ٹیڑھی لکیر - ناول از عصمت چغتائی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-05-21

ٹیڑھی لکیر - ناول از عصمت چغتائی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

tedhi-lakeer novel by ismat-chughtai
ٹیڑھی لکیر ، عصمت چغتائی کا ایسا شاہکار ناول ہے جس میں انہوں نے سوانحی انداز اپنایا ہے۔ اس ناول میں ہیروئین شمن کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کے دلچسپ واقعات کو ڈرامائی انداز میں یوں پیش کیا گیا ہے کہ کردار نگاری پلاٹ اور قصے پر بھاری پڑ گئی ہے۔
تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں ناول "ٹیڑھی لکیر" پیش خدمت ہے۔ تقریباً پانچ سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 19 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

پطرس کہتے ہیں:
عصمت کو سماج سے نہیں شخصیتوں بلکہ اشخاص سے شغف ہے، ان کے جوش و ہوش، ان کی تھرتھراہٹ اور کپکپی سے ان کی کشمکش سے، عداوت اور فریب کاری سے، جو انسان پر جب طاری ہوتی ہے وت جسم پھڑکنے لگتا ہے۔ اس کے فن میں خاموش آسودگی یا مسرت عالیہ کہیں نہیں ملے گی۔ بلکہ انسانی خون آپ کو رگوں میں دوڑتا نظر آئے گا جیسے پہاڑی ندی کا پانی دوڑتا ہے۔ لبالب اور ابلتا ہوا، ٹکراتا ہوا اور رستہ چیرتا ہوا۔
عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دئیے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے۔ اردو ادب میں جو امتیاز عصمت کو حاصل ہے اس سے منکر ہونا کج بینی اور بخل سے کم نہ ہوگا۔

اور اکبر علی خان اس ناول کے تجزیے میں لکھتے ہیں:
ٹیڑھی لکیر پر لوگ کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں لیکن عصمت کی سچائی، جرات، بےباکی، ناقابل تقلید حد تک فنی چاپکدستی اور تحریر کی سطر سطر میں جاری و ساری خلوص کی لہروں کا انکار بجائے خود معترض کی ذہنی ناپختگی کی دلیل ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ مریض کا علاج چاہنے والے مرض کی تشخیص سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسباب کی اس دنیا میں سبب سے آنکھ چرا لیں اور 'ھو الشافی' کہہ کر اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہو جائیں۔

یہ ناول پہلی بار مئی-1944 میں شائع ہوا تھا۔ مئی-1967 کے جدید ایڈیشن میں عصمت چغتائی کا تحریر کردہ درج ذیل پیش لفظ بھی شامل کیا گیا:
جب ناول "ٹیڑھی لکیر" شایع ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا میں نے ایک جنسی مزاج اور بیمار ذہنیت والی لڑکی کی سرگذشت لکھی ہے۔ علم نفسیات کو پڑھیے تو یہ کہنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون بیمار ہے اور کون تندرست؟
ایک پارسا ہستی جنسی بیمار ہو سکتی ہے اور ایک آوارہ اور بدچلن انسان صحت مند ہو سکتا ہے۔ جنسی بیمار اور تندرست میں اتنا باریک فاصلہ ہوتا ہے کہ فیصلہ دشوار ہے۔ مگر جہاں تک میرے مطالعے کا تعلق ہے، 'ٹیڑھی لکیر' کی ہیروئین نہ ذہنی بیمار ہے اور نہ جنسی۔ جیسے ہر زندہ انسان کو گندے ماحول اور آس پاس کی غلاظت سے ہیضہ، طاعون ہو سکتا ہے ، اسی طرح ایک بالکل تندرست ذہنیت کا مالک بچہ بھی اگر غلط ماحول میں پھنس جائے تو بیمار ہو جاتا ہے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
مگر "شمن" زندہ ہی نہیں ہے ، جان دار ہے ، اس پر مختلف حملے ہوتے ہیں لیکن ہر حملے کے بعد وہ پھر ہمت باندھ کر سلامت اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ وہ ہر امتحان سے گزر کر پرسکون انداز میں اپنا سر تکیے پر ٹکا دیتی ہے اور ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کرنے کے بعد دوسرا قدم اٹھاتی ہے۔ یہ اس کا قصور نہیں ہے کہ وہ بےحد حساس ہے اور ہر چوٹ پر منہ کے بل گرتی ہے مگر پھر سنبھل جاتی ہے۔ نفسیاتی اصولوں سے ٹکر لے کر وہ انہیں جھٹلا دیتی ہے۔ ہر طوفان سر سے گزر جاتا ہے۔

"شمن" کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ کوئی اسے سمجھ نہیں پاتا۔ وہ پیار محبت اور دوستی کی بھوکی ہے اور انہیں نعمتوں کی تلاش میں بھیانک جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ اس کا دوسرا عیب ہے : ضد ، یا شاید یہی اس کی خوبی ہے، ہتھیار ڈال دینا اس کی طبیعت نہیں۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹیڑھی لکیر میری آپ بیتی ہے ۔۔۔ مجھے خود یہ آپ بیتی ہی لگتی ہے۔ میں نے اس ناول کو لکھتے وقت بہت کچھ محسوس کیا ہے۔ میں نے شمن کے دل میں اترنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ آنسو بہائے ہیں اور قہقہے لگائے ہیں۔ اس کی کمزوریوں سے جل بھی اٹھی ہوں، اس کی ہمت کی داد بھی دی ہے۔ اس کی نادانیوں پر رحم بھی آیا ہے اور شرارتوں پر پیار بھی آیا ہے۔ اس کے عشق و محبت کے کارناموں پر چٹخارے بھی لیے ہیں اور حسرتوں پر دکھ بھی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ یہ میری آپ بیتی ہے تو کچھ زیادہ مبالغہ تو نہیں۔

اور جگ بیتی اور آپ بیتی میں بھی تو بال برابر کا فرق ہے۔ جگ بیتی اگر اپنے آپ پر بیتی محسوس نہ کی ہو تو وہ انسان ہی کیا؟ اور بغیر پرائی زندگی کو اپنائے ہوئے کوئی کیسے لکھ سکتا ہے؟
شمن کی کہانی کسی ایک لڑکی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے۔ اٗس دور کی لڑکیوں کی کہانی ہے جب وہ پابندیوں اور آزادی کے بیچ ایک خلا میں لٹک رہی ہیں اور میں نے ایمانداری سے ان کی تصویر ان صفحات میں کھینچ دی ہے تاکہ آنے والی لڑکیاں اس سے ملاقات کر سکیں اور سمجھ سکیں کہ ایک لکیر کیوں ٹیڑھی ہوتی ہے اور کیوں سیدھی ہو جاتی ہے؟ اور اپنی بچیوں کے راستے کو الجھانے کے بجائے سلجھا سکیں۔ اور بجائے تنبیہ الغافلین کے، اپنی بیٹیوں کی دوست اور رہنما بن سکیں۔

- عصمت چغتائی (بمبئی)

یہ بھی پڑھیے:

***
نام ناول: ٹیڑھی لکیر
مصنف: عصمت چغتائی
تعداد صفحات: 480
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 19 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Tedhi Lakeer - Ismat Chughtai.pdf

Direct Download link:

Tedhi Lakeer, a novel by Ismat Chughtai, pdf download.

2 تبصرے: