سر سید کی بصیرت - از اسرار عالم - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-10-17

سر سید کی بصیرت - از اسرار عالم - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

sirsyed-ki-baseerat

سر سید احمد خاں (پ: 17/اکتوبر/1817 ، م: 27/مارچ/1898) کی 202 ویں یومِ پیدائش پر ان سے متعلق ایک اہم اور مفید کتاب پیش ہے۔
امت مسلمہ کی موجودہ صورتحال میں اصلاحِ حال کی سب سے اکمل صورت "سرسید تحریک کے جامع اور مکمل احیا" میں ممکن نظر آتی ہے۔ جس کا واحد نصب العین یہ ہو کہ وحدانی، ارتقائی، اسلامی نظام تعلیم وضع اور اس کا عملی تجربہ کیا جائے۔
ڈاکٹر اسرار عالم کی یہ قابل مطالعہ کتاب سرسید کے مشن اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ایک معقول حل پیش کرتی ہے۔
تعمیرنیوز کے ذریعے یہ کتاب پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ تقریباً ڈھائی سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 10 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

اس کتاب کی تمہید میں مصنف لکھتے ہیں ۔۔۔۔
مصنف کے غائر مطالعے کا خلاصہ درج ذیل ہے:
  • مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کا بنیادی سبب تکییف (Conditioning) ہے۔
  • مسلم معاشرے میں اس تکییف (Conditioning) کو قائم کرنے والے ، "حکمراں" اور "علما" تھے۔
  • مسلم معاشرے کو صدیوں تک اس تکییف (Conditioning) میں مقید رکھنے والے "علما" تھے۔
  • مسلم معاشرے کو صدیوں کی اس تکییف (Conditioning) اور اس کے نتیجے میں آئے زوال و انحطاط سے نکالنے کی واجد راہ "ارتقائی نظامِ تعلیم" (Progressive Educational System) ہے۔
  • ارتقائی نظام تعلیم کی سب سے احسن تدبیر فی زمانہ "سر سید کی بصیرت" (Vision of Sir Syed) میں مضمر ہے۔
  • ارتقائی نظام تعلیم یا سرسید کی بصیرت پر عمل آوری میں سب سے بڑی رکاوٹ "علما" ہیں۔
1980 سے جاری اس مطالعے میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب "سرسید کی بصیرت" غور و فکر کا مرکز بن گئی۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس مطالعے کا رخ اس بصیرت کی عملی تعبیر یعنی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی جانب مڑ جاتا۔ چنانچہ مطالعے کا اب مرکز المراکز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بن گئی۔ یوں بھی متعدد وجوہ سے اس سے قبل بھی یہ یونیورسٹی غور و فکر کا مرکز المراکز تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں کے حقیقی احوال ، ان کی تاریخ اور مسلم نفسیات کی پیچیدگیوں کے ادراک کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ہندوستان عالم کبیر (Macrocosmos) ہے تو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ عالم صغیر (Microcosmos)۔

"انکشافات" کے زیرعنوان مضمون کے ابتدائی حصے کا ایک اقتباس ۔۔۔
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ گزشتہ ساٹھ سالوں سے مسلسل انحطاط کا شکار ہے۔ رفتہ رفتہ یو نیورسٹی میں آنے والا یہ انحطاط گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں انحدار شدید (Free Fall) کی صورت اختیار کر گیا۔ آج مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں فکری، علمی، تعلیمی، تدریسی، تحقیقی اور اخلاقی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے، بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کے ہمہ گیر انحطاط کی عکاس ہے۔ یہ صورتحال اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ انحطاط مسلم معاشرے میں کس درجہ راسخ ہو چکا ہے۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جا کر بچشم خود مشاہدہ اور برسر زمین (On the Spot) جائزہ یہ بتاتے ہیں کہ وہاں موجود تمام بارہ (12) فیکلٹیوں اور ان کے تحت قائم تقرییاً سو (100) شعبوں، اداروں اور مراکز میں مخلص، پیشہ ورانہ طور پر ذمہ دار اور جواب دہ، انتھک محنت کرنے والے، صاحب بصیرت، صاحب جودت ، بے لوث مستقبل آگاہ اور بیدار مغز اساتذہ اور بر سرکار اہل فن کی تعداد کتنی سرعت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں ان کے اعصاب پر مسلسل نہایت برے اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ایسے اشخاص اب برائے نام رہ گئے ہیں وہ بھی بے بس، مجبور، بے نوا، غیر موثر، محصور اور اچھوت (Untouchable)۔

ان کے برخلاف گزشتہ ساٹھ سالوں کے دوران مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ہے علم ، غیرمخلص، پیشہ ورانہ طور پر غیر ذمہ دار اور غیر جوابدہ ، ناکارہ، بے بصیرت، خودغرض اور تھڑدلے اساتذہ کی تعداد تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ ظاہر ہے "مسلم قیادت" کی ترجیجات، مسلم معاشرے کے بدلتے احوال، مسلم یونیورسٹی کورٹ ، اکادمک کاؤنسل، ایگزکیٹیو کونسل اور سب سے بڑھ کر خود امیدواران کی اپنی طبع اس کی اصل ذمہ دار ہے۔ آج ایسے افراد یونیورسٹی سے باہر اور یونیورسٹی کے اندر تقریباً حاوی، بارسوخ، موثر اور ہمہ گیر ہو چکے ہیں۔

مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں گزشتہ ساٹھ سالوں میں علم اور تحقیق کی تمام اساسیات (Fundamentals) منجمد ہو کر رہ گئی ہیں۔ علم (Knowledge) ، معلومات (Informations)، حساسیت (Sensitivity)، مستقبل آگاہی (Prescience) ، ادراک (Perception)، تحقیق (Research) اور تخلیق (Creativity) کی دنیا میں خیال (Idea) ،فرضیہ (Hypothesis) اور نظریات (Theories) دینے ، دانشی اختراق (Intellectual Breakthrough) کرنے ، مرجع گروہ (Reference Group) اور حکم (Referee) بننے اور بنے رہنے کی Potential Ability مفقود ہو گئی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اساسی (Fundamental) شعبے اپنی حرارت غریزی کھو چکے ہیں۔ شعبہ تاریخ، شعبہ السنہ، شعبۂ لسانیات، شعبۂ دینیات، شعبہ علوم اسلامیہ، شعبہ طبیعات، شعبہ کیمیا، شعبہ حیاتیات، شعبہ ریاضی، شعبہ جغرافیہ، شعبۂ ارضیات وغیرہ کم و بیش علم اور تحقیق کے اعتبار سے بظاہر گورستان (Graveyard) میں بدل چکے ہیں۔ ان شعبوں میں ایسے مضامین اور اصناف کی تعلیم و تدریس جن سے فرد اور معاشرے میں Potential استعداد پیدا ہوتی ہے، مضامین اور اصناف کے ایسے گوشوں پر تحقیق اور تحقیقی صلاحیت پیدا کرنا جن سے ان مضامین میں فرد اور معاشرے کو تحقیقی تخصص حاصل ہوتا ہے، ان تخصصات کے ایسے افادے جن سے کسی فرد، یونیورسٹی اور معاشرے کا علمی تفوق یقینی ہو جاتا ہے۔۔۔ رفتہ رفتہ ختم کر کے رکھ دیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
معمارِ جاوداں - سرسید احمد خاں
سر سید احمد خان اور اردو صحافت

***
نام کتاب: سر سید کی بصیرت
مصنف: اسرار عالم
تعداد صفحات: 239
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 10 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Sir Syed ki Baseerat.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

فہرست مضامین
نمبر شمارعنوانصفحہ نمبر
1پیش لفظ7
2مقدمہ8
3تمہید9
4مشاہدات13
5انکشافات21
6زہریلا دائرہ39
7سفر نصیب53
8ثنویت و ترادفیت56
9صبحِ نخست79
10صبح صبح95
11صبح بام109
12مضمرات و عواقب125
13دین اور مذہب149
14حکم اور صلاۃ161
15ذہنی بحران177
16پس چہ باید کرد187
17تجویز اول: سرسید تحریک کا جامع اور مکمل احیا199
18تجویز دوم: مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں اصلاح حال براہ انتظامی تدابیر225
19تنقیح اور توضیح235

Sir Syed ki Baseerat, By: Asrar Alam, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں