لغات روز مرہ - شمس الرحمن فاروقی - تعارف کتاب
لغات روز مرہ - شمس الرحمن فاروقی - تعارف کتاب
لغات روز مرہ - معروف ادیب، نقاد اور ماہر لسانیات شمس الرحمٰن فاروقی کی وہ مشہور کتاب ہے جس میں اردو زبان میں غیر معیاری استعمالات کی فہرست و تنقید کے ساتھ کچھ مزید لسانی نکات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ تقریباً 400 صفحات کی اس نہایت اہم اور مفید کتاب کا یہ نیا اضافہ شدہ اور چوتھا ایڈیشن ہے جو 2012 میں کراچی سے شائع ہوا تھا۔ ہندوستان میں بھی کاغذی شکل میں یہ کتاب انڈیا میں بھی دستیاب ہے جسے 400 روپے میں خریدا جا سکتا ہے (ویب سائٹ کا پتا ذیل میں درج ہے۔)
تعمیرنیوز کے ذریعے اس کتاب کا تعارف پیش خدمت ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی اس کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں:زندہ زبانیں بدلتی رہتی ہیں۔ الفاظ و استعمالات کے رد و قبول کا مسلسل عمل اس تبدیلی، اور اس کے باعث زبان کی زندگی کا ضامن ہے۔ لیکن کسی وقت کسی زبان میں کیا ہو رہا ہے، جو تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ کس نوعیت کی ہیں، وہ صحت مند رجحانات کی آوردہ ہیں یا سہل انگاری اور لاعلمی کا نتیجہ ہیں؟ ان سوالوں پر غور کرنا اور نئے پرانے الفاظ و استعمالات کو چھان بین کے عمل سے گذارنا بھی زبان کے سنجیدہ طالب علم کے اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ تبدیلی کو آنکھ بند کر کے قبول کرنا یا نئے پرانے لفظوں کو کسی مصنوی تصور اصلاح یا تصور ارتقا کے دباؤ میں آ کر مسترد کرنا ، یہ دونوں رجحانات ترقی پذیر اور ترقی یافتہ زبانوں کے بولنے والوں کا شیوہ نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کوئی زبان کبھی "بالکل خالص حالت" میں نہیں ہوتی۔ لیکن "معیاری زبان" کا ایک خیالی تصور ہر ترقی یافتہ زبان میں ہوتا ہے۔ اردو میں بھی یہ تصور موجود ہے۔ زبان کو برتنے والے وقتاً فوقتاً اسی خیالی تصور زبان سے استفادہ کرتے ہیں اور ہر ترقی یافتہ زبان اسی تصور کے مطابق ارتقا کرتی ہے۔ زبان ایسی شے ہے جو بیک وقت ماضی اور حال میں موجود رہتی ہے اور اپنی دونوں حیثیتوں میں ہم پر اثرانداز ہوتی ہے۔
زیرنظر کتاب کے اندراجات میں زیادہ تر بحث ان ناپسندیدہ الفاظ، فقروں اور لسانی اختراعات سے ہے جو غیرضروری طور پر یا لکھنے بولنے والوں کے غیرذمہ دارانہ رویے کے باعث ہماری زبان میں درانداز ہو رہے ہیں۔ علاوہ بریں، بہت سے لٖغات کے مختلف فیہ تلفظ یا جنس کو زیربحث لایا گیا ہے۔ کچھ اندراجات ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق جدید روزمرہ سے شاید نہ ہو، لیکن جو لسانی یا تاریخی حیثیت سے دلچسپی کے حامل ہیں اور زبان کے طالب علم، یا اس کے سنجیدہ استعمال کرنے والے کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رواج عام کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے یعنی باصلاحیت بولنے والوں کے قول اور عمل کو مکتبی اور کتابی رایوں پر تفوق دیا گیا ہے۔ ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں علاقائی تلفظ اور استعمالات کو مناسب جگہ دی گئی ہے۔ کتاب کے اس ایڈیشن میں نئے اندراجات کثرت سے بڑھائے گئے ہیں اور پرانے اندراجات کے لیے بھی حسب ضرورت توضیحی عبارتیں شامل کی گئی ہیں۔ اشاریۂ الفاظ کو نئے اندراجات کی روشنی میں دوبارہ مرتب کیا گیا ہے اور ایک نیا اشاریۂ اسما بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ - شمس الرحمن فاروقی
ماہنامہ شب خون الہ آباد - 217 - اگست 2003
لغات روزمرہ - کاغذی شکل میں خریدیے (قیمت: 400 روپے)
اس کتاب/رسالہ کا تعارف، اشاعتی کوائف، فہرستِ مضامین اور دیگر معلومات علمی، ادبی اور تحقیقی استفادے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
***نام کتاب: لغات روز مرہ (چوتھا ایڈیشن)
از: شمس الرحمٰن فاروقی
تعداد صفحات: 411
Lughate-Roz-Marrah_Shamsur-Rahman-Faruqi
Lughate-Roz-Marrah, Urdu Dictionary by: Shamsur-Rahman-Faruqi.

گفتگو میں شامل ہوں