ناول نیلی دنیا - سراج انور - قسط: 07 - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-09-23

ناول نیلی دنیا - سراج انور - قسط: 07

neeli-dunya-siraj-anwar-07

گذشتہ قسط کا خلاصہ :
راکٹ سفر کے لیے تیار ہو چکا تھا۔ اور جب جان اور فیروز کی ٹیم راکٹ میں بیٹھنے کے لیے لفٹ کی طرف بڑھی تب اچانک ایک دھماکہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے لفٹ کے پرخچے اڑ گئے۔ آگ پھیلتے ہوئے راکٹ تک پہنچنے لگی اور والٹر اسمتھ کو ڈر ہوا کہ کہیں راکٹ خود بخود نہ اڑ جائے۔ پھر جان کی ہدایت پر ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے ساری ٹیم راکٹ کے اندر پہنچ گئی اور راکٹ ایک دھماکے سے فضا میں اڑ گیا۔ اور پھر تاریک خلا میں راکٹ کا سفر شروع ہو گیا۔ کنٹرول روم میں بیٹھا ہوا جان کبھی کبھار بتا دیتا تھا کہ راکٹ کی رفتار کتنی ہے اور وہ لوگ کتنے عرصے کے بعد سیارہ زہرہ تک پہنچیں گے؟۔۔۔۔ اب آپ آگے پڑھیے ۔۔۔

سوامی نے کنکھیوں سے ہر شخص کو باری باری دیکھا اور پھر بولا:
"ایسا ناممکن ہے، وہ ہمارے ساتھ اس راکٹ میں نہیں ہو سکتا۔"
" اور فرض کر لیجئے اگر ہوا بھی تو پھر ہم اس سے مقابلہ کریں گے۔" جیک نے جلدی سے کہا۔
"اسے ختم کرنے کے لئے تو میں ہی کافی ہوں۔" اختر بہت دیر سے خاموش تھا۔ مگر اب اچانک جوشیلے لہجے میں بولنے لگا۔
میں نے محبت بھری نظروں سے اختر کو دیکھا۔ کیوں کہ اس کے اس طرح سینہ تان کر یہ کہنے سے میرا سر فخر سے اونچا ہو گیا۔ اختر شروع ہی سے خطروں کے اندر پلا بڑھا تھا اسی لئے وہ بہت زیادہ بہادر اور نڈر تھا۔ اور یہ اس کی بہادری ہی تھی جو اس نے سب کے سامنے یہ بات کہی تھی۔
میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک کنٹرول روم میں سے والٹر نے مجھے آواز دی۔ اور میں فوراً اس کے پاس پہنچ گیا۔


"زمین کے کنٹرول ٹاور سے پیغام آ گیا ہے۔" والٹر نے کہا۔
"کون سا پیغام۔۔؟" میں نے بے تابی سے پوچھا۔
"وہی لفٹ کے اوپر انگلیوں والا پیغام۔"
"اچھا چھا۔۔۔" میں نے جلدی سے کہا۔ "کس کی انگلیوں کے نشان تھے وہ؟"
"یہ تو نہیں بتایا گیا۔۔۔ البتہ اتنا کہا گیا ہے کہ جس کی انگلیوں کے نشان ہیں، وہ شخص ہماری پارٹی میں شامل ہے۔"


کیبن میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کی نظریں ہماری طرف لگی ہوئی تھیں، والٹر نے جو کچھ کہا تھا وہ سب نے اچھی طرح سن لیا تھا۔ اور یہ بات سنتے ہی کیبن میں ایک بھنبھناہٹ سی گونج اٹھی۔ سب ایک دوسرے کو شک و شبہ کی نظروں سے دیکھنے لگے، ان نظروں میں ہلکا سا خوف چھپا ہوا تھا۔ بالکل ایسا ہی واقعہ میرے دوسرے سفر میں پیش آیا تھا جب کہ میں کالی دنیا میں گیا تھا (ناول کالی دنیا پڑھئے)۔ تب بھی ہم نے ایک دوسرے پر شک کیا تھا۔ ہو بہو ویسی ہی حالت اب تھی۔ سوامی پر چونکہ ہمیں پہلے ہی سے شک تھا۔ اس لئے میرے ساتھ ہی دوسروں کی نظریں بھی اس کے چہرے پر جم گئیں۔ مگر وہ ذرا نہ گھبرایا بلکہ ڈھٹائی سے مسکراتا رہا۔ جیک کو یہ دیکھ کر اچانک تاؤ آ گیا۔ اور وہ اس کی طرف گھونسہ تان کر بڑھا۔ سوامی نے فوراً اپنے دونوں ہاتھ بھی اس طرح آگے کر دئے گویا وہ بھی لڑنے کے لئے تیار ہو۔ اس کے ساتھ ہی وہ بولا۔
"مجھے بدتمیزی پر آمادہ نہ کیجئے جیک صاحب۔ آپ لوگوں کی جو عزت میری نظروں میں قائم ہے اسے برقرار رہنے دیجئے۔"
"میں تمہارا مونہہ توڑ دوں گا۔۔۔ "جیک نے غصے سے ہانپتے ہوئے کہا۔
"ضرور توڑ دیجئے گا۔" سوامی نے اطمینان سے کہا۔
"لیکن مجھے خطاوار ثابت کرنے کے لئے آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے؟"
جیک نے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھ نیچے گرا دئے اور اس کا تنا ہوا جسم اچانک ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے سوچا کہ سوامی سے نرمی سے دریافت کرنا چاہئے کہ آخر اس پر ہم لوگ شبہ کیوں نہ کریں؟ میں نے جب اس سے یہ بات کہی تو وہ حسب عادت مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
"میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مالک کہ انگلیوں کے نشانات کس طرح ملائے جائیں گے؟"


والٹر سب باتیں دیکھ اور سن رہا تھا۔ حالات کو بگڑتے دیکھ کر اچانک اس نے آگے بڑھ کر کہا۔
"دیکھئے مسٹر فیروز آپ کا یہ ملازم ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آپ حضرات کا شبہ اپنی جگہ ٹھیک ہے ، لیکن انگلیوں کے نشانات کو دیکھے بغیر کسی کے خلاف کوئی فیصلہ کر دینا دانش مندی نہیں ہے۔"
"پھر کیا کیا جائے؟"
"ہم سب ایک ہی ناؤ میں سوار ہیں۔ آپ کی پارٹی پرانی ہے اور آپ سب پر اعتبار بھی کرتے ہوں گے۔ صرف میں آپ کی اس پارٹی میں نیا ہوں۔ اصولاً آپ حضرات کو مجھ پر شبہ کرنا چاہئے۔"
"کیا کہہ رہے ہو والٹر!" جان نے چونک کر کہا۔
"درست کہہ رہا ہوں۔۔۔" والٹر نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہنا شروع کیا:
"میں نے اس الجھن کا یہ حل سوچ لیا ہے کہ میں زمین کو فوراً یہ پیغام بھیجتا ہوں کہ وہ لوگ انگلیوں کے نشانات کا ایک فوٹو ٹیلی ویژن کے ذریعے ہمیں بھیج دیں۔ جب نشانات کا فوٹو ہمارے پاس آ جائے گا تو ہم اس راکٹ میں موجود سب ہی لوگوں کی انگلیوں کے نشانات سے ملا کر اسے دیکھیں گے اور اس طرح ہمارا مجرم ہمارے ہاتھ آ جائے گا۔"


"نہیں۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔" سوامی نے چیخ کر کہا۔
"کیوں نہیں ہوسکتا۔۔۔۔"جان نے سوامی کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا: "اگر تم مجرم نہیں ہو تو تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟"
"مگر۔۔۔ مگر۔۔۔ میں ، نہیں بھگوان کے لئے ایسا نہیں کیجئے۔"
سوامی یہ کہتے ہوئے اپنا سر پکڑ کر نیچے بیٹھ گیا۔
"اب تو ایسا ہی ہوگا۔۔۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔" جان نے کہا۔


زرینہ پھٹی پھٹی نظروں سے سب کو باری باری دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سوامی کے لئے ہمدردی کا جذبہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے بر عکس سوامی کے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک گزر گزر جاتا۔ وہ مونہہ ہی مونہہ میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ جان والٹر کو ساتھ لے کر کنٹرول روم میں چلا گیا اور جاتے ہوئے جیک کو ہدایت دے گیا کہ وہ سوامی کا خیال رکھے اور اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دے۔


ابھی چند لمحوں کے بعد فیصلہ ہو جانے والا تھا۔ ہم سب اچھی طرح جان چکے تھے کہ مجرم سوامی کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ وہ چونکہ ثبوت مانگتا تھا اس لئے ثبوت بھی مہیا ہوا جاتا ہے۔ اختر خاموش اور اداس نظروں سے سوامی کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی نظروں میں ملامت تھی۔ گویا وہ کہہ رہا ہو:
"کلو سوامی۔۔ ہمیں تم سے یہ امید نہیں تھی!"
سوامی کو اس انداز سے دیکھنے کے بعد وہ کبھی کبھار ہم سب کو بھی دیکھ لیتا تھا، اس طرح جیسے وہ ہم سے اس کے لئے رحم کی بھیک مانگ رہا ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی یہ حالت دیکھ کر میرا دل کٹ رہا تھا۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ سوامی سے کتنی محبت رکھتا ہے ! مگر اب میں بھی مجبور تھا۔ سوامی نے ایسا بھیانک جرم کیا تھا جس کی سزا اسے ملنی ضروری تھی۔ جان جب تک والٹر کے ساتھ کنٹرول روم میں رہا، میں اتنے عرصے تک ایک بات برابر سوچتا رہا۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر سوامی ہی سچ مچ مجرم ہے تو اس نے لفٹ کے اندر ڈائنامیٹ کیوں رکھا۔ جب کہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ ڈائنا میٹ کے پھٹتے ہی وہ خود بھی موت کے مونہہ میں پہنچ جائے گا؟
بس یہی ایک بات تھی جو سوامی کے حق میں جاتی تھی ورنہ وہ ہماری نظروں میں مشکوک تھا۔


جتنی دیر تک جان کنٹرول میں رہا، ہمارے دل میں دھکڑ پکڑ ہوتی رہی۔ ہم لوگ ایک ایک لمحہ بڑی مشکل سے گزار رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک لمحہ ایک سال سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ آخر خدا خدا کر کے جان اپنے ہاتھ میں ایک فوٹو لئے ہوئے باہر آ گیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں اس معاملے میں بے قصور ہوں ، خواہ مخواہ میرا دل اندر ہی اندر بیٹھتا جا رہا تھا۔ جان نے ایک اچٹتی ہوئی سی نظر سب پر ڈالی اور پھر بولا۔
"آپ حضرات اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔"


اس کے یہ الفاظ بم کی طرح ہم پر گرے۔ ہم گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں انگلیوں کے نشانات سیاہی کے ذریعے صاف کاغذ پر اتارنے پڑے۔ جب یہ نشانات جان کے پاس آگئے تو اس نے انہیں اس فوٹو سے ملانا شروع کیا۔ جو کچھ ہی دیر پہلے بذریعہ ٹیلی ویژن ہمارے راکٹ کے کنٹرول روم میں وصول ہوا تھا۔ جان باری باری نشانات ملاتا جاتا اور پھر بلند آواز سے اس بات کا اعلان کرتا جاتا تھا کہ نشانات فلاں آدمی کی انگلیوں سے نہیں ملتے۔ جس کا نام فہرست سے خارج ہو جاتا وہ اطمینان کا لمبا سا سانس لیتا۔ سب سے پہلے والٹر، پھر جان اور اس کے بعد میں اور زرینہ اس خطرناک الزام سے بری ہوئے۔
اب ہماری نظریں جیک و سوامی اور اختر پر لگی ہوئی تھیں۔ ہم جانتے تھے کہ اب کچھ ہی دیر میں اس کڑوی حقیقت کا انکشاف ہوا ہی چاہتا ہے جسے جاننے کے لئے ہم عرصے سے پریشان تھے۔
جان نے بلند آواز سے سوامی کا نام پکارا اور کہا کہ اب وہ اس کی انگلیوں کے نشانات ملا رہا ہے۔ اتنا سنتے ہی اختر فوراً کھڑا ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی جیک بھی دو قدم آگے بڑھ آیا۔ میں سمجھ چکا تھا کہ جیسے ہی جان سوامی کا نام ظاہر کر کے اسے مجرم قرار دے گا۔ جیک اور اختر بلی کی سی پھرتی سے اسے دبوچ لیں گے تاکہ وہ اور کوئی خطرناک حرکت نہیں کر سکے۔


جان نشان ملا رہا تھا اور سوامی کی حالت ایسی تھی گویا اس کی جان نکلی جا رہی ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اس کا چہرہ زرد تھا اور جسم لرز رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ اس کا نام بطور ایک مجرم کے پکارا جاتا اس نے ایک بھیانک چیخ ماری اور جان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولا۔
"نہیں بھگوان کے لئے نہیں۔۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتا۔ میں مان لیتا ہوں کہ یہ سب کچھ میں نے کیا تھا۔ میں نے ہی شروع سے آپ کی راہ میں کانٹے ہوئے تھے اور میں ہی لفٹ کو ڈائنامیٹ کے ذریعے اڑا دینا چاہتا تھا۔"


سوامی کی زبان سے یہ سنتے ہی جیک نے جلدی سے اسے دبوچ لیا۔ مگر سوامی نے ذرا سا بھی احتجاج نہیں کیا۔ ہم لوگ حیرت اور خوف سے سوامی کو دیکھ رہے تھے اور میرا دل رو رہا تھا۔ سچ مچ رو رہا تھا ، کیونکہ سوامی تو وہ شخص تھا جو میرے پسینے کے ساتھ اپنا خون بہا سکتا تھا۔ جو ہر آڑے وقت میں میرا کام آتا تھا۔ جس نے میرے بچوں کی اتنی خدمت کی تھی کہ شاید ہی کوئی کرتا۔ اور وہی سوامی اس وقت میرے سامنے اقبال جرم کر رہا تھا۔
جان نے حالانکہ ابھی تک سوامی کا نام نہیں پکارا تھا لیکن وہ خود حیرت اور تعجب سے اسے لگاتار تکے جا رہا تھا۔ کافی دیر تک اس طرح دیکھتے رہنے کے بعد جان نے ایک لمبی سی ٹھندی سانس بھری اور پھر جیک کو مخاطب کر کے بولا۔
"سوامی کو چھوڑ دو جیک۔"
"کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔ بھلا ایک خطرناک مجرم کو میں کیسے چھوڑ دوں؟" جیک نے غرا کر کہا۔
"چھوڑ دو سوامی کو۔" جان نے غصیلے لہجے میں کہا: "وہ مجرم نہیں ہے۔"
"کیا۔۔۔۔۔؟" جیک کو جیسے سکتہ ہو گیا۔ اس نے گھبرا کر سوامی کو چھوڑ دیا۔
"وہ مجرم نہیں ہے تو پھر کون ہے؟" میں نے جلدی سے پوچھا۔


"خبردار۔۔ اپنی جگہ سے کوئی ہلنے کی کوشش نہ کرے۔"
یہ آواز کیبن میں گونجی۔ لیکن یقین مانئے مجھے یوں لگا جیسے میرے کان مجھے دھوکا دے رہے ہیں، میری آنکھیں حیرت کے باعث پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میں خوفزدہ نظروں سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو ہاتھ میں ایک عجیب قسم کا ریوالور لئے ہوئے ہمارے سامنے کھڑا تھا اور وہ شخص۔۔۔ ہائے کس طرح بتاؤں کہ وہ شخص میرا چہیتا اور لاڈلا بیٹا اختر تھا!


میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا کہ اس وقت میری اور زرینہ کی کیا حالت ہوئی۔ شرمندگی کے باعث میری آنکھوں میں آ گئے۔ سب کے سب اختر کو اس طرح دیکھ رہے تھے گویا وہ کوئی حیرت انگیز انسان ہو۔ اپنی جگہ سے کسی نے بھی ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ چند انسان پتھر کے بت بن کر رہ گئے ہوں۔ آخر کار جان نے اس خاموشی کو توڑا اور سخت لہجے میں کہا:
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے اختر؟"


"تم سب ایک لائن میں کھڑے ہو جاؤ، ورنہ میں سب کو مفلوج کر دوں گا۔" اختر نے جواب دینے ک بجائے بھیانک آواز میں حکم دیا۔
سوامی کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہی تھی کہ اختر نے للکار کر کہا: "او خبیث بڈھے۔۔۔ اپنی جان کی خیر چاہتا ہیے تو اپنی جگہ کھڑا رہ۔"
"اختر۔۔ بیٹا اختر تمہیں یہ کیا ہو گیا۔۔ ؟"
زرینہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔ مگر اختر نے ایک جھٹکے کے ساتھ اسے اپنے سے علیحدہ کرکے دور پھینک دیا اور پھر فوراً ہی ا پنے حیرت انگیز ریوالور کا رخ زرینہ کی طرف کرکے بٹن دبا دیا۔ ریوالور میں سے سنہری رنگ کی ایک شعاع نکلی اور اس شعاع کی زد میں آتے ہی زرینہ جس طرح اور جس انداز میں گری ہوئی تھی ایسی ہی گری رہ گئی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس شعاع نے زرینہ کو منجمدکر دیا ہو۔ اس کا ہاتھ جہاں رکھا تھا وہیں رکھا رہا اور مونہہ رونے کے انداز میں جس طرح کھلا ہوا تھا ویسا ہی کھلے کا کھلا رہ گیا۔


"کان کھول کر سن لو تم سب"
اختر نے دہاڑتے ہوئے کہا: "میں اس عورت کی طرح تم سب کو ایک ایک کرکے مفلوج کر دوں گا۔ یاد رکھو میں تمہیں اتنی سخت سزا دوں گا کہ تم لوگ ہمیشہ یاد کرو گے، لیکن اگر تم نے میرے کہنے پر عمل کیا تو شاید میں تمہیں معاف کر دوں۔"
جیک حبشی تھا اور بے حد بہادر بھی اس لئے اختر کی ان دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوا اور اس نے اچانک اپنے مقام سیے جست کی تاکہ وہ اختر کو پکڑ سکے۔ مگر اتنے ہی عرصے میں اختر نے جیک کی طرف اپنے پستول کا رخ کر کے اس کا بٹن دبا دیا تھا۔ جیک اس وقت کیبن کی زمین سے کئی فٹ اوپر تھا لیکن سنہری شعاع کی زد میں آتے ہی وہ وہیں درمیان میں معلق رہ گیا۔ اس کیے ہاتھ آگے بڑھے ہوئے تھے اور مونہہ اس طرح کھلا ہوا تھا کہ اس میں سے نوکیلے دانت نظر آ رہے تھے۔۔ اختر نے اسے دیکھ کر ایک قہقہہ لگایا اور پھر ہمیں دیکھ کر بولا۔
"میرے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی یہی سزا ہوتی ہے ، میں کہہ چکا ہوں کہ میں کسی پر بھی ذرا سا رحم نہیں کروں گا۔"


"بابا۔۔ بھگوان کے لئے بابا ایسا مت کہو۔" سوامی نے اس کے آگے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔ "یہ سب تمہارے بزرگ ہیں۔"
"کوئی میرا بزرگ نہیں ہے اور نہ میں ان میں سے کسی کا بیٹا ہوں۔"
اختر نے حقارت سے ہونٹ سکوڑ کر جواب دیا۔
"اب میں ان کا آقا ہوں اور یہ میرے غلام۔ میرا کہا مانیں گے تو زندہ رہیں گے ورنہ کتے کی موت مارے جائیں گے۔"
"میں جانتا تھا کہ تم یہی کہو گے۔"
سوامی نے گردن جھکا کر کہا: "مجھے اسی دن کا ڈر تھا، میں جانتا تھا کہ یہ وقت ضرور آئے گا۔ اسی لئے میں نے تمہیں بچانے کی خاطر سب الزام اپنے سر لیے لیا تھا۔۔۔ مگر بابا ذرا سوچو تو سہی۔۔۔"
"بڈھے۔۔۔" اختر نے گرج کر کہا:
" تو بہت بڑھ بڑھ کر باتیں بنارہا ہے۔۔۔خاموش رہ ورنہ ایسا نہ ہو کہ مجھے تیری زبان کاٹنی پڑ جائے۔"


میں آپ کو اپنی اس وقت کی حالت کیا بتاؤں؟ اگر میں زمین پر ہوتا تو ضرور یہ خواہش کرتا کہ کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ لیکن اس وقت میں خلاء میں تھا لہذا اس قسم کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ میں بالکل خاموش تھا لیکن میری آنکھیں رو رہی تھیں۔ آنسو میرے کپڑوں کو گیلا کر رہے تھے اور غم و غصہ کے باعث میرا رواں رواں لرز رہا تھا۔ جس سوامی کو میں اب تک غدار سمجھتا تھا درحقیقت وہ تو میرا سب سے بڑا وفادار ثابت ہوا۔ میں نے بڑے ضبط کے بعد اپنی زبان کھولی اور اختر کو مخاطب کر کے بولا۔
"خوب صلہ دے رہے ہو میری محبت کا بیٹے۔ شاباش! مجھے تم سے یہی امید تھی۔"


اختر نے جواب کچھ نہیں دیا، بس مجھے گھور کر دیکھتا رہا ، جان اور والٹر اگر چاہتے تو فوراً ہی اپنے پستول نکال کر اختر کو نشانہ بنا سکتے تھے مگر وہ بھی بے بسی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ اختر پر گولی نہیں چلا سکتے۔ اختر مونہہ ہی مونہہ میں کچھ بڑبڑاتا رہا اور پھر اس نے جان کی طرف دیکھ کر کہا،
"تم لوگ فوراً بڑے کیبن میں پہنچ جاؤ۔۔ یہ میرا آخری حکم ہے۔"
"لیکن پھر راکٹ کو کون دیکھے گا۔۔۔؟" والٹر نے گھبرا کر پوچھا۔
"اسے دیکھنے کے لئے میں اکیلا کافی ہوں۔" اختر نے ایک بھیانک تبسم کے ساتھ کہا۔
"تم ایک طرح سے میرے قیدی رہو گے۔ جب تک کہ میں زہرہ نہیں پہنچ جاتا تم اسی کیبن میں قید رہو گے۔۔۔۔ چلو جلدی چلو۔۔ میرے پاس وقت کم ہے۔"


میں جواب میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ سوامی نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا۔ گویا وہ مجھے بتلانا چاہتا تھا کہ میں اختر کی بات مان لوں۔ پھر بھی میں نے مناسب سمجھا کہ اختر سے دریافت کر لیا جائیے کہ قید میں ہمیں کوئی تکلیف تو نہیں ہوگی۔ جب میں نے پوچھا تو اختر نے ہنس کر جواب دیا۔
"تکلیف کیوں ہونے لگی سرکار، آپ کے لئے تو مخمل اور کمخواب کے گدے بچھا دئے گئے ہیں قید خانے میں۔" اس کے بعد ڈانٹ کر بولا۔
"چلو اندر چلو۔۔۔"


مجبوراً ہم سب قید خانے میں آ گئے۔ زرینہ اور جیک کے بارے میں اختر نے بتایا تھا کہ پانچ گھنٹے کے بعد انہیں خود بخود ہوش آ جائے گا اور وہ قید خانے میں پہنچا دئے جائیں گے۔ یہ تو اب ظاہر ہو ہی چکا تھا کہ غدار سوامی نہیں بلکہ اختر تھا۔ لیکن اتنا جاننے کے باوجود کچھ باتیں اور تھیں جنہیں ہم معلوم کرنا چاہتے تھے۔ سوامی سے جب کہا گیا کہ وہ اب تک کے پیش آئے ہوئے واقعات بتائے تو اس نے پہلے تو کچھ پس و پیش کیا لیکن پھر سب کے اصرار پر وہ آمادہ ہو گیا۔ اس نے کیبن کی کھڑکی میں سے جھانک کر اختر کو دیکھا۔ اختر کنٹرول والی سیٹ پر بیٹھا ہوا سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اسے مصروف پاکر سوامی نیے ایک لمبا سا ٹھنڈا سانس بھر کر کہنا شروع کیا:


"سمجھ میں نہیں آتا بات کہاں سے شروع کروں؟ ویسے یہ سب چکر اس وقت شروع ہوتا ہیے جب ہم لوگ بمبئی میں تھے اور زہرہ کے نئے ڈکٹیٹر شاکا نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ وہ بہت جلد ہم سے انتقام لینے والا ہے۔"
"تو کیا یہ شاکا کا انتقام ہی ہے جو اختر اچانک ہمارے خلاف ہو گیا ہے۔" میں نے چونک کر دریافت کیا۔
"ہاں مالک۔۔۔ یہ اسی کا انتقام ہے۔۔" سوامی نے پھر ایک ٹھنڈا سانس بھرا۔
" اس نے جو دھمکی دی تھی وہ پوری ہوئی، وہ چاہتا تھا کہ ہمارے ساتھیوں میں سیے کسی پر اپنا خاص عمل کرکے اسے اپنا تابع بنا لے۔ اس مقصد کے لئے اس نے بابا کو چنا۔"
"تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔" جان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
" اختر ہی دراصل شاکا کے نزدیک پچھلے فساد کی جڑ تھا۔ اسی نے نجمہ کے ساتھ مل کر زہرہ کے پرانے ڈکٹیٹر کا خاتمہ کیا تھا۔"
"درست ہے۔ اسی لئے اختر پر اس نے اپنا حربہ آزمایا۔" والٹر نے ہاں میں ہاں ملائی۔
"مجھے رہ رہ کر زرینہ اور جیک کا خیال آ رہا تھا۔"جان نے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔ " نہ جانے وہ دونوں اپنی عجیب اور حیرت انگیز قید سیے کب رہا ہوں گے؟"
"آپ بے فکر رہئے۔ بابا ان دونوں کو جلد ہی آزاد کر دے گا۔" سوامی نے کہا۔
"مجھے یقین ہے کہ وہ انہیں زیادہ تک مفلوج نہیں رکھے گا۔"
"ہم لوگ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ہیں اور سوامی کی داستان نہیں سن رہے ہیں۔" میں نے سب کو باری باری دیکھتے ہوئے ٹوکا۔
"واقعی یہ غلطی ہو گئی۔"جان نے جلدی سے کہا۔
"ہاں سوامی تم اپنی روداد شروع کرو۔"


سوامی نے چند لمحوں تک خاموش رہ کر اپنے ذہن کو کریدا اور پھر بولا:
"جب دیوزاد چیلوں نے ہم پر حملہ کیا تھا اور بہت بڑے کچھوے بابا کو گھسیٹ کر سمندر میں لے جانے لگے تھے تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ میں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی، اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا، چھلانگ لگانے کے بعد میں ایک مچھلی کے پیٹ میں چلا گیا تھا۔ پہلے تو میں اسے مچھلی ہی سمجھا تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ میں شیشے کے ایک بہت بڑے کیبن میں ہوں۔ آپ کو میں یہ سب کچھ بتا چکا ہوں۔ اب تو یہ سنیے کہ جب دو عجیب و غریب انسان مجھے اور بابا کو اٹھا کر سمندر ی لیباریٹری میں لے گئے تو پھر کیا ہوا؟"
"ہاں، صرف وہی حصہ ہم لوگوں کے لئے کارآمد ہے۔"جان نے کہا۔
"لیباریٹری میں ہم دونوں کو میزوں پر لٹا دیا گیا اور بجلی کے عجیب اور حیرت انگیز آلات سے ہمیں جکڑ دیا گیا۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ وہ لوگ ہم پر کوئی خاص عمل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے سروں پر بجلی کی ٹوپیاں چڑھانے کے بعد ایک آدمی اس مشین کے پاس پہنچا جس میں سے چند تار نکل کر ہماری فولادی ٹوپیوں میں آ رہے تھے ، اس نے جیسے ہی مشین کا بٹن دبایا مجھے یوں لگا جیسے میں ہوا میں اڑ رہا ہوں اور میرے چاروں طرف سبز رنگ کے بادل لہرا رہے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ بابا بے ہوش ہو چکا تھا۔ مگر میں اس وقت تک ہوش میں تھا۔"


"لیکن تم بے ہوش کیوں نہیں ہوئے؟" میں نے پوچھا۔
"بمبئی میں، میں نے جان بوجھ کر آپ کو غلط کہانی سنائی تھی مالک۔" سوامی نے مسکرا کر کہا۔
"مجھے وہ باتیں چھپانی تھیں۔ میں اگر اسی وقت یہ راز ظاہر کر دیتا تو شاید اس وقت ہم سب راکٹ میں نہیں ہوتے ، بلکہ کبھی کے ختم ہو گئے ہوتے!"
"اور وہ راز کیا تھا؟" والٹر نے اشتیاق سے پوچھا۔
"وہ راز یہ ہے کہ میں نے ایک چھوٹی سی پِن جو اس وقت میری قمیض کے کالر میں لگی ہوئی تھی ، جلد ی سے نکال کر اپنے بازو میں آدھی سے زیادہ پیوست کر دی۔۔۔ مجھے تکلیف تو بہت ہوئی مگر میں برداشت کر گیا۔ اس سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ دماغ دھونے والی اور یادداشت دور کر دینے والی اس مشین کا اثر مجھ پر ذرا بھی نہ ہوا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ میرا دماغ تکلیف کی وجہ سے جاگتا رہا تھا۔ میرے بازو میں جو درد ہو رہا تھا اس نے مجھے سونے سے روک دیا تھا۔۔ بابا سو گیا تھا اس لئے ان لوگوں نے بابا کا دماغ دھو دیا، اس کی یادداشت دور کر دی اور اپنے احکامات اس میں بھر دئے۔ درحقیقت اب بابا ان کا غلام بن چکا تھا۔
مسمریزم کے ذریعے کسی بھی شخص کو اپنا تابع بنایا جا سکتا ہے۔ بابا کے ساتھ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سبز روشنی میں وہ اسی لئے بابا کو نہلاتے تھے کہ اس کا دماغ ہماری طرف سے اجنبی اور ان کا جانب دار ہو جائے۔ میں ان لوگوں کے جال میں پھنسا تو نہیں لیکن جس وقت وہ میرا دماغ صاف کر رہے تھے میں نے ظاہر یہی کیا تھا کہ میں بھی ان کا حامی بن چکا ہوں۔ بابا کے سامنے بھی میں یہی ظاہر کرتا رہا۔ اگر نہ کرتا تو میرا بھید کھل جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ لوگ مجھ پر شک کرتے رہے۔ سچ پوچھئے تو میں بھی یہی چاہتا تھا ، کیوں کہ آپ کا مجھ پر شک کرنا ضروری تھا۔ اس طرح بابا اپنے آقاؤں کو یہ خبریں دیتا رہا کہ شبہ سوامی پر کیا جا رہا ہے اور میں بالکل محفوظ ہوں۔"


"واقعی تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔"جان نے ایک لمبا سا سانس لیا اور پھر آہستہ سے بولا۔
" مجھے یاد ہے کہ ایک بار اختر نے مجھ سے تمہارے بارے میں یہی کہا تھا کہ تم راکٹ ساز فیکٹری کے تاروں میں سے سبز روشنی میں نہاتے ہوئے گزر جاتے تھے اور بعد میں اپنے ہاتھ آسمان کی سمت اٹھا کر کچھ بڑبڑاتے رہتے تھے۔"
"یہ مجھ پر الزام تھا۔۔"سوامی نے جلدی سے کہا۔
" بابا دراصل تمام شبہ مجھ پر ڈالنا چاہتا تھا، اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ میں خود بھی یہی چاہتا تھا۔ بابا کے بارے میں مختصراً اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ فارمولا بھی اسی نے چرایا تھا۔ ریکارڈ روم کے دروازوں پر لگی ہوئی آہنی چادریں اس نے ا پنے آقاؤں کی مدد سے توڑی تھیں۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ ایک دن وہی سنہری روشنی ریکارڈ روم کے دروازے پر پڑی تھی۔ اور اس میں تربوز کے برابر ایک سوراخ بنا گئی تھی۔ اسی سوراخ میں سے بابا گزر کر کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس نے فارمولا چرایا تھا۔"
اتنا سنتے ہی میں نے شرم کے مارے اپنا سر گھٹنوں میں دے لیا۔ میرا بیٹا خود چور ! یا خدا، یہ دن بھی دیکھنا میری قسمت میں لکھا تھا!


بات چونکہ بالکل صاف تھی اس لئے تردید کی کوئی گنجائش بھی نہیں تھی۔ میں مردوں کی طرح بے حس و حرکت بیٹھا ہوا سوامی کی باتیں سن رہا تھا۔ سوامی اب جان سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا:
"راتوں کو اپنے بستر سے اٹھ کر میں بابا کا پیچھا کیا کرتا تھا۔ میرا مقصد اس کی جاسوسی کرنا نہیں بلکہ اسے کسی بھی آفت سے بچانا ہوتا تھا۔ ایک رات جب بابا جنگل کی طرف گیا تو میں بھی جلدی سے اس کے تعاقب میں بھاگا۔ اتفاق سے مجھے کھڑکی میں لگا ہوا شیشہ نظر نہ آیا اور میں زخمی ہو گیا۔ یہی وقت تھا کہ آپ لوگوں نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ میں جنگل کی سمت کھلنے والی کھڑکی میں پھنسا ہوا تھا۔ شیشے ٹوٹ کر میرے جسم میں گھس گئے تھے جس کی وجہ سے میرے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے اپنے زخمی ہونے کی ذرا سی بھی پرواہ نہ کی اور بابا کے پیچھے دوڑنے لگا۔
میں جانتا تھا کہ آپ لوگ میرے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔ مگر مجھے اس کی فکر نہیں تھی ، فکر تھی تو بابا کو بچانے کی۔ کیونکہ وہ اس وقت بھی اپنے نامعلوم آقا کی خدمت میں حاضر ہونے جا رہا تھا۔ وہی آقا جو خلاء میں سے سبز روشنی بابا پر ڈالتا تھا اور اس روشنی کے ذریعے اس سے بات کرتا تھا۔ جب بابا اسی روشنی میں کھڑا ہو گیا اور اپنے آقا سے بات کرنے لگا تو میں نے ایک بہت بڑی حماقت کی۔ افسوس ہے کہ بابا کی محبت میں مجھ سے وہ غلطی سرز ہو ہی گئی۔ اسی غلطی کا خمیازہ بعد میں ہمیں اس وقت بھگتنا پڑا جب ہمارا راکٹ پرواز کرنے والا تھا اور اسے ڈائنامائیٹ سے اڑانے کی کوشش کی گئی تھی۔"


"مگر وہ غلطی کیا تھی؟" جان نے پوچھا۔
"یہی کہ میں فوراً روشنی میں نہاتے ہوئے بابا کو پکڑنے دوڑا۔ پھر اچانک ایک تڑاخا ہوا اور بابا اس جگہ سے غائب ہو گیا۔"
"وہ میری جی۔ ایل۔ شعاع تھی جس کی وجہ سے روشنی غائب ہوئی تھی۔" والٹر نے جلدی سے کہا۔
"آپ درست کہتے ہیں۔" سوامی نے والٹر کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا۔ "مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت بابا کہاں غائب ہو گیا تھا؟ مالک میں راز جان چکا تھا اور جب میں نے وہ راز آپ کو بتانا چاہا تو اچانک کسی خاص قوت نے مجھ پر بے ہوشی طاری کر دی اور میں آپ کو کچھ نہ بتا سکا۔۔ وہ قوت دراصل بابا کی تھی جس کا جسم غائب ہو گیا تھا ، مگر جو ہمارے قریب موجود تھا اور ہماری گفتگو سن رہ تھا، اسی نے مجھے بے ہوش کیا تھا۔"


"مگر یہ بات تو ثابت ہو چکی تھی کہ اختر اپنے کمرے میں کتاب پڑھ رہ تھا ، پھر آخر وہ س جگہ روشنی میں کیسے آ گیا اور کیسے غائب ہو گیا؟" میں نے چونک کر گردن اٹھائی اور سوامی سے دریافت کیا۔
"میرے مالک اس غلط فہمی کا ہم سب شکار ہوئے۔" سوامی نے جواب دیا۔
"بات معمولی ہے ، جس بابا کو آپ نے کمرے میں کتاب پڑھتے ہوئے پایا تھا، وہ اصل بابا نہیں تھا۔ اصل بابا تو روشنی میں کھڑا نہا رہا تھا۔"
"اگر وہ اصل اختر نہیں تھ تو پھر کون تھا؟" جان نے گھبرا کر پوچھا۔
"بابا کا عکس!" سوامی نے کہا۔
" ویسا ہی عکس جیسا ہم بمبئی میں مالک کے کمرے میں جکاری اور زوک کا دیکھ چکے تھے۔ زہرہ کے ڈکٹیٹر شاکا نے کروڑوں میل دور سے یہ عکس مالک کے کمرے میں بھیجا تھا۔ وہ محض تصویر تھا مگر ہمیں جیتاجاگتا دکھائی دیتا تھا۔ بابا ک اسی طرح کا عکس آپ کو دکھایا گیا اور آپ مطمئن ہو گئے کہ بابا تو کمرے میں کتاب پڑھ رہا ہے، پھر بھلا سبز روشنی میں وہ کس طرح ہو سکتا ہے۔"


"سوامی میں تمہاری قدر کرتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ تم نے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھایا۔۔۔"
جان نے آگے بڑھ کر اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
"ہم لوگ سوتے رہے اور تم جاگتے رہے۔ لیکن اگر تم ہمیں بھی اپنے راز میں شریک کر لیتے تو شاید اتنی مشکلات پیش نہ آتیں ، جتنی کہ اب آئی ہیں۔"
"معاف کیجئے گا، میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔" سوامی کی بجائے والٹر نے گفتگو میں حصہ لیتیے ہوئے کہنا شروع کیا۔
"سوامی اگر آپ کو پہلے ہی سے سب کچھ بتا دیتا تو ظاہر ہے کہ آپ لوگ انجان بننے کی اداکاری کرتے رہتے، لیکن کسی بھی وقت یہ اداکاری اختر پر ظاہر ہو جاتی اور اس کے آقا پر پھر آپ کا بھید کھل جاتا۔ میں تو سوامی کی باتوں سے یہ سمجھ پایا ہوں کہ اختر دراصل ایک چلتا پھرتا ٹرانسمیٹر ہے اور ایک انسان سے اسے چلتا پھرتا ٹرانسمیٹر اس کے آقاؤں نے صرف ہمارے راز جاننے کے لئے بنایا ہے۔ اس لحاظ سے سوامی نے اچھا کیا کہ اختر کے راز جانتا رہا اور ہمیں لاعلمی میں رکھا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو پھر ہم لوگوں کو راکٹ کی اڑان سے پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی۔"


"بہر حال جو بھی ہوا وہ تو ہو چکا لیکن سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟" جان نے پوچھا۔
"اب تو ہم اختر میں قابو میں ہیں، دیکھئے وہ کیا کرتا ہے؟" والٹر کے لہجے سے ناامیدی صاف جھلک رہی تھی۔
"میں تمہارا بہت برا حشر کر دوں گا۔" دروازہ کھلا اور اختر کی آواز آئی۔
اس کے ہاتھ میں وہی حیرت انگیز پستول تھا۔ اور وہ ہمیں نہایت غصیلی نظروں سے گھور رہا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ ہمیں اتنی خوف ناک آنکھوں سے کیوں دیکھ رہا تھا؟ اسے دیکھتے ہی میرے دل میں اتھل پتھل ہونے لگی۔ آخر وہ میرا بیٹا تھا۔ مانا کہ وقتی طور پر وہ ہمارا دشمن بن گیا تھا۔ لیکن وہ خود ایسا نہیں بنا تھا، اسے بنایا گیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ آخری مرتبہ سے راہ پر لانے کی ایک زور دار کوشش اور کرلوں۔ میں نے اس سے کہا:
"بیٹا اختر۔۔ کیا تم اپنے ہوش میں آنے کی کوشش نہ کرو گے؟"
"خبردار، بے وقوف انسان! آئندہ مجھے اس طرح مخاطب نہ کرنا۔"
اختر نے مجھے ڈانٹ کر کہا۔
"اورکان کھول کر سن لو۔ میرا نام اختر نہیں جرمی ہے۔ میں زہرہ کی زوک قوم کی مایہ ناز بیٹی ژاما کا بیٹا ہوں۔۔ سمجھے!"


میں نے تو اداسی کے ساتھ اپنا سر جھکا لیا ، البتہ جان نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ شاید وہ اسے مارنا چاہتا تھا۔
"نہیں۔۔ خدا کے لئے آپ ایسا نہ کیجئے۔" میں نے فوراً اسے روکا۔
والٹر خاموشی سے اختر کو دیکھ رہا تھا۔ چند لمحے تک اس نے لمبے لمبے اور گہرے سانس لئے اور پھر اختر کی طرف ایک قدم بڑھاکر بولا۔
"ٹھیک ہے ، تم یہی چاہتے ہو تو یہی سہی مسٹر جرمی۔۔۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ تم ژاما کے بیٹے ہو۔"
"ہوں۔۔۔۔ " اختر نے والٹر کو تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ " ان احمقوں میں تم ہی ایک معقول آدمی معلوم ہوتے ہو۔"
"شکریہ! لیکن میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔"
"پوچھ سکتے ہو!" اختر نے شاہانہ انداز سے کہا۔
"آپ کا اگلا پروگرام کیا ہے اور آپ ہم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں؟"
"میں تمہیں زہرہ لے جانا چاہتا ہوں ، تمہاری قسمتوں کا فیصلہ میریے آقا عزت مآب شاکا خود کریں گے۔"
"ہمیں منظور ہے مسٹر جرمی۔۔۔ لیکن اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو ہمارے ان دو ساتھیوں کو آزاد کر دیں جنہیں آپ نے باہر مفلوج کر دیا ہے اور جو اس وقت بھی وہیں ہیں۔"
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔ میں ابھی انہیں آزاد کردیتا ہوں۔ لیکن اس کے لئے ایک وعدہ چاہتا ہوں۔"
"فرمائیے۔۔۔"
"تم لوگ کوئی گڑ بڑ نہیں کرو گے۔ زہرہ کا سفر لمبا ہے اور اس سفر میں تم مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کرو گے۔"
"میں وعدہ کرتا ہوں۔"
"بہتر ہے ، لیکن کان کھول کر سن لو کہ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو نتیجہ کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔"


اتنا کہہ کر اختر نے اپنے اسی پستول کا بٹن دبایا۔۔۔ اچانک ہمیں کیبن کے باہر دھم سے ایک آواز سنائی دی اور پھر فوراً بعد ایک چیخ بھی۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ جیک ہوا میں معلق تھا اب فرش پر گر پڑا ہے اور زرینہ کے کھلے ہوئے مونہہ سے ادھوری چیخ آزاد ہوئی ہے۔
دروازہ چونکہ کھلا ہوا تھا اس لئے جیک فوراً دوڑتا ہوا اندر آ گیا۔ اختر کو دیکھتے ہی اس نے پھر اسے دبوچنے کی کوشش کی، مگر میں فوراً ان دونوں کے درمیان آ گیا اور پھر مختصر لفظوں میں جیک کو کچھ دیر پہلے کی اختر اور والٹر والی گفتگو سنا دی جیک نے خوںخوار نظروں سے اختر کو گھورا اور اسی طرح اسے گھورتا ہوا ایک طرف جا کر بیٹھ گیا۔
باہر سے زرینہ کے کراہنے کی آواز آ رہی تھی۔۔ مجھے اب خیال آیا کہ اختر نے زرینہ کو دھکا دے کر دور پھینک دیا تھا۔ یقینا زرینہ کو چوٹ لگی ہوگی۔ اسی لئے اب وہ کراہ رہی ہے۔ میں تیزی سے باہر کی طرف لپکا اور پھر آگے بڑھ کر میں نے زرینہ کو اٹھنے میں سہارا دیا۔۔ اس نے ڈبڈبائی نظروں سے مجھے ایک بار دیکھا اور پھر میرے شانے سے سر لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اختر نے ہم پر ایک گہری نظر ڈالی۔ کچھ دیر تک خاموش رہا اور پھر ایک دم پلٹ کر دروازے سے باہر نکل گیا۔ زرینہ کو اختر کے رویہ سے کافی تکلیف پہنچی تھی۔ ایک بیٹا اپنی ماں سے اتنی سختی اور بے دردی سے پیش آئے گا یہ اس نے شاید خواب میں بھی نہ سوچا تھا۔


ہم اب اختر کے رحم و کرم پر تھے جو خود کو جرمی جیسے بے ہودہ نام سے پکارنے پر فخر محسوس کر رہا تھا۔ اختر کے باہر جانے کے بعد ہم نے آپس میں جو صلاح مشورہ کیا اس کاخلاصہ یہ تھا کہ ہم جہاں تک ہو سکے اختر کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے رہیں، اس کا کہا مانیں اور ساتھ ہی اس کا خیال بھی رکھیں۔ ہمارے راکٹ کو زہرہ تک پہنچنے میں دس دن کا وقت درکار ہے اور ہمارا خیال تھا کہ ان دس دنوں میں یقیناً ہم اختر کے دماغ کو ٹھیک کر لیں گے اور بالفرض ٹھیک نہ بھی کر سکے تو ممکن ہے وہ خود ہی راہ راست پر آ جائے۔


زہرہ تک پہنچنے میں دس دن کا وقت لگے گا۔
یہ بات شاید ان لوگوں کی سمجھ میں آسانی سے نہیں آئے گی جو میری یہ بھیانک داستان پڑھ رہے ہیں، مگر اس سلسلے میں مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ زہرہ مریخ سے بھی دور ہے۔ مریخ تک راکٹ کے پہنچنے میں چھ ماہ لگتے ہیں تو پھر آخر زہرہ (جو اس سے بھی دور ہے) تک پہنچنے میں دس دن کس طرح لگیں گے؟ اصولاً تو دس یا بارہ مہینے لگنے چاہئیں۔
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا اور اب بھی کرتا ہوں کہ شاگو کے فارمولے سے بنایا ہوا یہ راکٹ عجیب سے کل پرزوں سے لیس تھا۔ اس کی رفتار بھی بے حد تیز تھی۔ اس لئے یہ ایک ماہ کا فاصلہ ایک دن میں طے کرتا تھا۔ لہٰذا اس حساب سے ہمیں زہرہ تک پہنچنے میں دس دن کا عرصہ ہی درکار تھا۔


ہم اپنے قید خانے میں پریشان بیٹھے ہوئے تھے۔ جان کیبن کی کھڑکی میں سے باہر جھانک رہا تھا اور میں زرینہ کی ڈھارس بندھا رہا تھا۔ ساتھ ہی اس کو یہ کہہ کر اطمینان بھی دلارہا تھا کہ اختر کی یہ کیفیت عارضی ہے۔ جلد ہی وہ ہوش میں آکر ہمیں پہنچاننے لگے گا ، زیادہ فکر کی ضرورت نہیں۔ زرینہ جواب میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک جان نے چلا کر کہا کہ ہم جلدی سے کھڑکی کے قریب آئیں۔ ہم فوراً اس کے قریب پہنچے۔ وہ کھڑکی کے باہر کا نظارہ بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
"دیکھو فیروز۔۔۔ وہ رہا ہمارا چاند۔۔" جان نے ایک ہلکے بھورے اور کھتئی رنگ کی چمک دار گیند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "ہمارا راکٹ دانستہ اس کی کشش سے بچ کر نکلا ہے اور اگر میرا اندازہ غلط نہیں ہے تو اس سے تقریباً ایک ہزار میل دور ہے۔"
"کالے خلا میں یہ خوبصورت سی گیند کتنی بھلی لگ رہی ہے!" میں نے جوشیلے لہجے میں کہا۔
"ساتھ ہی یہ بات بھی نوٹ کرو کہ یہ گیند کتنی تیزی سے چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم بڑی تیزی سے چاند کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔۔ اور وہ دیکھو چاند کے پیچھے سے اس سے چھ گنا بڑی ایک گیند اور نظر آ رہی ہے۔ وہی ہلکے نیلے رنگ کی گیند ۔۔۔ وہ ہماری زمین ہے!"


"ہماری زمین!" زرینہ حیرت سے تقریباً چیخ کر بولی۔
"ہاں بیٹی۔۔ وہ ہماری زمین ہے۔۔ ہماری خوبصورت اور حسین دنیا۔خدا سے دعا کرو کہ وہ ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کرنے کے بعد بحفاظت اس دنیا میں پہنچا دے۔"
اتنا کہتے ہوئے جان کی آواز بھرا گئی اور اسے روتے دیکھ کر ہمارے دل بھی بھر آئے۔ ہم کھڑکی سے ہٹ کر اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے اور پھر خاموشی سے ایک دوسرے کی صورتیں تکنے لگے۔



Novel "Neeli Dunya" by: Siraj Anwar - episode:7

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں