من ترا حاجی بگویم - انشائیہ از ڈاکٹر زینت ساجدہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-01-22

من ترا حاجی بگویم - انشائیہ از ڈاکٹر زینت ساجدہ

scratch-my-back

حاضرین جلسہ !
واقعہ ایک دن کا یہ ہے کہ میر حسن نامی ایک شخص اردو ہال کے اسٹیج پر صدر بنا بیٹھا تھا۔ کسی شاعر مرحوم کا یوم منایا جارہا تھا اور تقریروں میں مرحوم کے اوصاف پسندیدہ کے گن گائے جارہے تھے۔ ایسی عمدہ عمدہ بے شمار باتیں لوگوں نے کہیں کہ اگر بے چارہ مرحوم زندگی میں سن پاتا تو پھولے نہ سماتا۔ زمانہ کی کج ادائی کا شکوہ نہ کرتا۔ بلکہ اس کا بھی امکان تھا کہ وہ سُن لیتا کہ لوگ اسے کس قدر اچھا سمجھتے ہیں تو سچ مچ اچھا بن جاتا۔ بس خیال ہوا میر حسن کو کہ اگر زندگی میں ایسی قصیدہ خوانی کی جائے تو کیا ہی اچھا ہو۔ مارے خوشی کے عمر عزیز کے پانچ سات سال اور بڑھ جائیں۔ پھر اس کا بھی کیا بھروسہ کہ ہم جس طرح گزرے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں لوگ ہمیں بھی یاد کریں۔ پرانے بادشاہ اسی بے اعتباری کے سبب اپنا مقبرہ جیتے جی ہی تیار کروالیتے تھے چناں چہ شخص مذکور نے حلقہ ¿ احباب میں یہ بات چھیڑی کہ اس طرح ایک دوسرے کی تعریف و تحسین کی جائے۔ باقاعدہ ایک پروگرام بنے اور آپس میں سب ایک دوسرے کو بھلا کہیں اور سُنیں۔ قرعہ فال مخدوم کے نام نکلا کیونکہ اس کمبخت کے چاہنے والے اس شہر میں بے حساب و بے شمار ہیں۔ ہر طبقے اور ہر گوشے میں پائے جاتے ہیں۔ ہم نے اس سلسلہ کا نام رکھنا چاہا :
" من ترا حاجی بگویم "۔۔
حضرات ! چونکہ مخدوم کے چاہنے والے بیرون شہر و دیگر اقطاع ہند میں بھی پائے جاتے ہیں، اس لیے خیال ہوا کہ سب کو شرکت کا موقع دیا جائے۔ کیونکہ سب کی آرزو یہی تھی اس لیے سلسلہ زلف کی طرح دراز ہوا اور خدا معلوم کب وہ روز نیک آتا کہ اچانک رمضان شریف آپہونچے۔ اور اس کے بعد مخدوم اپنے ساٹھ سال پورے کرلیتا اس لیے جشن کا اعلان ہوا۔ مخدوم نہ اپنے آپ کو بوڑھا سمجھتا ہے نہ لوگ سمجھنا چاہتے ہیں۔ تو اس لیے عین اس کی جوانی میں اس کا جشن منانا طئے پایا۔ کچھ لوگ ایسے بھولے بھالے ہیں جو بڑی خوشی سے ذکر کرتے ہیں اور مبارکباد دیتے ہیں کہ لیجئے مبارک ہو ، مخدوم ساٹھ سال کا ہوگیا۔ سُنا آپ نے ، ہاں حیرت ہے۔ مگر سچ مانیئے یہ سُن کر مخدوم کے دل پر سانپ لوٹ جاتا ہے۔ خدا جانے کب سے اس نے یہ ٹرک کر رکھی ہے کہ اس کی عمر کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ ہاں کبھی کبھی کوئی خاتون محترم اپنی جوان جہاں بچی کو اس سے ملاتے وقت کہتی ہیں ، بٹےا ملویہ ہمارے ابا کے کلاس میٹ تھے۔ یا کوئی مرد بزرگ جن کے بالوں میں چاندی جھلملارہی ہے بڑے خضوع و خشوع سے ہاتھ ملا کر کہتے ہیں آپ نے پہچانا نہیں ، میں سٹی کالج میں آپ کا طالب علم رہ چکا ہوں تو بیچارے مخدوم کی عجیب حالت ہوتی ہے۔ کیونکہ جب بھی لڑکیاں گروہ در گروہ سامنے سے گزریں تو مخدوم بشرٹ کا کالر ٹھیک کرلیتا ہے۔ اس لیے کہ اس معصوم کو ابھی تک یہی خیال ہے کہ وہ سب اسی کو دیکھ رہی ہیں۔ بات اسے دیکھ کر اتنی عجیب نہیں معلوم ہوتی۔ خدا معلوم اس نے اور اس کے ساتھیوں نے مصری ممیوں کا کونسا نسخہ استعمال کیا تھا کہ برسوں سے اسے دیکھ رہے اور وہ جوں کا توں ، سدا بہار۔ میرا خیال ہے کہ ریفریجریٹر اور تھرماس بنانے والی کمپنیاں مخدوم کو بطور اشتہار استعمال کرسکتی ہیں۔ چونکہ بزنس میں نے سمجھائی ہے ففٹی ففٹی نہ سہی 51 فی صد رائلٹی کی حقدار ہوں۔۔

ہر ایک شخص جشن مخدوم میں اس کی قصیدہ خوانی پر تُلا ہوا ہے۔ سُن سُن کر جی جلا اور بُھن کر کباب ہوگیا۔ کیوں نہ جلیں ، ویسے بھی مخدوم سے جی جلتا ہے۔ مغلپورہ کے نوابوں سے لے کر چکڑ پلی کے مزدوروں تک جس کو دیکھو فیشن سا بنالیا ہے کہ مخدوم کی محبت میں مرے جارہے ہیں۔ سال بھر میں ایک ہی غزل یا نظم کیوں نہ کہے ، سارا شہر اسے منہ زبانی پکّا پانی یاد کرلیتا ہے۔ حیدرآبادیوں کی تو خیر مخدوم کمزوری بن گیا ہے۔ افیون کی طرح وہ اس کے عادی ہوگئے ہیں مگر نووارد آندھرا کے نو سکھ بھی لہرا لہرا کر " منڈیلی کے چنبولے تلے " گنگناتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اردو سیکھ گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں نے اس کا دماغ اور بھی خراب کردیا ہے۔ ایک تو شاعر ہے ، ویسے ہی اتراتا ہے ، پھر ان تعریفوں نے تو ناس ہی مار دیا اس کا۔ کریلا اور نیم چڑھا بن گیا۔ اس لیے میراجی چاہتا ہے کہ سب تعریف کریں ، تو میں ہجوگوئی پر اُتر آؤں تاکہ تریاق کا کام کرے۔ گھر میں بھی اس کی مخالفت مشکل ہے۔ چاہنے والے ہر گھر میں جو موجود ہیں۔ اس لیے یہاں زیادہ محفوظ ہوں۔ اسٹیج پر ایک نہیں کئی صدور تشریف فرما ہیں۔ جان و مال کی حفاظت کی ضمانت ہیں۔۔

مخدوم اصل میں سخت کمینہ ہے دیکھئے کئی سال ہوئے میں نے اس سے کہا تھا کہ ایک غزل لکھ دے تاکہ میں مشاعرے میں پڑھ کر داد وصول کرسکوں۔ آپ کو تو معلوم ہی ہے شاعروں پر واہ واہ ، سبحان اللہ ، مکرّر ارشاد ، تعریف و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں تو پھر جی للچا ہی اٹھتا ہے۔ مخدوم نے فوراً حامی بھرلی کہ تازہ کلام مجھے دے دے گا لیکن حال یہ ہے کہ شعر کا لفظ لفظ جس طرح وارد ہوتا ہے لوگوں کو سنانے لگتا ہے۔ پاؤ مصرعہ ، آدھا مصرعہ ، پون شعر اور پورا شعر ، ہر منزل پر سناتا جاتا ہے۔ اطراف لوگ نظر نہ آئیں تو فون پر سنائے گا۔ فون پر کوئی سننے والا نہ ملے تو لوگوں کے گھر جائے گا۔ روپیہ رہن رکھا کر رکشا کا کرایہ چونی وصول کرے گا۔ پھر روپیہ بھی ہضم کرجائے گا اور شعر سنائے گا۔ اگر کوئی ڈھنگ کا سننے والا نہ ملے تو راستہ چلتے آدمی کو روک کر سُنائے گا بلکہ اسے دیکھ کر آدمی خود سننے رک جائے گا۔ کوئی نہ ملے تو رکشا والے کو سنائے گا۔ ننھے مُنے بچوں کو سنائے گا۔ غرض وہ اسی طرح غزل یا نظم کے تمام ہونے سے پہلے اس کا ہر لفظ کئی بار سینکڑوں کو سناچکتا ہے۔ اس کا کلام مرض متعدی ہے۔ سننے والے دوسروں کو سنائیں گے اس طرح حیدرآباد کی ساری پبلک طوطے کی طرح اس کا کلام رٹ لیتی ہے۔ اس طرح تازہ غزل مجھ تک پہنچنے سے پہلے سب کو زبانی یاد ہوجاتی ہے۔ پھر آپ ہی بتایئے کمینہ نہ کہوں تو اسے کیا کہوں۔ میر کے کلام سے سرقہ کرنا آسان ہے ، ممکن ہے کسی کو پتہ نہ چلے لیکن مخدوم کا آدھا شعر بھی چوری کرلیجئے اور کسی کو سنایئے تو سننے والا بقیہ آدھا سنا کر کہتا ہے مخدوم نے کیا خوب کہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو والے خوامخواہ اس کا کلام نشر کرنے سے بچتے ہیں۔ اس کا کیا بگاڑ لیتے ہیں۔ خود ہی بدنام ہوتے ہیں وہ تو بذات خود ریڈیو اسٹیشن ہے اور بار بار اپنا پروگرام اس طرح نشر کرتا ہے کہ دور و نزدیک سب نہ صرف سُن لیں بلکہ سن کر یاد رکھنے پر مجبور ہوجائیں۔ اور جب کسی محفل میں سنانے کی فرمائش ہوتو وہ بے حد بننے کی کوشش کرے گا۔
"بھئی۔ ! یاد نہیں "۔
پبلک کے بے حد اصرار پر سناتے سناتے اٹک جائے گا اور پبلک ایک آواز ہوکر جب اسے یاد دلائے گی تو اصیل مرغ کی طرح اکڑ کر اِدھر اُدھر فخریہ دیکھے گا۔ دیکھا آپ نے شاعری اس کو کہتے ہیں اور دوسرے شاعر بے چارے غم زدہ ہوکر اپنی ناقدری کا غم بھلانے کے لیے رونے لگتے ہیں۔ کسی شاعر کو بھی اس کے اپنے شہر کے لوگ اس طرح سر آنکھوں پر نہیں بٹھاتے۔ ایسی مزاح داری نہیں کرتے ، میں نے کہا نا سب نے اس کا دماغ خراب کردیا ہے ، گھر کی مرغی دال برابر سمجھا ہی نہیں۔ صدیوں کی ناقدردانی ابنائے وطن کی روایت توڑ دی ، حد ہے بھئی واقعی حد ہے۔ وہ روز سنائے اور سال بھر تک وہی ایک چیز سناتا رہے تو بھی ہمہ تن گوش بن جاتے ہیں۔ خدا جانے کون سا منتر پڑھ کر پھونک دیا ہے۔ اکتانے کا نام نہیں لیتے ، باسی ، پرانی ، بوسیدہ غزلیں تک شوق سے سنتے ہیں اور دوسرے شاعروں کی سائیکلوجی خراب ہوتی ہے۔

اصل میں اس کی آواز میں جادو ہے۔ گہری طرح دار ، خوب اوپر چڑھی ہوئی آواز۔۔۔۔جب غزل چھیڑتا ہے تو آپ ساز بن جاتے ہیں اور اماوس کی رات میں گویا دیپک ساجل اٹھتا ہے مگر جہاں آپ نے شوق کا اظہار کیا کہ لگے۔۔۔۔ نخرے دکھانے ، اصرار کیجئے کہ غزل ترنم سے سناؤ تو تحت اللفظ پڑھنے لگے گا۔ بے سروں کو تو گانے کا شوق ہے مگر اس کا حال یہ ہے کہ ذرا آواز کی تعریف کی اور تحت اللفظ پر اُتر آیا۔ میرا خیال ہے جشنِ مخدوم میں ایک ریزولیشن پاس کردیا جائے کہ مخدوم جب سنائے ترنم سے سنائے۔ مجھ سے عرب ملکوں کی سیاحت کرکے آنے والے ایک سیاح نے کہا " اَم کلثوم ، ہائے آواز اس کی۔ ساٹھ برس کی ہوچکی مگر آواز کا جادو نہیں ٹوٹا "۔میں نے کہا آپ نے مخدوم کو نہیں سنا۔ ساٹھ برس سے تو ہم ہی سُن رہے ہیں۔ مگر آواز کا کلف نہیں ٹوٹا۔ بلکہ ابرق سی چمکنے لگی ہے۔
ریزولیشن کی بات آئی ہے تو ایک ریزولیشن اور پاس کرنا ہوگا۔ وہ یہ کہ جب بھی ادبی محفلوں میں مخدوم آئے تو اپنی لمبی تقریروں سے بور نہ کرے ، نظم سنایا کرے۔ مروت میں لوگ اس کی تقریروں کو جھیل لیتے ہیں تو سمجھتا ہے کہ اس کی تقریر سننے کے لیے بیٹھے ہیں۔ حالاں کہ سب اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ اس لمبی تقریر کے بعد شعر سنائے گا۔ تقریر سننی ہے تو راج سے سُن لیں گے۔ ہمارے لیے مخدوم شاعر ہے اور اس کا شعر سننے کے لیے ہی ہم آتے ہیں۔ تقریریں وہ ادب کی سرحد سے باہر جلسے جلوسوں میں کرسکتا ہے۔

مخدوم شاعر بھی ہے ، شخصیت بھی ، جادو بھی ہے اور جادوگر بھی۔ مگر ہے بڑا لپوٹ۔ اس کا اعتبار مشکل ہے وہ جب نہایت سنجیدگی سے باتیں کرتا نظر آئے تو سمجھ لیجئے کہ کسی کو بنارہا ہے اور سننے والے کو خبر بھی نہ ہوگی۔ آندھرا پردیش نیا نیا بنا تھا ایک خاتون اردو سے بالکل ناواقف ، اپنی دانست میں بے حد بااثر ، ایک محفل میں مخدوم کو شعر پڑھتے سن کر بے حد متاثر ہوئیں۔ آواز یقیناً کانوں میں رس گھول گئی ہوگی۔ شفقت سے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں۔ مخدوم نے سوکھا منہ بناکر مظلومیت سے دکھڑا رویا کہ بے کار ہوں۔ بے چاری ریڈیو اسٹیشن میں کام دلوانے کا پکا وعدہ کربیٹھیں اور مخدوم نے اس کی سرپرستی کے انداز کو اور شہ دی۔ انگلش میں ان سے بات کرتا اور اردو میں کمنٹری دیتاجاتا۔ پاس بیٹھنے والوں کا بُراحال تھا۔ ایکٹنگ تو اس کے لیے فطری تھی۔ خاتون کو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو لال مخدوم ہے تو پھر نام سے ہی بدکنے لگیں۔
وہ توخیر۔۔۔۔مگر یہ سردار جعفری۔ خاصا چالو آدمی ہے وہ بھی جھانسے میں آگیا۔ جب مخدوم نے اپنی آواز کا سلسلہ نسبتی حضرت بلال حبشیؓ سے ملایا تو اس نے اپنے مضمون میں لکھ مارا اور شاید آج تک خبر نہ ہوئی۔ حالاں کہ یہ چار سو بیس جب چاہتا ہے سقراط بن جاتا ہے جب چاہتا ہے قلوپطرہ اور قرة العین کا عاشق۔ یہ تو دلی کی راجدھانی جیسا ہے جس نے کبھی کسی سے سچ بولا نہ وفا کی۔ مگر وہ لوگ بھی خوب جانتے ہیں کہ وہ سنجیدہ باتیں لطیفوں کی طرح بیان کرتا ہے۔ اور گپ مارتے وقت افلاطون کی طرح سنجیدہ اور ذی شعور نظر آتا ہے۔ وہ بھی جو ہمیشہ سے اسے جانتے ہیں بارہا الّو بنے ہیں ، کھسیائے ہیں۔ وہ تو گرگٹ ہے جب دیکھئے ایک نئے رنگ میں نظر آتا ہے۔ اعتبار ہی نہیں کیا جاسکتا کہ اس بہروپیہ کا سچا روپ کون سا ہے۔۔

مخدوم اپنی مقبولیت پر آپ ہی نازاں ہے کہ مجھے سب چاہتے ہیں۔ چاہیں نہیں تو جائیں کہاں۔ جو آپ کے سر پر سوار ہی ہوجائے ، اسے سر پر بٹھانا ہی پڑتا ہے۔ کوئی گھر ایسا نہیں کہ جہاں وہ نہ جاسکتا ہو۔ عورتوں میں عورت ، مردوں میں مرد ، سیاست دانوں میں اپوزیشن لیڈر اور بچوں میں سرکس کا مسخرہ۔ میں نے بارہا اسے نہایت ہی گھریلو قسم کی عورتوں سے بگھارے بیگن یا انڈوں کے کٹ کی فرمائش کرتے اور انباڑے کے آچار کی ترکیب پوچھتے سنا ہے۔ مخدوم کو اپنے بلےو بلیک حُسن پر بڑا ناز ہے اب جو بنّے بھائی نے اسے اجنتا کی مورتی قرار دیا ہے تو خداجانے اور کیا مزاج دکھائے۔ پہلے ہی سے وہ اپنے آپ کو دکن کی سنگلاخ چٹانوں سے ترشا صنم سمجھتا ہے۔

مگر مخدوم سخت کافر ہے بُرا بھلا کہہ کر بھی عزیز رکھنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک بار شام بہاراں میں ، میں نے اسے کافر کہہ دیاتھا تو دوسرے ہی دن کئی مولویوں نے خطوط بھیجے اور بُرا بھلا کہا۔ لکھا تھا غزل کا کافر ہے سچ مچ کافر نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن راہ راست پر آجائے گا۔ عوام بھی کہتے ہیں دہریہ ہے تو کیا ہوا۔ دیکھ لیجئے۔ بڑے پیر کے نام کی برکت سے کیا نام نکالا ہے۔ یہ سب سن ، سن کر وہ مُرستا ہے۔ مُرسنا لفظ دکنی زبان میں نہایت بلیغ ہے اور وہ مخدوم پر صادق آتا ہے۔ اب بھی دیکھیئے کل سے مُرس رہا ہے۔
مجھے آج سروجنی نائیڈو کی بیٹی لیلا منی یاد آرہی ہے۔ کالج میں کوئی تقریب ہو وہ سب سے آخر میں نیشنل انتھم کی فرمائش کرتیں۔ " وہ خم گردن ، وہ دست ناز ، وہ ان کا سلام " مگر لعنت ہے مخدوم پر جس کے لیے ایسے قدردان رہے ہوں ، وہ اپنی قدر گنواتا ہے ، کچھ کہیئے تو ناراض ہوتا ہے۔ لڑنے مارنے مرنے پر آمادہ ہوجاتاہے۔ کس قدر خواہش تھی کہ وہ مقطع کہے۔ کتنے اصرار پر لکھا۔ مگر بدذوقی کی حد ہے۔ جسے چاہتا ہے شعلہ رخ، شعلہ بدن بنادیتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ ساٹھ سال عمر کا اثر چہرے مہرے پر نہ سہی آنکھوں پر ضرور ہوا ہے۔ آنکھوں کے اتنے اچھے ، اچھے ڈاکٹر شہر حیدرآباد میں موجود ہیں وہ یقیناً مخدوم کو بھی جانتے ہوں گے انہیں کیسے گوارا ہے کہ ان کی دور ، دور تک بدنامی ہو۔ اب بھی وقت ہے کہ ایک عینک اور ایک سماعت کا آلہ اس کی نذر کیا جائے۔
اس کا مجموعہ " بساطِ رقص " اجرا ہوگیا ہے کچھ نظمیں تو بالکل راک ان رول کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ بلکہ ٹوسٹ اور شیک۔ اس لیے جب بے حد ےنگ اسمارٹ لڑکیاں مخدوم کو سننے اور اڈمائر کرنے آتی ہیں اور ڈاؤن ہونے لگتی ہیں کہ اللہ کتنے سویٹ ہیں مخدوم صاحب ، تو میں خطرے کی گھنٹی بجادیتی ہوں۔ وہ جو سفید سروالے بزرگ راج بہادر گوڑ بیٹھے ہیں ناان سے مخدوم فل ٹین ایرس بڑے ہیں اور کئی نواسے نواسیوں کے نانا حضرت۔ وہ بڑی بے اعتباری سے " اوگاڈ " کہہ کر سنبھل جاتی ہےں اور وقت کے سر پر خطرہ ٹل جاتا ہے۔ خدا معلوم مخدوم کیوں نہیں سوچتا کہ اور شاعر چاہے جو کریں مگر مخدوم کو لوگ چاہتے ہیں تو اس سے کچھ معیاروں کے طلبگار بھی ہیں۔۔
مگر معلوم نہیں کیوں ہنسنے اور کھلکھلانے والا مخدوم شعر سناتا ہے تو مجھے بالکل تنہا نظر آتا ہے۔ تنہا مسافر شب گزیدہ ، جو اپنے دل کا چراغ جلائے سب کے لیے راہ تلاش کررہا ہو۔ آپ اس کی باتیں سن کر ہنستے ہوں گے مگر شعر سن کر جیسے دل پگھلنے لگتا ہے۔ اسی لیے کافر ہے ، کمینہ ہے ، سب کچھ ہے مگر بے ساختہ کہہ اُٹھتے ہیں:

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو
یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

یہ بھی پڑھیے:
میری مرغیاں - انشائیہ از ڈاکٹر زینت ساجدہ
ڈاکٹر زینت ساجدہ - ایک آواز ایک تاثر - عاتق شاہ
یاد رفتگاں - ڈاکٹر زینت ساجدہ

ماخوذ:
ماہنامہ "شگوفہ" (حیدرآباد)۔ جلد:42، شمارہ:2۔ شمارہ: فروری 2009۔

Man tera Haji bagwaim. Humorous Essay on Makhdoom by: Dr. Zeenat Sajida

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں