نثر کی قسمیں اور اصناف - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-05-13

نثر کی قسمیں اور اصناف

urdu-prose-categories
معنی کے اعتبار سے نثر کی قسمیں:
معنی کے اعتبار سے نثر کی دو قسمیں ہیں۔
(1) دقیق
(2) سلیس
پھر ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔

(1) سلیس سادہ:
ایسی عام فہم تحریر جو سہل انداز، آسان الفاظ، روز مرہ کے محاورات اور سمجھ میں آنے والے استعارات و تشبیہات تک محدود ہو۔ مثلا: منزل پر نظر رکھنے والے راستے کی دشواریوں سے تھک ہار کر نہیں بیٹھتے، بلکہ مسلسل اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔
(2) سلیس رنگین:
ایسی نثر جو سہل اور عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے دامن میں رنگینی اور دلکشی لئے ہوئے ہو۔ جیسے: "دنیا کا دل ربا حسن دیکھ کر آنکھیں خیرہ رہ جاتی ہیں اور آدمی خواہشات و آرزوؤں کے دام فریب میں پھنس جاتا ہے۔ "
(3) دقیق سادہ:
ایسی نثر جو عام فہم بھی نہ ہو اور اس میں بہت زیادہ مشکل استعارات و تشبیہات بھی نہ ہوں۔ جیسے: "دارالحکومت کے لئے عوام کے مسائل کا حل گویا ایک امر محال ہے ؛ جس نے اذہانِ انسانی کو تشویش میں ڈال رکھا ہے۔ "
(4) دقیق رنگین:
وہ نثر جس کے معنی آسانی سے سمجھ میں نہ آئیں اور اس میں دقیق الفاظ، مشکل تعبیرات اور بعید از فہم تشبیہات و استعارات کا خوب استعمال ہو۔ جیسے طوطی شکستان بلمس اظفار فیض آثار، محب عظمطم۔ صدیق عشمشم۔ طوطی شکر ستان شیریں زبانی۔

اوصاف نثر
ہر نثر میں چار طرح کے اوصاف ہوتے ہیں:
(1) عالمانہ
(2)عارفانہ
(3)شاعرانہ
(4) منشیانہ

عالمانہ:
الفاظ و معانی کے اعتبار سے تحریر بہت زیادہ دقیق نہ ہو، علمی باتیں ہوں، ضرورت کے بقدر دلائل کی تخریج ہو، تحقیق لغت اور استعارات و کنایات سے مالا مال ہو۔
عارفانہ:
ایسی تحریر جو فکر کی بلندی، ذہن کی سرفراقی، تصورات کی رفعت، تخیلات کی پاکیزگی، کائنات کے اسرارو رموز اور عالم کے کشف و حقائق پر مشتمل ہو۔ جیسے: اہل تصوف اور اولیاء اللہ کی تحریریں۔
شاعرانہ:
ایسی نثر جس کے الفاظ میں ترکیبیں، بندشیں، سب شاعرانہ اور رنگین ہوں اور تشبیہات و استعارات کا خزانہ ہو، جو معنی کے لحاظ سے بھی شاعرانہ ذوق کی عکاس ہو۔
منشیانہ:
جو نثر روز مرہ کے محاورات سے مزین، جس کے الفاظ سادگی و سلاست پر مشتمل اور جو انشا پرداز کے تجربات و مشاہدات سے آراستہ ہو۔

اصناف نثر
انشائیہ:
نثری ادب کی ایک مقبول اور پسندیدہ صنف "انشائیہ" ہے، کچھ لوگ "مضمون" اور "انشائیہ" میں فرق نہیں کرتے، حالانکہ انشائیہ تحریر کی ایک منفرد صورت ہے اور نثری ادب میں اس کا ایک الگ صنفی مقام ہے۔ انشائیہ نگار کے الفاظ گلہائے رنگا رنگ سے سجے ہوتے ہیں، وہ کاغذ کے چمنستان کو مختلف خیالات، تاثرات، مشاہدات، محاورات اور مزاحیہ استعارات کے رنگ برنگے پھول بوٹوں سے بھردیتا ہے، تنقیدی لہجہ انشائیہ نگار کی خوبی ہے، انشائیہ لکھنے والے کی نگاہ کسی ایک واقعے، قصے یا حادثے پر نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ ایسا اچھوتا انداز اختیار کرتا ہے جس میں قاری کی دلچسپی کو اپنا مقصد بناتا ہے، اس کی تحریر میں نہ سنجیدہ پن ہوتا ہے اور نہ رنج و غم کا اظہار، انشائیہ میں کہانی پن ادبی جرم ہے۔ خیالات کی بے ترتیبی انشائیہ کا حسن ہے۔

مضمون یا مقالہ:
ادب کی وہ صنف جو سنجیدگی، متانت، علم کی رونق اور صداقت و دیانت کے دائرے میں لکھی جائے۔ مقالہ میں کسی سنجیدہ موضوعر وشنی ڈالی جاتی ہے، اس میں حکمت و فلسفہ اور علم و دانش کے مطابق کسی ایک عنوان پر قلم کار کے مثبت اور عمدہ خیالات ہوتے ہیں، صاحب قلم کو کسی مضمون یا مقالے میں علمی و سائنسی یا عالمانہ وفاضلانہ امور کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
مقالہ ہمیں وقت اور زمانہ، زمانے کی رفتاراور معاشرہ و ماحول سے روشناس کراتا ہے۔ آسمان، خلا، فضا، نظام شمسی، ہوا، بادل، بارش، موسم وغیرہ کے متعلق ہم غور کرتے ہیں، کتنے ہی سوالات ہمارے ذہن کی سطح پر ابھرتے ہیں۔ ایسے موقع پر ایک سائنسی مقالہ ہماری آسودگی کا سبب بن جاتا ہے، کسی بھی موضوع پر ایک تحقیقی اور معلوماتی مقالہ ہمارے ذہنوں کے بنددریچوں کو کھول دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ مقالہ کے لئے زبان و بیان کا واضح اور صاف ستھرا ہونا ضروری ہے، ادبیرنگ اور دلکش اسلوب مقالے کے حسن کو دوبالا کر دیتا ہے۔ ہمیں اخبارات و رسائل میں مختلف موضوعات پر مقالے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ادبی، علمی و فقہی سیمناروں میں کسی خاص موضوع پر مقالے پیش کئے جاتے ہیں۔

داستان:
یہ صنف ناول، افسانہ اور ڈرامے کی اخوات میں شمار ہوتی ہیں۔ لی کن اس کا اسلوب اور انداز قدرے مختلف ہے، داستانوں میں عجیب و غریب خیالی واقعات کو دلچسپ انداز میں بیان کیا جاتا ہے، داستانی تحریریں پڑھنے اور سننے والے کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہیں۔ داستانیں ماضی کی روایت رہی ہیں۔ داستان میں واقعات کا الجھاؤ، پیچیدگی، بیان کی طوالت اور کرداروں کی کثرت ہوتی، لیکن اس کے باوجود اس کا حسن باقی اور اس کی دلکشی برقرار رہتی ہے۔ پڑھنے یا سننے والا داستان کے انجام تک پہنچنے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔

ناول:
ناول انگلش لفظNovel سے ماخوذ ہے، جس کے معنی انوکھے اور عجیب و غریب کے ہیں، ناول اصل میں زندگی کی تصویر کشی اور زمانے کی منظر کشی کا ایک تحریری فن ہے، اس میں انسانی احساسات و جذبات اور حیات کی حقیقتوں کو نرالے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ مناسب الفاظ و تراکیب اس انوکھے پن کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، ناول میں کردار کے ہر پہلو پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری، جزئیات نگاری اور مکالمہ نگاری وغیرہ ناول کے بنیادی عناصر ہیں۔

افسانہ:
مختصر کہانی کو افسانہ کہتے ہیں۔ ناول کی طرح افسانہ کے موضوعات کا دائرہ بھی وسیع ہے۔ افسانوں میں سماجی مسائل اور انسانوں کی ذہنی و جذباتی الجھنوں کی ترجمانی ہوتی ہے۔ افسانہ نگار اپنی تحریر میں زندگی کے پیچ و خم، نا آسودگی، رنج و غم، طبقای کشمکش، عدم رواداری، رنگ و نسل کی تفریق، غربت و افلاس، ظلم و ستم اور نا انصافی جیسے مسائل کا رونا روتا ہے۔ افسانے میں واقعات کو تفصیل کے بجائے اختصار سے پیش کیا جاتا ہے۔ پلاٹ، منظر نگاری، مکالمہ نگاری اور کردار نگاری وغیرہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں، افسانے اور ناول کے تشکیلی عناصر میں کئی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔

سوانح:
اس میں کسی شخصیت کے (پیدائش سے لے کر موت تک) حالات زندگی کو بالتفصیل پیش کیا جاتا ہے، سوانح کے مطالعے سے نہ صرف کسی شخصیت کے احوال زندگی، تعلیم و تربیت اور عادت و اطوار کا علم ہوتا ہے، بلکہ اس عہد کے تاریخی، تہذیبی، سیاسی اور ادبی حالات و رجحانات سے بھی واقفیت ہوتی ہے۔ سوانح کسی بھی علمی، ادبی، سیاسی یا معروف شخصیت کی زندگی سے متعلق لکھی جا سکتی ہے۔ واقعات کی صداقت اور حالات کی صحیح عکاسی سوانح نگار کے لئے ضروری ہے۔ ہم نے بہت سے عقیدت مند سوانح نگاروں کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اکثر سوانح نگار عقیدت و محبت میں اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ صاحب سوانح کو فرش سے عرش تک پہنچا دیتے ہیں، تعریف میں اس قدر غلو کہ اللہ کی پناہ!! آداب و القاب میں اس قدر اضافہ کہ صاحب سوانح کی روح بھی شرمسار ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ یہ حال عام قلم کاروں سے زیادہ خواص یعنی علماء کی جماعت کا ہے۔

خودنوشت:
خود نوشت بھی کسی شخصیت کی داستان حیات ہوتی ہے، لیکن اس کو کوئی دوسرا نہیں، بلکہ وہ بدست خود لکھتا ہے، اسے "خود نوشت سوانح" بھی کہتے ہیں۔ خود نوشت لکھنے والا اپنے حالات زندگی اور تجربات و مشاہدات کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، کبھی گردش ایام کی ستم کاریوں کا تذکرہ کرتا ہے تو کبھی زندگی کے چمنستان میں فصل بہار کی آمد و رفت کا۔ خود نوشت کو "آپ بیتی" بھی کہتے ہیں، جس میں لکھنے والا اپنی روداد زندگی کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ آپ بیتی " جگ بیتی" بن جاتی ہے۔ مولانا عبدالماجد دریآبادیؒ اور شیخ زکریا کاندھلویؒ کی آپ بیتیاں پڑھنے لائق ہیں۔

سفرنامہ:
سفر نامے میں چشم دید واقعات اور سیروسیاحت کی داستان قلم بند کی جاتی ہے۔ کسی بھی سفر نامے کو پڑھ کر کسی ملک و قوم کی خوش حالی، ترقی، روایت، تہذیب و ثقافت اور جغرافیائی حدود کا علم ہوتا ہے۔ سفرنامہ لکھنے والا واقعات و حادثات کا خود شاہد ہوتا ہے اور دوسروں کے سہارے کے بغیر اپنی داستان سفر رقم کرتا ہے، ہاں ! اگر وہ اس میں کسی دستاویز یا طویل العمر بوڑھوں کے تعاون سے کسی جگہ کی تاریخی جھلکیاں پیش کرنا چاہے تو بات دیگر ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

***
ماخوذ از کتاب:
فن مضمون نگاری (تالیف: مولانا آفتاب اظہر صدیقی)

The types and categories of Urdu prose. Article by: Maulana Aftab Azhar Siddiqui

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں