اردو میں جاسوسی ادب کی روایت و رفتار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-10-28

اردو میں جاسوسی ادب کی روایت و رفتار

urdu-detective-literature

اردو میں سری ادب شروع سے ہی بہت مقبول رہا ہے، لیکن ہمارے نام نہاد ناقدوں نے اسے درخور اعتنا نہیں سمجھا ہے۔ یہی وجہ ہے بلکہ المیہ ہے کہ اردو زبان و ادب کی چھوٹی بڑی تاریخوں میں بھی اس کا ذکر خال خال ہی ملتا ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جاسوسی ادب کو خارج از ادبیات سمجھ کر پوری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ اردو میں اس کے عہد بہ عہد ارتقائی جائزہ لینے کی نہ تو کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے اور نہ جاسوسی ناول نگاروں کی خدمات کو جھوٹے منہ ہی سراہا گیا ہے۔
پتہ نہیں ہمارے ناقدین کس مٹی کے بنے ہیں کہ ایک طرف تو کہتے ہیں، ادب اپنے معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے اور دوسری طرف معاشرے میں پھیلے جرائم کو اجاگر کرنے والے جاسوسی ادب کو وہ ادب ماننے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ جب ادب اور معاشرہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے تو معاشرہ اور جرائم بھی لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ویسے بھی تاک جھانک، چھان بین، تفتیش و تلاش، تجسس و تحفص اور جاسوسی و سراغ رسانی کا مادہ انسانی جبلت میں داخل ہے۔ جستجو کرتے کرتے اس کی عمر بیت جاتی ہے، اس سے مفر ممکن نہیں۔
قدیم قصے کہانیوں میں کٹنیوں کا ذکر ملتا ہے جو آسمان میں تھگلی لگانے کی دعویدار ہوتی تھیں اور کھودی اشخاص بھی پاتال کی تہہ میں سے سراغ نکال لاتے تھے۔ جنگی مہمات سرانجام دینے سے پہلے بھی جاسوسوں کی خدمات لی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں جاسوسی ادب کو مغربی ممالک کے کئی بڑے ادیبوں نے سر آنکھوں پر رکھا ہے۔ ایڈگر ایلن پوو، سر آرتھر کانن ڈائل سے لے کر اسٹینلے گارڈنر و کارٹر براؤن تک اس کے فروغ میں پیش پیش رہے ہیں اور آگے بڑھیں تو اگاتھا کرسٹی و جیمس ہیڈلے چیز تک سری ادب کی وہاں ایک شاندار و جاندار روایت ہے، پھر کیوں اردو کے نقاد ستم ایجاد اس کے قائل نہیں؟

اردو کے کلاسیکی ادب کا اگر بہ غائر مطالعہ کیا جائے تو سری ادب کی جھلکیاں ہمیں دور تک دکھائی دیں گی۔ اردو داستانوں اور حکایات و قصص میں جاسوسی کے عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ "طلسم ہوشربا" کی ساتوں جلدوں کو اگر ناولوں کا روپ دے دیا جائے تو وہ اردو میں جاسوسی ادب کی ابتدائی کہانی دہرائیں گے۔ طلسم ہوشربا کا مسخرا کردار عمرو عیار ایک اسپائی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی زنبیل میں طرح طرح کے شعبدے ہیں اور وہ خود بھی چند مافوق الفطرت قوتوں کا مالک ہے تاکہ برائی کے کارندوں سے موقع پر نبرد آزما ہو سکے۔ جاسوسی ناولوں میں عام طور پر ایسی ہی خیر وشر کی لڑائی ہوتی ہے اور آخر میں بدی کی بیخ کنی پر ان کا خاتمہ بالخیر ہوتا ہے۔ یہی کچھ قدیم داستانوں میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔

اردو میں جاسوسی ناول نگاری کی باقاعدہ شروعات کا سہرا فیروز الدین مراد اور ظفر عمر کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ فیروز الدین مراد، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں علم کیمیا کے لکچرر تھے اور اردو انگریزی دونوں زبانوں پر قدرت کاملہ رکھتے تھے۔ انہوں نے سر آرتھر کانن ڈائل کے لکھے کتابی کارناموں کو پڑھا تھا اس لیے شرلاک ہومز نامی مشہور زمانہ جاسوس کو انہوں نے اردو والوں سے متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ "حکایات شرلاک ہومز" اور "خوں نابۂ عشق" ان کی ترجمہ شدہ کتابیں ہیں۔ "خوں نابہ عشق" آرتھر کانن ڈائل کے اولین ناول "اے اسٹیڈی ان اسکارلٹ" کا اردو ترجمہ ہے۔
ظفر عمر بی اے علیگ حالانکہ فیروز دین مراد کے ہم عصر تھے۔ لیکن انہوں نے فرانسیسی جاسوسی ناول نگار مارس لیبلان [Maurice Leblanc] کے جاسوسی ادب کو اردو میں منتقل کیا۔ ظفر عمر نے "نیلی چھتری" کے ذریعے ہندوستان گیر شہرت حاصل کی اور ان کی یہ کتاب کئی بار شائع ہوئی۔ انہوں نے مارس لیبلان کے کردار آرسین لوپین [Arsene Lupin] کو "بہرام" کی شکل میں اس طرح پیش کیا کہ طبع زاد معلوم ہو۔ بہرام ڈاکو نے اردو کے جاسوسی ادب میں وہی شہرت پائی جو انگریزی میں شرلاک ہومز اور فرانسیسی میں ڈاکو آرسین لوپن کو حاصل ہے۔ ظفر عمر نے کئی ناول پیش کیے مگر ان میں کوئی بھی طبع زاد ہیں تھا۔ سبھی مارس لیبلان کے ناولوں کا ہندوستانی روپ تھے۔ اپنے ناول ''بہرام کی گرفتاری" کے پیش لفظ میں انہوں نے خود لکھا تھا:
"نیلی چھتری" جس میں بہرام کے حیرت انگیز کارنامے اول بار شائع ہوئے موسیو لیبلان فرانسیسی افسانہ نگار کی کتاب "پولی سونی" کو ہندوستانی زبان اور ہندی تاریخ و طرز معاشرت کا جامہ پہنا کر اہل ملک کی تفریح کے لیے پیش کی گئی تھی، اس کتاب نے امید سے کہیں زیادہ خراج تحسین حاصل کیا۔ "نیلی چھتری" کے بعد صد ہا ناظرین کے اصرار نے "بہرام کی گرفتاری" کی تکمیل پر مجبور کیا۔ امید ہے کہ مولف کے مصائب اور تکالیف کا اثر بہرام کی عجیب و غریب شخصیت پر نہ پڑے گا اور اس کے کارنامے اس کتاب میں 'نیلی چھتری' سے بھی زیادہ دلچسپ پائے جائیں گے۔

واضح ہو کہ یہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کا زمانہ اور اردو میں جاسوسی ادب کا ابتدائی دور تھا۔ مذکورہ دونوں صاحبان نے جاسوسی ادب کا ذوق و شوق پیدا کیا لیکن اسے بھرپور طریقے سے مقبول عام بنانے میں دوسرے دور کے قلم کاروں اور ترجمہ نگاروں نے قابل قدر مساعی کیں جن میں کچھ کے نام بڑے طمطراق سے لیے جا سکتے ہیں: منشی تیرتھ رام فیروز پوری، منشی ندیم صہبائی، خان محبوب طرزی، مرزا ہادی رسوا، پنڈت ملک راج آنند وغیرہ نے اپنے تراجم سے اردو کے دامن کو مالا مال کیا۔
رائیڈر ہیگرڈ اور رینالڈ کے مہماتی ناول بھی منظر عام پر آئے اور لوگوں میں مطالعہ کے رجحان کا گونا گوں اضافہ ہوا۔ منشی تیرتھ رام فیروز پوری تو اس ضمن میں شہنشاہ تراجم کہے جا سکتے ہیں جنھوں نے کم و بیش تقریباً ڈھائی سو ناولوں کا ترجمہ کیا ہے۔ ان کے کچھ ناول تو اس زمانے میں بار بار پڑھے جانے کے لائق تھے۔ حالانکہ منشی جی نے انگریزی زبان کے معروف مصنفین کے مشہور ناولوں کو اردو کا جامہ پہنایا ہے اور ماحول و کرداروں کے نام وغیرہ بدلنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں سمجھی ہے مگر ان کا طرز تحریر اس قدر عام فہم اور دلچسپ ہے کہ پلاٹ کا ماحول اجنبی ہونے کے باوجود قاری کے ذہن و دل پر گراں نہیں گزرتا۔ وہ "دیوتا کی آنکھ" ہو کہ "بلیک شرٹ کی واپسی" ہر ایک ناول میں انہوں نے اپنے طرز بیان سے جادو جگایا ہے اور جاسوسی ناولوں کے پڑھنے والوں کے ذوق و شوق کو پروان چڑھایا ہے۔ اسی طرح منشی ندیم صہبائی نے بھی اس زمانے میں خوب شہرت حاصل کی۔ خان محبوب طرزی اور مرزا ہادی رسوا نے اپنے تراجم سے جاسوسی ادب کو ہوا دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

تراجم کی گرم بازاری اور گہما گہمی میں کئی تجسس پسند قلم کاروں نے طبع زاد جاسوسی ناول بھی تحریر کیے اور اردو کے قارئین کو سری ادب سے جوڑے رکھا۔ پنڈت کشور چند کا نام اس سلسلے میں سرفہرست ہے کہ انہوں نے پانچ جلدوں میں "رتن بے بہا" ، دو جلدوں میں "پیاری" ، "جام دلربا" ، "بدر النسا بیگم" ، "پلیڈر کی کرتوت" اور "پدماوتی" وغیرہ لکھ کر اردو دنیا میں ہلچل مچائی۔
طالب لکھنوی نے "ایرانی کا چاند" اور "نولکھا ہار" سے اپنی قلمی حیثیت درج کرائی۔ علاوہ ازیں فدا علی خنجر کا "خوجی ٹولہ" ، نور محد عشرت کا "خونی بہرام"، احمد اللہ خاں کا "خونی ہتھکڑی" اور غالب الہ آبادی کا "خونی پہچان" ناول بھی دوسرے دور کی قابل قدر یادگاریں ہیں جو اب نایاب ہیں۔

جاسوسی ادب کا تیسرا دور نہ صرف ہنگامہ خیز ثابت ہوا بلکہ یہ جاسوسی ناول نگاری کے عروج و کمال کا زمانہ تھا۔ 1950ء کے بعد جب تیسرے دور کی شروعات ہوئی تو الہ آباد اور دہلی اس کے گڑھ بن گئے۔ مارچ 1952ء میں ابن صفی اپنا پہلا ناول ''دلیر مجرم" لے کر الہ آباد کے میدان میں اترے اور فریدی و حمید کے کرداروں کو قارئین کے سامنے پیش کیا جو آگے چل کر بے مثال ثابت ہوئے۔ دہلی میں اظہار اثر نے طبع زاد ناول "ناگن" لکھا جو مقبول ہوا اور اسی مقبولیت کی وجہ سے انہوں نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا اور چار مزید ناول "ناگن دوم"، "شمونہ"، "خونی ڈاکٹر"، "گلابی موت" کے نام سے تحریر کیے۔
لیکن تیسرا طویل دور ابن صفی کے نام سے موسوم ہے۔ انہوں نے جاسوسی ناولوں میں مزاح کی چاشنی دے کر ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی اور اپنے مستقل کرداروں کے ذریعے سراغ رسانی کے ساتھ دلچسپیوں کے سامان بھی فراہم کیے۔ سراغ رسانی، طنز و مزاح، ایڈونچر اور رومانس سے بھرے ناولوں نے اردو دنیا میں واقعی تہلکہ مچا دیا۔ جلد ہی ابن صفی ہند و پاک کے مقبول ترین اور کامیاب ترین جاسوسی ناول نگار بن گئے اور ان کے ناول لاکھوں کی تعداد میں ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہونے لگے۔ پھر تو "جاسوسی دنیا" کے ذریعے اردو دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔ ابن صفی کی ہر دل عزیزی نے یہ رنگ دکھایا کہ ان کی دیکھا دیکھی درجنوں ناول نگار سبزۂ خودرو کی طرح پیدا ہو گئے بلکہ ان کا نام بگاڑ کر این صفی، ابِّن صفی، نجمہ صفی و غیرہ نام سے لکھنے لگے تاکہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ہند و پاک میں ان کے نقالوں اور مقلدوں میں کچھ کے نام درج ذیل ہیں:
اظہر کلیم، مظہر کلیم، ابن آدم، ایس قریشی، اقبال کاظمی ، ایم۔ اے۔ راحت، حمید اقبال، اکرم الہ آبادی، مسعود جاوید، عارف مارہروی، ہمایوں اقبال، ایچ اقبال، انجم عرشی ، بدنام رفیعی وغیرہ۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی جاسوسی ادب کے پڑھنے والوں پرکوئی چھاپ نہیں چھوڑ سکا کیوں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے قلم کی جولانی نہیں دکھا سکا بلکہ صرف ابن صفی کے کرداروں کا بھدے طریقے سے چربہ اتارتا رہا اور ان کے اسلوب کی نقل کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ کامیابی ان کے قدم چھونے سے کوسوں دور رہی۔
ابن صفی نے تقریبا ڈھائی سو ناول لکھ کر 1980ء میں وفات پائی مگر جاسوسی ادب کو حیات دوام اور استحکام بخش گئے۔ الہ آباد سے "جاسوسی دنیا" ہر ماہ شائع ہوتا تھا۔ دہلی سے کئی جاسوسی ماہنامے کتابی شکل میں شائع ہونے لگے تھے جن میں کسی نہ کسی مصنف کا ناول اشاعت پذیر ہوتا تھا۔ دو جاسوسی ماہنامے تو اظہار اثر ہی شائع کرتے تھے جن میں طارق و بہرام کے تخلیق کردہ پرائیویٹ جاسوسوں کے کارنامے پیش کیے جاتے تھے۔ "سی۔آئی۔ ڈی"، "جاسوسی پنجہ"، "بدھی مان جاسوس" اور "تلاش" وغیرہ ماہنامے بھی نکلتے تھے۔
پاکستان میں ابن صفی کے شاگرد مشتاق احمدقریشی ان کے مشن کی باگ ڈور تھامے ہوئے ہیں اور ہندوستان میں آج بھی ابن صفی متواتر ڈائجسٹوں میں شائع ہو رہے ہیں۔ یہ جاسوسی ادب کا جادو نہیں تو اور کیا ہے؟

خلاصۂ تحرپر یہ کہ انسان خود مجرم نہیں بنتا بلکہ زبوں حالات اسے مجرم بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ سماج کا ڈھانچہ بدلے بغیر جرائم کی روک تھام ناممکن ہے اور جب تک جرائم ہوتے رہیں گے، جاسوسی ناول بھی لکھے جاتے رہیں گے چاہے نقاد انہیں ادب کے زمرے میں داخل کریں یا نہ کریں۔

***
ماخوذ از رسالہ:
ماہنامہ"ایوان اردو (دہلی)" شمارہ: جنوری 2018

The tradition and pace of detective literature in Urdu

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں