تماشا میرے آگے - سفرنامہ از جمیل الدین عالی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-11-22

تماشا میرے آگے - سفرنامہ از جمیل الدین عالی - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

tamasha-mere-aage-jameeluddin-aali
تماشا مرے آگے
جمیل الدین عالی کے عالمی سفرنامے کی دوسری جلد ہے جس میں جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے سفر ہیں۔
اس سفرنامے کی پہلی جلد (بعنوان: دنیا مرے آگے) میں ایران، عراق، لبنان، مصر، دہلی، روس، فرانس اور برطانیہ کی کہانیاں ہیں۔ دو جلدوں والا یہ سفرنامہ روزنامہ 'جنگ' (گراچی) میں 1963ء سے لے کر 1966ء تک اتوار ایڈیشن میں چھپ کر قارئین میں مقبولیت کے اعلیٰ معیار قائم کرتا رہا تھا۔ اس سفرنامے کے کچھ حصوں کے ترجمے دیگر زبانوں میں بھی ہوئے اور متعلقہ ممالک کے جرائد میں چھپے۔ اردو کے سفرناموں کے اولین دور سے متعلق یہ سفرنامہ اپنے اسٹائل، معلومات اور تبصروں کی وجہ سے آج بھی منفرد، زندہ اور تابندہ ہے۔ عالی جی نے اپنے اس سفرنامے میں روایتی بیان سے گریز کرنے میں منفرد انداز اور دلآویز اظہارِ بیان اپنایا ہے۔ جس میں مطالعے، مشاہدے اور تجزئیے کے رنگ برنگے پہلو روشن نظر آتے ہیں۔
سفرناموں کے مطالعے کے شوقین قارئین کے لیے تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں سفرنامے کی یہ دوسری جلد "تماشا مرے آگے" پیش خدمت ہے۔ تقریباً ساڑھے چار سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 18 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔
جرمنی کے سفرنامے کے ایک باب سے دلچسپ اقتباس ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔

جب سورج ڈوب جاتا ہے تو جدید اور تازہ دم فرینکفورت کی روشنیاں ستاروں سے آنکھیں لڑانے لگتی ہیں۔ چوک ہوپ داخا ہو یا کوئی اور چوک یا سڑک یا گلی، وہاں دن اور رات میں زیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا مگر قیصر کی گلی نسبتاً تاریک ہے یا شاید تاریک محسوس ہوتی ہے کیونکہ یہاں شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ رنگین و معطر سائے ابھرنے لگتے ہیں۔
ایپلر صاحب اس بات پر بہت خفا ہیں کہ میں انہیں یہاں بھی ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔ پہلے تو انہوں نے ایک مہذب یورپین کی حیثیت سے میری شام کے بارے میں مشورہ دینے سے احتراز کرنے کا فلسفہ سمجھایا، پھر ایک مصروف آدمی کی شبانہ مجبوریاں بیان کیں، پھر کھل گئے:
"ارے صاحب، یہاں بیماری لگ جانے کا امکان ہے"۔
مگر میں بھرے پر چڑھا ہوا ہوں، میں نے انہیں نہایت بےشرمی سے بتایا کہ میں چیخوف، موپاساں، گورکی اور منٹو سے کسی طرح کم نہیں ہوں، میں ایک زبردست ادیب ہوں اور ہر طرح کی زندگی کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ بےچارے ڈر سے گئے۔
"مگر یہ منٹو کون ہے؟" انہوں نے پوچھا
"منٹو ہمارا ایک زبردست ادیب تھا جو طوائفوں اور جنسی مسائل پر لکھتا تھا"۔
"مگر ہم نے تو اس کا نام کہیں نہیں سنا"
اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تم نے غالب کا نام سنا ہے؟"
"نہیں"۔
"میر تقی میر کا نام؟"
"نہیں"۔
"سر سید احمد خاں کا نام؟"
"نہیں"۔
"تو پھر کس کا نام سنا ہے؟"
"مسٹر گاندھی کا جو نیم برہنہ رہتے تھے اور نظام حیدرآباد کا جس کے جوتوں میں لعل جڑے ہوئے ہیں اور مسٹر جناح کا جنہوں نے پاکستان بنایا"،
"شکر ہے آپ اتنے نام بھی جانتے ہیں"
"مگر منٹو کون ہے۔ یقیناً وہ کوئی ادیب ہے"۔ انہوں نے دلچسپی ظاہر کی۔
"منٹو ہمارا وہ ادیب ہے جس کے تقریباً ہر افسانے پر مقدمہ چلتا ہے"۔
"وہ کس زبان میں لکھتا ہے؟"
"اردو میں۔"
"اردو کیا ہے؟ آپ کی زبان تو انگریزی ہے نا۔"
"یہ آپ سے کس نے کہا؟"
"اجی یہ تو مشہور بات ہے۔ جب سے ہمارے ملک کے تعلقات آپ سے بڑھے ہیں اور کاروباری ادارے آپ کے ہاں قائم ہوئے ہیں، ہماری یونیورسٹی میں بڑا شور و غل ہوا کہ ایشیائی زبانیں سیکھنی چاہیے۔ چنانچہ ہمارے کچھ انجینئر داخل کیے گئے کہ بھئی یہ پاکستان جانے والے ہیں، انہیں وہاں کی زبان سکھاؤ۔ وہ لوگ کوئی دس دس مہینے پڑھائے گئے اور پھر آپ کے ہاں بھیجے گئے۔ پھر باقاعدہ کلاسیں کھولی گئیں کہ اب تو آنا جانا شروع ہو ہی گیا ہے۔ مگر ہوا یہ کہ ان میں سے چند آدمی چھٹیوں پر آئے اور ہم سے ملے تو انہوں نے کہا ہمارا سب وقت ضائع گیا۔ پاکستان کے لیے کوئی ایشیائی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہاں سب کام کے لوگ انگریزی بولتے ہیں، جو مزدور لوگ بولتے نہیں وہ سمجھ ضرور لیتے ہیں۔"
"تو آپ کے ہاں ایشیائی زبانوں کی کلاسیں بند ہو گئیں؟"
"نہیں تو۔ فارسی، عربی، چینی اور جاپانی وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں"۔
میں کچھ کہنے کو تھا کہ ایک تقریباً بارہ فٹ کا سایہ ایک دم میرے سامنے نمودار ہوا اور اس نے زور سے میرے منہ پر طمانچہ مارا۔ میرا گال سرخ ہو گیا۔ دوسرے لمحے میں اس نے میرے کوٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر قلم نکال لیا اور اسے بجلی کی سی سرعت سے دو انگلیوں میں دبا کر توڑ دیا۔
"کیا بات ہے مسٹر عالی؟ آپ کسے دیکھ رہے ہیں؟"
میرے کانوں میں ایپلر صاحب کی آواز ایسے آئی جیسے کوئی بہت دور سے پکار رہا ہو۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ان کی طرف رخ کر کے مسکرایا۔
"کیا بات ہے؟" وہ میرے چہرے کا رنگ دیکھ کر گھبرا گئے۔
"کوئی بات نہیں۔ ایک دیو میرا پیچھا کر رہا ہے۔ آپ کو شاید معلوم نہیں، ہمارے ایشیا میں دیو، جن، بھوت بہت ہوتے ہیں۔"
"آئی سی۔"
وہ سمجھے ہوں گے میرے دماغ کی چولیں ہل گئی ہیں۔
"تو کیا اس وقت آپ نے کوئی بھوت دیکھا تھا؟"
"جی ہاں۔ میں اسے پہچان نہیں سکا۔ شاید وہ نوکرشاہی کا دیو تھا، ورنہ عام بھوت تو میرا قلم توڑ نہیں سکتے۔ اس نے میرے ایک طمانچہ بھی مارا ہے"۔
"اچھا؟" وہ اور بھی گھبرانے لگے۔ "مگر میں نے تو کوئی آواز نہیں سنی"۔
"ایسے طمانچوں کی آواز دوسرے نہیں سن سکتے۔ بلکہ ایشیا میں اگر کسی کو ایسی بات بتائی جائے تو کہنے والے کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور لاتعلق لوگ بھی سن کر خوش ہوتے ہیں کہ اچھا ہوا اس سالے کو طمانچہ پڑا، بہت بنا کرتا تھا۔"
ایپلر صاحب خاموش ہو گئے، وہ کچھ نہیں سمجھے۔ میں بھی خاموش ہو گیا۔ کیونکہ اس سے زیادہ میں بھی نہیں سمجھا سکتا۔ اگر یہی بات سمجھانے بیٹھ جاؤں تو اور بہت سی باتیں سمجھانے کا موقع بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔
اے میرے محترم قاری! آپ بھی کچھ سمجھے یا اب بھی نہیں سمجھے؟

***
نام کتاب: تماشا مرے آگے (سفرنامہ)
از: جمیل الدین عالی
تعداد صفحات: 456
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 18 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Tamasha Mere Aage by Jameeluddin Aali.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:


تماشا مرے آگے - سفرنامہ از جمیل الدین عالی :: فہرست
نمبر شمارعنوانصفحہ نمبر
جرمنی
1کولون سے بون تک11
2چینی صورت جرمن ہاڑ17
3جزیرہ، خاتون اور ڈاڑھ21
4ہٹلر سے گفتگو33
5مشرقی برلن میں مشقِ تمنا41
6برلن ایک عالمی چیلنج46
7برلنوں کو وداع50
8نشان اور تصویریں55
9کون مارٹن لوتھر60
10ملبے سے یہ ملک اٹھا65
11فرالین - عظیم لوگ اور بحثیں73
12شہرِ ترقئ لسان المانیہ83
13آنخ مان، سامراج اور مار پیٹ88
اٹلی
14شیطان کی آنت میں افسرِ اعلیٰ96
15نکلنا خلد سے اور روم کا کھلنا100
16دایاں، بایاں، تعمیرات110
17پراٹھے، شرابیں، بدن اور مناظر119
18مردہ شہر اور زندہ شہر127
19کچھ سیاست کچھ سیاحت132
20جوتا۔ موچن۔ سڑک139
21ہم وطن بابر اور مصر کی آسٹریلوی دیوی145
22چی زر، تاریخ اور وے ٹے کن149
23لیمپ پوسٹ، نیرو، سینٹ پیٹر155
24ٹک دیکھ میاں اور آگے چل161
ہالینڈ
25پہلی نظر میں171
26بوقلمونی اور زوئی ڈرزی174
27پھول - ون گاگ اور علامہ اقبال181
28ان تھک مکھی اور لوبر ہاؤزن187
29مجبور عدالتِ عالیہ193
30بیوما اور روشن آرا بیگم198
31فلاحی جزرسی203
پھر کچھ گھنٹے پیرس میں
32وہ عجیب دن211
سوئٹزر لینڈ
33چوں چوں کا مربہ220
34نون یا غنہ - غمزدہ گائیڈ224
35ایک شہر اور تین بندر230
36تحفے، ساس اور نند237
37دو رکنی پان اسلامک کانفرنس242
38ان خاتون کی سرگرمیاں248
39ہنری ملر253
40عاشق ہو کر بھاگ گیا263
41زیورک اور جوتے267
امریکہ
42نیا کولمبس277
43یہ بھول بھلیاں285
44یو این میں دلی والے293
45پاکستان اور بڑے بخاری301
46جنگل، سمندر اور اونچائیاں309
47میری، اقوام متحدہ اور کہانیاں318
48یہ نظر ہے طائرانہ330
49واشنگٹن ، للی اور وائیٹ ہاؤس335
50مناظر ، کتابیں ۔ کتابیں348
51خوش حالی کی خوش خیالی355
52موزلم ایکس مگر وائی362
53وہ کالی وہ گورا370
54پورٹیکو کے قزاق375
55یہ ماجرا کیا ہے384
56گرینچ، عظمتیں اور میں393
57سیاہ بستی399
58اٹس اے ونڈرفل ٹاؤن417
59نویلا ، نرالا شکاگو426
60ہیروئین کی مادام435
61انسان سب پر غالب آ جائے گا446

Tamasha Mere Aage, a travelogue, by Jameeluddin Aali, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں