائے اشراقین (تابع عقل اور نیچرپرست)
4۔فرقہ چہارم: حکمائے مشاعین (تابع عقل اور نیچرپرست)

اس تذکرے کے ذریعہ فرید الدین خاں خوئشگی نے مفکرین کے درجے متعین کرکے انہیں مختلف خطابات سے نوازا ہے۔ اور مذہبی احکام کی پابجائی اور مذہبیت کے قائل علماء کو متصوفین اور متکلمین کے خطابوں سے نوازا۔ جبکہ خدا اور رسول کے وجود سے انکار کرنے والے علماء کو اشراقین اور مشاعین کے خطابات دئیے اس طرح فرید الدین خاں خوئشگی کا یہ تذکرہ مذہبی اور غیر مذہبی حکمائے عالم کو چار مختلف خطابوں سے معنون کرتا ہے۔ اسی لئے دکنی تذکروں میں کشکول کو خطابات کے تذکرے کی حیثیت دی جاتی ہے، اگرچہ اس تذکرہ میں بادشاہوں کی جانب سے عطا کردہ خطابات کا ذکر نہیں ہے لیکن حکمائے عالم کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اسی لئے یہ تذکرہ خطابات کے صیغہ میں شمارکیاجائے گا۔

تذکرہ بطور سیرت
سوانح اور سیرت میں تھوڑا سا فرق پایاجات ہے۔ عام طور پر زندگی کے حالات تحریر کرنے کو سوانح کا درجہ حاصل ہے۔ سیرت سوانح سے اعلیٰ معیار کی متقاضی ہوتی ہے۔ عموماً سیرت نگاری کے دوران شخصیت سے زیادہ کارناموں کی تفصیل پر توجہ دی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں سیرت نگاری کے دوران شخصیت سے زیادہ کارناموں کی تفصیل پر توجہ دی جاتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں سیرت نگاری شخصی واقعات کا پلندی نہیں بنتی بلکہ کارناموں کے بیان کا بہترین ذریعہ بن جاتی ہے۔ سیرت نگاری کے دوران سوانحی عکس کو بھی شامل کیاجاتا ہے۔ لیکن سیرت کی خصوصیت یہی ہے کہ اس کے توسط سے انسان کے روحانی ارتقاء اور اس کے خصائل سے بحث کی جاتی ہے۔جب کہ سوانح نگاری میں صرف شخصیت اور کارناموں کی تاریخ درج ہوتی ہے اس اعتبار سے سیرت نگاری نہ صرف انسان کے باطنی اطوار کی تصویر کشی کرتی ہے، بلکہ روحانی طاقتوں سے دل کو مسحور کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہے۔ دکنی تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کو سیرت کے طور پر بھی استعمال کیا۔ سوانح تحریر کرنے کا تصور عام طور پر دکن میں تذکرے سے وابستہ رہا۔ جس کے ساتھ ہی مذہبی علماء کی سیرت کو بطور تذکرہ پیش کرنے کی روایت بھی عام ہو گئی۔
دکنی مخطوطات میں کئی ایسی تصانیف دیکھنے میں آئی ہیں جن کا مقصد علوم باطنی سے آشنا مذہبی علماء کی سیرت حریر کرتا رہا۔ مطبوعہ کتابوں میں"تذکرہ تاج الاولیاء" اس کے علاوہ "تذکرہ حسن" ،"تذکرہ حسین" مذکرہ جلال الدین" ،"تذکرہ حمید الدین ناگوری، تذکرہ خواجہ عبداللہ خاں، تذکرۂ سادات، تذکرہ سعید ،تذکرہ علی، تذکرہ غوث دکن" تذکرہ مخدوم زادہ" کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے سیرت نگاری میں مکمل کامیابی حاصل کی۔

دکن کے تذکرہ نویس مذہبی طور پر علماء اور مشائخین سے گہری وابستگی رکھتے تھے، جس کے نتیجہ میں تذکرہ کی مکمل روایت سیرت نگاری سے معمور ہوگئی۔ تذکرۂ حسین اور تذکرۂ علی جیسے دکنی تذکروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں دکنی تذکرہ نویسوں نے مختلف عالموں اور اولیائے کرام کی خدمات کو سیرت کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجہ میں ان کی تصانیف تذکرہ کے روایت کی حامل ہوگئیں، اولیائے کرام اور علماء کی مبسوط سوانح لکھنے کو لئے تذکرہ کی ذیل میں شامل کیاجاتا ہے، کہ جس طرح دور قدیم میں اردو شاعروں کے بارے میں تذکرہ تحریر کرتے ہوئے تذکرہ نویس مختصر سوانح بیان کرنے کو ضروری خیال کرتے تھے اور پھر ان کا کلام درج کیاجاتا تھا۔ اسی طرح دکن کی مذہبی تصانیف میں بھی ابتداء میں اولیائے کرام یا علماء کی مختصر سوانح درج کی جاتی ہے۔ اور پھر ان کے روحانی کمالات کا ذکر کیاجاتا ہے، اسی لئے ان تصانیف کو تذکرہ کی سرشت میں شامل کرتے ہوئے انہیں سیرت کا درجہ دیاجاتا ہے۔ کیونکہ ان کتابوں میں روحانیات اور اخلاقی کردار کو نمایاں طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اخلاقیات اور روحانیت کو جس سوانح میں شامل کیاجاتا ہے، وہ حقیقی طور پر سیرت نگاری کی کتابوں میں شامل کی جاتی ہیں۔ دکن کے اکثر تذکروں میں مذہبی رنگ کے ساتھ ساتھ روحانیت کا عکس بھی شامل ہے۔ اس اندازکے تذکروں میں دکنی ادبیات کا یہ طویل سلسلہ ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تذکرہ بطور سیرت پیش کرنے کا ذوق دکن میں کافی حد تک پروان چڑھ چکا تھا۔

تذکرہ بطور شخصی سوانح
شخصی کارناموں کو پیش کرتے ہوئے صاحب شخصیت کے کردار کو ابھارنے کے لئے لکھنے جانے والے تذکرے شخصی سوانح کی ضمن میں آتے ہیں۔ عام طور پر اس قسم کے تذکروں میں مذہبی یا ادبی شخصیت کو زیر بحث نہیں لایاجاتا بلکہ اپنے کردار اور عمل سے متاثر کرنے والے افراد کے تذکرہ کو شخصی سوانح کی تعریف میں شامل کیاجاتا ہے۔ شخصی سوانح اگرچہ کہ مذہبی اور ادبی حیثیات سے اہمیت رکھنے والے افراد سے متعلق نہیں ہوتی۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس طریقہ تذکرہ میں کارناموں کی اہمیت کے اعتبار سے شخصیت کو ابھاراجاتا ہے۔ یعنی شخصی سوانح کا تعلق علم تاریخ سے نہیں ہوتا بلکہ فلاحی، تعلیمی، طبی اور ثقافتی خدمات انجام دینے والے افراد کے کارناموں کو ضبط تحریر میں لانا شخصی سوانح کی ذیل میں شامل ہے۔ دکن میں ایسے متعدد تذکرے تحریر کئے گئے جن میں شخصی سوانح کا عکس غالب ہے۔

تذکرے کی خصوصیت میں شخصیت کے اظہار کو بہت بڑا دخل ہوتا ہے جب کہ سوانح صرف ایک ہی شخصیت کے کارناموں کے اظہار پر مبنی ہوتی ہے۔ دکن میں تحریر کردہ بعض تذکروں کو شخصی سوانح کے طور پر اس لئے قبول کیاجاسکتا ہے کہ اگرچہ ان تذکروں میں شخصیت کا عکس غالب ہے لیکن تذکرہ نویسوں نے سوانحی اعتبار سے شخصیت کے کارناموں کو نمایاں حیثیت دی ہے۔ اس قسم کے تذکروں میں سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ ایسے افراد کی سوانح کو ہی اس ضمن میں شمار کیا گیا ہے جو اپنی تعلیمی، فلاحی، اور ثقافتی خدمات کی وجہ سے مشہور تھے۔ اس قسم کے تذکرے چونکہ شخصی خدمات کے بارے میں مواد فراہم کرتے ہیں اسی لئے ان کا شمار تذکرہ کی ایک شکل شخصی سوانح میں کیاجاتا ہے۔دکن میں اس قسم کے تذکروں کا طویل سلسلہ ہے۔

دکنی نثر دور قدیم سے عہد حاضر تک تذکرے کے فن کو اپنائے ہوئے ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں بھی کسی اہم شخسیت کی سوانح لکھنے کے بعد مصنف کتاب کے عنوان کو تذکرہ کی سرخی سے نوازنے کا فخر کا درجہ محسوس کرتا ہے۔ دکنی تذکرہ نویسوں نے سوانح کے بیان کے دوران تذکرہ کی روایتی ضعف کو برقرار رکھتے ہوئے شخصی سوانح پیش کرنے میں دکنی تذکرہ نگاروں کا اسلوب اور انداز بذاتِ خود منفرد نہیں ہے۔ لیکن اس طرز میں سوانحی نقوش واضح ہوتے ہیں۔ دکن میں جن شخصیات کے تذکرے لکھے گئے انہیں تذکرہ بطور شخصی سوانح کا نام اس لئے دیاجاتا ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے ان تذکروں میں اسی فنی روایت کو برقرار رکھا ہے جو قدیم تذکروں میں مروج رہی۔ ادبی تذکروں میں کئی شعراء یا ادیبوں کے حالات یکجا کئے جاتے تھے۔ دکن کے تذکرہ نویسوں نے اسی طرز کو اپناتے ہوئے مختلف علوم و فنون میں ماہر افراد کے تذکرے تحریر کئے جو ادبی اور مذہبی تذکروں سے بالکل مختلف ہیں۔ ایسے تذکروں فہرست میں مخطوطات بھی شامل ہیں اور مطبوعات کا طویل سلسلہ بھی ہے۔

شخصی سوانح کو بطور تذکرہ پیش کرنے کی روایت دکن میں مرزا محمد علی کے مخطوطہ "تذکرہ خوشنویساں" سے ہوتی ہے۔ یہ تذکرہ سالار جنگ میوزیم لائبریری کے شعبہ مخطوطات میں محفوظ ہے۔ 1323ھ میں تحریر کردہ یہ تذکرہ در حقیقت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر دور جدید کے مشہور کتبہ نویس اور خوش نویسوں کے بارے میں مختصر سوانحی مواد پیش کرتا ہے۔ مرزا محمد علی نے خط کی قسمیں بیان کرتے ہوئے ان کے موجدین کی مختصر تاریخ بھی تحریر کردی ہے۔ 74 صفحات پر مشتمل اس مخطوطہ میں کئی سو خوش نویسوں کے بارے میں مختصر مواد فراہم کیا گیا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ عرب، ایران اور ہندوستان میں رسم الخط کی روایت مختلف ذرائع سے ترقی پاتی رہی۔ اس تصنیف میں مرزا محمد علی نے ان کے عہد میں موجود حیدرآبادی خوشنویسوں کے بارے میں بھی مختصر جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب کو شخصی سوانح کا درجہ اس لئے دیاجاسکتا ہے کہ ادبی اور مذہبی شخصیتوں کے علاوہ فنی دستگاہ رکھنے والے افراد کا ذکر کرتے ہوئے اس کتاب میں تذکرے کی روایت کو برقرار رکھا گیا ہے۔
مرزا محمد علی حیدرآباد کے مشہور خطاط اور خوش نویس تھے ، ان کا یہ مخطوطہ ثابت کرتا ہے کہ دکن میں تذکرے کی روایت کو صرف ادبی اور مذہبی شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی حد تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ تذکرہ نویسوں نے تذکرہ کو شخصی سوانح کے طور پر بھی استعمال کیا۔ تذکرہ کو شخصی سوانح کے طور پر استعمال کرنے کا رواج دکن میں پروان چڑھتا رہا اور کئی اہم شخسیات کی سوانح کو تذکرہ کی روایت پر تحریر کرکے اسے ایک مبسوط کتابی شکل دینے کا طریقہ دکنی تذکرہ نویسوں کے فنی مزاج کی نمائندگی کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ ثبوت بھی ملتا ہے کہ دکن میں تذکرے کی روایت شخصی سوانح کے طور پر بھی ترقی پاتی رہی۔

تذکرہ بطور ادبی سوانح
دور قدیم میں تذکرہ کی روایت قدیم اصولوں پر ترقی پاتی رہی، تحقیقی استدلال کی ترقی نے تذکرہ کی روایت میں تبدیلی پیدا کی اور متن کی فراہمی میں کسی قدر تحقیق کا انداز شامل ہونے لگا۔ دکنی تذکرہ نویسوں کے ادبی تذکرے بھی اسی استدلال سے استفادہ کرنے لگے۔ جس کے نتیجہ میں متن تو تحقیقی پیش کیاجانے لگا لیکن تذکرے کی جھلکیاں ان میں محسوس کی جانے لگیں۔ چنانچہ ایسے تذکرے جن میں تحقیقی مواد تو موجود ہو لیکن متن کے اعتبار سے تذکرہ نویسوں نے فن تذکرہ کی خصوصیت کو اپنایا ہو تو ایسے تذکرے ادبی سوانح کے نام سے یاد کئے جائیں گے۔ دکن کے تذکرہ نویسوں میں یہ امتیازی خصوصیت پائی جاتی ہے کہ انہوں نے تذکرہ کو فن سوانح سے قریب لانے کی کوشش کی اور جس طرح تذکرے میں ایک سے زیادہ ادبی شخصیات کی سوانح درج کی جاتی تھی اسی طرح دکن میں کثیر تعداد میں ایسے تذکرے تحریر کئے گئے جنہیں متیں کے اعتبار سے ادبی سوانح میں شمار کیاجاسکتا ہے۔

چونکہ سوانح ایک ہی ذات اور شخصیت کے بارے میں مواد فراہم کرتی ہے اور دکن میں ایسی کئی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں کئی شخصیات کی سوانح پیش کی گئیں اور اسے تذکرے کا نام دیا گیا ، چونکہ یہ تذکرے سوانحی خصوصیات کی پوری طرح پابجائی نہیں کرتے اسی لئے انہیں تذکرہ بطور ادبی سوانح کا نام دیاجاتا ہے۔ ایسی کتابوں میں "تذکرہ خواتین دکن، تذکرہ یورپین شعرائے اردو، سخنوران بلند فکر ، شمار کی جاتی ہیں۔ کیونکہ کتابوں کے ذریعہ تذکرہ نویسوں نے سوانحی خدو خال ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ تذکرہ خواتین دکن میں تاریخی مواد پیش کیا گیا ہے اور یہ کتاب لاہور سے شائع ہورہی ہے۔ لیکن دکنی تذکروں میں شمار کرنے کی وجہ یہی ہے کہ سر زمین دکن کے سلطتنی کاروبار میں حصہ لینے والی ان خواتین کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے جن کی وجہ سے دکن کی تاریخ میں خواتین کے کارناموں پر روشنی پڑتی ہے۔ محمد الدین فوق نے اس کتاب کے ذریعہ خواتین دکن کا تذکرہ کرکے ثابت کردیا کہ دکن میں بسنے والے صاحب فکر افراد کے تذکرے ہی ادبی حیثیت سے اہمیت نہیں رکھتے بلکہ خواتین دکن نے بھی ایسے کارنامے انجام دئے ہیں کہ جن پر تذکرے کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے ایک مبسوط کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

"تذکرہ خواتین دکن" دکن کی تاریخ میں مشہور خواتین کے جنگی کارناموں سے معمور ہے۔ 1920ء میں شائع شدہ اس کتاب کے مصنف رسالدار نظام کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے مملکت سے وابستہ ہندو اور مسلمان دکنی خواتین کا ذکر کرکے اس کتاب کو کافی اہمیت دے دی ہے۔ اور خوفزہ ہمایوں، پونجی خاتون، چاند بی بی، پرتھال، بہرہ دیوی اور جلوی دیوی جیسی شخصیتوں کے انجام دئیے گئے کارناموں کو سوانحی طور پر پیش کیا ہے۔ اسی لئے اس کتاب کا شمار تذکرہ بطور ادبی سوانح کیاجاتا ہے۔

ادبی شخصیتوں کی سوانح کو بطور تذکرہ پیش کرنے کی روایت دکن میں فنی طور پر ترقی پاتی رہی جس کی مثال تذکرہ یورپین شعرائے اردو سے کی جاتی ہے۔ اس تذکرے میں محمد سردار علی نے ان انگریزوں کی مختصر سوانح اور کلام کانمونہ پیش کیا ہے۔ جنہوں نے ہندوستان میں رہ کر اردو میں شاعری کی اوراپنے کلام کا نمونہ نہ صرف شائع کیا بلکہ ادب میں مقام بھی پیدا کیا۔ مولف نے تذکرہ کو ابجدی حروف میں ترتیب دیا ہے اور کل 37 انگریز شعراء کی مختصر سوانح پیش کی ہے۔ اس تذکرہ کا شمار ادبی سوانح میں اس لئے کیاجاتا ہے کہ تذکرہ نویس نے متن کے ذریعہ ادبی شاعروں کی سوانح پیش کی ہے۔

سخنوران بلند فکر مدراس کے شاعروں کی مبسوط سوانح ہے۔ جس میں محمد منور گوہر نے مدراس میں پیدا ہونے والے فارسی اور اردو شعرا کے علاوہ ایسے شاعروں کے بارے میں بھی تفصیل پیش کی ہے جو مدراس کو اپنا وطن بناکر وہیں بس گئے۔ یہ تذکرہ مکمل طور پر ادبی سوانح کی دلیل پیش کرتا ہے۔ تین ابواب پر مشتمل اس تذکرہ میں کسی قدر تحقیقی انداز روا رکھا گیا ہے۔ دکنی شعراء کی تفصیل بھی پیش کی گئی ہے ، جملہ 143؍ شعراء کی سوانح درج کرکے محمد منور گوہر نے اس کتاب کو جامع ترین ادبی سوانح کی حیثیت دے دی ہے ، ادبی سوانح کے طور پر پیش کردہ دیگر تذکروں میں"یادگار ضیغم" اور "تذکرہ جوہر فرد" کا شمار بھی کیاجاتا ہے۔ عبداللہ خاں نے یادگار ضیغم میں حروف تہجی کے اعتبار سے شعرائے اردو کی سوانح ترتیب دی ہے۔ شاعروں کی طویل فہرست اور ان کی سوانح کے ساتھ ان کے منتخبہ کلام بھی اس کتاب میں شامل ہے۔
تذکرہ جوہر فرد ملیح آباد کے شاعروں کا تذکرہ ہے ، جسے حروف ابجد سے ترتیب نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ مقدمہ میں مولف نے ملیح آباد پہنچنے کی تفصیل درج کی ہے۔ اس مخطوطہ میں مولف نے ملیح آباد پہنچنے کی تفصیل درج کی ہے۔ اس مخطوطہ میں مولف نے مشاعروں کی سوانح نہیں لکھی بلکہ شاعر کا نام اور تخلص لکھ کر اس کا منتخبہ کلام پیش کردیا ہے۔ اس تذکرہ کی حیثیت بیاض جیسی ہے لیکن اس وجہ سے اہمیت کا حامل ہے کہ ایک حیدرآبادی ادیب نے ملیح آباد کا سفر کرکے وہاں کے شعراء کا کلام بطور نمونہ پیش کردیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں نے صرف دکن کی سر زمین سے وابستہ افراد کے تذکرے لکھے بلکہ ان ادیبوں اور شاعروں کے تذکرے پر بھی زور دیا جو دکن سے غیر متعلق تھے۔ تذکرہ جوہر فرد اسی طرز کا ایک تذکرہ ہے جس میں ادبی شخصیتوں کے تذکرے کو پیش کرنے کے لئے صرف ان کے کلام کا سہارا لیا گیا ہے۔ مولف نے دیباچہ میں وضاحت کردی ہے کہ حیدرآباد سے ملیح آباد پہنچنے کے بعد وہاں کے شعراء سے رابطہ کے نتیجہ میں یہ تذکرہ مرتب کیا گیا۔ مولف کے لئے یہ دشوار عمل تھا کہ مختصر سے قیام کے موقع پر ملیح آباد کے شاعروں کی سوانح جمع کی جاسکے اسی لئے مولف نے ایک یادگار کی حیثیت سے صرف شعراء کے کلام کو یکجا کردیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکنی تذکروں میں ادبی سوانح پیش کرنے کا اصول موجود ہے۔ اس طرح دکنی تذکرہ نویسوں نے ادیبوں اور شاعروں کی سوانح لکھتے وقت تذکرے کی روایت کر برقرار رکھتے ہوئے دکنی تذکروں کو ادبی سوانح کا درجہ دے دیا۔

تذکرہ بطور مذہبی سوانح
تذکرہ کر سوانح سے ایک مختلف طرز نثر کا درجہ دیاجاتا ہے کیونکہ سوانح ابتداء سے آخر تک ایک ہی شخصیت کے بارے میں پیدائش سے لے کر وفات تک کے حالات درج کئے جاتے ہیں جب کہ تذکرہ میں ایک سے زیادہ اصحاب کمال کے کارنامے سوانحی حالات کے ساتھ درج کئے جاتے ہیں۔ اسی امتیازی فرق کی وجہ سے تذکرہ اور سوانح میں اختلاف پایاجاتا ہے۔

تذکرہ کو بطور مذہبی سوانح پیش کرنے سے مراد ایسی کتابوں کی پیشکشی ہوگی جن میں ایک سے زیادہ مذہبی شخصیتوں کی سوانح درج ہو۔ یعنی مذہبی علماء و اولیاء اور صوفیا کے کارنامے کسی ایک کتاب میں درج کردئے جائیں تو اس کتاب کی حیثیت سوانح کی نہیں بلکہ تذکرہ کی ہوجائے گی۔ دکن میں ایسے متعدد تذکرے تحریر کئے گئے جو نہ صرف ایک سے زیادہ مذہبی علماء کی سوانح پیش کرتے ہیں بلکہ بعض دکنی تذکروں میں کئی سو علماء اور اولیاء کی سوانح بھی مرتب کردی گئی ہے۔ اس قسم کے تذکروں میں "روضۃ الاقطاب" تذکرہ اولیائے رائچور کا شمارکیاجاتا ہے جن میں تذکرہ نویسوں نے دکن کے مختلف علماء کے بارے میں مختصر حالات زندگی پیش کرتے ہوئے تذکرہ کی روایت کو برقرا ررکھا ہے۔

روضۃ الاقطاب ایک ایسا تذکرہ ہے جس میں خلدآباد سے وابستہ مختلف علماء کی مختصر سوانح درج کی گئی ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں تحقیقی انداز روا نہیں رکھا گیا۔ لیکن کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولف نے فارسی کتابوں سے بطور خاص استفادہ کیا ہے جو کسی حد تک گوارا بھی ہے کیونکہ خلدآباد کے اولیائے کرام کے بارے میں مواد کی دستیابی صرف فارسی کتابوں سے ہی ممکن تھی۔ رونق علی نے اس کتاب کو اولیائے کرام کے تذکرہ کی حیثیت دے دی تواریخ اور سنین درج کرنے میں مولف سے بھول چوک ہوئی ہے۔ لیکن اردو میں ابتدائی نقوش کی حیثیت سے اسے گوارا کیاجاسکتا ہے۔

دکن کے تذکرہ نویسوں میں تذکرہ کو بطور مذہبی سوانح پیش کرنے والے افراد میں قاری سید شاہ روشن علی کا شمار بھی ہوتا ہے جنہوں نے تذکرہ اولیائے رائچور لکھ کر دکنی تذکرہ کی روایت کو مذہبی سوانح سے مربوط کردیا۔ رائچور کے علماء اور مشائخین کی زندگی اور حالات اور کیفیات کو سوانحی انداز میں پیش کرتے ہوئے اسی تذکرہ میں روشن علی نے تذکرہ روایت کو پوری طرح ملحوظ رکھا ہے اور ہر مذہبی شخصیت کے بارے میں مختصر سے مواد کے ذریعہ ان کی سوانح مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ مزید کئی کتابیں دکن میں اس مقصد کے حصول کے لئے لکھی گئیں۔ جن میں تذکرۃ الاولیاء قصص العلماء تذکرہ اولیائے دکن، احوال العارفین اور تذکرہ خاصان خدا کافی اہمیت رکھتے ہیں۔ جن میں تذکرہ کو بطور مذہبی سوانح پیش کرنے کا اثر غالب ہے۔

دکنی تذکروں میں شخصی ، ادبی سوانح کے مقابلہ میں مذہبی سوانح کو بطور تذکرہ پیش کرنے کا عکس بہت زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ اس خصوص میں دکنی تذکرہ نگاروں نے تصانیف کا طویل سلسلہ شروع کیا جن میں مذہبی شخصیات اور علماء کی زندگی کے حالات کو مبسوط کتاب کی شکل میں پیش کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ایسی کتابوں میں اخبار الصالحین تذکرۃ الاولیاء ترجمہ روضۃ اولیاء بیجا پور۔ رسول پاک کی صاحب زادیاں، اور تذکرہ ذاکرین موجود ہیں ، جن کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی شخصیتوں کے مختصر حالات کتابی شکل میں اکٹھا کرکے تذکرہ کے روپ میں پیش کرنے کا رواج دکن میں ابتداء ہی میں پروان چڑھا۔

تذکرہ بطور تاریخ
علم تاریخ ایک مسلسل تحقیقی مواد پیش کرنے والا علم سمجھاجاتا ہے جس کے ذریعہ تاریخ، شہادت ، اور عہد کی بنیاد پر کسی شخصیت کی سیاسی حیثیت اور اس کے مرتبہ کو ظاہر کیاجاتا ہے۔ عام طور پر علم تاریخ تذکرہ سے بالکل مختلف انداز تحریر ہے کیونکہ تاریخ میں صرف سیاسی شخصیتوں درباریوں اور وزرا اور امراء کے طور وطرائق اور جنگ وجدال کو عہد کے پس منظر میں پیش کیاجاتا ہے۔ عام طور پر تذکرے اس قسم کی شہادتوں سے متعلق نہیں ہوتے۔ علم تاریخ اور تذکرے میں بنیادی طور پر تفریق کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ کیونکہ علم تاریخ ایک منظم اور جامع ترین علم ہونے کے علاوہ اس کا تسلسل عہد قدیم سے چلا آرہا ہے۔ جب کہ تذکرہ کی روایت درمیانی دور کی ایک ایسی کڑی ہے جس کے ذریعہ شخصیت کے حالات پیش کرنے کے مخصوص انداز کی نمائندگی ملتی ہے۔ تذکرہ اور تاریخ دو مختلف طریقہ اظہار ہیں۔ دکن کے تذکرہ نویسوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے تاریخی مواد کی پیش کشی کے ساتھ ساتھ تاریخی شخصیتوں کے کارنامے بھی تذکرے کے روپ میں اجاگر کئے جس کی بیشتر مثالیں دکنی تذکروںکے مطالعہ کے دوران ظاہر ہوتی ہیں۔

"تذکرہ بابر، تذکرہ تیموریہ، تذکرہ اعظم الامراء ارسطو جاہ، مقام جمال الدین افغانی، حیات آصفیہ ، اور اسی قسم کی دوسری کتابوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکن میں تذکرے کے فن کو تاریخ کے بیان کے لئے بھی استعمال کیا گیا بلکہ دکن کے تذکرہ نویسوں میں تذکرہ اور تاریخ کے فرق کو واضح کرنے کا احساس نہیں تھا بلکہ وہ بسا اوقات تذکرہ کا عنوان دے کر تاریخی مواد پیش کردیتے تھے۔ چنانچہ دکن میں جتنے بھی تذکرے بطور تاریخ پیش کئے گئے ہیں ان میں یہی اندازہ غالب نظر آتا ہے۔ اس طرح دکنی تذکرہ نے اپنے اسلوب میں نہ صرف تغیر پیدا کیا بلکہ اس کے ذریعہ اظہار کو بھی مختلف تبیدلیوں سے وابستہ رکھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکنی تذکرہ نویسوں کی یہ جدو جہد رہی کہ وہ ادب میں تذکرہ کی صنف کو نہ صرف جیتا اور جاگتا رکھیں بلکہ اسے ہمہ گیر حیثیت کا حامل بھی بنا دیں۔
یہ بھی پڑھیے ۔۔۔


***
ماخوذ از کتاب: دکنی تذکرے (سن اشاعت: دسمبر 1985)
(پونہ یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کے لیے سال 1982 میں منظور شدہ مقالہ) ، مقالہ نگار: ڈاکٹر مجید بیدار
نگران: ڈاکٹر اے۔این۔شیخ امانت (پونہ یونیورسٹی، پونہ)۔

Distinctive features of Deccani Tazkare. Article by: Dr. Majeed Bedar

2 تبصرے:

  1. نہایت عمدہ اور خیال آفرین مضمون ہے۔ دکنی تزکرے کا ذکر پاکستانی اردو میں تو تقریباً معدوم ہے۔ مضمون نگار کا شکریہ کہ ہمیں اس انتہائی اہم صنف سے متعارف کروا دیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. نہایت عمدہ اور خیال آفرین مضمون ہے۔ دکنی تزکرے کا ذکر پاکستانی اردو میں تو تقریباً معدوم ہے۔ مضمون نگار کا شکریہ کہ ہمیں اس انتہائی اہم صنف سے متعارف کروا دیا۔

    جواب دیںحذف کریں