دیوآنند - لاہور سے نکلا سدا بہار اداکار - فلمی الف لیلیٰ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-06-23

دیوآنند - لاہور سے نکلا سدا بہار اداکار - فلمی الف لیلیٰ

Dev Anand an actor Romancing with Life
سنیل دت کی لاہور سے محبت اور اپنے پرانے آبائی گاؤں سے عقیدت کے واقعات آپ سن چکے ہیں ۔ آپ کو اب ایسے فنکار کے بارے میں مختصراً بتایاجارہا ہے جو لاہور میں پلا بڑھا، لاہور کے مشہور اور معروف گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کی۔ یہاں کی ثقافتی سر گرمیوں میں حصہ لیا اور پھر روشن مستقبل کی تلاش میں بمبئی کا رخ کیا۔ اس فنکار کا نام دیو آنند تھا ۔ دیو آنند کے خاندان کو فن سے محبت ورثے میں ملی تھی ۔ دیو آنند کے اور بھائی چیتن آنند اور کیتن آنند نے بھی لاہور ہی میں اپنے فن کو جلا دی تھی ۔ یہ لوگ ایک روشن خیال تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ انہوں نے بر صغیر کی فلمی صنعت کو وقار اور نام دینے میں بہت نمایاں حصہ لیا۔ چیتن آنند کی فلم "نیچا نگر" پہلی ہندوستانی فلم تھی جسے بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھایا گیا اور ہندوستان کی فلمی صنعت کا باقی دنیا سے تعار ف کرایا گیا۔
دیو آنند نے 83 سال کی عمر میں اپنی خود نوشت لکھی تھی۔ اس کے دو سال بعد ان کا انتقال ہوگیا ۔ اپنی سوانح عمری میں انہوں نے اپنی زندگی، فلمی سفر اور اپنے ہم عصر اداکاروں اور ہنر مندوں کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا ۔ دیو آنند ایک کشادہ دل اور غیر متعصب انسان تھے، اور اپنی رائے کا بہت دیانت اور خلوص کے ساتھ اظہار کرتے تھے ۔ مثال کے طور انہوں نے واضح الفاظ میں اپنی سوانح میں لکھا کہ دلیپ کمار انڈیا کے سب سے عظیم اداکار ہیں۔ یہ خیال رہے کہ سن 50 اور 60 کی دہائی میں دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور تین بڑے اور نامور اداکار کہلاتے تھے ۔ دیو آنند نے خود بھی فلم سازی کی اور بہت خوبصورت اور یادگار فلمیں بنائیں۔ راج کپور کو ہنودستان کا سب سے بڑا "شوماسٹر" کہاجاتا تھا۔ فلمی اخباروں میں ان تینوں کے اختلافات اور رومانی معرکوں کے واقعات بھی بیان کیے جاتے تھے ۔ لیکن در حقیقت ان کے آپس میں بہت اچھے اور دوستانہ تعلقات تھے ۔
دیو آنند اس لحاظ سے دوسرے اداکارں اور فلم سازوں سے مختلف تھے کہ وہ فلمی تقاریب اور دوسری محفلوں میں شریک نہیں ہوتے تھے ۔ ان کے ملاقاتیوں اور دوستوں کی تعداد بہت محدود تھی ۔ س سے وہ باہر نہیں جاتے تھے ۔ وہ اداکاری فلم سازی اور پھر ہدایت کاری میں مصروف رہتے تھے ۔ فلم ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آخر دم تک وہ کام میں مصروف رہے ۔
دیو آنند کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ظاہر یہ کرنا ہے کہ دیو آنند دوسرے بہت سے پنجابی فن کاروں کی طرح لاہور میں رہتے تھے اور لاہور سے جانے کے بعد بھی لاہور کی یادیں ان کے دل سے نہ نکل سکیں۔ لاہور والے بھی انہیں بہت پسند کرتے تھے ۔
دیو آنند26ستمبر1923ء کو لاہور سے تقریباً پچاس میل کے فاصلے پر ایک گاؤں گھروٹہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ گھروٹہ تحصیل پٹھان کوٹ میں ہے ۔ اس وقت پٹھان کوٹ ضلع نہیں تھا تحصیل تھی، جو ضلع گرداسپور میں واقع تھا۔ ان کا بچپن اور لڑکپن گورداسپور میں گزرا جہاں ان کے والد وکالت کرتے تھے ۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ ان کے بچے اعلی تعلیم حاصل کریں اس لئے میٹرک پاس کرنے کے بعد دیو آنند کو گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیج دیا۔ لاہور میں رہ کر ان کی صلاحیتیں اور زیادہ نکھر گئیں اوران کی شخصیت کی تعمیر گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہوئی۔
2007ء میں ان کی خود نوشت سوانح عمری نئی دہلی سے شائع کی گئی۔ اس کا نام Romancing with life ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کتاب انگریزی میں لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے ذریعے معلوم ہوا کہ دیو آنند کی پہلی محبت ان کی ایک کلاس فیلو ایشا چوپڑہ تھی لیکن یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا ۔ دیو آنند نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بمبئی کا رخ کیا ۔ لاہور سے دیو آنند 1943ء میں بمبئی گیا تھا ۔ اس کے بعد دیوآنند پہلی بار 1999ء میں سمجھوتا بس کے ذریعے بھارتی وزیر اعظم داجپائی کے ساتھ لاہور آیا۔ جب اس نے لاہور کی سر زمین پر قدم رکھا تو جذبات کی شدت کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ پاکستانک ے وزیر اعظم نواز شریف نے اس کا خصوصی طور پر استقبال کیا۔
بمبئی میں دیو آنند نے بہت جلد نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ دراصل دیوآنند نے اپنے آغاز کی فلموں میں اینگری ینگ مین کا کاکردار ادا کیا جو بعد میں امیتابھ بچن نے اپنا کر بہت مقبولیت حاصل کی۔ دیو آنند نے بہت جلد اپنی کارکردگی کی وجہ سے ہندوستان کے تین بڑے اداکاروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرالیا۔ دیو آنند کی فلمیں پاکستان آیا کرتی تھیں اور بہت مقبول تھیں۔ ضدی، بازی، جال، آرام، سزا، ٹیکسی ڈرائیور، ہاؤس نمبر44اور دوسری فلموں کی وجہ سے وہ سارے بر صغیر میں شہرت حاصل کرچکے تھے۔1965ء کی جنگ کے بعد پاکستان میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی لگادی گئی ۔ کچھ عرصے بعد ویڈیو اور سی ڈیز کی وجہ سے پاکستان میں بھارتی فلمیں دیکھی جانے لگیں ۔ اس طرح پاکستانیوں کو سی آئی ڈی، کالاپانی ، ہم دونوں، گائیڈ اور کئی دوسری مشہور فلمیں دیکھنے کا موقع ملا۔
دیو آنند نے لاہور سے بمبئی جاکر اداکاری شروع کی تو اداکارہ اور گلوکارہ ثریا کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا ، اور وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں ڈوب گئے ۔ ثریا اپنے دور کی مقبول اداکارہ اور گلوکارہ تھیں۔ اس وقت بمبئی کی فلمی صنعت میں دو اکارائیں ایسی تھیں جو کہ ہیروئن بھی تھیں اور اپنی آواز کا جادو ایسے جگاتی تھیں کہ ایک دنیا ان کی دیوانی تھی ۔ ان میں ایک تو نور جہاں تھیں اور دوسری ثریا۔ ثریا نے بہت سی یادگار فلموں میں کام کیا۔ ان کی آواز نور جہاں اور دوسری گلوکاراؤں سے مختلف تھی ۔ ثریا کی آواز میں ایک ایسی لگاوٹ اور کشش تھی جو دوسری گلوکاراؤں میں نہ تھی۔
بہر حال جب دیو آنند نے ثریا کے ساتھ کام کیا تو ان کی باتوں اور دلکش شخصیت سے بہت متاثر ہوا۔ ثریا کی شخصیت میں جو حسن اور کشش تھی اس نے سارے ہندوستان کو پاگل بنارکھا تھا۔ ثریا اور نور جہاں اس زمانے میں سب سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے والی فن کارائیں تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ نور جہاں کے پاکستان چلے جانے کے بعد ثریا کے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔ لیکن بعد میں نئی گلوکارائیں فلمی صنعت میں شامل ہوئیں۔ خاص طور پر لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے نے شمشاد بیگم جیسی گلوکارہ کو بھی گھر بیٹھنے پر مجبور کردیا۔
ادھر ثریا کی نجی زندگی میں ایک انقلاب اور انتشار پید اہوچکا تھا۔ دیو آنند اور ثریا کی محبت کی خبریں سارے ہندوستان میں عام ہوگئیں ثریا کی ڈکٹیٹر قسم کی نانی اور خود غرض ماں کی ہرگز یہ رضا مندی نہیں تھی کہ ثریا دیو آنند سے شادی کرے۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ مذہب کی وجہ سے ان دونوں کی شادی نہیں ہوسکتی ۔ سنا ہے کہ دیو آنند نے یہ شرط بھی منظور کرلی کہ وہ مسلمان ہوجائے گا لیکن نانی اور ماں دیوار بن کر دونوں کے راستے میں کھڑی ہوگئیں اور شادی سے صاف انکار کردیا۔ اصل بات یہ تھی کہ ثریا ایک سونے کا انڈا دینے والی مرغی تھی ۔ ان کے لئے ایک خزانہ تھی، وہ اس کو کسی اور کے سپرد کیسے کرسکتی تھیں۔ بہر حال ثریا مجبور ہوکر وہ گئی اور یہ شادی نہ ہوسکی ۔ دیوآنند کچھ عرصے غم غلط کرنے کے کوشش کرتا رہا اور پھر اس نے فلم ٹیکسی ڈرائیور کی ہیروئن کلپنا کارتک سے شادی کرلی ، کلپنا کارتک ایک کرسچن لڑکی تھی کلپنا کارتک کے والدین امرتسر میں رہتے تھے اور اس کا اصل نام مونا سنگھ تھا۔ یہ شادی تو ہوگئی لیکن کامیاب نہ ہوسکی ۔ شاید دیو آنند ثریا کو نہ بھول سکاتھا یا پھر ان دونوں میں ذہنی ہم آہنگی نہ تھی ۔ دیو آنند دن رات اپنے کام میں مصروف رہتا تھا ۔ اس کے پاس گھر اور کلپنا(مونا سنگھ) کے لئے وقت نہ تھا۔
فلمی صنعت کو یہ علم تھا کہ ان دونوں کی ازدواجی زندگی محض رسمی ہے ۔
دونوں ایک لڑکے کے ماں باپ بھی بنے جو اب فلمی کاروبار سے منسلک ہے ۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنی سوانح عمری میں دیو آنند نے اپنی بیوی اور گھریلو زندگی کے بارے میں ایک سطربھی نہیں لکھی جو کہ بہت عجیب بات ہے۔
دیو آنند نے تو حالات سے سمجھوتا کرکے جیسے تیسے اپنے آپ کو کام میں گم کردیا مگر ثریا کی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ ثریا کی نانی کا انتقال ہوگیا جس کا تمام دولت اور فیصلوں پر اختیار تھا ۔ نانی کے مرنے کے بعد ثریا نے آزادی کا سانس لیا۔ وہ انڈین فلمی دنیا کی سب سے دولت مند فن کارہ تھی۔ اس کی جائداد اور دولت بے حساب تھی۔ اب وہ اپنی سب چیزوں اور اپنی زندگی کی مالک بن چکی تھی۔
اس نے1962ء میں عین عروج کے زمانے میں فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ فلموں میں اداکاری اور گلوکاری ترک کردی اور اس کے بعد نہ تو کسی نے ثریا کو گاتے ہوئے سنا نہ اس کی اداکاری کی ایک جھلک دیکھی۔ ثریا نے ایک تنہا زندگی اختیار کرلی تھی ۔ وہ کسی فلمی تقریب یا کسی محفل میں نہیں جاتی تھی۔ کسی سے ملتی نہیں تھی۔ نہ کسی نے اس کی آواز سنی نہ صورت دیکھی۔ ثریا لاہور میں پیدا ہوئی تھی، اس اس کے ماموں اور دوسرے رشتے دار لاہور ہی میں رہتے تھے ، لیکن ثریا کا کسی سے واسطہ نہ تھا۔ اپنی ماں کو اس نے اپنے گھر سے رخصت کردیا اور پھر اس کی صورت تک نہ دیکھی ۔ جب ماں بیمار ہوئی تو ثریا نے پلٹ کر خبر نہ لی۔ کروڑ پتی بیٹی نے ماں کو علاج کے لئے کسی اچھے اسپتال میں بھی داخل نہیں کیا ۔ اس نے ایک بے سہارا اور مفلس عورت کی طرح ایک امدادی اسپتال میں زندگی کی آخری سانس لی ۔
یہ ثریا کا انتقام تھا ۔ خود سے بھی اور اپنے رشتے داروں سے جنہوں نے کبھی اس کے احساسات کو نہیں سمجھا ، اس کے جذبات کو نظر انداز کردیا۔ اسے ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جو موت سے بدتر تھی ۔ جس طرح فرعون مرنے کے بعد اہرام میں اپنی لاش دفن کرلیتے تھے اسی طرح ثریا نے جیتے جی خود کو میرئین ڈرائیو کے خوبصورت اور قیمتی"اہرام" میں زندہ درگور کرلیا تھا۔ وہ اس دور کی انار کلی تھی جسے جیتے جی دیوار میں چنوا دیا گیا تھا۔ مگر یہ دیوار ثریا نے بذات خود بنوائی تھی۔
دیو آنند ایک روشن خیال اور ترقی پسند شخص تھا۔ اسی لئے اس کی اکثر فلموں کے نغمات ساحر لدھیانوی لکھتے تھے ۔ دیوآنند کی بیوی کلپنا کارتک کا خاندان لاہور میں کرشن نگر میں رہتا تھا ۔ یہ لوگ پاکستان ہی میں رہے ۔ انہوں نے ہندوستان جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
دیو آنند لاہور کی یاد کی آگ میں سلگتا رہا لیکن کبھی اپنی جنت میں نہیں آیا۔
1999ء میں پاک و ہند دوستی کا چرچا ہوا تو ایک خاص سمجھوتا بس میں بیٹھ کر بھارتی وزیر اعظم واجپائی اور کچھ اہم منتخب لوگ پاکستان آئے تو اس بس کا اہم ترین رکن دیو آنند ہی تھا۔ وزیر اعظم سے لے کر دوسرے تمام بس کے مسافر اس سے مرعوب تھے ۔ دیوآنند نے اپنی سوانح عمری میں لاہور کے اس دور کے واقعات لکھے ہیں۔
گورنمنٹ کالج کے دورے کے بارے میں دیو آنند کی زبانی سنئیے۔
" جب میں نے گورنمنٹ کالج کی عمارت دیکھی تو طالب علمی کے زمانے کی تمام خوبصورت یادیں تازہ ہوگئیں۔" یہاں دیو آنند نے اپنے پرانے استادوں اور ساتھی طلباء سے باتیں کیں۔ میں نے حمید اللہ خان برکی سے ملاقات کی جو ہمارے کالج کے بہترین ہاکی پلیئر تھے ۔ پرانی یادیں میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ میں نے کالج کی پہلی منزل کی گیلری میں سب سے پہلے اوشاکرن کو اپنے پاس سے گزرتے ہوئے دیکھا، اس نے ہاتھ میں کتابیں اٹھائی ہوئی تھیں اور ایک شرمیلی خاموش نظر ڈال کر میرے پاس سے گزر گئی ۔ وہ ایک ساڑی میں ملبوس تھی۔ میں نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی مگر وہ خاموشی سے گزر کر چلی گئی۔ اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح معصومیت تھی۔ میں نے جھجکتے ہوئے اور شرماتے ہوئے اسے ہیلو کہا مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کالج کے برآمدے میں اس کی۔۔۔ جوتی کیی اونچی ایڑی کی آواز میں دیر تک سنتا رہا۔ پر وہ آواز بھی معدوم ہوگئی۔
کالج کے پرانے طلباء کو میرے کالج میں آنے کی خبر ملی تو وہ سب کے سب دوڑے آئے ۔ مجھ سے گلے ملے۔ مجھے پرانے نام سے پکارتے رہے۔ کئی لڑکوں نے فلم ٹیکسی ڈرائیور، کا نغمہ بنسری پر بجانا شروع کردیا۔ وہ اس طرح خوش ہورہے تھے جیسے کوئی گمشدہ قیمتی چیز انہیں مل گئی ہو۔ میری خوشی بھی بے انتہا تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے میں نے اپنی کھوئی ہوئی جنت کو پالیا ہے ۔ ان سب نے مجھے بتایا کہ گورنمنٹ کالج جتنا کہ ان کا ہے اتنا ہی میرا بھی ہے ۔"
دیو آنند نے پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کا بھی تذکرہ کیا۔ اس نے لکھا کہ وزیر اعظم اس سے بہت محبت اور خلوص سے پیش آئے ۔ ہم دونوں بہت جلد ایسے گھل مل گئے جیسے کہ عرصہ درواز سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں، انہوں نے ایک خالص پنجابی کی طرح لاہوری انداز میں خاطر مدارات کی۔ وہ خود بھی گورنمنٹ کالج لاہور کے پڑھے ہوئے ہیں۔ اس طرح ہم دونوں کالج فیلو رہے ہیں۔
جب کچھ عرصے بعد دیو آنند کی وفات کی خبر ملی تو نواز شریف بہت دیر تک خاموش اور غمگین بیٹھے رہے ۔ وزیر اعظم دیو آنند کو اپنا ذاتی دوست کہتے تھے ، اور سمجھتے تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کو قریب لانا ان کی سب سے بڑی خواہش تھی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے دیو آنند کی وفات پر اظہار افسوس تک نہیں کیا حالانکہ بالی ووڈ کے فن کاروں نے ان کے اسپتال کے لئے فنڈ جمع کرنے مین بہت مدد کی تھی ۔ دیو آنند بالی ووڈ کے لیجنڈ تھے ۔ اشتیاق صاحب کو کسی نے بتایا کہ دیو آنند کسی زمانے میں عمران خان کو اپنی فلم میں ہیرو کے طور پر کاسٹ کرنا چاہتے تھے ۔
دیو آنند کی خود نوشت سوانح عمری پڑھنے کے قابل ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لئے جو دیو آنند کے پرستار تھے ۔ دیو آنند نے بہت لمبی عمر پائی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ وہ آخری دم تک کام کرتے رہے اور صرف شدید بیماری کے دنوں میں ہی انہوں نے کام چھوڑا تھا۔ وہ ہمیشہ نئے موضوعات کے بارے میں فلمیں بنارتے رہتے تھے اور دنیا کے ہر ملک میں انہوں نے فلم بندی کی۔ ان کی خواہش تھی کہ ایک فلم پاکستان میں بھی بنائیں مگر یہ خواہش حسرت ہی رہی۔ انہیں اپنے کام سے عشق تھا اور یہ عشق مرتے دم تک قائم رہا۔ دوسرے بڑے فن کاروں کی طرح دیو آنند جیسا فن کار اور شخصیت بھی دوبارہ بالی ووڈ کو نصیب نہ ہوگا۔
یہ بتانا ہم بھول گئے کہ ثریا کا 2012ء میں انتقال ہو گیا۔ خدا جانے ان کی دولت انہوں ںے کس کے حوالے کی یا کسی فلاحی ادارے کو دے دی ۔ یہ بھی ایک قابل ذکر بات ہے کہ 1962ء کے بعد کسی نے ثریا کی ایک جھلک تک نہیں دیکھی ۔ کیسے کیسے وضعدار لوگوں سے یہ دنیا خالی ہوتی جارہی ہے ۔
بڑے بڑے فن کار دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ جب ان کی مقبولیت اور عروج کا زمانہ ہوتا ہے تو وہ آسمانوں پر رہتے ہیں ۔ ایک دنیا ان کے پیچھے دیوانی ہوتی ہے ۔ دنیا کا کون سا عیش و آرام ہے جو انہیں حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن کتنا ہی بڑافن کار کیوں نہ ہو وہ عروج کے بعد زوال کا شکار بھی ہوتا ہے ۔ جوانی کے بعد بوڑھا بھی ہوتا ہے اور پھر پت جھڑ کے پتوں کی طرح درخت سے گر کر خاک میں مل جاتا ہے ۔

ماخوذ از:
ماہنامہ 'سرگزشت' (پاکستان)، مارچ 2014 ، قسط:225

Dev Anand, an actor Romancing with life. Article: Ali Sufyaan Afaqi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں