اردو میں ادب اطفال - صنف ناول اور کرشن چندر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-17

اردو میں ادب اطفال - صنف ناول اور کرشن چندر

ulta-darkht-krishan-chander
راشد الخیری کے بعد اس صنف ادب میں ایک خلا پیدا ہو گیا تھا ، جسے اردو کے مشہور ومعروف افسانہ نگار کرشن چندر نے پر کیا ہے ۔ انہوں نے تقسیم کے بعد بچوں کے ادب کی طرف توجہ کی ہے اور اب تک متعدد ناول لکھ چکے ہیں۔جن میں چڑیوں کی الف لیلہ، اور الٹا درخت کو قبول عام کا درجہ حاصل ہوا ہے ۔ ہر دو ناول بچوں کے مشہور رسالہ، کھلونا دہلی میں قسط وار چھپتے رہے ہیں۔ اول الذکر ایک ایسے ننھے راج کمار کی کہانی ہے،جس کی حکومت پر ظالم چچا نے زبردستی قبضہ کرلیا تھا ، وہ کسی طرح جنگل میں پہنچ گیا جہاں بھیڑنی نے اسے دودھ پلایا، اور شیر، ہاتھی ،گینڈے ، چیتے اور دوسرے جنگلی جانوروں نے مل کر اس کی پرورش کی، جنگل میں پلے ہوئے اس راجکمار نے بڑے ہوکر اپنی عقل سے جانوروں کو مقابلہ میں ہرا کر اپنا مطیع بنالیا۔ پھر جنگلی جانوروں اور پرندوں کی فوج تیار کر کے ظالم راجہ سے نبرد آزما ہوا ۔ اور اسے شکست دے کر اپنی حکومت حاصل کی ۔
کرشن چندر نے اس ناول کے ذریعہ دو باتیں بچوں کے ذہن نشین کرائی ہے۔ اول یہ کہ جانور صحیح معنوں میں خونخوار اور درندے نہیں ہوتے ، ان کے اندر رحم کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے ۔ ناول نگار نے دوسری جس چیز پر روشنی ڈالی ہے، وہ انسانک ی عظمت اور سر بلندی ہے ۔ اکیلا راجکمار جنگل کے تمام جانوروں کو اپنا مطیع بنالیتا ہے اور ان کی فوج تیار کر کے اپنا کھویا ہوا ملک حاصل کرلیتا ہے ۔ اس طرح کرشن نے بچوں کو بتایا ہے کہ انسان تمام مخلوقات میں اعلی و افضل ہے۔ اس کے اندر آفاقی قدریں ہیں، ان کو اجاگر کرنے سے وہ ساری کائنات پر چھا سکتا ہے ۔ یہ ناول خاصا دلچسپ ہے، اس لئے کہ اس کے اندر جانوروں کی عجیب و غریب دنیا آباد ہے ۔بچوں کے لئے یہ موضوع نیا اور اچھوتا ہے ، اس لئے وہ ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں ۔
دوسرے ناول الٹا درخت کو بھی بچوں میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ہے روس میں اسے قدر کی نگاہوں سے دیکھا گیا اور وہاں اس کی فلم بھی بن چکی ہے ۔ اس ناول کا ہیرو ایک لڑکا یوسف ہے ، جس کا باپ مرچکا ہے ، ماں بیٹے ساتھ رہتے ہیں۔ جب فاقہ کی نوبت آتی ہے تو یوسف گائے بیچ کر جادو کے بیج حاصل کرتا ہے ، جسے زمین میں بودیتا ہے ، ایک تناور درخت زمین کے اندر ہی اندر اگ آتا ہے ، یوسف اس درخت پر چڑھ کر اندرونی دنیا کی سیر کو نکل جاتا ہے ۔ اس کا یہ سفر بڑا ہی دلچسپ ہے، وہ کالے دیو کے شہر میں پہنچتا ہے ، جہاں کے سب امیر لوگ کالے اور غریب سفید ہیں، پھر وہ مشینوں کے شہر میں آتا ہے، جہاں اونچی اونچی عمارتیں ہیں، کارخانے ہیں، دکانیں مٹھائیوں سے اٹی پڑی ہیں، لیکن اس شہر میں آدمی کا نام و نشان نہیں ، ایک لڑکا، صفر صفر ایک نام کا، سارے شہر پر حکومت کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ کی تمام انگلیاں کٹی ہوئی ہیں، صرف انگوٹھا باقی ہے ۔ یوسف اس سے دوستی کرلیتا ہے۔ دونوں وہاں سے نکل کر جادو کی دنیا میں جاتے ہیں جہاں الہ دین اور سلیمان ٹوپی والا اپنا اپنا کرتب دکھاتے ہیں ۔
اس ناول کو دلچسپ بنانے کے لئے کرشن چندر نے ایک خیالی دنیا کا رنگ بھرا ہے ، پرانی داستانوں کی طرح ایک قصے سے دوسرا قصہ پیدا کرتے چلے گئے ہیں ۔ لیکن اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ یہ ناول لکھتے وقت کرشن چندر نے بارہا اپنے گہرے سیاسی امور کی طرف مراجعت کی ہے ۔ اور ایسی باتیں لکھ گئے ہیں جو معصوم قادری کی ذہنیت سے بہت بلند ہیں۔ خاص کر سرمایہ داری کے خلاف انہوں نے جو گل افشانی کی ہے، وہ ایک ایسا موضوع ہے ، جسے بچوں کے ادب سے دور ہی رکھنا چاہئے تھا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے ،وہ لکھتے وقت یہ بھول گئے کہ ناول کے مخاطب کون لوگ ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
یہ دیکھ کر ان کو اور بھی اچنبھا ہوا کہ اس دیوار کی بنیادوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ بنے ہوئے ہیں اور چھوٹے چھوٹے دیوزادے ان طلائی زنجیروں کو کھینچ کھینچ کر ان سوراخوں میں ڈال رہے ہیںجو انسانوں کے پیروں میں بندھی ہوئی ہیں۔
رمزیت کے روپ میں ظلم ، تشدد اور سرمایہ پرستی کی طرف جو اشارہ کیا جارہا ہے ، اسے ننھے قاری کیوں کر سمجھ سکتے ہیں ،کرشن چندر کے گہرے سیاسی شعور کا لمس بچوں کے ناول کے لئے موزوں نہیں ۔
رمزیت و معنویت کی دبیز چادر نصف ناول پر محیط ہے۔ بعد میں یہ آہستہ آہستہ سرکنے لگتی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مصنف کا پختہ شعور بچوں کے ادب کی خصوصیات کی طرف منتقل ہوچکا ہے ۔
اس ناول میں کردار نگاری کی عمدہ مثال ملتی ہے ۔ سب سے اہم اور دلچسپ کردار سبز قبا والے بوڑھے شخص کا ہے جو حد درجہ نیک اور شریف ہے ۔ ناول کے کینوس پر ظاہر ہوتے ہی یہ نوعمر قارئین کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے ۔اس کی نیکی اور شرافت کا اظہار اس کے پہلے ہی جملے سے واضح ہوجاتا ہے :
"کیا بات ہے بچو! کیوں روتے ہو؟‘‘
پیر مرد کے اس جملے سے شفقت کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ، سبز قبا اور نورانی داڑھی والا یہ انسان کمسن بچوں کا ہمدرد بن جاتا ہے ۔ ہر قدم پر ان کی مدد کرتا ہے اور آخر میں انہیں ساتھ لے کر زمین سے باہر آجاتا ہے ۔ بچے اس سے بے حد محبت کرنے لگتے ہیں ، اور جب وہ چلتے وقت یہ کہتا ہے :
"یوسف! سبھی چھوٹی لڑکیاں شہزادیاں ہوتی ہیں۔تم اس کو اپنے گھر میں رکھو اور اپنے دوست موہن کو بھی اپنے گھر میں رکھو۔ اپنی ماں کی خدمت کرو، اپنے گاؤں والوں کو اپنے علم اور تجربے سے فائدہ پہنچاؤ"۔
تو بچے اس کی نصیحت نہایت خوشی سے قبول کرلیتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ بچوں کا دوست ہے ۔ دوسروں کی مدد کرتا ہے ، اس نے یوسف کی جان بچائی۔ اور اس نے گاؤں والوں کو ظالم راجہ سے نجات بھی دلوائی ۔ ایسا شخص بچوں کے دلوں میں گھر کرلیتا ہے ۔ اور بچے اس کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔
الٹا درخت چند خامیوں کے باوجود بچوں کا بہت اچھا ناول ہے اور ہم مجموعی طور پر اس کے متعلق مشہور ڈرامہ نگار ریوتی شرن شرما کے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں:
"ایک معصوم قاری کے لئے یہ عجیب و غریب اور دلچسپ داستان ہے ۔ بچوں کے لئے اس میں دلچسپی کا پورا مواد موجود ہے ۔
کرشن چندر نے دلچسپ ناول لکھ کر بچوں کی ناول نگاری کو خاصا آگے بڑھادیا ہے ۔"

ماخوذ از کتاب: اردو میں بچوں کا ادب
تالیف: محمود الرحمن

Children Urdu Literature, Novel & Krishan Chander. Article: Mahmood ur Rahman.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں