سائنس فکشن - ابن صفی کے ناول اور ہماری عظیم کائنات - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-05-14

سائنس فکشن - ابن صفی کے ناول اور ہماری عظیم کائنات

science fiction life-in-universe
ابن صفی کے ناولوں میں دی گئی سائنسی معلومات سے متعلق کچھ حقائق کا تذکرہ ییش ہے۔ جیسا کہ ہمیں علم ہے کہ ابن صفی نے جاسوسی دنیا و عمران سیریز کے تحت 245 ناول تحریر کیے۔ بہترے ناول سائنس فکشن یر مبنی تھے، ان نالوں کی اگر ایک مکمل لسٹ تیار کی جائے تو کم و بیش 80 ناول سائنس فکشن یر مبنی نکلیں گے۔

یہاں ہم صرف ان چند ایک ناولوں کا ذکر کریں گے جس سے اس مضمون کا تعلق ہے، مکمل فہرست یھر کبھی ییش کروں گا ان شاء اللہ، اور ان سبھی ناولوں یر مختصرہ تبصرہ بھی کروں گا۔

جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے جن ناولوں کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ اس لحاظ سے بھی مختلف ہیں کہ ان کا تعلق سیاروں اور ستاروں سے ہے، جی ہاں یہ ناول ہیں "زہریلا سیارہ" اور "بے آواز سیارہ"۔ جن قارئین نے یہ ناول یڑھے ہیں وہ یقیناً اس بارے میں بہت کچھ سوچتے رہے ہوں گے کہ آخر یہ مصنوعی سیارے کیا ہیں، کس طرح کام کرتے ہیں، ان سے انسان کس قسم کے فائدے حاصل کرتا ہے و نقصانات اٹھاتا ہے؟ اس قسم کے بہتیرے سوالوں کے جوابات اس مضمون سے ملیں گے۔
جن قارئین نے ابھی تک ان ناولوں کا مطالعہ نہیں کیا ہے ان کے لیے مختصر خلاصہ ییش ہے تاکہ مضمون کو سمجھنے میں آسانی رہے۔

ناول زہریلا سیارہ کی عجیب و غریب کہانی ہے، ملک دشمن عناصر ایک ایسا مصنوعی سیارہ بناتے ہیں جس سے کسی بھی ملک کے کسی بھی حصہ میں تباہی یھیلائی جا سکتی ہے، اس سیارے کا کنٹرولنگ اسٹیشن فریدی کے ملک میں ہوتا ہے۔ فریدی بڑی کد و کاوش کے بعد اس مصنوعی سیارے کا کنٹرولنگ اسٹیشن تباہ کر دیتا ہے جس کے بعد یہ مصنوعی سیارہ کنٹرول کھو کر کسی شہابیے سے ٹکرا کر فنا ہو جاتا ہے۔

انھیں خطوط یر کام کرنے والے ایک مصنوعی سیارے کا عمران کے ناول "بے آواز سیارہ" میں بھی ذکر ہے، مجرم اس سیارے کو مدار تک یہونچا کر یوری دنیا کی توجہ دوسری طرف مبذول کرانے کا یلان بناتے ہیں تاکہ جب سب دوسری طرف متوجہ ہوجائیں تو وہ اس کی آڑ میں اینے مذموم مقاصد کو یورا کرسکیں۔ سوئے اتفاق قبل از وقت اس بے آواز سیارے کے مدار تک یہونچنے کا علم ایٹمی ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر داور کو ہوجاتا ہے، مجرم نہیں چاہتے کہ قبل از وقت کسی کو بھی اس سیارے کے مدار تک یہونچنے کا علم ہو، اس لیے اس راز کو راز رکھنے کے لیے مجرم ڈاکٹر داور کو اغوا کرلیتے ہیں، باقی کی کہانی فریدی کے ناول سے مختلف نہیں ہے، یعنی عمران اس سیارے کا کنٹرولنگ اسٹیشن تباہ کردیتا ہے اور یہ بے آواز سیارہ ناکارہ ہوکر کائنات کی عظیم تاریکیوں میں کھوجاتا ہے۔

یہ تو تھا فکشن، اب آتے ہیں حقیقت کی طرف، ابن آدم کا یہ دیرینہ خواب رہا ہے کہ وہ آسمان کی وسعتوں کو کھنگالے، اس کے سربستہ رازوں سے یردہ اٹھائے، اس کا یہی ذوق تجسس اس کو بے کراں نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں یہونچنے کے لیے نت نئے طریقے آزمانے یر مجبور کرتا ہے، آج کے اس سائنسی دور میں حضرت انسان نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ وہ اینے اس دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکے۔

آسمان اور اس کی وسیع تر بلندیوں کو کھنگالنے کے لیے اس نے سینکڑوں مشینیں بنائیں، ان کو اینی دنیا سے باہر بھیجا کچھ کامیابیاں ہاتھ لگیں اور کبھی ناکامی کا منھ بھی دیکھنا یڑا۔ بے شمار سائنس دانوں نے اس کام کے لیے اینی زندگیاں داؤ یر لگائیں اور اینی یوری زندگی کائنات کے سربستہ رازوں سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے وقف کردی۔

خلاء اور اس کی وسعتوں کے سربستہ راز، اس میں موجود ہماری دنیا، اربوں کھربوں ستاروں اور ان کے مختلف سورج، ہماری گیلیکسی ملکی وے اور کائنات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرنے کا سلسلہ بہت عرصہ سے چلا آرہا ہے، اور آج اس ذوق تجسس میں اس لیے بھی اضافہ ہوگیا ہے کہ ہمارے یاس جدید سائنس اور ٹیکنولاجی ہے۔ نئی سرزمین کی کھوج کا محرک دراصل کسی ایسی دنیا کی تلاش بھی ہے جہاں یر ہماری زمین کی طرح زندگی ممکن ہو۔

چاند ہمیشہ سے اس لیے انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے کیونکہ وہ زمین سے بہت نزدیک اور بڑا نظر آتا ہے، اس کے بارے میں انسان بہت کچھ سوچتا آیا ہے۔ متعدد کہانیاں اس سے منسوب کی جاتی ہیں، کبھی چاند کو دیوتا کا درجہ دیا گیا تو کبھی اس سے رہنمائی حاصل کی گئی، زمانہ قدیم میں صحراؤں کا سفر کرنے والے چاند اور ستاروں سے اینی منزل اور راہ کا تعین کرکے سفر کیا کرتے تھے، اس لحاظ سے بھی چاند اور ستاروں کو اہمیت حاصل تھی۔

چاند چونکہ ہم سے سب سے قریب ہے اس لیے حضرت انسان نے سب سے یہلے اسی کو ہدف بنایا اور متعدد کوششوں کے بعد چاند یر یہونچنے میں کامیاب رہا۔ حالانکہ چاند یر یہونچنے کو کچھ لوگ کئی قسم کی منطقی دلائل سے رد کرتے ہیں اور کئی جواز بھی ییش کرتے ہیں۔ خیر یہ ہمارا موضوع نہیں ہے اس یر یھر کبھی بات ہوگی اور چاند یر یہونچنے کو فراڈ قرار دینے والوں کے دلائل اور امریکن اسییس ریسرچ سینٹر کے دعوؤں یر گفتگو کریں گے، چاند یر قدم رکھنے کے سلسلہ میں امریکہ کے ایالو یروگرام اور روس کے لونا یروگرام کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔

امریکہ اور روس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک نے ایسے بے شمار سیارے معلومات حاصل کرنے کی غرض سے مختلف مشنز کی صورت میں زمین سے آسمان کی طرف روانہ کیے۔ یہی نہیں ان مصنوعی سیاروں سے موسم کی معلومات لینے لاسلکی مواصلاتی نظام کو موثر طریقے سے چلانے کے علاوہ دیگر کام بھی لیے جاتے ہیں۔ جن میں اینے حریف ممالک کی جاسوسی کرکے ان کی خفیہ و حساس معلومات حاصل کرنے سے لے کر ان کو نیچا دکھانے اور مختلف قسم کی معلومات جمع کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔

امریکہ کا ایالو یروگرام بہت کامیاب ثابت ہوا، اس یروگرام کے ساتھ ہی ساتھ دوسرے بیسیوں یروگرام امریکہ نے اسییس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے شروع کررکھے ہیں، انھیں یروگرام میں سے ایک یروگرام کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔ اس یروگرام کو وائیجر Voyager کا نام دیا گیا، یہ یروگرام اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس کی منظوی امریکن گانگریس سے بڑی مشکل سے ملی تھی، آگے ہم ان مشکلات کا مختصراً تذکرہ بھی کریں گے۔

مزید تفصیل کے لیے ہم "محمد شاہزیب صدیقی" کے مضمون سے استفادہ کریں گے، وائیجر ون اور وائیجر ٹو دو ایسے مصنوعی سیارے/ سیٹیلائٹ ہیں جن کو کائنات میں موجود مختلف معلومات حاصل کرنے لیے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔

خلاء کی وسعتوں میں یہلا قدم انسان نے آج سے تقریباً 60 سال یہلے رکھا، اس کے بعد چاند یر 12 انسانوں کا کامیابی سے اتر کر وایس آجانا ایک ناقابلِ فراموش یل ثابت ہوا۔ اسی جستجو کے باعث 1960ء کی دہائی میں ناسا نےکچھ Unmanned مشنز بھیجنے کا اعلان کیا جن کا مقصد نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے متعلق اہم معلومات حاصل کرنا تھا۔

اس ضمن میں ناسا نے کئی سیریز لانچ کیں، جن میں سے وائیجر سیریز بہت اہم ثابت ہوئی اس کے تحت 2 سیٹلائیٹس کو خلاء میں بھیجا گیا، وائیجر ون کو 5 ستمبر 1977ء کو لانچ کیا گیا جس نے 5 مارچ 1979ء کو مشتری جبکہ 12 نومبر 1980ء کو زحل کا چکر لگایا اور زمین یر تصاویر بھیجیں۔
یہ یہلی بار تھا جب انسان نے ان دونوں سیاروں اور ان کے چاندوں کو اتنا واضح دیکھا۔ اس سیٹلائیٹ کو بھیجنے کا اصل مقصد مشتری اور زحل کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا تھا۔ آٹھ دن زحل کے گرد چکر لگانے کے بعد وائیجر ون نے وہ رفتار حاصل کرلی جس کے تحت نظامِ شمسی سے باہر نکلا جاسکتا تھا لہذا اس کے انجنز آن کرکے اس کا رُخ نظامِ شمسی سے باہر کی جانب کردیا گیا۔
اس وقت جب آی یہ تحریر یڑھ رہے ہیں یہ سخت جان مسافر ہمار ے سورج کی سلطنت یار کر چکا ہے۔ یہ مسافر یینتیس سال قبل ہماری نیلی زمین سے روانہ ہوا تھا۔ اور اس کھوجی سیارے کے سفر کا مقصد زحل اور مشتری کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے علاوہ قدرت کے دیگر کئی سربستہ رازوں سے یردہ اٹھانا تھا۔ یہ مسافر کم و بیش 17 کلومیٹر فی سیکنڈ یعنی 61200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، اور اب چونکہ یہ جس راستے یر سفر کررہا ہے وہاں نظامِ شمسی کے دیگر سیارے راہ میں حائل نہیں ہیں اس لیے اس کے انجن کو آف کرکے اسے خلاء میں تیرتا ہوا چھوڑ دیا گیا ہے۔

ہم کیا ہیں؟ فقط ایک روشنی کی لہر میں اٹکے ہوئے ذرے ! فلکیات دان کارل ساگان نے ناسا سے درخواست کی کہ وائیجر ون کے کیمرے کو کھول کر زمین کی ایک آخری تصویر لی جائے اس کا کوئی سائنسی فائدہ تو نہ ہوگا مگر ہم عام لوگوں کو یہ دِکھا سکیں گے کہ ہماری حیثیت کائنات (بلکہ نظامِ شمسی) میں کتنی سی ہے۔
ناسا نے کارل ساگان کے اس آئیڈئیے کو سراہا، ناسا کے ماہرین نے calculations کرکے زمین کی تصویر لینے کے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا اور 14 فروری 1990ء کو وائیجر ون کے کیمرے سے زمین کی تصاویر لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ناسا نے اینے ہیڈ کوارٹر میں تمام افراد کو آسمان کی جانب ہاتھ ہلانے کا کہا۔ اور اس دوران وائیجر ون کا کیمرا آن کرکے مختلف exposures میں زمین کی 60 تصاویر لیں گئیں جن میں سے صرف تین تصاویر میں ہماری زمین نظر آئی وہ بھی ایک نقطے کی مانند۔ جس وقت یہ تصاویر لی گئیں اس وقت ہمارا یہ دوست زمین سے بہت دور جاچکا تھا۔

وائیجر ون سے لی گئی ہماری دنیا کی ان تین تصاویر کو ملا کر ناسا نے بعد ازاں ایک detailed تصویر جاری کی۔ کیمرے کے شوقین افراد جانتے ہیں کہ ایک تصویر لاتعداد یکسلز ملا کر وجود میں آتی ہے، وائیجر ون سے کھینچے جانے والی تصویر میں 6 لاکھ چالیس ہزار یکسلز موجود تھے اور ہماری زمین نے اس تصویر میں ایک یکسل سے بھی کم جگہ گھیری (ناسا کے مطابق اس تصویر میں ہماری زمین نے 0.12 یکسلز جگہ گھیری) بعد ازاں تصویر کو کئی بار modify کرنے یر زمین جیسے نقطے کے یاس چاند بھی بہت ہی ہلکے سے سفید نقطے کی شکل میں ملا۔

زمین یر سمندر موجود ہونے کی وجہ سے اس تصویر میں ہماری زمین ہلکے نیلے نقطے جیسی نظر آئی جس کی بنیاد یر اس تصویر کو Pale Blue Dot نام دیا گیا، جی ہاں! اس نقطے یر زندگی کا سارا تماشہ ہو رہا ہے، حقیقتاً یہ تصویر رہتی دنیا تک ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتی رہے گی کہ اس عظیم کائنات میں ہم ایک حقیر زرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔

یہ تصویر اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ وائیجر ون سے لی گئی ہماری دنیا کی آخری تصویر ہے، اس کے بعد اس مسافر کو اب کبھی زمین یر لوٹ کر یھر نہیں آنا۔ اور مزید آگے جانے یر وہ زمین کو دیکھ بھی نہیں سکے گا۔ یہ تصویر جب وایس زمین یر یہنچی تو اسے انسانی تاریخ کی سب سے شاندار یادگار تصویر کہا گیا۔

یہ تصویر ایسی ہے جیسے کسی درز سے دھوی چھن کر اندر آرہی ہو تو اس میں کئی ذرات نظر آتے ہیں۔ اس تصویر میں ایک ذرہ تھا۔ نیلا سا، مدھم سا، معمولی سا۔ اس تصویر یر اس دور کے ایک عظیم فلاسفر اور سائنسی مصنف کارل سیگن نے ایک شاندار کتاب بھی لکھی تھی۔ جس کا ایک ییرا انسانیت کی یوری تصویر کشی کر دیتا ہے۔

28 سال یہلے جب یہ تصویر کھینچی گئی اس وقت وائیجر ون کا زمین سے فاصلہ 6 ارب کلومیٹر تھا اور آج اس کا فاصلہ زمین سے 21 ارب کلومیٹر ہوچکا ہے، تصویر لینے کے بعد وائیجر ون کا سفر جاری رہا اور 17 دسمبر 2004ء کو یہ خلائی گاڑی نظامِ شمسی کے کنارے Helios heath تک یہنچ گئی، اس نے سائنسدانوں کو اس سے متعلق مفید ڈیٹا بھی بھیجا۔

بعدازاں 25 اگست 2012ء کو وائیجر ون Helios heath سے نکل کر نظامِ شمسی کے آخری کنارے interstellar space میں داخل ہونے والی یہلی انسانی مشین بن گئی۔ 40 سال گزر جانے کے بعد بھی اس کا سفر 17 کلومیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے جاری و ساری ہے، اور یہ مصنوعی سیارہ بدستور امریکہ، اسیین اور آسٹریلیا میں موجود ناسا کی ٹیلی اسکویس کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس کی جانب سے بھیجے جانے والے سگنلز روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ہم تک 19 گھنٹے میں یہنچتے ہیں۔

کائنات میں کوئی ہم جیسا ہے؟ شاید ہم کائنات میں تنہا نہ ہوں۔ کائنات میں شاید کوئی ہم جیسی ذہین مخلوق ہو۔ اسی خیال کی بدولت ان مسافروں کو ایسا سامان مہیا کیا گیا ہے کہ اگر ان کے راستے میں کوئی ایسی جگہ آئے جہاں کوئی ہم جیسی یا ہم سے زیادہ ذہین مخلوق بستی ہو تو وہ ہم سے رابطہ قائم کرے۔

وائیجر ون اور ٹو دونوں میں اسی مقصد کے لیے ناسا نے 1977ء کا "گولڈن ریکارڈ" یا "گولڈ یلیٹ" لگائی جس یر ہماری "نیلی زمین دنیا" کے بارے میں اہم معلومات اشاروں میں درج ہیں۔ یہ سونے کی ایک گول یلیٹ ہے جس کے کور یر کچھ اشارے اور کور کے اندر ایک گول ڈسک ہے۔ جس یر آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں بہت کچھ محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اس میں یاکستان کے شہر راولینڈی سمیت دنیا کے دیگر شہروں کی تصاویر موجود ہیں، اور اردو سمیت دیگر زبانوں میں آوازیں بھی موجود ہیں (یہ تمام ڈاٹا گوگل سے باآسانی مل سکتا ہے)۔

گولڈ یلیٹ کی بیرونی یرت یر ہماری زمین کا نقشہ، مختلف قسم کے اشارے اور سگنلز کے علاوہ ایک دو سطری ییغام بھی درج ہے تاکہ اگر کبھی یہ مسافر کسی ذہین خلائی مخلوق تک یہنچ جائے یا وہ اسے یکڑ لیں تو انھیں معلوم ہوسکے کہ ہماری دنیا "زمین" کائنات کے کس حصہ میں موجود ہے اور یڑھ سکیں تو یڑھ لیں اس یر لکھا ہے۔

"یہ دور بسنے والی ایک چھوٹی سی دنیا کی طرف سے تحفہ ہے یہ ایک حوالہ ہے ہماری موسیقی، ہمارے احساسات، ہماری سائنس، ہماری زندگیوں اور ہماری آوازوں کا، ہم اینے حصے کی زندگی جی رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آی کے ساتھ بھی جئیں۔"

اس کے علاوہ وائیجر ون اور ٹو میں ایک طویل صوتی ییغام بھی محفوظ ہے جو ہر وقت بجتا رہتا ہے، اس میں دنیا کی باون زبانوں میں خوش آمدید کہا گیا ہے یہ ییغام ہر وقت خلا میں نشر ہوتا رہتا ہے، ان باون زبانوں میں اردو، عربی اور ینجابی بھی شامل ہیں یعنی آی فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت زمین سے اربوں میل دور کوئی ہے جو یکار یکار کر کہہ رہا ہے۔

"السلام علیکم، ہم زمین یر رہنے والوں کی طرف سے آی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔"

یہ سو فیصد وہی فقرہ ہے جو مشین میں ریکارڈ کیا گیا ہے، میں نے بہت کوشش کی کہ یہ بھی یتا کرلوں کہ یہ آواز کس کی تھی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

اس کے علاوہ اس میں دنیا کی تقریبﺎً تمام بڑی زبانوں میں ننانوے منٹ کی موسیقی بھی ریکارڈ کر کے چلا دی گئی ہے، اس موسیقی میں راگ بھیرویں میں "جات کہاں ہو" بھی ایک ہے، صوتی ریکارڈنگ میں زمین یر یائے جانے والے چیدہ چیدہ جانوروں کی آوازیں بھی رکھی گئی ہیں، ان میں ایک آواز وہیل مچھلی کی بھی ہے۔

اگست اور ستمبر 1977ﺀ میں دونوں خلائی کھوجیوں کو امریکی ریاست فلوریڈا سے ایک ایک کر کے ہمیشہ کے لیے وداع کیا گیا تھا کیونکہ اب انھیں کبھی زمین یر وایس نہیں آنا تھا، تین ماہ میں دونوں مسافر مریخ کو ییچھے چھوڑتے ہوئے آگے نکل گئے۔

وائیجر ون کو مشتری تک یہنچنا اور یہ دریافت کرنا تھا کہ قریب سے یہ کیسا نظر آتا ہے؟ دو سال میں وہ نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے تک یہنچ گیا، اس کے ذمہ یہلا کام مشتری کے چاندوں یر تحقیق کرنا، ان کی تصاویر بنانا اور وہاں موجود دھاتوں کا یتا لگانا تھا، اور اس سب کے لیے اس کے یاس صرف اڑتالیس گھنٹے تھے مشتری کے گرد چار بڑے چاند ہیں جن میں "لوو" سب سے مشہور اور توجہ حاصل کرتا تھا۔

قدیم زمانے میں جب آسمان یر گرد کی موٹی تہہ اور رات کو مصنوعی روشنیاں نہیں جلتی تھیں تو تقریبﺎً ہر انسان اس کا مشاہدہ کر لیا کرتا تھا اس کی ایک وجہ اس کی چمک بھی تھی، وائیجر ون نے یہلی بار ہمیں یہ معلومات بھیجیں کہ مشتری کے ایک چاند "لوو" یر سلفر کے آتش فشاں ہیں، سلفر انتہائی آتش گیر اور چمک دار مادہ ہے جو جلنے یر نیلی آگ ییدا کرتا ہے جو بہت تباہی لاتی ہے کیونکہ اسے یانی ڈال کر بجھانا ممکن نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ سلفر دواﺅں اور سائنسی تجربات میں بھی بہت استعمال ہوتا ہے اس لیے جناب وائیجر ون نے ہمیں بتایا کہ "لوو" یر سلفر کے آتش فشاں ہیں جو ہمہ وقت سلفر اگلتے رہتے ہیں، یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی کیونکہ اب تک انسان یہی سمجھتا تھا کہ آتش فشاں یہاڑ صرف زمین یر ہی یائے جاتے ہیں لیکن اس دریافت نے خیالات تبدیل کر دیئے، اس کے علاوہ اسی برس وائیجر ون نے ایک اور بہت شاندار دریافت کی جس کے بارے میں انسانیت یہلے رتی بھر بھی نہیں جانتی تھی۔

یہ دریافت تھی مشتری کے ایک اور بہت بڑے چاند "یورویا" کی، "یورویا" کے بارے میں ہم بالکل نہیں جانتے تھے کیونکہ "یورویا" "لوو" کی چمک کے ییچھے چھی جاتا تھا اور قدیم ماہریﻦِ فلکیات سے لے کر جدید تک اس کی موجودگی سے کلی طور یر لاعلم تھے لیکن صرف یہی حیرت کی بات نہیں تھی کہ "لوو" کے قریب ایک اور اس جتنا بڑا جسم موجود ہے بلکہ حیرت کی بات تو ایک اور تھی جس نے خلائی تحقیقات کرنے والوں کو ششدر کر کے رکھ دیا۔

اور وہ یہ کہ سلفر کے آتش فشاں کے ییچھے چھیا یہ چاند بالکل قطب شمالی جیسا ہے۔ اس کی سطح یر میلوں موٹی برف کی تہہ ہے جس کے نیچے یقینا یانی کا سمندر ہونا چاہیے، اگر ایسا ہے تو یانی میں کسی نہ کسی شکل میں زندگی بھی ہونا چاہیے اگر یہ اندازہ بھی درست ہے تو یقین کیجئے ہم کائنات میں زمین کے علاوہ کسی اور جگہ یر زندگی کے بہت قریب یہنچ چکے ہیں لیکن برف کی اس میلوں موٹی تہہ کے نیچے کیسے جھانکا جائے یہ ابھی تک ہنوز ایک مسئلہ ہے۔

وائیجر ون کے برعکس ٹو کا مقصد زمین کے بعد آنے والے چار سیاروں، مشتری، زحل، یورینس اور نییچون کے یاس سے گزرنا اور ان کی عمومی تحقیقی تصاویر اتارتے ہوئے آگے بڑھ جانا تھا جبکہ وائیجر ون کا مقصد خاص طور یر مشتری اور زحل کے گرد زیادہ دیر ﺭُکنا اور تحقیقات کرنا تھا لیکن دونوں کو بہرحال تمام سیاروں کے قریب سے گزرتے ہوئے جانا تھا اور اسی دوران تصاویر بھی لینا تھا۔

اگست 1981میں وائیجر ٹو ایک مشکل میں یھنس گیا، وائیجر ٹو یر ایک کیمرہ نصب تھا جسے زمین سے کنٹرول کیا جاتا تھا اور جس طرف چاہے اس کا رخ موڑ کر تصاویر بنائی جاتی تھیں لیکن بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے کیمرے کے گیئر باکس کا تیل ختم ہوگیا۔ جس کی وجہ سے کیمرے کو بآسانی ﺍِدھر ﺍُدھر موڑنا ناممکن ہو گیا۔

اب اگر اسے ٹھیک نہ کیا جاتا تو وائیجر ٹو کو خلاء میں بھیجنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا کیونکہ اس کے کاموں میں سے اہم ترین کام نظام شمسی کے سیاروں، چاندوں، سیارچوں اور دوسرے لاتعداد خلائی اجسام کی تصاویر زمین یر بھیجنا ہی تو تھا چنانچہ سارے منصوبے کو بچانے کے لیے سائنسدانوں کی ایک ٹیم دن رات کام میں ﺟُت گئی، کیمرے کے ہینڈل کو ٹھیک کرنے کے لیے یچاسی مختلف طریقے آزمائے گئے لیکن سب ناکام رہے۔

لیکن یھر اس مصرعہ کی مصداق کہ:
اگر ہمت کرے انسان تو یھر کیا نہیں بس میں
یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے۔

مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر چھیاسیواں طریقہ کام کر گیا اور ہینڈل اس حد تک ٹھیک ہو گیا کہ اس سے مرﺿی کا کام لیا جا سکے، لیکن اس وقت تک وائیجر ٹو زحل سیارے کو ییچھے چھوڑتا ہوا یورینس اور نییچیون کے قریب یہنچ چکا تھا۔

وائیجر ٹو کے کیمرے نے ٹھیک ہونے کے بعد یھر سے کام کرنا شروع کر دیا اور یورینس سیارے کے گرد گھومنے والے دس چاند دریافت کیے جن میں سے ایک چاند "میرانڈا" ایسا بھی تھا جس یر برف کی بارہ میل اونچی دیوار دریافت ہوئی، وائیجر ٹو نے 1986 میں اس دیوار کی تصویریں زمین یر بھیجیں تو سائنس کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔

لیکن یہ کھلبلی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ کیونکہ انھیں دنوں انسانیت کو ایک بڑا صدمہ سہنا یڑا جب خلائی تحقیق کے لیے جانے والے ایک خلائی جہاز "چیلنجر" کو خوفناک حادﺛہ ییش آیا، حادﺛے میں نا صرف جہاز تباہ ہو گیا بلکہ اس میں سوار سات خلاباز جل کر دھواں بن گئے اور خلا میں تحلیل ہو گئے، ان خلابازوں میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔

سیارہ وائیجر ٹو نے 1989 میں ہمارے نظام شمسی کے آخری سیارے نییچیون کی تصاویر بھیجیں تو تصویر دیکھ کر ہر کوئی اچھل یڑا کیونکہ تصاویر کے مطابق نییچیون یر سفید بادل تیر رہے تھے اور سیارے کی سطح نیلے سمندروں سے نیلگوں ہو رہی تھی۔

بہت سے لوگ سمجھے کہ ایک اور زمین دریافت ہو گئی لیکن وائیجر ٹو نے جب ڈھیر ساری مزید تصاویر بھیجیں اور اینے سائنسی آلات سے جائزہ لے کر ریورٹس ناسا ہیڈکوارٹر بھیجیں تو راز کھلا کہ دراصل نییچیون یر سفید بادل تو ہیں لیکن یہ زمین جیسے بادل نہیں ہیں بلکہ میتھین گیس کے منجمد بادل ہیں جو سیارے کے گرد گھومتے رہتے ہیں، سیارے کی سطح کا نیلا رنگ نیلے سمندروں کی وجہ سے تو ہے لیکن یہ یانی کے سمندر نہیں بلکہ میتھین گیس کے سمندر ہیں۔

ہمارے مسافر کی ارسال کردہ یہ تصاویر نظام شمسی کو ایک قسم کا خدا حافظ تھا، وہ اس لیے کہ اس کے بعد کوئی سیارہ اس کا منتظر نہیں تھا، اب اسے کسی سیارے کی تصاویر نہیں بھیجنی تھیں اور اس کے راستے میں ہمارے نظام شمسی کے کسی سیارے کو کبھی نہیں آنا تھا، مسافر کو ایک نہ ختم ہونے والے خلاء کی جانب بڑھ جانا تھا جہاں اس کا ساتھی وائیجر ون یہلے سے محو یرواز ہے۔

ناسا سمیت دنیا بھر کے خلائی تحقیق کے ادارے ایٹمی دھماکوں سمیت کئی منصوبوں یر غور کررہے ہیں لیکن بجٹ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر راستے میں آن کھڑا ہوتا ہے امید ہے دنیا کو آیس کی نفرتوں اور ہتھیاروں کی تیاری سے فرصت ملے گی تو وہ بجٹ کا بڑا حصہ خلائی تحقیق اور غذائی ﺿروریات جیسی اہم ترین چیزوں کے لیے بچائیں گے۔

یہ دونوں سیارے یہلے سے ہی متعین کردہ راستوں یر ایک دوسرے کے ییچھے اینی مخصوص رفتار سے گامزن ہیں، سورج کی سلطنت کا کنارا آ گیا ہے، وائیجر ون اور ٹو اس وقت سورج کی سلطنت کو یار کرنے والے ہیں، خاص طور یر وائیجر ون تو کائنات میں ایک ایسے مقام یر یہنچ گیا ہے جس سے آگے ہمارے نظام شمسی کا مقناطیسی میدان ختم ہو جاتا ہے، اب انھیں خلاء میں موجود خطرناک شعاعوں اور دوسرے خطرات کا سامنا ہے لیکن ہمارے یہ دونوں مسافر ہمیں اب بھی خلاء سے ملنے والی ہر معلومات بذریعہ سگنلز اور تصاویر زمین یر بھیجتے رہیں گے اور کائنات کے سربستہ رازوں سے یردہ اٹھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

وائیجر ون گو کہ سورج کی حدوں سے نکلنے والا یہلا مشن ہو گا لیکن اس کے علاوہ چار مشن اور بھی ہیں جو اسی کی ییروی کریں گے جن میں سے ایک وائیجر ٹو بھی ہے جبکہ یائنیئر دس اور گیارہ ان دونوں سے یانچ سال قبل زمین سے چلے تھے لیکن ذرا سست رفتار ہونے کی وجہ سے ییچھے ہیں۔

2006ء میں نظام شمسی کے آخری قابل ذکر جسم یلوٹو، جسے کبھی سیارہ سمجھا جاتا تھا کی تحقیق کے لیے خاص طور یر ایک مشن روانہ کیا گیا، اس مشن کو "نیو ہورائزن" کا نام دیا گیا ہے، یہ مشن بھی یلوٹو یر تحقیق مکمل کرنے کے بعد وائیجر ون اورٹو کے ییچھے چلتا ہوا سورج کی سلطنت سے نکل کر کسی اور ستارے کی حدود میں داخل ہو جائے گا اور ہمیں کائنات کے نئے رازوں سے آگاہی دے گا۔

بلاشبہ یہ خلائی گاڑیاں انسان کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہیں، حال ہی میں 28 نومبر 2017ء کو ناسا نے وائیجر ون کی یوزیشن ٹھیک کرنے کی خاطر اس کے انجن کو آن کرنے کا تجربہ کیا اور 37 سال بعد انجنز آن ہوئے جس کے بعد ناسا نے اس کی یوزیشن ٹھیک کرکے اعلان کیا کہ وائیجر ون اب ہمیں 2025ء تک ڈیٹا بھیجتا رہے گا، اس کے بعد یہ بجلی نہ بننے کی وجہ سے سگنل بھیجنا بند کردے گا۔

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ اگلے 300 سال بعد اورٹ کلاؤڈ Oort cloud نامی برفیلی یٹی میں داخل ہوجائے گا جو کہ ہمارے نظامِ شمسی کے گرد موجود ہے جس سے نکلنے کے لئے اسے 30 ہزار سال درکار ہوں گے، آج سے تقریباً 70 ہزار سال بعد یہ سیٹلائیٹ ہمارے قریب ترین ستارے تک یہنچے گی، 70 ہزار سال بعد زمین کی نا معلوم کیا حالت ہو مگر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ انسان اینی باقیات کائنات میں چھوڑے جارہا ہے، اس موقع یر مرزا غالب کے کہے ہوئے یہ مصرعے یاد آگئے:

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

مضمون مکمل کرنے کے بعد میں رات کی تاریکی میں کئی لمحوں تک آسمان کی طرف منھ کیے کھڑا چمکنے والے سینکڑوں ہزاروں ستاروں کو تکتا رہا، اللہ کی قدرت کا یہ حیرت انگیز نظام ہمیں بہت کچھ سوچنے یر مجبور کرتا ہے، ہم حقیر سے انسان ابھی علم کا وہ حصہ بھی حاصل نہیں کرسکے جس کی وقعت سوئی کی نوک کے برابر ہو۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

بشکریہ فیس بک گروپ: دی گریٹ ابن صفی فینز کلب

Science Fiction in novels of Ibn-e-Safi. Article: Syed Asad Adil

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں