اردو طنز و مزاح میں علی گڑھ کا حصہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-03-11

اردو طنز و مزاح میں علی گڑھ کا حصہ

urdu-humour-satire-aligarh-contribution

اردو طنز و مزاح میں علی گڑھ کا بھی قابل قدر حصہ ہے۔
اس فہرست میں سب سے پہلے سرسید اور ان کے معاصرین کا ذکر ہونا چاہیے۔ سرسید کے یہاں طنز کے نہایت لطیف نشتر کے علاوہ مزاح کے نمونے بھی موجود ہیں۔ سرسید کی یہ ظرافت اس وقت مزید نکھر کر سامنے آتی ہے جب وہ اپنے مخالفین کا طنزیہ و مزاحیہ انداز میں جواب دیتے ہیں۔ بعض اوقات مذہبی موضوعات پر بھی انہوں نے مزاحیہ انداز میں اظہار خیال کیا ہے۔
شبلی کی سیاسی نظموں میں طنز زیادہ ہے۔ شبلی کی ان نظموں کا موضوع ہنگامی واقعات تھے۔ یہ صحیح ہے کہ شبلی کے یہاں طنز و تعریض کے عناصر زیادہ ہیں اور مزاح و ظرافت کم ہے مگر ایسا بالکل نہیں کہ ان کے مزاج میں شوخی اور شگفتگی نہیں۔
شبلی کے مکاتیب میں شگفتگیِ بیان کے ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے طنزیہ جملے ملتے ہیں جو ان کے خطوط کو دلچسپ بناتے ہیں۔ اس انداز بیان کی وجہ سے ان کے خطوط میں بے تکلفی بھی پیدا ہو جاتی ہے، اور بے ساختگی بھی جو ایک قسم کے جوشِ جمال کے ساتھ ابھرتی اور تحریر کو دلکش بناتی ہے اور جب یہ بے ساختگی اپنی تمام تر فن کاری کے ساتھ طنز یہ پیرائے میں ظاہر ہوتی ہے تو تحریر اور بھی حسین ہو جاتی ہے۔

حالی نے اپنے مقالات میں بھی قوم کی اصلاح کے لیے طنزیہ پیرایہ استعمال کیا ہے۔ ان کے یہاں طنز کبھی کبھی شدت بھی اختیار کر لیتا ہے۔ مزاح کا مقصد ان کے نزدیک کسی کی خامی پر ہنسنا، کسی پر کیچڑ اچھالنا نہیں ہے۔ وہ ایسے مزاح کو نامناسب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون "مزاح" میں اس پر تفصیل سے لکھا ہے اور اودھ پنچ کے رویے کو ناپسند کیا ہے۔ حالی صحت مند طنز و مزاح کے طرف دار تھے اور اس سے قوم یا فرد کی اصلاح چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی کے احساسات کو ٹھیس بھی نہ لگے اور ہنسی مذاق میں کام کی بات کہہ دی جائے۔ اس کے لیے وہ لطیفوں یا مثالوں کا سہارا لیتے ہیں۔
طنز ان کی نثر کے مقابلے میں شاعری میں زیادہ ہے۔ قوم سے زیادہ تر خطاب بھی انہوں نے اپنی نظموں اور رباعیوں میں کیا ہے اور قوم کی اخلاقی گراوٹ اور بدحالی کو طنزیہ پیرائے میں بیان کیا ہے مگر یہاں بھی اکثر جگہ حکایتی ایا تمثیلی انداز غالب رہا ہے۔

اس طرح نذیر احمد نے طنز کے ساتھ مزاح کو بھی استعمال کیا ہے۔ معاشرے کی ظاہر داری اور نمائشی زندگی کو نشانہ بنانے کے لیے نذیر احمد نے مرزا طاہردار بیگ جیسے کردارکو پیش کیا ہے۔
نذیر احمد اگرچہ طنز و مزاح نگار ہیں لیکن ان کی تحریروں میں طنز و مزاح کے عمدہ نمونے موجود ہیں۔ نذیر احمد نے اپنے ناولوں کے ذریعے متوسط طبقے کی گھریلو زندگی کو ہمارے سامنے رکھا اور اس دور کی ناہمواریوں کی اصلاح کے لیے طنز و مزاح کا حسب ضرورت استعمال کیا۔

شگفتہ بیانی کا یہ سلسلہ مابعد سرسید بھی جاری رہا اور مولوی عبدالحق ، وحید الدین سلیم، سجاد انصاری ، مولانا ظفر علی خاں اور سلطان حیدر جوش وغیرہ نے کم و بیش طنزیہ و مزاحیہ ادب کے اچھے نمونے پیش کیے۔
"چند ہم عصر" مولوی عبدالحق کے لکھے گئے خاکوں کا مجموعہ ہے جس میں خاکہ نگاری کے اعلی نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عبدالحق نے اس مجموعہ میں ان شخصیتوں کا خاکہ پیش کیا جن سے انھیں دلی لگاؤ تھا۔ ان خاکوں میں ظرافت بھی جگہ جگہ موجود ہے۔ وہ بڑی سادگی سے طنز کے وار بھی کر جاتے ہیں۔

سید آل عبا آوارہ کی تحریریں شگفتہ نگاری کا عمدہ نمونہ ہیں۔ ان کی طنزیہ و مزاحیہ تحریروں کے نمونے، ان کی تین مشہور تصانیف "بے پر کی"، "اپنی موج میں" اور "میرا فرمایا ہوا" میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ زبان و بیان پر انہیں دسترس حاصل ہے۔ وہ لفظوں کے پارکھ ہیں اور ہمیشہ عالمانہ زبان لکھتے ہیں۔ ان کے جملے ترشے ترشائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول اور افراد کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔

سجاد انصاری کو "ادب لطیف کا فلسفی" کہا گیا ہے۔ وہ مزاح کے بجائے طنز سے کام لیتے ہیں۔ "محشر خیال" کے مضامین مثلاً محبت کی ماہیتِ نفسی، عفت نسوانی، پیامِ زلیخا، اجتہاد و تحقیق، عورت، صوفی اور روزِ جزا وغیرہ میں ان کے طنز کے نشتر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
مولانا ظفر علی خاں نامور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کی سیاسی نظمیں طنزیہ شاعری کا عمدہ نمونہ ہیں۔ انہوں نے پہلی جنگ عظیم سے لے کر دوسری جنگ عظیم تک کے سارے
ہنگامی حالات دیکھے تھے۔ یہی سیاسی حالات ان کی طنزیہ شاعری کے موضوع بنے۔
اسی طرح نثر میں بھی مولانا ظفر علی خاں نے بعض موقعوں پر طنزیہ و مزاحیہ انداز بیان اختیار کیا ہے۔ "ایڈیٹر کا حشر" اگر چہ ایک ڈرامہ ہے لیکن طنز کے نشتر یہاں بھی موجود ہیں۔
سلطان حیدر جوش کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے نہ صرف سماج کی دکھتی رگوں پر انگلی رکھی ہے بلکہ مغربی تہذیب کو اپنانے والوں پر گہرا طنز بھی کیا ہے۔ سلطان حیدر جوش کے مضامین کے مجموعوں "جوش فکر" اور "فسانۂ جوش" میں طنز و مزاح کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔

رشید احمد صدیقی نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ تحریروں میں اسلوب کی شگفتگی اور حسن بیان سے قابل قدر اضافہ کیا اور طنز و مزاح کی صنف کو بلندی پر پہنچا دیا۔ وہ قول محال کا بہ کثرت استعمال کرتے ہیں۔ وہ بات سے بات نکالنے، نئی بات پیدا کرنے اور خوش دلی سے زندگی کی دشواریوں پر فتح پانے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کا طنز ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو فرد کی آزادی ، سکون اور آسودگی کو تباہ کرنے والی ہو۔
رشید احمد صدیقی نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ تحریروں میں علی گڑھ کی اقامتی زندگی کا اکثر ذکر کیا ہے۔ بلکہ ان کی زیادہ تر تحریروں میں علی گڑھ کسی نہ کسی شکل میں آ ہی جاتا ہے۔ ان کی تحریروں پر علی گڑھ کا ایسا اثر ہوا کہ دونوں باہم آمیز ہو گئے۔
رشید احمد صدیقی محض واقعات سے مزاح پیدا نہیں کرتے بلکہ اپنی تحریروں میں معنوی وسعت بھی پیدا کرتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی نے مزاح کے لیے کرداروں کا بھی سہارا لیا ہے۔ ان کے بیشتر کردار ایسے ہیں جن کا کوئی نام نہیں بلکہ پیشوں اور گروہوں کی نمائندگی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

رشید احمد صدیقی کے معاصرین میں احمد جمال پاشا کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی ابتدائی تحریروں میں مزاح کا عنصر زیادہ ہے لیکن بعد میں انہوں نے طنز سے بھی خوب کام لیا۔
احمد جمال پاشا نے زندگی کی ناہمواریوں کو طنز و مزاح کے سانچے میں ڈھال کر طنزیہ و مزاحیہ ادب میں قابل قدر اضافہ کیا۔ وہ فطری طور پر مزاح نگار ہیں۔ ان کا مشاہدہ گہرا ہے اور وہ مشاہد ے کو طنز و مزاح کی شکل میں پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
احمد جمال پاشا نے پیروڈی کے ذریعے بھی طنز و مزاح کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ انہوں نے اردو کے کئی مشہور ادیبوں کے اسلوب کی دلچسپ پیروڈی کی ہے۔ مضمون "کپور ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" اس کی بہترین مثال ہے جس میں انہوں نے رشید احمد صدیقی، احتشام حسین، کلیم الدین احمد ، عبادت بریلوی اور قاضی عبدالودود کے اسالیب کی پیروڈی پیش کی ہے اور ان کی تحریر کی خامیوں کو طنز و مزاح کے ذریعے اجاگر کیا ہے۔

دور حاضر کے قابل ذکر مزاح نگاروں میں مشتاق احمد یوسفی سر فہرست ہیں۔ ان کی تحریریں کبھی تبسم زیرلب پیدا کرتی ہیں کبھی بے ساختہ ہنسنے پر مجبور کرتی ہیں، کبھی غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں اور کبھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کسی کی دل آزاری نہیں کی اور نہ ہی ہجویہ انداز اختیار کیا۔
مشتاق احمد یوسفی نے بالترتیب چار کتابیں چراغ تلے، خاکم بدہن ، زرگزشت اور آب گم لکھ کر اردو کے طنزیہ و مزاحیہ ادب کے سرمایے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کے مجموعے "چراغ تلے"، "خاکم بدہن"، "زرگزشت" اور "آب گم" کے جائزے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یوسفی نے اپنے تجربات اور گہرے مشاہدات سے طنز و مزاح کے بہترین نمونے پیش کیے۔ اس کے لیے اکثر جگہ وہ اپنے کرداروں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے ذریعے تہذیب کے نشیب و فراز کو فنی چابک دستی کے ساتھ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ معاشرے کے روشن اور تاریک دونوں پہلوؤں پر ہماری نظر پڑتی ہے۔

بشمول مشتاق احمد یوسفی ، علی گڑھ سے وابستہ جن قلم کاروں کا اوپر ذکر ہوا ہے، ان کے فن پاروں کے مطالعے کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ طنز و مزاح کے فروغ میں دانش گاہِ علی گڑھ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

***
ماخوذ از کتاب:
اردو طنز و مزاح میں علی گڑھ کا حصہ
پی۔ایچ۔ڈی مقالہ از: سید نفیس احمد ضمیر احمد (گائڈ: ڈاکٹر محمد قمرالھدیٰ فریدی)
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اترپردیش۔ (شعبہ اردو، 2009)

Aligarh's contribution in Urdu Humour & Satire, Research article: Sayed Nafis Ahmed Zameer Ahmed.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں