اقبال اور اس کا عہد - مضامین جگن ناتھ آزاد - تعارف کتاب
اقبال اور اس کا عہد - مضامین جگن ناتھ آزاد - تعارف کتاب
اردو دنیا کے معروف ادیب اور اقبال شناس پروفیسر جگن ناتھ آزاد کی اقبالیات پر دوسری کتاب "اقبال اور اس کا عہد" دراصل ان توسیعی لکچروں کا مجموعہ ہے جو اقبال کی شاعری کے متعلق جموں و کشمیر یونیورسٹی کی دعوت پر لکھے گئے تھے۔ تعمیرنیوز کے ذریعے اسی کتاب کا تعارف پیش خدمت ہے۔
پروفیسر جگن ناتھ آزاد (پ: 5/دسمبر 1918 میانوالی پاکستان۔ م: 24/جولائی 2004) کی اقبالیات پر منتخب تحقیقی مضامین کی کتاب "اقبال اور مغربی مفکرین" اس سے قبل ای-بک شکل میں پیش کی جا چکی ہے۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور علامہ اقبال کی شاعری سے مجھے شغف ہوا ہے، یہ کتابیں، جن کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، میرے پیش نظر رہی ہیں اور میں نے ان سے بقدر استطاعت فیض اٹھایا ہے۔ لیکن یہاں اس خلشِ دل کو ظاہر نہ کرنا بھی اظہار حقیقت کے خلاف ہوگا کہ بعض نقادانِ فن اقبال پر قلم اٹھا کر، اقبال، اردو ادب اور برصغیر ہند و پاکستان کے ساتھ بےانصافی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اقبال کیا تھے اور ان کا پیغام کیا تھا؟ یہ تو میں شاید چند لفظوں میں یا ان مقالات میں بیان نہ کر سکوں لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اقبال کو جب ہم چشمِ حقیقت سے ان کی نظم و نثر کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو اکثر و بیشتر غیر صحت مند نظریات سے، جو ان کے کلام کے ساتھ وابستہ کر دئیے گئے ہیں، ان کا قطعی کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور ہمارے ادب کی بدقسمتی یہی ہے کہ اقبال اپنے قدردانوں کے ہاتھوں کچھ اس غلط انداز میں پیش ہوئے ہیں کہ عامۃ الناس میں اقبال کے متعلق غلط فہمیوں کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔
تقسیمِ ہند کے بعد جہاں پاکستان نے اقبال کو اپنا ملی ہیرو قرار دیا وہاں ہندوستان نے اقبال سے ایک طرح کی بےاعتنائی برتی۔ یہ بےاعتنائی انہیں غلط فہمیوں کا نتیجہ تھی جو پرستارانِ اقبال نے اقبال کے بارے میں پیدا کی ہیں اور ابھی تک جن کا سلسلہ جاری ہے۔
اسلام کی محبت اقبال کے رگ و ریشے میں رچی ہوئی تھی۔ یہ کیفیت اقبال کے کلام میں اول سے آخر تک نمایاں ہے لیکن یہ اقبال اور کلامِ اقبال سے بےاعتنائی برتنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ نہ ہی اس بنا پر ہم اقبال کے نظریات کو رد کرنے کا حکم صادر فرما سکتے ہیں۔ ملٹن اور ڈانٹے ، عیسائیت کی محبت سے سرشار تھے اور تلسی داس اور رابدراناتھ ٹیگور کے کلام میں ہندو دھرم سے عشقِ بےپایاں کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ عشقِ مذہب عشقِ نبی نوع انسان تک پہنچنے کا ایک صالح ذریعہ ہے۔ ان دونوں میں اگر دیکھنے والوں کو تضاد نظر آئے تو اسے کم نظری کے سوا اور کس بات پر محمول کیا جا سکتا ہے؟
نام کتاب: اقبال اور اس کا عہد
مصنف: جگن ناتھ آزاد
تعداد صفحات: 136
سنہ اشاعت: 1989ء
ناشر: الادب، لاہور
Iqbal aur uska Ehad
پروفیسر جگن ناتھ آزاد (پ: 5/دسمبر 1918 میانوالی پاکستان۔ م: 24/جولائی 2004) کی اقبالیات پر منتخب تحقیقی مضامین کی کتاب "اقبال اور مغربی مفکرین" اس سے قبل ای-بک شکل میں پیش کی جا چکی ہے۔
پروفیسر جگن ناتھ آزاد اس کتاب کے دیباچے "حرفِ اول" میں لکھتے ہیں:برصغیر ہند و پاکستان کو اقبال کی جنم بھومی ہونے کا فخر حاصل ہے اس لیے اقبال کے بارے میں جتنی کتابیں اس برصغیر میں لکھی گئی ہیں اتنی باپر نہیں لکھی گئیں۔
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور علامہ اقبال کی شاعری سے مجھے شغف ہوا ہے، یہ کتابیں، جن کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، میرے پیش نظر رہی ہیں اور میں نے ان سے بقدر استطاعت فیض اٹھایا ہے۔ لیکن یہاں اس خلشِ دل کو ظاہر نہ کرنا بھی اظہار حقیقت کے خلاف ہوگا کہ بعض نقادانِ فن اقبال پر قلم اٹھا کر، اقبال، اردو ادب اور برصغیر ہند و پاکستان کے ساتھ بےانصافی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اقبال کیا تھے اور ان کا پیغام کیا تھا؟ یہ تو میں شاید چند لفظوں میں یا ان مقالات میں بیان نہ کر سکوں لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اقبال کو جب ہم چشمِ حقیقت سے ان کی نظم و نثر کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو اکثر و بیشتر غیر صحت مند نظریات سے، جو ان کے کلام کے ساتھ وابستہ کر دئیے گئے ہیں، ان کا قطعی کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور ہمارے ادب کی بدقسمتی یہی ہے کہ اقبال اپنے قدردانوں کے ہاتھوں کچھ اس غلط انداز میں پیش ہوئے ہیں کہ عامۃ الناس میں اقبال کے متعلق غلط فہمیوں کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی۔
تقسیمِ ہند کے بعد جہاں پاکستان نے اقبال کو اپنا ملی ہیرو قرار دیا وہاں ہندوستان نے اقبال سے ایک طرح کی بےاعتنائی برتی۔ یہ بےاعتنائی انہیں غلط فہمیوں کا نتیجہ تھی جو پرستارانِ اقبال نے اقبال کے بارے میں پیدا کی ہیں اور ابھی تک جن کا سلسلہ جاری ہے۔
اسلام کی محبت اقبال کے رگ و ریشے میں رچی ہوئی تھی۔ یہ کیفیت اقبال کے کلام میں اول سے آخر تک نمایاں ہے لیکن یہ اقبال اور کلامِ اقبال سے بےاعتنائی برتنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ نہ ہی اس بنا پر ہم اقبال کے نظریات کو رد کرنے کا حکم صادر فرما سکتے ہیں۔ ملٹن اور ڈانٹے ، عیسائیت کی محبت سے سرشار تھے اور تلسی داس اور رابدراناتھ ٹیگور کے کلام میں ہندو دھرم سے عشقِ بےپایاں کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ عشقِ مذہب عشقِ نبی نوع انسان تک پہنچنے کا ایک صالح ذریعہ ہے۔ ان دونوں میں اگر دیکھنے والوں کو تضاد نظر آئے تو اسے کم نظری کے سوا اور کس بات پر محمول کیا جا سکتا ہے؟
اس کتاب کا تعارف، اشاعتی کوائف، فہرستِ مضامین اور دیگر معلومات علمی، ادبی اور تحقیقی استفادے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
***نام کتاب: اقبال اور اس کا عہد
مصنف: جگن ناتھ آزاد
تعداد صفحات: 136
سنہ اشاعت: 1989ء
ناشر: الادب، لاہور
Iqbal aur uska Ehad
| اقبال اور اس کا عہد - از: جگن ناتھ آزاد :: فہرست مضامین | ||
|---|---|---|
| نمبر شمار | عنوان | صفحہ نمبر |
| 1 | انتساب | 7 |
| 2 | حرف اول | 10 |
| 3 | شعر اقبال کا ہندوستانی پس منظر | 15 |
| 4 | اقبال کے کلام کا صوفیانہ لب و لہجہ/td> | 53 |
| 5 | اقبال اور اس کا عہد | 93 |
| 6 | کتابیات | 131 |
Iqbal aur uska Ehad, a collection of research Articles by Jagan nath Azad.

گفتگو میں شامل ہوں