ناول نیلی دنیا - سراج انور - قسط: 10 - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-12-29

ناول نیلی دنیا - سراج انور - قسط: 10

neeli-dunya-siraj-anwar-10

گذشتہ قسط کا خلاصہ :
مکڑ آدمیوں کے گروہ کے سردار نے انہیں گرفتار کر کے چٹانوں میں سے کاگی نامی ایک چیز کھودنے کے کام پر لگا دیا۔ ان کی پیشانی پر کتاک نامی ایک پٹہ باندھا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ سب بالکل مسمریزم کے معمول کی طرح مکڑ آدمیوں کے سردار کا حکم ماننے پر مجبور تھے۔ اتفاقاً فیروز کی پیشانی سے کتاک نکل کر گر گیا تو فیروز مسمریزم کی بندش سے بھی نکل گیا۔ اور اسی دوران اس نے نجمہ اور امجد کو بھی وہیں مزدوروں کی طرح کام کرتے ہوئے دیکھا۔ ۔۔۔۔
اب آپ آگے پڑھیے ۔۔۔

وہ ایک لمبا چوڑا صاف سا میدان تھا جہاں مکڑ آدمی ہمیں چھوڑ گئے تھے۔ اس میدان میں رات کا اندھیرا ہر سمت پھیلا ہوا تھا۔ چونکہ سیارے کے چاند یہاں لگاتار نہیں چمکتے تھے بلکہ تین کی ٹکڑی میں جنوب کی سمت سے نمودار ہوتے تھے اس لئے جہاں تک نظر جاتی تھی ، وحشت ناک اندھیرے کی چادر دور تک پھیلی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ اندھیرے کے ساتھ ہیبت ناک سناٹا اور بھیانک خاموشی اس ماحول پر حاوی تھی۔ ویسے تو یہ میدان بالکل چٹیل تھا لیکن اگر اس میں کہیں چٹانیں موجود تھیں تو وہ ہمیں اندھیرے کے باعث نظر نہ آتی تھیں۔


ہم انیس آدمی بڑی بےبسی کے عالم میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دس قیدی اور نو ہم سب کے سب اس وقت نامعلوم شیفاؤں کے رحم و کرم پر تھے اور سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ہم بالکل نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا چیز ہیں؟ خدا کا شکر ہے کہ ہمارا سامان اس وقت تک ہمارے ہی پاس تھا۔ مکڑ آدمی ہمیں چھوڑ کر جا چکے تھے اس لئے میں نے جلدی سے اپنے تھیلے کو ٹٹول کر ٹارچ نکالی اور پھر اس کی روشنی گھوم پھر کر ہر طرف ڈالنے لگا۔ جیک نے بھی ایسا ہی کرنا چاہا لیکن جان نے فوراً اسے ٹوکا۔
"نہیں۔۔۔ ٹارچ ایک ہی جلنے دو سب ٹارچیں ایک ساتھ جلانے سے ہمارے سیل جلد ختم ہو جائیں گے۔"


بات معقول تھی اس لئے جیک نے اپنا ارادہ ملتوی کردیا اور پھر ٹارچ سے نکلتی ہوئی اس روشنی کی لکیر کو دیکھنے لگا جو اب ایک اونچی سی چٹان پر پڑ رہی تھی۔اندازاً یہ چٹان کوئی بیس میٹر اونچی تھی۔ جان نے یہ دیکھ کر فوراً مجھ سے کہا۔
"بس ٹھیک ہے ، ہم لوگ رات اسی چٹان پر بسر کریں گے۔"
"لیکن ایک ہی چٹان پر اتنے سارے لوگ کس طرح لیٹ سکیں گے؟ "جیکسن نے فوراً اعتراض کیا۔
"اب لیٹنا کس احمق کو ہے!" جان نے خشک لہجے میں جواب دیا، لیٹ کر ہم شیفاؤں کی خوراک نہیں بننا چاہتے۔ اب عمل کا وقت ہے مسٹر جیکسن ، ہمیں ہر قدم ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ اٹھانا چاہئے۔"
"آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟" والٹر نے دریافت کیا۔
"یہی کہ پوری رات جاگ کر گزاری جائے اور ایسی ہی ایک دوسری چٹان بھی کہیں آس پاس تلاش کی جائے۔ دس آدمی وہاں رہیں اور نو یہاں ، اگر ایک پارٹی پر مصیبت آئے تو دوسری فوراً اس کی مدد کو پہنچ سکے۔"


اس میں کوئی شک نہیں کہ جان کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ ہم سب نے وہی کیا جو وہ چاہتا تھا ، ویسی ہی ایک چٹان بھی قریب ہی مل گئی۔ حالانکہ وہ اونچائی میں کم تھی، مگر اوپر سے کافی ہموار تھی ، ہم جوں توں کرکے چٹان پر چڑھ ہی گئے۔ جیکسن کو ایک پستول دے دیا گیا۔ کیوں کہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے قیدی بالکل نہتے تھے۔ اختر ابھی تک کتاک باندھے ہوئے تھا، جب کہ ہم نے اپنے اپنے کتاک اتار کر احتیاط سے رکھ لئے تھے۔ اختر کے لئے کتاک اس لئے ضروری سمجھا گیا تھا ہمیں اب اس پر بھروسہ نہیں رہا تھا کیوں کہ کسی بھی وقت وہ ہمارے پروگرام میں رکاوٹ ڈال سکتا تھا۔ لہٰذا وہ اسی طرح خاموش بیٹھا ہوا لگا تارایک ہی سمت میں گھورے جا رہا تھا۔


پوری رات بغیر کسی پریشانی اور آفت کے گزر گئی۔ چاند آسمان پر سے بے شک گزرے تھے مگر ان کی روشنی میں کوئی خاس بات معلوم نہ ہوسکی تھی۔ اب صبح کی روشنی میں ہم نے اس بھیانک علاقے کو دیکھا۔ یہ ایک دلدلی علاقہ تھا اور اس میں پیڑ یا پودے جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ البتہ ایک بات نے ضرور ہمیں حیرت زدہ کردیا۔ دلدلی زمین پر ہم نے گول سے نشان دیکھے۔ یہ نشان دس دس فٹ کی دوری پر بنے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا گویا کسی دیو نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر دلدل پر دس فٹ کی دوری پر انگلیوں کو دبادیا ہے۔ نہ جانے یہ نشان کہاں سے آرہے تھے اور کس جگہ جارہے تھے؟ ان نشانوں کے علاوہ اس میدان میں اور کوئی نشان نہیں تھا جو بھی مقام تھا بالکل صاف اور ہموار ، لہذا یہ گول نشان ( جوگہرائی میں ڈیڑھ فٹ سے کم ہرگز نہ ہوں گے) اس صاف جگہ پر بڑے عجیب معلوم ہو رہے تھے!


مصیبت تو یہ تھی کہ ہمیں اپنے نئے دشمن کے متعلق ذرا سی بھی واقفیت نہیں تھی۔ ہم ڈرتے ڈرتے ان نشانوں کے قریب گئے اور انہیں بغور دیکھا۔ مگر اس کے سوا کچھ بھی معلوم نہ کرسکے کہ وہ ڈیڑھ فٹ گہرے اور بیس فٹ قطر کے دائرے ہیں۔ یہ دائرے کس چیز سے پیدا ہوئے ہیں، کسی انسان سے یا کسی مشین سے؟ افسوس ہمیں یہ علم نہ تھا۔ دن بھر ہم چوکنے بیٹھے ہر طرف دیکھتے رہے مگر کوئی حیرت انگیز واقعہ پیش نہ آیا۔ اب تو ہمیں یہ شبہ ہونے لگا کہ شاید کراما نے ہمیں ڈرانے کے لئے یہاں بھیجا ہے اور یہ شیفا کوئی خاص شئے نہیں ہے۔ لیکن آپ آگے جاکر پڑھیں گے کہ جس خطرے کو ہم نے نظر انداز کردیا تھا وہ اس طرح ہم پر حاوی ہوا کہ ہمیں موت کی خواہش ہونے لگی!


رات کا گہرا اندھیرا دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا ، ہوا رک گئی تھی۔ اور بھیانک خاموشی نے پورے علاقے کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا، ہم دم سادھے اور ٹکٹکی باندھے سامنے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ زرینہ نجمہ کو اپنے سینے سے بھینچے ہوئے بیٹھی تھی اور جیک و سوامی شکاری کتوں کی طرح ہوشیار تھے۔ جان خلاف توقع کچھ خاموش تھا۔ رہا میں، تو میرا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا ماحول کی سنسانی اور اختر کی سپاٹ سی نگاہوں کو دیکھ کر مجھے یوں لگ رہا تھا گویا کوئی طوفان پوری رفتار سے ہماری طرف بڑھ رہا ہے ! اچانک مجھے ایک زبردست پھنکار سنائی دی۔۔ زبردست لیکن بھیانک!! اس کے ساتھ ہی اس علاقے کی زمین کپکپانے لگی۔ ایسا لگا گویا ایک زبردست زلزلہ آرہا ہے ، وہ پھنکار اب بہت ہی قریب سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
"ہوشیار مسٹر فیروز۔۔۔۔ شاید یہ شفا کی پھنکار ہے۔!" دوسری چٹان سے جیکسن نے چلا کر کہا۔


اور اس کا یہ چیخنا ہی اس کے لئے مضر ثابت ہوا، وہ پھنکار فوراً بند ہو گئی اور پھر ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی بہت وزنی چیز زمین پر گھسٹتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے ، میرادل یوں دھڑک رہا تھا کہ میرے قریب بیٹھی ہوئی زرینہ اس کی آواز صاف طور سے سن رہی تھی اور مجھے تسلی دینے کے لئے اس نے اپنا ہاتھ میرے دل پر رکھ دیا۔ میں چاہتا تھا کہ جو بھی ہونا ہے فوراً ہوجائے ، جو بلا اور مصیبت آنی ہے یکایک آجائے تاکہ اس پریشانی اور گھبراہٹ سے کسی طرح چھٹکارا تو ملے !


ہم سب سہمے ہوئے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ گھسٹنے کی آواز ابھی تک آرہی تھی اور اب صرف یہی آواز تھی جو ہمیں سنائی دے رہی تھی۔ لیکن پھر اچانک دوسری چٹان سے ہمیں ایک بھیانک چیخ سنائی دی۔ یہ دل کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے والی ایک آواز تھی ، کوئی بری طرح چلا رہا تھا۔ اس کی چیخنے کی آوازوں کے ساتھ ہی لگاتار فائروں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ یہ فائر یقینا جیکسن نے کسی نامعلوم چیز کو دیکھ کر کئے تھے۔


آوازیں بڑھتی ہی گئیں۔۔ دردناک چیخیں۔!۔۔ ایسا لگتا تھا کہ کوئی درندہ بیک وقت چار پانچ انسانوں کو پھاڑ کھانے کے لئے جدو جہد کررہا ہو۔ خطرے کی پروا کئے بغیر میں نے نیچے کودنے کی کوشش کی تو زرینہ نے مجھے دبوچ لیا اور ساتھ ہی جان نے مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا:
" کیا کرتے ہو بے وقوف۔۔۔ کیا تمہیں اپنی جان پیاری نہیں ہے؟"
"مگر۔۔۔ مگر وہ لوگ نہ جانے کس مصیبت میں گرفتار ہو گئے ہیں!" میں اس چٹان کی طرف اشارہ کیا۔
"ٹارچ کی روشنی اس طرف ڈالو!"


میں نے جان کا کہنا مان کر چٹان کی طرف روشنی ڈالی۔ قیدی مجھے بے بسی سے چلاتے ہوئے نظر آئے۔ مگر ایسی کوئی چیز دکھائی نہیں دی جس سے وہ سب اچانک خوفزدہ ہوگئے تھے۔ ہم نے محسوس کیا کہ سانپ کی پھنکار جیسی آواز آہستہ آہستہ دور ہوتی جارہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کوئی بھیانک وجود زمین پر گھسٹ رہا تھا۔ روشنی میں ہم نے اس چیز کو دیکھنے کی بہتیری کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے ہمیں کچ بھی نظر نہ آیا۔ ہاں البتہ اژدہے کی پھنکار کے ساتھ ہی چند انسانی چیخیں اس مقام سے بتدریج دور ہوتی جا رہی تھیں۔


تمام رات ہم سہمے ہوئے اسی جگہ بیٹھے رہے اور پھر صبح ہوتے ہی تیزی سے دوڑتے ہوئے برابر والی چٹان کے پاس پہنچے۔ سوامی اور جیک کو ہم نے اختر، نجمہ اور زرینہ کی حفاظت کے لئے وہیں چھوڑ دیا تھا۔ دن کی روشنی میں اب ہم نے دیکھا کہ قیدی تعداد میں کل پانچ رہ گئے ہیں ، بقیہ پانچ کہاں گئے ، یہ تو جیکسن سے دریافت کرنے پر ہی معلوم ہوسکتا تھا اور پھر جیکسن نے ہمیں ڈرتے ڈرتے بتایا۔


"میں کہہ نہیں سکتا کہ وہ کیا چیز تھی۔ بس یوں سمجھئے کہ ایک دھواں سا تھا۔"
"دھواں۔۔۔۔۔؟"والٹر نے تعجب کے ساتھ کہا۔
"جی ہاں۔۔۔وہ ایک عجیب سا بدبودار دھواں تھا جو اچانک ہم سب پر چھا گیا اور پھر پانچ آدمیوں کو اٹھا کر لے گیا۔
"دھواں اٹھا کر لے گیا؟"جان نے بے اعتباری کے لہجے میں کہا۔
"آپ یقین کریں یا نہ کریں مگر حقیقت یہی ہے۔" جیکسن نے مری ہوئی آواز میں جواب دیا۔
" اور وہ پھنکار یا پھر کسی چیزکے گھسٹنے کی آوازیں۔۔۔ وہ سب کیا ہے؟" میں نے دریافت کیا۔
"مسٹر فیروز کیا بتاؤں۔۔۔ اندھیرا اتنا تھا کہ کسی چیز کو دیکھنے کا ہوش ہی نہ رہا۔"جیکسن نے لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے کہنا شروع کیا۔"میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ اس دھوئیں میں سے ہی وہ پھنکار نکلتی ہے۔ وہ دھواں ہی زمین پر چلتے وقت گھسٹنے کی آواز پیدا کرتا ہے اور اس دھوئیں کے اندر ہی سے میرے ساتھیوں کی چیخیں بعد میں بلند ہوتی رہیں۔"
"عجیب بات ہے۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔" جان نے سوچتے ہوئے کہا۔
" مگر سنو مسٹر جیکسن۔۔"میں نے جلدی سے اسے مخاطب کیا۔ اس دھوئیں کا نام ہی تو شیفا نہیں ہے؟"
"یہ میں کس طرح کہہ سکتا ہوں۔ ہاں ویسے مجھے یقین یہی ہے۔"


اتنی گفتگو کے بعد ہم لوگ اس چٹان کے آس پاس گھومنے لگے ، ہمیں یہ امید تھی کہ شاید شیفا کے بارے میں کچھ اور سراغ لگ جائے گا ہوا بھی ایسا ہی۔۔۔ چٹان کی پشت پر ہمیں وہی گول گول گڑھے نظر آئے ، یعنی وہی نشان جو ہم ایک دن پہلے میدان میں دیکھ چکے تھے۔ یہ گول نشان میدان کے نظر نہ آنے والے سریے پر جاکر غائب ہوگئے تھے۔ لہذا یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ وہ نشان شیفا کے ہی پیدا کئے ہوئے ہیں۔ مگر شیفا خود کیا ہے افسوس یہ ہم اس وقت تک بھی نہیں سمجھ پائے تھے!


بیان کرنے کو تو میں اپنی یہ کہانی بڑی آسانی کے ساتھ بیان کررہا ہوں لیکن اس کہانی کا جیتا جاگتا کردار بنتے وقت جتنی، الجھن ، جتنی پریشانی اور جس قدر ہیبت مجھ پر طاری تھی۔ اس کا اندازہ آپ لوگ یعنی اس داستان کے پڑھنے والے ہرگز نہیں لگا سلتے۔ میں اب اچھا خاصا صحت مند انسان ہوں مگر تب سوکھ کر بالکل مریل سا کھپچی جیسا انسان بن گیا تھا۔ لہذا اپنی اس وقت کی صحت کے لحاظ سیے وہ نشانات دیکھ کر سچ مانئے کہ مجھ پر رعشہ طاری ہوگیا تھا، میں اپنی بے بسی اور ناامیدی کو سوچ سوچ کر پاگل ہوا جارہا تھا۔ اگر ایسے وقت جان وہاں موجود نہ ہوتا تو سچ مانئے میں ضرور پاگل ہوجاتا۔ اس باہمت انسان نے ایسے آڑے وقت میں میری ڈھارس بندھائی اور مجھ سے کہا۔
"فیروز!۔۔ ہم جس مصیبت میں گرفتار ہیں، اس سے بچ نکلنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم خدا کی مدد سے کبھی اور کسی حالت میں بھی نا امید نہ ہوں۔ اس نے ابھی تک ہمیں زندہ رکھا ہے۔ اور یقینا آئندہ بھی رکھے گا۔ اگر ہماری قسمت میں یہی شیفاؤں کی تکلیف دہ موت لکھی ہے تو پھر کچھ بھی نہیں کہاجاسکتا۔"


بہت دیر کے سوچ بار کے بعد یہ طے پایا کہ ہم خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اس کے ساتھ ہی شیفاؤں سے بچنے کا کوئی طریقہ بھی سوچیں۔ مگر طریقہ تو اس وقت سوچا جاتا جب کہ ہمیں شیفاؤں کے بارے میں پوری واقفیت ہوتی۔۔۔! بہر حال ہم نے یہ تہیہ کرلیا کہ اس آفت سے کسی نہ کسی طرح نپٹیں گے ضرور۔ ہمیں اس آفت کے بارے میں شاید کبھی معلوم نہ ہوتا اگر ایک حیرت انگیز واقعہ پیش نہ آتا اور وہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ والٹر نے اچانک ہی یہ پکا ارادہ کرلیا کہ وہ ان گول نشانوں کا تعاقب کرتا ہوا اس مقام تک ضرور جائے گا جہاں تک یہ گڑھے نظر آرہے ہیں۔ ہم نے اس بہت منع کیا مگر وہ دھن کا پکا انسان اپنی ہٹ سے باز نہیں آیا۔ ہمارے بہت منع کرنے کے بعد بھی اس نے یہی جواب دیا۔
"میری ایک زندگی آپ جیسے اتنے لوگوں کے مقابلے میں قیمتی نہیں ہے ، مجھے جانے دیجئے ، خدا نے چاہا تو میرا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔"


ہم بڑے شش و پنچ میں تھے ، آخر ہمیں اس کی ضد کے آگیے جھکنا ہی پڑا۔ایک پستول ، گولیاں، ماچس اور ٹارچ اپنے ساتھ لئے وہ خدا کانام لے کر میدان میں اترا اور ان گول نشانوں کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ہم یہ جانتے تھے کہ وہ جان بوجھ کر موت کے مونہہ میں جارہا ہے ، مگر بالکل بے بس تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ نہیں جاتا تو پھر ہم میں سے کوئی دوسرااس کی جگہ جاتا ، آہستہ آہستہ وہ دور ہوتاجارہا تھا۔ ہمیں اب یہ پکا یقین ہوگیا تھا کہ وہ گول گول گڑھے دراصل اس نامعلوم شیفا کے قدموں کے نشان ہیںجو رات کے اندھیرے میں ہمارے قیدیوں کے ساتھیوں پر حملہ آور ہوا تھا۔ والٹر کو جاتے دیکھ کر جان کا دل اس قدر پسیجا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگا:
"نہیں۔۔ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہے۔"


والٹر جلد ہی ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور ہم سوچنے لگے کہ دیکھئے پردۂ غیب سے اب کیا ظہور میں آتا ہے۔ اسے ہمارے پاس سے گئے ہوئے چند ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ ہمیں بائیں جانب سے وہی اژدہے کی پھ نکار سنائی دینے لگی۔ والٹر حالانکہ کہ شمال کی سمت گیا تھا مگر یہ آواز ا ب مغرت کی سمت سے آرہی تھی۔ ہمیں تو یہ توقع تھی کہ شاید شیفا رات میں ہی حملہ کریں گے۔ مگر اب دن میں ان کی پھنکاریں سنائی دینے کا یہی مقصد تھا کہ ان کے حملے کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔


جیکسن تو اسی چٹان پر موجود رہا مگر ہم لوگ بھاگتے ہوئے اپنے علاقے کی طرف آ گئے۔ زرینہ اور نجمہ بری طرح ڈری ہوئی تھیں۔ ہاں البتہ اختر اسی انداز میں بیٹھا ہوا تھا جیسے کہ اسے ان تمام باتوں سے کوئی سروکار ہی نہ ہو ! جیک اور سوامی بے تابی کے ساتھ اس طرح دیکھ رہے تھے جہاں سے اب ایک غبار سا اٹھا ہوا دکھائی دے رہاتھا اور ساتھ ہی زمین بھی لرزتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ میں نے مختصر لفظوں میں سوامی اور جیک کو وہ باتیں بتائیں جو کچھ ہی دیر پہلے ہوچکی تھیں۔ میں نے ان دونوں کی آنکھوں میں مایوسی صاف طور سے دیکھ لی تھی اور اب اپنے وفاداروں کو ناامید دیکھ کر میرا دل بھی آپ ہی آپ بیٹھنے لگا تھا۔


کچھ ہی دیر بعد آخر کار وہ خطرہ سامنے آہی گیا جس کے لئے ہم پریشان تھے اور کم از کم میں چاہتا تھا کہ وہ فوراً پیش آجائے تاکہ جو کچھ بھی ہونا ہے فوراً ہو اور ہمیں یوں گھل گھل کر مرنے سے نجا ت ملے۔ ہم نے دیکھا کہ مغرب کی سمت سے دس ویسے ہی دھوئیں دار غبارے زمین پر گھسٹتے ہوئے ہماری طرف آرہے ہیں ، یہ غبارے ایک بار زمین سے چھوتے تھے اور شاید ان کے چھونے سے ہی وہ گڑھے پیدا ہوتے تھے۔ اس کے بعد وہ پھدک کر آگے بڑ ھ آتے تھے۔ یہ غبارے ایسے تھے جیسے کہ بچے پانی کے بلبلے بناکر ہوا میں چھوڑتے ہیں۔ فرق یہ تھا کہ یہ بلبلے بہت بڑے تھے۔ اتنے بڑے کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے اور ان بلبلوں کے اندر ہمیں کچھ انسانی جسم نظر آرہے تھے۔ جوں جوں وہ دھوئیں والے بلبلے قریب آتے جارہے تھے ، اژدہے جیسی پھنکاریں بڑھتی ہی جارہی تھیں۔ اب یہ بلبلے اتنے قریب آچکے تھے کہ میں انہیں صاف صاف دیکھ سکتا تھا اور پھر جو کچھ بھی میں نے دیکھا، وہ میرے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی تھا!


میں نے دیکھا کہ واقعی وہ صاف شفاف غبارے جیسی کوئی چیز ہے۔ اتنی صاف شفاف کہ اس کے آر پار ہر چیز نظر آرہی تھی۔ اس غبارے کے اوپر ایک بڑی بھیانک آنکھ تھی۔ جب وہ چیز زمین پر گھسٹتی تھی تو غبارے کے نچلے حصے میں لچک پیدا ہوتی تھی اور دوگول پیر نظر آتے تھے ، یہی وہ دو پیر تھے جو زمین پر گڑھے پیدا کرتے تھے۔ زمین میں اپنے پیر گڑونے کے بعد وہ بے ہیبت چیز اچانک اچھل کر آگے بڑھ آتی تھی اور یوں وہ پھنکار پیدا ہوتی تھی اور تب ہی گھسٹنے کی آواز پیدا ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ جس بات نے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ کیا وہ دراصل قیدی تھے وہ غبارے کے اندر اس طرح ہاتھ لگائے کھڑے تھے جس طرح کچھ لوگ شیشے کے پیچھے کھڑے ہوکر اس کی سطح کو دونوں ہاتھوں سے دبالیں۔ قیدیوں کا جسم پیلا پڑا ہوا تھا اور مجھے یوں محسوس ہوا گویا ان کا گوشت بھی گل سڑ کر نیچے لٹکنے لگا ہے۔


"فیروز۔۔۔ کیا یہی وہ شیفا ہیں؟" جان نے بے جان آواز میں اچانک مجھ سے پوچھا۔
"ہاں۔۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔"
"تم ان قیدیوں کو دیکھ رہے ہو جو ان کے اندر مجھے صاف نظر آرہے ہیں۔"
"ہاں دیکھ رہا ہوں۔"
"ان کے رنگ چھپکلی کے پیٹ جیسے ہوگئے ہیں اور ان کا گوشت بھی شاید گل رہا ہے !"
"ہاں۔۔ میں نے جواب دیا۔"مگر اب یہ بتائیے کہ ان بلاؤں سے نمٹنے کا کیا طریقہ ہو؟"
"کوئی طریقہ نہیں۔۔۔بس اب یہ دیکھو کہ یہ بلائیں کیا کرتی ہیں۔"


جان اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا اور جیک سوامی سے کچھ باتیں کرنے لگا میں سمجھ گیاکہ شاید وہ دونوں بھی والٹر کی طرح ان بلاؤں سے ٹکر لینے کے لئے چٹان سے نیچے کودنا چاہتے ہیں۔ میں نے فوراً سوامی کو تنبیہہ کی کہ خبردار ایسا ہرگز نہ کرنا ، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے سوامی اور جیک میرے جاں نثاروں میں سے تھے اور وہ ہر خطرے کے موقع پر ہمیشہ میرے آگے آجاتے تھے۔ لہٰذا اس وقت بھی انہوں نے میری اجازت کے بغیر ایسا کرنا چاہا تھا۔ مگر پھر میرے منع کرنے پر رک گئے۔


بھیانک شیفا اسی انداز میں گھسٹے ہوئے اس چٹان کے قریب آنے لگے جہاں جیکسن اپنے بچے کھچے ساتھیوں کے ساتھ موجود تھا ، چونکہ شیفا تعداد میں کل دس تھے اس لئے جیکسن گھبرا گیا اور ہماری طرف امداد طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔
"اپنے ساتھیوں کو لے کر یہیں آ جاؤ۔۔ جلدی کرو۔۔"جان نے چلا کر کہا۔


اور شاید جیکسن اسی بات کا منتظر تھا وہ اپنے چاروں ساتھیوں کو لے کر جلدی جلدی چٹان سے نیچے اترنے لگا۔ شیفا دیکھنے میں تو جان دار نظر نہیں آتے تھے۔ بس وہ اندر سے خول جیسے تھے اور اس وقت ہر خول میں ایک قیدی موجود تھا۔ اگر آپ خول کو شیفاؤں کا جسم یا معدہ کچھ بھی سمجھ لیں تو بہتر ہے۔ میں کچھ بتانے سے اس لئے مجبور ہوں کہ میں خود بھی آج تک نہیں سمجھ سکا کہ ان کا جسمانی نظام کس طرح کام کرتا تھا۔ ان کا معدہ کہاں تھا اور مونہہ کس طرف تھا۔۔؟ میں جیسا کہ پہلے بتا آیا ہوں بس وہ صرف بلبلے جیسے تھے اور آپ جانتے ہی ہیں کہ بلبلا اندر سے کھوکھلا ہوا کرتا ہے۔ لیکن اندر سے کھوکھلا جسم رکھنے والے یہ شیفا شاید سونگھنے سمجھنے اور دیکھنے کی قوت ضرور رکھتے تھے۔ لہٰذا جیسے ہی جیکسن کود کر ہماری طرف آنے لگا، شیفاؤں کا وہ رخ ہماری طرف ہوگیا جس میں بھیانک اور سرخ سی ایک آنکھ پیوست تھی۔


وہ قیدیوں کو ہماری چٹان پر چڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، اور ان کے جسموں کے اندر کھڑے ہوئے قیدی ہمارے انجام سے بے خبر کسی خوفناک اذیت میں مبتلا ، بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح وہ اس خول سے باہر آجائیں مگر انہیں یہ ناممکن ہی نظر آتا تھا۔ ان کے کھال لٹک کر پھٹ چکی تھی اور جسم لہولہان ہوگئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے اندر سے وہ بے جان ہوگئے ہوں۔ میرے دیکھتے دیکھتے ان میں سے ایک خول کے پیندے میں گر پڑا اور پھر یہ دیکھ کر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ وہ قیدی اب پگھل رہا تھا۔ جیسے کہ وہ موم کا بنا ہوا ہو۔ وہ اتنی تیزی سے پگھلا کہ جلد ہی خول کے پیندے میں تھوڑا سا گاڑھا گاڑھا پانی جمع ہوگیا۔
اف میرے خدا۔۔۔۔ یہ انجام تھا ایک انسان کا!


میری روح تک لرز گئی اور میں حسرت بھری نظروں سے زرینہ اختر اور نجمہ کو دیکھنے گا۔ کون جانے کہ ان کا بھی یہی حشر ہونے والا ہو !جان کے کہنے پر ہم سب نے اپنے اپنے پستولوں کو کام میں لاتے ہوئے شیفاؤں پر فائر کرنے شروع کردئے، مگر یہ گولیاں ان کے غبارے جیسے جسم سے آر پار گزر جاتی تھیں اور ان کا ذرا بھی بال بیکا نہ ہوتا تھا۔ ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا کہ گولیوں سے ان کی پیش قدمی کچھ دیر کے لئے ضرور رک گئی۔ جان کے حکم پر ہم گولیوں کی دوسری باڑھ چلانے ہی والے تھے کہ اچانک نجمہ نے ایک بھیانک چیخ ماری اور اس طرف اشارہ کیا جدھر سے ہم لوگ چند دن پہلے ان چٹانوں تک آئے تھے۔


کیا کہوں میں نے کیا دیکھا۔۔ میں نے دیکھا کہ مکڑ آدمیوں کی پوری فوج کراما سمیت آہستہ آہستہ ہماری طرف آرہی تھی۔ حالانکہ وہ ہم سے ابھی بہت دور تھے مگر میں انہیں صاف صاف دیکھ سکتا تھا۔ کراما دو مکڑ آدمیوں کی کمر پر سوار تھا ، اور جہاں تک میں اس وقت سمجھ پایا تھا وہ ہماری بے بسی کا تماشا دیکھنے آیا تھا۔ اس کے خیال میں شیفا ہمیں کچھ لمحوں کے اندر نگلنے ہی والے تھے ، اور کراما اپنی حکم عدولی کرنے والوں کے اس عبرتناک اور بھیانک انجام پر مسرت کا اظہار کرنے کے لئے خود وہاں آ رہا تھا۔


اچانک پھر میں نے دیکھا کہ کراما اور اس کی فوج کی پیش قدمی فوراً رک گئی اور وہ گھبرا کر مشرق کی طرف گردن گھماکر دیکھنے لگا۔ اس کی فوج میں افراتفری مچنے لگی اور مکڑ آدمی اس طرح سکڑنے لگے جیسے کسی سے بچنے کے لئے کوئی دبکنے کی کوشش کرتا ہے۔ مکڑ آدمیوں کے ساتھ ہی میں نے شیفا ؤں میں بھی ایک ہل چل محسوس کی۔ ان کی ایک ایک آنکھ بھی مشرق کی طرف سے کسی آنے والی بلا کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے بھی گردن گھماکر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر جیسے میرا دم ہی نکل گیا۔۔ ہاتھ پیر اچانک ٹھنڈے پڑ گئے اور دل نے مجھ سے یہی کہا کہ بس اب اللہ ہی حافظ ہے ! ہم لوگ تین طرف سے گھر چکے تھے۔۔ بائیں طرف شیفا تھے، پشت کی سمت مکڑ آدمی اور ردائیں طرف سے کاگی کی زندہ مگر آتشیں چٹانیں آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی بالکل صاف نظر آ رہی تھی!


سمجھ میں نہیں آتا کہ کن الفاظ میں اپنی اس قوت کی حالت بیان کروں! میں نے بڑے برے خطروں سے ٹکر لی ہے، بڑی بڑی آفتوں سے دوچار ہوا ہوں ، مگر اس وقت کی مصیبت کچھ ایسی ہی تھی کہ میں ناامیدی کے باعث اپنا سر پکڑ کر دھب سے چٹان پر بیٹھ گیا۔ جان کے بھی چھکے چھوٹ گئے تھے۔ وہ بھی شش و پنج کی حالت میں چٹان کا سہارا لئے کھڑا رہا اور کاگی کی زندہ چٹانوں کو آہستہ آہستہ بڑھتے ہوئے دیکھتا رہا۔ زندہ آتشیں چٹانیں لپٹیں اڑاتی ہوئیں ہماری طر ف آ رہی تھیں۔
اور کراما یقینا ان چٹانوں کو اس طرف آتے دیکھ کر ہی چونکا تھا جیسا کہ میں آپ کو پہلے بتا چکا ہوں ، جیکسن ہی نے مجھے بتایا تھا کہ کاگی کی زندہ چٹانوں کے لئے مکڑ آدمیوں میں ایک مقناطیسی کشش ہے۔ مگر اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ جیسے ہی چٹانیں مکڑ آدمیوں کے قریب پہنچیں گی، وہ اپنی چونچ سے بدبودار لعاب ان پر پھینکیں گے اور چٹانیں پگھلنی شرو ع ہوجائیں گی۔ لیکن اگر اتفاق سے کوئی چٹان کسی مکڑ آدمی کے بہت زیادہ قریب پہنچ گئی تو پھر وہ دونوں فنا ہوجائیں گے۔


جیکسن کے کہے ہوئے یہ الفاظ سوامی نے بھی سنے تھے اور سوامی پھر اس آڑے وقت میں اچانک ہمارے کام آیا، کیوں کہ اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی اسے روک سکتا، اس نے ایک جست لگائی اور چٹان سے نیچے کود گیا۔ ساتھ ہی وہ تیزی سے دوڑتا ہوا زندہ چٹانوں کی طرف جانے لگا۔ سچ مانئے ، خوف کے مارے ہماری چیخیں نکل گئیں، کیوں کہ سوامی کی جان ہمارے لئے بے حد قیمتی تھی، والٹر اسمتھ کو ہم اس کے جنون کی وجہ سے کھو چکے تھے اور اب سوامی محبت اور وفاداری کے جذبے سے سرشار ہوکر ہم سب پر نثار ہونے کے لئے بڑی بے خوفی سے موت کے مونہہ میں کود پڑا تھا۔


شیفاؤں کے غبارے جیسے جسم ہل رہے تھے۔ یوں لگتا تھا گویا کاگی کی زندہ چٹانوں کو قریب آتے دیکھ کر ان پر لرزہ طاری ہوگیا ہے۔ ان کے خول نما جسم بار بار پھول اور لچک رہے تھے ، اب وہ ہماری طرف نہیں بڑھ رہے تھے ، بلکہ ایک ہی جگہ رکے ہوئے اپنی بھیانک آنکھ سے چٹانوں کو دیکھ رہے تھے۔ رہے مکڑ آدمی تو وہ برابر سہمتے اور سکڑتے رہے۔ وہ سب کے سب ایک جگہ جمع ہوگئے تھے۔ البتہ ان کے بھیانک چہروں پر اتنا زبردست خوف دکھائی دے رہا تھا جو میں نے اب تک نہیں دیکھا تھا۔سوامی کو چٹانوں کی طرف بڑھتے دیکھ کر ان کا یہ خوف اور بڑھ گیا۔ کیوں کہ چٹانوں کا رخ پہلے ہماری طرف تھا۔ یعنی جس چٹان پر ہم لوگ چھپے ہوئے تھے ، پہلے وہ اسی طرف آرہی تھیں، لیکن اب سوامی کو مکڑ آدمیوں کی طرف کھڑے دیکھ کر وہ اپنی ہیبت ناک رفتار سے اسی سمت بڑھنے لگیں۔


سوامی ان سے صرف پندرہ بیس میٹر دور کھڑا ہوا تھا۔ چٹانوں کے لئے مکڑ آدمیوں میں تو کشش تھی ہی، لیکن سوامی کی موجودگی سے یہ کشش اور بڑھ گئی اور وہ تیزی سے سوامی کی جانب بڑھنے لگیں۔ سوامی نے تب ایک عجیب حرکت کی ، وہ مکڑ آدمیوں کی سمت الٹے قدم چلنے لگا۔۔۔ سوامی کا ارادہ اب ہم سب کو معلوم ہوا ، دراصل وہ چاہتا تھا کہ کاگی کی آتشیں چٹانیں مکڑ آدمیوں کی طر ف متوجہ ہو جائیں۔۔ ایسا بھی ہوگیا ، مگر سوامی شاید یہ بھول گیا تھا کہ جب چٹانیں اور مکڑ آدمی آپس میں ٹکرائیں گے تو وہ دونوں بھسم ہوجائیں گے اور تب بے چارے سوامی کا جو حشر ہوگا وہ سب ہم اچھی طرح جانتے تھے!


چٹانیں اب مکڑ آدمیوں سے صرف تیس میٹر دور تھیں اور سوامی ان دونوں کے درمیانی فاصلے پر کھڑا تھا، اچانک میں نے ایک عجیب بات دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ سوامی نے ایک پھر الٹے قدموں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر اس بار وہ کامیاب نہ ہوسکا یوں لگتا تھا گویا زمین نے اس کے پیڑ پکڑ لئے ہوں ، اس نے ہاتھ ہلانے کی بھی کوشش کی مگر سب بے کار! میں بہت غور سے سوامی کو دیکھ رہا تھا اور پھر یہ دیکھ کر تو میری روح لرز گئی کہ سوامی گوشت پوست کے انسان سے آہستہ آہستہ پتھر کے بت میں تبدیل ہوتا جارہا تھا۔۔۔ ویسے ہی رنگ کے پتھر میں جس رنگ کی چٹانیں تھیں۔۔ اور پھر چند لمحوں کے اندر اندر سوامی وہی پتھر کا بت بن کر کھڑا رہ گیا۔


خوف اور دہشت کی وجہ سے زرینہ اچانک بیٹھ گئی اور نجمہ اس کی ڈھارس بندھانے لگی۔ میں ڈبڈبائی ہوئی نظروں سے سوامی کا حشر دیکھ رہا تھا۔ میں کیا ہم سب ہی دیکھ رہے تھے۔ سوامی اب بالکل بے حس و حرکت اس مقام پر کھڑا رہ گیا تھا اور زندہ چٹانین آہستہ آہستہ چلتی ہوئی مکڑ آدمیوں کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ امجد اور جیک شاید ابھی تک اسی کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کسی چٹان سے نیچے کود جائیں اور سوامی کی مدد کو پہنچیں مگر اس کی مد دکرنا اب بے کار ہی تھا۔ مجھے یقین تھا کہ سوامی اب کسی بھی طرح اپنی اصلی حالت میں نہیں آسکتا۔ جیکسن نے بالکل ٹھیک کہا تھا ، بد قسمتی سے اسے یہ معلوم ہی نہ ہوسکا تھا کہ چٹانوں کو چھونے سے انسان کا کیا حشر ہوتا ہے ؟ مگر کاش اسے معلوم ہوتا! اگر اسے معلوم ہوتا تو میں اپنے ایک بہترین جاں نثار سے اس طرح ہاتھ نہیں دھو سکتا تھا!!


جان شیفاؤں کو غور سے دیکھ جارہا تھا، میں نے اسے اس سمت دیکھتے پاکر خود بھی شیفاؤں کو دیکھا۔ بڑے تعجب کی بات تھی کہ شیفا پسپا ہورہے تھے ، ان کے غبارے جیسے جسم لرز اور سکڑ رہے تھے ، ان کی ایک بھیانک آنکھ بار بار زندہ چٹانوں کو دیکھ رہی تھیں، میں نے اندازہ لگایا کہ شیفا کسی نہ کسی طرح اس جگہ سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ مگر میں دل سے چاہتا تھا کہ وہ وہیں موجود رہیں تاکہ میں ان کا انجام دیکھ سکوں! اور پھر والٹر اسمتھ کی تلاش میں جاسکوں۔ یہ حقیقت تھی کہ اس مصیبت کے وقت بھی مجھے والٹر کاخیال ضرو ر تھا۔ حالانکہ میں یہ سمجھ چکا تھا کہ والٹر یقینا اب تک گاڑھے گاڑھے پانی میں تبدیل ہوچکا ہوگا۔ مگر نہ جانے مجھے کیوں یہ امید تھی کہ والٹر ضرور واپس آئے گا۔خواہ ہمارا انجام کچھ ہی کیوں نہ ہو!


میں والٹر کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ جیک نے مجھے ٹہوکا دیا اور ساتھ ہی مجھ سے کہا کہ میں مکڑ آدمیوں کی طرف دیکھوں، میں نے ادھر گردن موڑی ہی تھی کہ دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ دھماکے دراصل زندہ چٹانوں کے مکڑ آدمیوں کے قریب پہنچنے سے پیدا ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جب ایک چٹان مکڑ آدمیوں کی ایک ٹولی کے قریب پہنچی تو وہ بری طرح کپکپانے لگے۔ ان میں سے یکایک دھواں پیدا ہوا،چٹانوں کی آتشیں لہریں بڑھ گئیں اور پھر ایک زبردست دھماکہ پیدا ہوا۔۔۔ مکڑ آدمیوں کی ایک ٹولی میں کل دس مکڑ آدمی تھے اور چٹان محض ایک۔۔ مگر اب نہ وہ چٹان موجود تھی اور نہ وہ ٹولی۔ دونوں جگہوں سے دھواں اٹھ رہا تھا ، جیکسن کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی تھی کہ جب بھی کوئی زندہ چٹان مکڑ آدمی کے قریب آئے گی تو چونکہ دونوں میں کاگی کی مقدار کافی ہے لہذا وہ دونوں بھڑک اٹھیں گے اور اس طرح ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔
البتہ ایک بات میں نے اس وقت کہی تھی کہ میں کوشش کروں کہ مکڑ آدمیوں کی چونک سے لعاب نہ نکلے (کیوں کہ چٹانیں اس لعاب سے ڈرتی تھیں) مگر افسوس ہے مجھے اس کا موقع ہی نہ مل سکا ، میں نے سوچا یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح مکڑ آدمیوں کی چونچیں کسی مضبوط رسی یا تار کی مدد سے جکڑ دوں گا۔۔۔ کیسے جکڑ دوں گا؟ یہ تو وقت ہی بتاتا۔ مگر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ مجھے اس کا موقع ہی نہ مل سکا اور مکڑ آدمی اپنے آپ ہی مرنے لگا۔


کراما بہت زیادہ خوفزدہ دکھائی دے رہا تھا اور اب ان مکڑ آدمیوں کی کمر پر سے اتر آیا تھا جن پر وہ پہلے سوار تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھ میں خون اترا ہوا ہے۔ اس نے اسی آنکھ سے ہم سب کو دیکھا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے ہماری طرف آنے لگا۔ پہلے تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟ مگر اچانک ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے میرے دماغ میں آگیا اور پھر میں نے چلا کر کہا۔ "سب ہوشیار ہو جائیں۔۔ وہ مردود کراما اسی طرف آرہا ہے۔"
"مگر۔۔۔ مگر اس کا ارادہ کیا ہے؟"امجد نے گھبرا کر پوچھا۔


"میں سمجھ چکا ہوں کہ اس کا ارادہ کیا ہے۔"جان نے غصیلے لہجے میں کہا’وہ چاہتا ہے کہ ہمارے قریب رہے تاکہ زندہ چٹانیں اس طرف کا بھی رخ کریں۔ کراما خود تو ختم ہوگا ہی مگر ساتھ ہی ہمیں بھی سوامی کی طرح پتھر کا بنوا دینا چاہتا ہے۔
"لیکن اگر ہم کراما پر اپنے پستولوں کی گولیاں ختم کردیں تب وہ ایسا کس طرح کرسکے گا؟"جیک نے پوچھا۔
"ایسا ہرگز نہ کیجئے گا۔۔۔" جیکسن نے جلدی سے کہا" کراما سب سے زیادہ خطرناک ہے ، میں جانتا ہوں وہ گولیوں سے نہیں مرے گا۔"
"پھر۔۔ پھر کس طرح مرے گا؟" جان نے پوچھا۔
"اس کم بخت نے ایک خاص قسم کی کھال اپنے جسم کے گرد لپیٹ رکھی ہے، آپ گولی چلاکر دیکھ لیجئے وہ اس پر اثر نہیں کرے گی۔ یہ بات اس نے مجھے اس وقت بتائی تھی جب میں پہلی بار اس کے سامنے ایک قیدی کی حیثیت سے پیش ہوا تھا۔
"ارے بھئی ، تو پھر جلدی سے بتاؤ نا یہ کم بخت کس طرح مرے گا؟" جان جھنجھلا گیا۔


اس کے کہنے کے مطابق اس کے سرپر ایک گول لیکن ہلکے سرخ رنگ کا گڑھا ہے ، اگر کسی طرح اس گڑھے میں خنجر بھونک دیاجائے تو کراما مرسکتا ہے۔ "جیکن نے جواب دیا۔
دراصل جیکسن نے بالکل الف لیلہ والی کہانی سنائی تھی۔۔ یعنی بالکل ایسی ہی جیسی شہرزاد بادشاہ کو سناتی ہے کہ اے بادشاہ دیوبولا کہ فلاں پہلاڑ کے فلاں غار میں ایک طوطا ہے اور طوطے کی دم میں میری جان ہے ، کوئی اگر اس کی دم اکھیڑ لے تو میں مر سکتا ہوں۔


میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اگر چہ جان لبوں پر تھی ، مگر جیکسن کی یہ بات سن کر میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا تھا، اس نے شاید یہ بات محسوس کرلی اور بولا: "یقین کیجئے فیروز صاحب! کراما نے خود ہی یہ بات مجھے بتائی تھی اور پھر دھوے کیا تھا کہ اگر مجھ میں یا میرے ساتھیوں میں ہمت ہے تو وہ اسے ختم کرکے دکھائیں۔"


جان نے اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے ہمیں زیادہ باتیں کرنے سے منع کیا اور پھر موقع کی نزاکت کی طرف ہماری توجہ دلائی۔ کراما اب ہماریے قریب آچکا تھا، اس کی سرخ آنکھ میں ہمارے لئے حقارت چھپی ہوئی تھی ، اور غصے کے باعث وہ کپکپا رہا تھا، کیوں کہ یہ تمام آفت دراصل ہماری ہی وجہ سے آئی تھی۔ نہ وہ ہمیں شیفا ؤں کی خوراک بننے کے لئے اس جگہ بھیجتا اور نہ یہ مصیبت اس پر اور اس کے ساتھیوں پر نازل ہوتی۔


ہم جس چٹان پر کھڑے تھے ، کراما اس سے کافی نیچے تھا، اور پھر ہم نے جو سوچا تھا وہی ہوا، کراما کی بو سونگھ کر یا پھر مقناطیسی کشش کی وجہ سے ایک زندہ چٹان ہماری طرف بھی بڑھنے لگی۔ چٹان کو ادھر آتے دیکھ کر شیفا ویسی ہی اژدہے جیسی پھنکار نکالاتے ہوئے اس طرف جانے لگے جہاں ان کے گول پیروں کے نشان ختم ہوتے دکھائی دیتے تھے ، البتہ کراما اسی جگہ پر جمارہا اور زندہ چٹانوں کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا رہا۔


جان کا خیال بالکل درست تھا ، کراما چاہتا تھا کہ چٹانیں اس طرف کا رخ کریں اور ہمیں سوامی کی طرح پتھر کا بنادیں ، میں نے جب یہ بات سب کو بلند آواز میں بتائی تو امجد سے نہ رہا گیا اور اس نے چلا کر کہا۔"نہیں۔۔۔ میں ایسا ہرگز نہ ہونے دوں گا۔ میں اسے ختم کردوں گا۔"


اس سے پہلے کہ ہم میں سے کوئی اسے روکتا، وہ ایک چھلانگ مار کر چٹان سے نیچے کود چکا تھا ، جیسے ہی وہ کودا ایک دل دوز چیخ وہاں گونجی۔ میں نے دوڑ کر نجمہ کو پکڑ لیا، کیوں کہ یہ چیخ اسی کی تھی اور وہ بھی امجد کے پیچھے پیچھے نیچے کودنا چاہتی تھی۔ چٹان کو کراما تک پہنچنے میں ابھی کافی وقت درکا ر تھا اور امجد شاید اسی وقت سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ جیک نے جلدی سے اپنا پستول نکال کر کراما پر گولی چلانا چاہی ، مگر اب امجد کراما کے نزدیک پہنچ چکا تھا ، لہذا گولی چلانے کا وقت نہیں تھا۔ جان نے چلاکر اسے ایسا کرنے سے روکا اور جیک نے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا۔


نجمہ لگاتار چیخ رہی تھی اور میرے ساتھ ہی زرینہ بھی اسے قابو میں کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ میں امجد کی بہادری کا قائل تھا۔ لہذا اسی جگہ کھڑا ہوا یہ دیکھنے لگا کہ امجد کرتا کیا ہے ؟ کراما اسے قریب پاکر ایک لمحہ کے لئے تو بوکھلا گیا ، لیکن پھر اچانک وہ آٹھ ٹانگوں پر سختی سے جم گیا اور ایسا کرنے سے وہ زمین سے کافی اوپر اٹھ گیا۔ امجد دیوانوں کی طرح اس کے چاروں طرف پھرر ہا تھا۔ بالکل یوں لگتا تھا گویا دو پہلوان ایک دوسرے پر وار کرنے سے پہلے پینترے بدل رہے ہوں ، جس طرف امجد پہنچتا کراما بھی فوراً اسی طرف گھوم جاتا ، اس کی چونچ سے گاڑھا گاڑھا لعاب نکل رہا تھا اور چونچ بار بار کھل کر بند ہورہی تھی۔۔
میں بے بسی سے اوپر کھڑا ہوا یہ لڑائی دیکھ رہا تھا اور دل میں یہ تہیہ کئے ہوئے تھا کہ جیسے ہی امجد کو پسپا ہوتے یا خطرے میں گھرے ہوئے دیکھوں گا خود بھی اس کی مدد کے لئے نیچے کود پڑوں گا۔ امجد قد میں کراما سے بہت چھوٹا نظر آرہا تھا۔ کیوں کہ اپنی ٹانگوں پر سختی سے جم جانے کے بعد کراما اور بھی اونچا ہوگیا تھا۔ امجد شاید چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی اس کی کمر پر سوار ہوجائے اور غالباً اس وقت کراما کو ختم کرنا آسان بھی ہوجاتا۔ مگر مشکل یہ تھی کہ امجد کو یہ بالکل معلوم نہ کہ کراما کا کون سا حصہ نازک ہے اور وہ کسی جگہ خنجر مارنے سے ختم ہو سکتا ہے !


امجد جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا، کراما فوراً لپک کر اس کی طرف بڑھتا ، میں جانتا تھا کہ امجد کسی بھی طرح اس کی کمر پر سوار نہیں ہوسکتا۔ اس لئے میں نے چلا کر امجد سے کہا۔"گھبراؤ نہیں، امجد۔۔ زمین پر پڑے ہوئے درخت کی وہ لمبی سی ٹہنی اٹھالو جو تمہارے بائیں طرف پڑی ہے۔۔ پھر دور سے دوڑتے ہوئے آؤ اور بڑی چھلانگ لگانے والے کھلاڑیوں کی طرح اچھل کر اس مردود کی کمر پر سوار ہوجاؤ۔"


خدا کا شکر ہے کہ امجد نے میری بات سن لی اور اس نے وہی کیا جو میں چاہتا تھا جیسے ہی اس نے چار فٹ لمبی ٹہنی اٹھائی کراما نے اپنی چونچ کا لعاب اس کی طرف پھینکا ، یہ لعاب دراصل وہی جالا تھا جو اس سیارے پر آتے ہی مکڑ آدمیوں نے ہمیں گرفتار کرتے وقت ہم پر پھینکا تھا۔ امجد شاید جالے میں پھنس گیا ہوتا، اگر اتفاق سے اس نے کراما کی یہ حرکت دیکھ نہ لی ہوتی۔ کراما نے دو تین بار ایسا ہی کیا۔ مگر امجد ہر بار جھکائی دے کر نکل جانے سے صاف بچ گیا۔ اور پھر اس نے میرے کہنے کے مطابق دور سے بھاگنے کے بعد ایک لمبی چھلانگ لگائی اور فوراً کراما کی کمر پر سوار ہوگیا۔ کراما کی ٹانگیں چونکہ نیچے کی طرف جھکی ہوئی تھیں اس لئے وہ کسی بھی طرح امجد کو نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اس نے بہت ہاتھ پاؤں چلائے مگر امجد کو دبوچنے میں ناکام رہا۔ امجد کو تو صرف موقع کا انتظار تھا اور یہ موقع ملتے ہی اس نے اپنا خنجر کراما کی پیٹھ میں جگہ جگہ اتارنا شروع کردیا ، اتنے حملوں کے باوجود جب کراما ذرا بھی نہ ڈگمگایا تو جیکسن اب خاموش نہ رہ سکا اور اس نے چلا کر امجد کو وہ ہدایت دی جو وہ کچھ دیر پہلے مجھے بتا چکا تھا۔


کراما نے جیکسن کی آواز سن لی اور اب پہلی بار گھبرا کر اس نے خود کو ہلانا جلانا شروع کردیا، وہ بار بار اپنی کمر کو جھٹکے دے رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح امجد نیچے گر پڑے ، مگر امجد نے بڑی مضبوطی سے اس کی کمر کے بال بائیں ہاتھ سے پکڑ رکھے تھے اور دائیں ہاتھ والے خنجر کو اب وہ کراما کے سر کے گول اور ہلکے سرخ رنگ کے گڑھے میں داخل کرنا چاہتا تھا ،بڑے زبردست دھماکے سنائی دے رہے تھے۔ کافی فاصلے پر مکڑ آدمی اور زندہ چٹانیں ایک دوسرے سے مل کر آواز پیدا کررہی تھیں ، میدان تقریباً صاف ہوچکا تھا، صرف کراما باقی رہ گیا تھا اور ایک وہ چٹان جو اب کراما سے تقریباً پندرہ میٹر دور تھی اور کھسکتی ہوئی لگاتار آگے ہی آگے بڑھتی چلی آ رہی تھی۔



Novel "Neeli Dunya" by: Siraj Anwar - episode:10

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں