امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2024-06-21

امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

Uthman-ibn-Affan

خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔ آپ ان خوش قسمت شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے ابتداء میں اسلام قبول کیا۔ ابن اسحاق کے قول کے مطابق آپ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن حارثہؓ کے بعد مردوں میں چوتھے آپؓ ہیں جو مشرف بہ اسلام ہوئے۔
آپ سخاوت، محاسن اخلاق، حلم و وقار، تقوی و طہارت اور حسن معاشرت میں اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ تاریخ انسانیت میں ایک منفرد مقام اللہ تعالی نے حضرت عثمان غنی کو عطا فرمایا۔ سوائے آپؓ کے، کسی نبی کی دو بیٹیاں کسی امتی کے نکاح میں یکے بعد دیگرے نہیں آئیں۔ غزوہ بدر کے فوراً بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری صاحبزادی اور حضرت عثمان غنی کی اہلیہ حضرت رقیہ کا وصال ہو گیا تو حضرت عثمان ان کی جدائی میں بہت غمگین رہا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم کا نکاح آپ کے ساتھ کر دیا۔ آپ امت مسلمہ کے عظیم محسن ہیں۔


ہجرت کے بعد مسلمانوں کیلئے پینے کے پانی کی سخت تکلیف تھی۔ آپ نے ایک یہودی سے منہ مانگی قیمت ادا کر کے صاف شفاف پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔ اس موقع پر آپ کو زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت الفروس کی خوشخبری ملی۔ مسجد نبوی شریف کی توسیع کیلئے پچیس ہزار درہم کی ملحقہ زمین خرید کر وقف کر دی۔ غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ طیبہ میں مسلمان تنگدستی کا شکار تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بڑھ چڑھ کر مالی تعاون کی تلقین فرمائی۔ حضرت عثمان غنی نے تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش کئے۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: "آج کے بعد کوئی عمل عثمان کو نقصان نہیں دے گا"۔
تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل کی روایات کے مطابق آپ نے ایک ہزار اونٹ مع ساز و سامان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے۔ اس غزوہ کے موقع پر آپ نے ایک ہزار نقد دینار پیش کئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر تین دفعہ دعا کی: "اے اللہ، میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا" (ازالۃ الخفاء)
دور صدیقی میں جب قحط سالی کی صورت پیدا ہوئی تو آپ نے ایک ہزار اونٹوں پر آنے والا غلہ محتاجوں میں تقسیم فرما دیا۔ حالانکہ تاجر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کیلئے تیار تھے۔ غزوہ بدر کے موقع پر آپ کی اہلیہ حضرت رقیہ سخت بیمار تھیں۔ ان کی تیمارداری کی وجہ سے آپ شریک نہ ہو سکے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بدری صحابہ میں شمار کرتے ہوئے مال غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا۔ اسی طرح بیعت رضوان کے موقع پر مقام حدیبیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران بیعت اپنے ایک ہاتھ کو حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دیا۔ آپ کا شمار ان دس جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔


دو مرتبہ آپ کو اللہ کے راستے میں ہجرت کی سعادت نصیب ہوئی۔ ایک دفعہ آپ نے اپنی اہلیہ حضرت رقیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ شریف جانے کے بعد وہاں سے ہی آپ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔
آپ نے پوری امت کو ایک قراءت قرآن پر جمع کیا۔ حضرت عمر کے دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کے سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کے دور میں طرابلس، شام، افریقہ، جزیرہ قبرص، جزیرہ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، خراسان، طبرستان اور کئی ایک مزید علاقے فتح ہوئے۔ آپ نے مدینہ پاک میں نہری نظام کو مضبوط کیا۔ سیلاب سے بچاؤ کیلئے ڈیم تعمیر کئے۔ کنویں کھدوائے۔


آپ حد درجہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔ چنانچہ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت مرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے وقت کے فتنوں کا ذکر فرمارہے تھے۔ ایک شخص سر پر کپڑا ڈالے ہوئے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ " فتنوں کے دور میں یہ شخص راہ ہدایت پر ہوگا"۔ حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی تھے۔ حضرت مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے پھر پوچھا یا رسول اللہ کیا ہی شخص اس وقت راہ ہدایت پر ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا " ہاں یہی"۔


ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ: "فتنوں کے دور میں اس شخص کو شہید کر دیا جائے گا"۔ حضرت عمر نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد اور اپنی شہادت سے پہلے خلیفہ کے انتخاب کیلئے چھ افراد کی کمیٹی بنائی تھی۔ ان میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ حضرت عمر کی شہادت کے بعد تین دنوں میں گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے بعد حضرت عثمان بن عفان کو خلیفہ سوم منتخب کیا گیا۔
منتخب ہونے کے بعد آپ نے خطبہ میں فرمایا: "یاد رکھو دنیا سراپا فریب ہے۔ دنیا کی زندگی تمہیں غلط فہمیوں میں ڈال کر شیطان کے پنجہ وساوس میں مبتلا نہ کر دے۔ فانی عمر کی مہلت کافی حد تک گزر چکی ہے نہ جانے کس وقت پیغام اجل آجائے۔ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو۔ اللہ نے دنیا کی مہلت اس لئے دی ہے کہ آخرت سنوار لو"۔
آپ نے تقریباً بارہ سال تک امور خلافت سرانجام دیئے۔ آخری دور میں ایک یہودی النسل عبد اللہ بن سبا نے کوفہ، بصرہ اور مصر کے فسادی گروہوں کو جمع کیا اور اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کی۔ آپ پر طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ آپ نے ہر سوال کا معقول جواب دیا۔


آپ کا نام عثمان، کنیت ابو عمر اور لقب ذوالنورین تھا۔ سلسلہ نسب عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف پانچویں پشت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملتا ہے۔ آپ کی نانی جان ام حکیم البيضاء حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ کی سگی بہن تھیں۔ اس رشتہ کے لحاظ سے آپ کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔


اٹھارہ 18 ذوالحجہ، خلیفہ سوم، داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن عفان کا یوم شہادت ہے۔
ذوالحجہ کے مہینہ میں اکثر صحابہ کرام حج کی ادائیگی کیلئے مکہ شریف چلے گئے تھے۔ سازشیوں کو موقع مل گیا اور آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ کئی دنوں تک آپ اور آپ کے اہل خانہ کو بھوکا پیاسا رکھا گیا۔ ساتھیوں نے مقابلے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ " میں اپنے نبی کے شہر کو خون سے رنگین نہیں کرنا چاہتا"۔
آپ نے تمام مصائب و آلام کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق خلعت خلافت نہیں اتاری۔ اس طرح بروز جمعہ المبارک بمطابق 18 ذوالحج 35 ہجری، انتہائی دردناک انداز میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔
آپ کی قبر مبارک مسجد نبوی شریف کے پاس جنت البقیع میں ہے۔ اللہ تعالی ان کی قبر پر کروڑ ہا کروڑ رحمتیں نازل فرمائے (آمین )۔


Uthman ibn Affan, a short biography. Essay: Prof. Masood Ahmad

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں