دلی کی چند عجیب ہستیاں - خاکے از اشرف صبوحی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-04-22

دلی کی چند عجیب ہستیاں - خاکے از اشرف صبوحی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

dilli-ki-chand-ajeeb-hastiaan by ashraf saboohi

اشرف صبوحی (پ: 11/مئی 1905 ، دہلی - م: 22/اپریل 1990 ، کراچی)
بیسویں صدی کے نصف اول کے دبستان دلی کے ان نثرنگاروں میں سے ہیں جن کے بغیر تاریخ دلی مکمل نہیں ہو سکتی۔ آپ کا تعلق ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تھا۔ اشرف صبوحی نے یوں تو ڈرامے، ریڈیو فیچر، بچوں کی کہانیاں، تنقیدی مضامین، دلی کی سماجی اور تہذیبی زندگی پر مقالے، افسانے، ترجمے اور خاکے لکھے ہیں لیکن اردو میں وہ اپنے خاکوں کے مجموعے "دلی کی چند عجیب ہستیان" کی وجہ سے زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔ یہ کتاب سب سے پہلی مرتبہ 1943 میں انجمن ترقی اردو دہلی (سلسلہ مطبوعات انجمن ترقی اردو، نمبر:195) کی طرف سے شائع ہوئی تھی۔ بعد میں مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ (نئی دہلی) سے دوبارہ 1989 میں شائع کی گئی۔
اشرف صبوحی کے تحریر کردہ 15 دلچسپ اور یادگار خاکوں کا یہی مجموعہ "دلی کی چند عجیب ہستیاں" تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ تقریباً سوا دو سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 11 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

اشرف صبوحی دہلوی اپنی اس کتاب کے انتساب میں لکھتے ہیں ۔۔۔
میں اپنی اس کم مایہ ادبی کوشش کو محسن اردو عالی جناب ڈاکٹر مولوی عبدالحق (ڈی۔لٹ) مدظلہ العالی کے اسم گرامی پر معنون کرنے کا فخر حاصل کرتا ہوں جن کی مساعی جمیلہ نے اس پرآشوب زمانے میں زبان اردو کو عروج و فوقیت بخشی ہے اور جن کی لازوال خدماتِ فائقہ ہمارے ملک کی "لنگوا فرنکا" (اردو) کی تاریخ میں ہمیشہ عظمت و احترام کے جذبات کے ساتھ یادگار رہیں گی۔

انجمن ترقی اردو (ہند) کے سہ ماہی مجلہ "اردو ادب" نے 1988 کا اولین شمارہ (شمارہ 1 تا 3) بطور "اشرف صبوحی نمبر" شائع کیا تھا۔ اس شمارے کے اداریہ "حرفِ آغاز" میں خلیق انجم لکھتے ہیں ۔۔۔
اشرف صبوحی دلی کے ان نثر نگاروں میں ہیں جنہوں نے 1947ء سے قبل ادب میں اپنے لیے ممتاز مقام بنا لیا تھا۔ بیسویں صدی کے نصف اول کے دبستانِ دلی کے نثرنگاروں کی تاریخ ان کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

اشرف صبوحی کا اصل نام سید ولی اشرف تھا۔ وہ 11 مئی، 1905ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد کے صاحبزادے مولوی بشیر احمد ان کے سگے پھوپھا تھے۔ اشرف صبوحی 'ساقی' کے ایڈیٹر شاہد احمد دہلوی کے قریبی دوستوں میں تھے۔ شاہد صاحب کے ماہنامہ "ساقی" میں صبوحی صاحب کے بہت سے مضامین، افسانے اور خاکے شائع ہوئے۔
اشرف صبوحی صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بچوں کی کہانیوں سے کیا۔ اس عہد کے بیشتر بچوں کے رسالوں میں ان کی کہانیاں چھپتی تھیں۔ بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے سے اشرف صبوحی صاحب کو یہ فائدہ ہوا کہ انہیں آسان، سلیس اور سادہ نثر لکھنے پر قدرت حاصل ہو گئی۔
اشرف صبوحی صاحب نے دلی سے "ارمغان" نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا تھا جو دو سال تک پابندی سے شائع ہوتا رہا۔ میں نے دلی کی نذیریہ لائبریری میں "ارمغان" کے کچھ شمارے دیکھے تھے۔ (اب یہ لائبریری انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، ہمدرد نگر میں منتقل ہو گئی ہے)۔ اس رسالے میں خواجہ حسن نظامی، شاہد احمد دہلوی، ناصر نذیر فراق کے علاوہ میر ناصر علی اڈیٹر "صلائے عام" کی تخلیقات شائع ہوتی تھیں۔
اشرف صبوحی نے یوں تو ڈرامے، ریڈیو فیچر، بچوں کی کہانیاں، تنقیدی مضامین، دلی کی سماجی اور تہذیبی زندگی پر مقالے، افسانے، ترجمے اور خاکے لکھے ہیں لیکن اردو میں وہ اپنے خاکوں کے مجموعے "دلی کی چند عجیب ہستیان" کی وجہ سے زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔
مجھے خوشی ہے کہ اشرف صبوحی پر غالباً پہلی بار ایم۔فل کا موضوع بنایا گیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کا شعبہ اردو ہمارے شکریے کا مستحق ہے کہ اس نے مبینہ بیگم سے اس موضوع پر ایم۔فل کے لیے تحقیقی مقالہ لکھوایا۔ یہ مقالہ اگرچہ مختصر ہے لیکن اشرف صبوحی صاحب کی زندگی اور ان کی ادبی خدمات کا پورا احاطہ کرتا ہے۔

اشرف صبوحی صاحب کا انجمن پر بہت حق ہے کیونکہ مولوی عبدالحق نے طویل عرصے تک ان سے انجمن کا کام لیا ہے۔ جب انجمن ترقی اردو اورنگ آباد سے دلی آئی تو مولوی عبدالحق انجمن سے شائع ہونے والے مسودات نظرثانی کے لیے اشرف صبوحی کو بھیجنے لگے۔ یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔ اشرف صبوحی کی سب سے مشہور کتاب "دلی کی چند عجیب ہستیاں" انجمن ترقی اردو نے ہی شائع کی تھی۔

انجمن ترقی اردو (ہند) کے متذکرہ بالا سہ ماہی مجلہ "اردو ادب" کے اسی شمارہ (1988) میں اشرف صبوحی پر ایم۔فل مفالہ تحریر کرنے والی مقالہ نگار مبینہ بیگم اس رسالے کے مضمون بعنوان "ابتدائیہ" میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔
دلی اور اردو زبان کا تعلق بہت گہرا ہے۔ یہ زبان یہیں پلی بڑھی، لیکن اردو کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ اس میں ابھی تک کوئی جامع تاریخ ادب اردو نہیں لکھی گئی۔ جو کتابیں عام طور پر ملتی ہیں وہ زیادہ تر انیسویں صدی پر ختم ہو جاتی ہیں اور اس میں بیسویں صدی کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے۔
اشرف صبوحی دہلوی ان ہی جدید مصنفوں میں سے ہیں جن پر نہ کوئی مضمون چھپا اور کوئی کتابچہ لکھا گیا ہے اور نہ ہی ان کا ذکر کسی تاریخ ادب اردو میں ملتا ہے۔ اشرف صبوحی کا ایک زمانہ میں بہت چرچا تھا۔ ہندوستان کے لوگوں نے ان کی نثر کو نظرانداز کر دیا ہے۔ ان کی نثر اتنی جاندار اور خوبصورت ہے کہ اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ ایم۔فل کا مقالہ ان کی ذات صفات اور ان کے کارناموں کے لیے وقف کیا جائے۔ چنانچہ اس طرح کا یہ پہلا مقالہ کے جو آزاد ہندوستان میں پہلی بار لکھا گیا۔
اشرف صبوحی کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزرا، اب وہ پاکستان میں رہتے ہیں اور میری دعا ہے کہ ان کا سایہ ہمارے اوپر قائم رہے اور وہ صد سال سلامت رہیں۔ میرے مقالہ کا ماخذ اشرف صبوحی کے وہ خطوط ہیں جو میں نے بڑی کوشش سے جمع کیے ہیں جس کے لیے مجھے بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑی۔ معلومات کا دوسرا سرچشمہ ان کے وہ مضامین اور کتابیں ہیں جو دلی اور پاکستان سے شائع ہوئی ہیں اور جن کو میں نے بڑی محنت سے جمع کیا ہے۔
میں نے اشرف صبوحی پر اس لیے بھی کام کیا ہے کہ اب زمانہ بدل رہا ہے۔ نہ اب وہ دلی باقی ہے نہ دلی کے مزاج داں، نہ زباں داں، نہ محاورہ شناس۔ زبان کی ساخت اور ہئیت اس تیزی سے بدل رہی ہے کہ کچھ دنوں کے بعد دلی کی زبان کو پہچاننا ناممکن ہو جائے گا۔ اس لیے اب قدیم گھرانوں کی شستہ زبان اردو کی جگہ وہ زبان ملتی ہے جس کی پیش گوئی اکبر الہ آبادی بہت پہلے کر گئے تھے:
ہماری اصطلاحوں سے زباں ناآشنا ہوگی
لغاتِ مغربی بازار کی بھاکا میں ضم ہوں گے

یہ زبان ہماری قدیم تہذیبی روایات سے بہت مختلف ہے بلکہ اس کو ایک نئی زبان کہا جا سکتا ہے۔ اس مقالہ کی تیاری میں اشرف صبوحی نے میرے ساتھ پورا تعاون کیا ہے، ان کی بینائی اب جاتی رہی ہے لیکن انہوں نے اپنے صاحبزادے سے خط لکھوا کر مجھے بھجوائے، میں ان کی اس عنایت کے لیے سراپا سپاس ہوں۔ اور میں ممنون ہوں کہ یہ کتاب اب انجمن ترقی اردو (ہند) سے شائع ہو رہی ہے۔ میں نے اس کتاب میں اشرف صبوحی دہلوی کے پانچ خاکوں کا اضافہ کیا ہے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے اشرف صبوحی کی تحریریں ابھی تک نہیں پڑھی ہیں، ان سے لطف اندوز ہوں کیونکہ اب اشرف صبوحی کی کتابیں صرف چند لائبریریوں میں موجود ہیں اور بازار میں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ان نمونوں کو یہاں شامل کرنا ضروری ہو گیا۔

- مبینہ بیگم
ریسرچ اسکالر۔ شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی۔


یہ بھی پڑھیے:
اردو کے منتخب خاکے - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ (مرتب: یوسف ناظم)
یارانِ کہن - خاکے از عبدالمجید سالک - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ
دنیا مرے آگے - ادبی خاکے از ندا فاضلی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

***
نام کتاب: دلی کی چند عجیب ہستیاں (خاکے)
مصنف: اشرف صبوحی
تعداد صفحات: 224
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 11 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک: (بشکریہ: archive.org)
Dilli ki chand ajeeb hastiaan by Ashraf Saboohi.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

دلی کی چند عجیب ہستیاں - خاکے از اشرف صبوحی :: فہرست
نمبر شمارعنوانصفحہ نمبر
الفتعارف7
1خواجہ انیس23
2میر باقر علی45
3مٹھو بھٹیارا66
4گھمی کبابی73
5ملن نائی85
6مرزا چپاتی93
7گنجے نہاری والے105
8میر ٹوٹرو115
9پیرجی کوے139
10مرزا اسفندیار بیگ159
11سیدانی بی170
12نیازی خانم182
13میاں حسنات201
14پرنانی211
15بابو مٹکینا221

Dilli ki chand ajeeb hastiaan, by Ashraf Saboohi, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں