اردو کا ابتدائی زمانہ - تحقیقی مضامین از شمس الرحمن فاروقی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-12-25

اردو کا ابتدائی زمانہ - تحقیقی مضامین از شمس الرحمن فاروقی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

urdu-ka-ibtedai-zamana-shamsur-rahman-faruqi
شمس الرحمٰن فاروقی (پ: 30/ستمبر 1934 ، م: 25/دسمبر 2020)
اردو کے معروف و مقبول نقاد، شاعر، ادیب اور محقق رہے ہیں جو بعمر 86 سال آج (بروز جمعہ 25/دسمبر) صبح 11 بجے کے قریب الہ آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین آج جمعہ کی شام 6 بجے جامعہ کے نزدیک اشوک نگر کے قبرستان میں انجام دی جائے گی۔
شمس الرحمن فاروقی نے 1960 میں ادبی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ 1960 سے 1968 تک وہ انڈین پوسٹل سروسز میں پوسٹ ماسٹر رہے اور اس کے بعد چیف پوسٹ ماسٹر جنرل اور 1994 تک پوسٹل سروسز بورڈ، نئی دہلی کے رکن بھی رہے۔ امریکہ کی پننسلوینیا یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشیا ریجنل اسٹڈیز سینٹر کے پارٹ ٹائم پروفیسر کی حیثیت سے بھی انہوں نے خدمات انجام دی تھیں۔ وہ الہ آباد میں "شب خوں" میگزین کے ایڈیٹر رہے۔ ان کی تصانیف 'کئی چاند اور تھے سرِ آسماں'، 'افسانے کی حمایت میں' اور 'اردو کا ابتدائی زمانہ' کو اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہیں 'سرسوتی ایوارڈ' کے علاوہ 1986 میں اردو کے لئے 'ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا تھا۔ اور سال 2009 میں انہیں پدم شری ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
سات (7) اہم اور مفید مضامین پر مبنی یہ یادگار کتاب تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ تقریباً دو سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 7 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

یہ کتاب اردو زبان اور ادب کے ابتدائی زمانے کے بعض اہم پہلوؤں سے بحث کرتی ہے جن کا تعلق لسانی اور ادبی تاریخ اور تہذیب سے ہے۔ زبان کے نام کی حیثیت سے لفظ "اردو" نسبتاً نوعمر ہے ، جس زبان کو آج ہم "اردو" کہتے ہیں ، پرانے زمانے میں اسی زبان کو "ہندوی"، "ہندی"، "دہلوی"، "گجری"، "دکنی" اور پھر "ریختہ" کہا جاتا رہا ہے۔ اس لیے بات جدید ہندی کے آغاز کی مخفی (اور ظاہر) سیاست اور اردو ادبی تہذیب پر اس کے اثر سے شروع کی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ سوال زیربحث آیا ہے کہ اردو زبان اگرچہ دہلی کے آس پاس پیدا ہوئی لیکن اس میں ادب کی پیداوار اول اول گجرات اور دکن میں کیوں ہوئی۔ کتاب میں جن دیگر معاملات پر اظہار خیال کیا گیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں: گجرات اور دکن میں نظری تنقید اور شعریات کا طلوع، اس سلسلے میں امیر خسرو اور سنسکرت کا مرکزی کردار، دہلی کا ادبی منظرنامے پر دیر میں ورود، لیکن دہلی کے ادبی سامراجی مزاج کے باعث غیر دہلی کے ادیبوں اور "باہر والوں" کا اردو کی فہرست استناد [Canon] سے اخراج، اٹھارویں صدی کی دہلی میں نئی ادبی تہذیب اور شعریات کا آغاز، "اصلاحِ زبان" کی "مہم" اور ایہام کی "تحریک" کی حقیقت اور دہلی ہی میں استادی/شاگردی کے ادارے کا قیام، وغیرہ۔ اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی سے شائع ہوا ہے۔

کتاب کے دیباچہ میں فاروقی صاحب لکھتے ہیں ۔۔۔
شکاگو یونیورسٹی میں [National Endowment for Humanities] نامی ادارے کے تعاون سے ایک وسیع و عریض منصوبہ کئی سال ہوئے بنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ہندوستان کی بڑی زبانوں کی ادبی تہذیب ، ادبی اور ثقافتی تاریخ سے ان کے رشتوں ، ان کے آپسی روابط اور ادب کے بارے میں ان زبانوں میں رائج تصورات کا مطالعہ مقصود تھا کہ ہندوستان ہی نہیں ، مغرب میں بھی کوئی بسیط اور جامع کام اس موضوع پر نہیں ہوا ہے۔
قدیم و جدید ہندوستان میں ادب اور لسان اور اقتدار میں کس طرح کے رشتے وجود میں آئے؟ کوئی زبان "ادبی" زبان کس طرح اور کب بنتی ہے؟ کس زبان میں ادب پیدا کرنے والوں کے مابین اور ادب کو برتنے والوں کے مابین جو سلسلے قائم ہوتے ہیں ، کیا ان کی نوعیت صرف طاقت پر مبنی ہوتی ہے؟ یا صرف بیع و شریٰ کے معاملات پر ، یا کوئی تہذیبی آدرش اور ثقافتی تعامل بھی اثرانداز ہوتا ہے؟

اس منصوبے کو [Literary Cultures in Indian History] کا نام دیا گیا ، اور قدیم جدید بڑی ہندوستانی زبانوں کے ماہرین جمع کیے گئے ، ہر ایک نے اپنے اختصاص کے اعتبار سے مضامین لکھے اور دوسروں کے مضامین پر اظہار رائے کیا۔ ہر مضمون کو انتہائی باریک بیں اور دور رس جرح و تعدیل کے عمل سے گذارا گیا۔ بحث اور سوال جواب کی روشنی میں ہر مضمون ایک سے زیادہ بار لکھا گیا۔ تجویز یہ ہے کہ ان مضامین کو ایک یا دو مجلدات کی شکل میں شائع کرایا جائے۔ ظاہر ہے کہ سب مضامین انگریزی میں ہیں۔
شکاگو یونیورسٹی میں سنسکرت کے پروفیسر شیلڈن پالک [Sheldon Pollock] اس پورے پروگرام کے بانی ڈائرکٹر اور سنسکرت ادب کے متعلق مقالے کے مصنف بھی ہیں۔

میرے ذمے [Early Urdu] پر مضمون لکھنے کا فریضہ تھا۔ اردو / ہندی کے معاملات کو سلجھائے بغیر [Early Urdu] کی اصطلاح بےمعنی رہتی ہے۔ لہذا میں نے اپنی بات جدید ہندی کے آغاز کی مخفی (اور ظاہر) سیاست اور اردو ادبی تہذیب پر اس سے اثر سے شروع کی۔
اس کے بعد میں نے اس سوال سے بحث کی کہ اردو زبان اگرچہ دہلی کے آس پاس پیدا ہوئی ، لیکن اس میں ادب کی پیداوار اول اول گجرات اور دکن میں کیوں ہوئی؟
پھر گجرات اور دکن میں نظری تنقید اور شعریات کا طلوع ، اس سلسلے میں امیر خسرو اور سنسکرت کا مرکزی کردار زیر بحث آیا۔
اس کے بعد میں نے مندرجہ ذیل معاملات کی چھان بین کی :
دہلی کا ادبی منظر نامے پر دیر میں ورود
لیکن دہلی کے ادبی سامراجی مزاج کے باعث غیر دہلی کے ادیبوں اور "باہر والوں" کا اردو کی فہرست استناد [Canon] سے اخراج
اور پھر اٹھارویں صدی کی دہلی میں نئی ادبی تہذیب اور شعریات کا آغاز۔
دہلی میں "اصلاح زبان" کی "مہم" اور ایہام "تحریک" کی حقیقت کیا ہے؟
استادی / شاگردی کا ادارہ دہلی کے علاوہ کہیں اور کیوں نہ وجود میں آیا؟
ان سوالات اور "دہلی اسکول" اور "لکھنؤ اسکول" پر بھی اس مقالے میں ایک حد تک کلام کیا گیا ہے۔

کوئی تین چار سال کی مشقت کے نتیجے میں میرا مضمون بڑھ کر ایک پوری کتاب بن گیا۔ اس کا مختصر کیا ہوا روپ شیلڈن پالک کی مرتبہ کتاب میں شائع ہوگا۔ اصل انگریزی کتاب اور اس کا یہ (اردو) ترجمہ الگ سے کتابی شکل میں شائع کئے جا رہے ہیں۔

- شمس الرحمٰن فاروقی
الہ آباد، 30/ستمبر 1999ء

ڈاکٹربادشاہ منیر بخاری، اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔۔
زیر تبصرہ کتاب اردو زبان اور ادب کے ابتدائی زمانے کے بعض اہم پہلوؤں سے بحث کرتی ہے ، جن کا تعلق لسانی اور ادبی تاریخ اور تہذیب سے ہے ، زبان کے نام کی حیثیت سے لفظ ‘اردو’ نسبتاً نو عمر ہے جس زبان کو ہم آج اردو کہتے ہیں ،پرانے زمانے میں اسی زبان کو ‘‘ ہندوی ’’ ‘‘ ہندی ’’ ‘‘ دہلوی ’’ ‘‘ گوجری ’’ ‘‘ دکنی’’ ‘‘ریختہ’’ اور‘‘ اردو معلی’’ کہا جاتا رہا ہے ،ان تمام موضوعات پر اس کتاب میں سیر حاصل تحقیقی و ادبی بحث کی گئی ہے ۔ مگر لسانیاتی تربیت نہ ہونے کی بنا پر مصنف نے خالص لسانیاتی نقطہ ٔ نظر سے کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی اور اپنی بحث صرف ادبی تحقیق اور تنقید تک مرکوز رکھی ہے ۔
اس کتاب میں اردو زبان کے حوالے سے کم اور ارد و ادبیات کے ابتدائی زمانہ پر زیادہ بحث کی گئی ہے اور اس سلسلے میں قدیم کتب سے نمونے بطور ثبوت پیش کیے گئے ہیں ۔ جن سے تاریخ ادب اردو پر روشنی پڑتی ہے اور اردو کے قاری اور طالب علموں کو زیادہ قدیم اور معتبر حوالوں تک رسائی ملتی ہے ۔مخطوطات اور اردو تذکروں کا خصوصی تذکرہ ملتا ہے اور پوری کتاب قدیم شعری تاریخ کے نمونوں سے بھری ہوئی ہے ،شعر کے ساتھ حوالہ بھی درج کیا گیا ہے جس سے شعر کے خالق اور زمانہ کا اندازہ ہوتا ہے اور صاحب کتاب نے شعر کی فنی باریکیوں کا بھی خیال رکھا ہے اور جہاں ضرورت محسوس کی وہاں حواشی و تعلیقات کا اضافہ کیا ہے ، جس میں تشریح و توضیع کے ساتھ ساتھ تصیح بھی کی گئی ہے ۔
کتاب میں صوفیا ء اور ان کے کام و کلام کا تذکرہ بھی ملتا ہے اور دکن کے شعراء کا بھی خصوصاً ولی دکنی کا تذکرہ باتفصیل کیا گیا ہے ۔مصنف نے ادبی تہذیب و تاریخ کو صرف شاعری تک محدود رکھا ہے جبکہ ان ادوار میں نثر میں بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔
یہ کتاب بطور حوالہ استعمال کی جاسکتی ہے اور اس کا اردو کے ہر لائبریری میں ہونا سود مند ثابت ہوگا ۔
یہ بھی پڑھیے ۔۔۔

***
نام کتاب: اردو کا ابتدائی زمانہ
مصنف: شمس الرحمٰن فاروقی
تعداد صفحات: 201
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 7 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: archive.org)
Urdu Ka Ibtedai Zamana by Shamsur Rahman Faruqi.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

اردو کا ابتدائی زمانہ (تحقیقی مضامین) :: فہرست
نمبر شمارعنوانصفحہ نمبر
الفدیباچہ9
1باب اول : تاریخ ، عقیدہ اور سیاست11
2باب دوم : تاریخ کی تعمیر نو ، تہذیب کی تشکیل نو39
3باب سوم : شروعات ، وقفے ، قیاسات61
4باب چہارم : نظری تنقید ، اور شعریات کا طلوع77
5باب پنجم : وقفے ، اور پھر حقیقی آغاز ، شمال میں105
6باب ششم : ولی نام کا ایک شخص125
7باب ہفتم : نئے زمانے ، نئی ادبی تہذیب141
8کتابیات - Bibliography : تحریریں ، جن کا حوالہ دیا گیا179
9اشاریہ - Index189

Urdu Ka Ibtedai Zamana, by: Shamsur Rahman Faruqi, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں