ممتاز مفتی حیات اور ادبی خدمات - از ریحان حسن - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-09-12

ممتاز مفتی حیات اور ادبی خدمات - از ریحان حسن - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

Mumtaz Mufti, Life and Literary works

ممتاز مفتی پوری اردو دنیا کے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا شمار افسانے کی ایسی ممتاز اور رجحان ساز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے افسانوں میں زندگی کے مسائل کو نفسیاتی الجھنوں کے پس منظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ "ممتاز مفتی حیات اور ادبی خدمات" نامی ضخیم تحقیقی کتاب میں ریحان حسن نے ممتاز مفتی کے فن کی تمام جہتوں کا غائر مطالعہ پیش کیا ہے۔
ممتاز مفتی کی 114 ویں سالگرہ (پ: 12/ ستمبر 1905 ، بٹالہ، گرداس پور، پنجاب) پر تعمیرنیوز کے ذریعے پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں یہ اہم کتاب پیش خدمت ہے۔ تقریباً سوا پانچ سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 24 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

ڈاکٹر ریحان حسن اپنی اس اہم کتاب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں ۔۔۔
ممتاز مفتی اردو ادب کی ایک ایسی منفرد شخصیت کا نام ہے جس نے مختلف نثری اصناف میں طبع آزمائی کی۔ انہیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے پریم چند سے لے کر منٹو اور عصمت وغیرہ تک کی روایت کو پروان چڑھایا۔ ممتاز مفتی نے اپنی تخلیقات میں نفسیاتی حقیقت نگاری پر توجہ مرکوز کر کے افسانے اور ناول لکھے۔
اردو ادب کا شاید ہی کوئی ایسا باذوق قاری ہوگا جس نے ان کی کہانی "آپا" نہ پڑھی ہو اور ان کے ناول "علی پور کا ایلی" کی شہرت سے واقف نہ ہو۔ "علی پور کا ایلی" کی ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسا ناول ہے جس میں کئی کردار ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ کرداروں کی ایک کھیپ ہے اور یہ سبھی ایک ایک کر کے منصۂ شہود پر نمودار ہو کر اپنے نقش ثبت کرتے چلے جاتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اس قدر کرداروں کی بھرمار کے باوجود بھی یہ ناول شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔

۔۔۔ محسوس ہوا کہ ان کے افسانوں اور ناولوں پر چند تنقیدی مضامین ہی لکھے گئے ہیں جو ناکافی ہیں۔ ہاں ان سب میں پروفیسر نذیر احمد کی تصنیف "فکشن نگار - ممتاز مفتی" اہمیت کی حامل ہے جس میں بہت حد تک ممتاز مفتی کے افسانوی ادب کا تنقیدی محاکمہ کیا گیا ہے۔ اس تصنیف سے راقم الحروف نے بھی متعدد مقامات پر اکتساب کیا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ کتاب بھی فکشن نگاری کی تنقید سے آگے نہ بڑھ سکی، نہ ہی ان کے سفرناموں، خاکوں، مزاحیہ مضامین اور مضمون نویسی پر کسی کا کوئی مقالہ میری نظر سے گزرا۔ میری دانست میں ہند و پاک کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس میں سے شاید ہی کسی نے ان کے سفرناموں اور خاکوں وغیرہ کا تنقیدی جائزہ لیا ہو۔ اسی کمی کے پیش نظر، ممتاز مفتی کی ادبی خدمات کا جائزہ لینے کی ایک ادنیٰ کوشش کی گئی ہے۔
زیرنظر کتاب "ممتاز مفتی - حیات اور ادبی خدمات" آٹھ ابواب پر مشتمل ہے جس کے پہلے باب میں ممتاز مفتی کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ دوسرے باب میں ان کے معاصرین کے حوالے سے ان کی افسانہ نگاری کا جائزہ پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں ناول کے ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہوئے اردو ناولوں میں ممتاز مفتی کے مقام کا تعین کیا گیا ہے۔ چوتھے باب میں ان کے خاکوں پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے خاکہ نگاری کی روایت میں ان کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں ان کے سفرناموں پرتفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے سفر ناموں میں بھی ایک نئے اور منفر نہج کی بنیاد ڈالی ہے۔ اس باب کو قائم کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے سفرنامے اس قدر معلومات سے پر ہیں کہ اس پر ایک باب تو ہونا ہی چاہئے تھا ورنہ بہت سارے قارئین کئی اہم معلومات سے نا آشنا رہ جاتے۔ چھٹے باب میں ان کی انشائیہ نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے انشائیوں میں وہ تمام خصوصیات نظر آتی ہیں جو اچھے انشائیہ کی شناخت ہیں۔ ساتویں باب میں مضمون نگار کی حیثیت سے ان کے مقام کا جائزہ لیتے ہوئے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ان کے مضامین میں تازگی اور جستجو کے ساتھ ہی ساتھ سفاکانہ صداقت بھی نظر آتی ہے جب کہ آٹھویں باب میں ان کے فن کا مجموعی محاکمہ پیش نظر ہے تاکہ ان کے ادبی اور فنی خدمات کا اندازہ کیا جا سکے۔ آخر میں ان کتابوں اور رسائل کی فہرست شامل ہے جن سے استفادہ کیا گیا ہے۔

- ریحان حسن
23/237 ، بنجاری ٹولہ، وکٹوریہ اسٹریٹ، لکھنؤ
drraihanhasan@gmail.com
موبائل: 00919839141074

کتاب کے باب اول "شخصیت اور سوانح" سے ایک اہم انکشاف ۔۔۔
ممتاز مفتی کی تاریخ ولادت کے تعین میں کئی مشاہیر قلم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اپنی کتاب "اردو افسانے کی روایت" میں مفتی کی تاریخ ولادت 11/ستمبر 1905 لکھتے ہیں۔ جبکہ عقیل احمد روبی ، ممتاز مفتی کی تاریخ پیدائش کے سلسلے میں کچھ یوں رقم طراز ہیں:
11/ستمبر 1995 کی بات ہے۔ سجاد حیدر کا خط آنے پر کئی ملنے والوں کو پتا چلا کہ ممتاز مفتی 11/ستمبر کو پیدا ہوئے تھے اور آج 90/ سال کے ہو گئے۔
(بحوالہ: علی پور کا مفتی، احمد عقیل روبی، ص:47)

مظہر مفتی اپنے مضمون "بولی" میں کچھ اس طرح رقمطراز ہیں:
مفتی محمد حسین اور صغریٰ بیگم کے یہاں ایک لڑکی کی پیدائش کے دو سال نو ماہ ستائیس دن بعد صبح نو بجے بروز سوموار گیارہ رجب 1313ھ بمطابق گیارہ نومبر 1905ء ایک لڑکا پیدا ہوا۔ نومولود کی نانی گلاب بیگم عرف گلابی نے نام مقبول حسین رکھا۔
(بحوالہ: بولی از: مظہر مفتی، مشمولہ مہا اوکھا مفتی، ص:89)

مظہر مفتی نے ممتاز مفتی کی تاریخ پیدائش کے تعین میں دوسروں سے اختلاف کرتے ہوئے جس تاریخ کا تعین کیا ہے اسے صحیح تسلیم کیا جا سکتا تھا کیونکہ وہ ممتاز مفتی کے قریب ترین لوگوں میں سے تھے، لیکن تاریخ پیدائش کے سلسلے میں خود ممتاز مفتی کے قلم سے تاریخ کا تعین ہو جانے کے بعد ان کی بات صحیح تسلیم نہیں کی جا سکتی کیونکہ ممتاز مفتی نے ماہنامہ "نقوش" کے "آپ بیتی" نمبر میں اپنی تاریخ پیدائش 12/ستمبر 1905 ہی بتائی ہے، چنانچہ وہ خود اپنی تاریخ پیدائش درج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
ضلع گورداس پور میں بٹالہ ایک پرانا تاریخی شہر ہے۔ 12/ستمبر 1905ء بٹالے میں پیدا ہوا۔
(بحوالہ: نقوش، مدیر محمد طفیل، ص:1141)

اس طرح ممتاز مفتی کے مندرجہ بالا بیان سے صحیح تاریخ ولادت 12/ستمبر 1905ء ہی قرار پاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:
نوباڈی - رشید نثار - ایک خدمتی - خاکہ از ممتاز مفتی

***
نام کتاب: ممتاز مفتی حیات اور ادبی خدمات
مصنف: ریحان حسن
تعداد صفحات: 521
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 24 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Mumtaz Mufti Life and Literary works by Raihan Hasan.pdf

Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

ممتاز مفتی - حیات اور ادبی خدمات :: فہرست
نمبر شمارعنوانصفحہ نمبر
1اعتراف7
2پہلا باب: شخصیت اور سوانح، ولادت، وطن، نسب، ابتدائی ماحول، پرورش و پرداخت، تعلیم، ملازمت، شادی، ادبی زندگی کا آغاز، پہلی ادبی تصنیف، معاصرین، انعامات و اعزازات10-46
3دوسرا باب: ممتاز مفتی بحیثیت افسانہ نگار۔ ان کہی، گہما گہمی، چپ، اسمارائیں، گڑیا گھر، روغنی پتلے، سمے کا بندھن، کہی نہ جائے، گڈی کی کہانی۔47-160
4تیسرا باب: ممتاز مفتی بحیثیت ناول نگار۔ سوانحی ناول: علی پور کا ایلی، لکھ نگری۔161-337
5چوتھا باب: ممتاز مفتی بحیثیت سفرنگار۔ شاہراہ ریشم، ہند یاترا، لبیک۔338-406
6پانچواں باب: ممتاز مفتی بحیثیت خاکہ نگار، پیاز کے چھلکے، اوکھے لوگ، اور اوکھے لوگ، اوکھے او لڑے۔407-455
7چھٹا باب: ممتاز مفتی بحیثیت انشائیہ نگار۔ تلاش، غبارے۔456-476
8ساتواں باب: ممتاز مفتی بحیثیت مضمون نگار۔ غبارے، رام دین۔477-503
9آٹھواں باب: مجموعی محاکمہ۔504-515
10کتابیات516-519

Mumtaz Mufti, Life and Literary works, A study by Raihan Hasan, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں