فکشن کی اہمیت اور ضرورت - قیصر تمکین - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-07-07

فکشن کی اہمیت اور ضرورت - قیصر تمکین

importance-and-necessity-of-fiction

کسی بھی معاشرے کی تنظیم اور بنیادی تعلیم وتربیت میں پہلی اہمیت فکشن کی ہوتی ہے خواہ اسے کہانی کہا جائے یا قصہ و داستان۔ کام اس کا صرف بچوں کو درس ادب وتہذیب دینا نہیں ہے۔ بالغوں کو بھی فکشن یا داستانوں کی بہت ضرورت رہتی ہے۔ فکشن مسائل عصری سے توجہ ہٹا کر ایک گونہ بے خودی کا ہی ذریعہ نہیں ہوتا ہے اس سے ذہنی تفریح کے ساتھ ہی معاشرے کی تربیت بھی مقصود ہوتی ہے۔ فکشن کا مطالعہ کرنے والے اپنی معاشرت وتمدن کے مقابل دوسری تہذیبوں اور افراد وطبقات کے طریقہ ہائے فکر عمل سے واقف ہوتے ہیں۔ موتزارٹ کی طلسمی با نسری Magic flute میں پہلا سین ہی ہمیں بتاتا ہے کہ پہاڑ کے دوسری طرف بھی ایک دنیا ہے جس کا فہم و ادراک بھی ضروری ہے۔ اسی کو بعض اہل ادب نے وہ لمحہ تفہیم یا مقام عرفان بتایا ہے جہاںقومی و مذہبی تنگ نظری ختم ہو جاتی ہے اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ سچائیوں تک رسائی کے لیے ہر کلچر، ادب اور قوم و ملک کا اپنا اپنا راستہ ہوتا ہے۔ اس راستے کے گیان پہچان اور اس سے پوری واقفیت ہمیں فکشن کی طرف متوجہ کرتی ہے اور غیر پختہ عقل و فکر کے طالبان علم کوفکشن سے انسیت ہوجاتی ہے۔


کہانیاں طرح طرح کی ہوتی ہیں نہ مذہبی کہانیوں کو چھوڑ کر بھی بہت سے طریقے فکشن نگاری کے ہیں ان سے بیشتر اوقات خیر وشر کی تمیز پیدا ہوتی ہے بچے انہیں سن کر یا پڑھ کر اچھے کردار کا نمونہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جھوٹ اور چوری سے بچنے کا عہد کرتے ہیں اگر واقعی زیر تربیت د ماغوں اور قابل تقلید کرداروں کی تشکیل میں کہانیوں سے کچھ مدد ملتی ہے تو فکشن کا بنیادی مقصد پورا ہو جاتا ہے۔


اگر کسی کو قصے کہانیوں یا ناول پڑھنے کا چسکا پڑ جائے تو وہ خود ہی دوسرے ملکوں اورقوموں کے افسانوں اور داستانوں کی طرف متوجہ ہو گا۔ ناول پڑھنے اور برے بھلےقصوں اور افسانوں میں وقت ضائع کرنے والوں کو عام طور پر اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے لیکن نوجوانوں کی اصلاح کرنے والوں اور جوانوں کی ہمت اور اولوالعزی سے حسد کرنے والے بوڑھے جو زیادہ تر ”رشتے میں "ماموں اور چچاوغیرہ ہوتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ مذہبی صحائف اور الہامی کتابیں بھی تو قصے کہانیوں پر ہی مشتمل ہوتی ہیں۔


ترقی پسند مصنفین کی انجمن کاتر قی اور تحریک کی کامیابی میں شعروشن سے زیادہ نثر نگاری اورفکشن کا ہاتھ رہا اگر اس تحریک کے بانیوں نے فکشن پر زور نہ دیا ہوتا تو " انگارے" کی کہانیوں نے آگ نہ بھڑکائی ہوتی تو معلوم نہیں ہمارا ادب ابھی تک کون بھول بھلیوں میں بھٹک رہا ہوتا۔ وقار عظیم نے لکھا ہے کہ داستانوں اور بحیثیت مجموعی فکشن کا منصب اولین انجمن آرائی ہے لیکن وہ غالباً یہ بھول گئے کہ فکشن انجمن آرائی سے زیادہ واروئے شفا کی حیثیت رکھتا ہے۔ قصہ چہار درویش کے بارے میں مشہور ہے کہ حضرت نظام الدین اولیا نے فرمایا کہ "جو کوئی اس قصے کو سنے گا وہ علالت سے شفایاب ہوگا" غالب فرماتے ہیں (میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں ) کہ ہر چند خردمند بیدار مغزتاریخ کی طرف بالطبع مائل ہو گئے لیکن قصہ کہانی کی ذوق بخشی ونشاط انگیزی کے بھی دل سے قائل ہوں گے۔" اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدیم زمانوں کے لوگوں نے فکشن کی اہمیت توکسی حد تک تسلیم کی مگر ہمارےزمانے میں اہل فکر نے یہ وضاحت کیوںنہ کی کہ فکشن معاشروں کو تہذیب اور قوموں کو فراخی قلب و نظر سے کس طرح مالا مال کرتاہے۔ مضامین ، کتا بیں اور مقالے بس شاعری کی اہمیت پر ہی دیکھنے میں آتے ہیں فیشن کی کیا اور کیوں ضرورت ہے اس پر کچھ نظر نہیں آتا ہے۔


فکشن کے موضوع پراستنادی حیثیت اختیار کر نے اور اپنے دو چار پسندیدہ عام طور پر غیر معروف فکشن نگاروں کو شیر پاتین سنگھ کے ساتھ ہمالہ کی چوٹی پر کھڑا کرنے والے حضرات طویل طویل مقالات قلم بند کرنے کے باوجود یہ ثابت کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں کہ سماج کوفکشن کی ضرورت کیوں ہے اور رہے گی فکشن لکھا کیوں جائے لوگوں کوفکشن نگاری کی ترغیب کیوں دی جائے اور پھر یہ کہ آخرفکشن پڑھاتی کیوں جائے۔ اس سے معاشرے کی صلاح و بہبود میں کہا تک مددمل سکتی ہے۔ برصغیر کے تقریبا ًتمام ممتاز معیاری جرائد گاہے ماہے" افسانہ نمبر" بھی شائع کرتے ہیں ان میں افسانہ نگاروں کے بارے میں، چیدہ چیدہ کہانیوں اور افسانہ نگاری کے عصری رجحانات کے بارے میں، یا پھر کسی خاص خطہ ملک میں فکشن کی مروجہ روش کے بارے میں بھاری بھرکم مضامین چھتے ہیں مگر ابھی تک کسی افسانہ نمبر میں ہی موضوع زیر بحث نہیں آسکا ہے کہ افسانہ کیوں لکھا جائے یا یہ کہ علم وادب اور فکر و دانش کی محفلوں میں فکشن نگاروں کا کیا درجہ یا منصب ہونا چاہئے۔


شاعری کی ضرورت و اہمیت پرتو غالباً ابتدائے آفرینش سے ہی اب تک لاتعداد کیابیں لکھی گئی ہیں۔ مقالات ایسے بھی سیکڑوں مل جائیں گے جن میں ڈرامہ کی اہمیت اور ضرورت پر بھی خوب بحث کی گئی ہے۔ یہ جابجازور دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ مسائل عصری کے حل یا بحرانوں کے تناظر میں ڈرامہ کتنا مفید کام انجام دیتا ہے۔ لیکن یہ مقالہ ابھی تک تشنہ نگارش ہے کہ ناول۔ کہانی، داستان یا افسانے لکھنے والے ہمیں کس طرح ایسی دنیاؤں کی تلاش و جستجو پر آمادہ کرتے ہیں جہاں انسانیت کے پنپے کے امکانات ہوں، جہاں انسانیت کا دامنشیخ و برہمن کے تعصبات سے آلودہ نہ ہو۔ ایک المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر مضمون نگار یاتنقید لکھنے والے خود بھی شاعری کرتے ہیں۔ یہ لوگ فن شعری کی تعریف و توصیف میں فکشن کی اہم تر اور ممتاز خصوصیات کو بالکل بھول جاتے ہیں کہا یہ جاسکتا ہے کہ شاعری آگ لگانے کے کام تو خوب آتی ہے لیکن جہاں آگ بجھانے کا مرحلہ پیش آتا ہے وہاں صرف فکشن نگار ہی سر بکف نظر آتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ تنقید نگاروں کو آگ بجھانے کے عمل سےدلچسپی کیوں نہیں ہے۔ بہت کم ناقدین ادب ایسے ملیں گے جنہوں نے مطالعے اور محنت کے بعد فکشن کی ضرورت کے بارے میں کچھ لکھا ہو۔ یافن افسانہ نگاری کی توضیح وتعریف کرتے ہوئے خود اس فن کی اہمیت بتائی ہو چنانچہ ا فسوسناک حقیقت یہ ہے کہ فکشن کے بارے میں خیال آرائی کرنے والے زیادہ تر ناقدین ادب فکشن کی اہمیت اور ضرورت پر بحث کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔


شاعری میں بہت سے مجہول تصورات ،تصوف ، ہمہ اوست وحدت الوجود وغیرہ وغیرہ بھی زور و شور سے نو اپیر ادکھائی دیتے ہیں لیکن فکشن میں نہ ترک لذات اور گوشہ نشینی ممکن ہی نہیں


ہے۔ کوئی کہانی کار صوفی ہو ہی نہیں سکتا ہے کیونکہ فکشن لکھنے والے تزکیہ نفس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علوئے ذات کے متمنی نہیں ہوتے ہیں۔ شعراء نے زیادہ تر ان ہی دوخو بیوں کو اجر حقیقی اور جنت الماوی تصور کیا ہے۔ فکشن نگار راضی برضا حق نہیں بلکہ ہرلمحہ جہدوعمل کا حامی رہتا ہے۔ اردو اد یب زیادہ تر مسلمان ہیں اور انہیں یہ بخوبی علم ہے کہ اسلام اصولی طور پررہبانیت کے قریب نہیں ہے زندگی سے فرار یا گریز پائی کا سبق نہ اسلام میں ہے اور نہ فکشن میں" دنیا کے تقریباً"تمام فکشن نگار جن میں فرانس کے کیتھولک بھی شامل ہیں حماقت آمیز ترک لذات کے قائل نہیں رہے، ایک انشائیہ نگار نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو Foolish self denial تک کہا ہے۔ اورتعلق جہاں تک ترقی پسندی کا ہے تو وہاں رہبانیت کا تصورہیمضحکہ خیز ہے کیونکہ آزادی جمہوریت اور ترقی پسند اہل دانش تو مارکس کے لفظوں میں دنیا کو بدلنے پر زور دیتے ہیں تصوف سے متاثر قلم کار جن میں شاعروں کی اکثریت ہے۔"امیر غریب اللہ نے بنائے ہیں ہمارا اس میں کیا دخل کہہ کر خاموش ہوجاتے ہیں جب کہ فکشن نگارقطرے کے گہر ہونے تک کی کاوش اورعمل کی جہد کائنات میں سنگی وساتھی ہوتا ہے۔ قطرے سے گہر بننے تک کی کتھاہی فکشن بھی کہی جاسکتی ہے کہانی کا اپنے زمین و آسمان سے بیزار نہیں بلکہ اس کے علائق وعمل سے مکمل واقفیت کا متمنی ہوتا ہے۔ کہانی کار ایک لمحہ کی کہانی سناتے ہوئے ماحول آفرینی اس طرح کرتا ہے کہ اسی ایک لمحے میں متعدد کہانیاں اور بھی خودبخودسموجاتی ہیں۔ "شرح در ازِ زندگی مختصر" کو دوچارہچکیوں میں کہ جانافانی کے لیے تو ایک تعلی ہومگر افسانہ نگار واقعی یہ کر دکھاتا ہے۔ انسان ایک خودمختار مملکت ہے اس پر شعرا کوکسی طرح کی فوقیت یا امتیاز حاصل نہیں ہے۔


فکشن نگاری درجے کا کیوں نہ ہوا پنی نگارشات میں ایک مخصوص وسعت نظر کا حامل ہوتا ہے اور اس وسیع النظری میں وہ اپنے قارئین کو بھی شرکت کی دعوت دیتا ہے۔فکشن بجائے خود وسعت املاک میں تکبیر مسلسل ہے اورتعلق اس کا کسی طرح خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات سے نہیں ہوتا ہے فکشن کی نظر سیاسی بصیرت بھی ہوسکتی ہے اور کشف رویا کی مظہر بھی مگر اس کا کوئی واسطہ اضغاث احلام سے نہیں ہوتا ہے اس کے مقابلے میں شاعر کی نواسرائیوں میں ہمیشہ شبہ" مری بار کیوں دیراتنی کری" کی سینہ کو بی کا ہوتا ہے۔


فکشن نگار سرمایہ ومحبت کے خروش کی وجوہ کاواقف کار ہونے کی وجہ سے اپنے قارئین کو بھی مبتلائے تفکر رکھتا ہے جب کہ شاعر صرف سامنے کی چیز یں دیکھ کر اور دھوکرغرق مئے ناب ہو جاتا ہے۔ اگر فکشن نگار بھی شاعر کی طرح ذاتی غم واندوہ کا ڈھنڈور چی ہو جائے تو کہا جائے گا کہ فکشن سے معاشرے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر فکشن کو سر مایہ نشاط بالذت غم کا ترجمان ہی بننا ہے تو شاعری کیوں نہ کی جائے۔ کیونکہ یہ خدمت توہمارے شاعر ہمیشہ سے انجام دیتےہوئے آئے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ فکشن نگار اپنے بطون واعماق کاآشنا ہوتا ہے بلکہ اقبال( اقبال کا حوالہ دینے پر اس مضمون میں" تضاد" کا پہلو دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن بحث یہاں تخصیص سے نہیںبلکہ تعمیم سے ہے) کے لفظوں میں اسے آشنائے راز ہی نہیں بلکہ دانائے راز کہا جاسکتا ہے فکشن نگار اپنے کرداروں کو انسانیت کے مختلف پہلوؤں سے پیش کرتا ہے۔ اس کے اعصاب پر ہمہ وقت عورت نہیں سوار رہتی ہے۔" زندگی چاندسی عورت کے سوا کچھ بھی نہیں "یا اس کلائی میں توکنگن جگمگانا چاہئے۔" کا جاگیردارانہ تصور ( یا عذر مستی) ایک کہانی کار کی شریعت میں حرام مطلق ہے۔ فکشن نگار اپنے افکار واظہار میں شفاف چشموں کی روانی رکھتا ہے۔ جوہڑ اور تالاب کی طرح ٹھہرا پانی اس کی بوئے خیال کا منبع ہو ہی نہیں سکتا ہےفکشن نگاری گزرےزمانوں کی مرثیہ خواں نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی نباض ہوتی ہے۔


فکشن نگار ہر دور اور ہر زمانے میں سنجیدگی مقاصد اور غور وفکر کے ترجمان ہوتے ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر اپنے معاشرے کے اہم رکن ہوتے ہیں وہ متواتر اورپیہم روز وشب کے گوناگوں مسائل سے دو چاررہتے ہیں۔ وہ مجہول آدرش وادی یا صرف خواب دیکھنے والے نہیں ہوتے ہیں۔ اور نہ ہی وہ موہوم و نارسیدہ آرزوؤں اور حسرتوں کے امین ہوتے ہیں۔ عام فکشن نگار "لگاہے پاک بینے و جان بیتابے‘ کی تفسیر ہوتے ہیں وہ سماج کے ڈھانچے کے سقائم و نقائص کے مبصر ہونے کے علاوہ سماجی تعمیر نو یا تبدیلی و انقلاب میں معاون بھی ہوتے ہیں۔


اگر زندگی کو سچائیوں سے عبارت سمجھاجائے تو پھر ان سچائیوں کی تفسیر وتر جمانی کے لیے ضرورت ہمیشہ فکشن کی رہے گی۔ بود لیر، پروست او تھیکرے وغیرہ رجعت پرست، زوال پسند اور دانش حاضر کے لیے نا قابل تقلید ، بلکہ نا قا بل تسلیم تک کہے جا سکتے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے اپنے اپنے عصری ماحول پر گہرے۔ اور اکثر اوقات مثبت اثرات مرتسم کئے۔ ایک ناقد کا کہنا ہے کہ اپنی سادگی اور آس پاس کے حالات کی تصویرکشی کر تے ہوئے ڈکنس انجیل مقدس تک کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے جبکہ دانتے اورملٹن بڑی دھوم دھام کی مسیحیت اور خدا پرستی کے باوجود محض لاطائل مفروضات کی ترویج کرتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ جس طرح بائبل کی کہانیاں ہمیشہ دہرائی جائیں گی اسی طرح ڈکنس کے فکشنبھی اپنی افادیت سے محروم نہ ہوگا۔ ڈکنس نے جس طرح صنعتی انقلاب کو قریب لانے اور قطعی شکل دینے میں ایک قائدانہ کردار ادا کیا ہے وہی فکشن کی حمایت میں ایک زبردست دلیل کی حیثیت رکھتا ہے۔


چیخوف اپنے فکشن میں با قاعدہ وعظ ونصائح سے کام لیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ زندگی خودغرض نہیں بلکہ محبت و احترام اور ایک دوسرے کے کام آنے والے جذبات کے لیے عطا ہوتی ہے۔ لہذا فکشن کے ذریعے ایک شریفانہ اورمخلصانہ طرز کاعمل کا دیتے ہوئے"دی ماسٹر اینڈ مین“ کا مصنف روسی معاشرے پر بہت ہی دیر پا اثرات چھوڑتا ہے۔ چیخوف کا اولےنن (Olenin) یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اصل میں مسرت کسے کہتے ہیں مسرت اصل میں دوستوں کے کام آنے، اپنوں اور غیروں کی خدمت کرنے اور مشکلوں میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنے اور بے غرض طریقے پر نظارہ محبت مرتب کرنے سے نصیب ہوتی ہے۔ یہ پرخلوص محبت وخدمت ہی اصل زندگی ہے۔ اور اس کی ترویج وحصول کے لیے بہتر طرز نگارش فکشن نگاری ہے۔ بقول ایڈمنڈ ولن اگر ہم کہانیوں کے پیغام سے متاثر بھی ہوں تو بھی کہانی کاروں کے جذ بہ اخلاص کو پیش نظر رکھنے پر مجبور ہوں گئے۔ کہانیاںخواہ انجیل عبرانی کی ہوں یاچیخوف کی سبق ہمیشہ راستی و استقامت کا دیتی ہیں۔"


فکشن ہمیشہ پستیوں سے نکلنے کے طریقے سجھاتا ہے۔ (شریف زادہ۔ مرزا رسوا ) جدوجہد کا سبق دیتا ہے۔ فکشن نگارمحض کنارے سے اندازہ طوفان نہیں کرتا ہے۔ وہ خودگر دابوں اور طوفانوں میں گھر کر موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ فکشن نگارسماجی تعمیر نو یا تبدیلی انقلاب میں معاون بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ شاعر خود میں کھوئے ہو ئےگل و بلبل یا صیاد وساقی کاد کھڑ اروتے ہوئے۔ معاشرے کی ذمہ داریوں سے محتر زالگ الگ جزیروں میں گریاں فغاں رہتے ہیں۔ بیشتر شعراء حالات کا سامنا نہ کر سکنے کی وجہ سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، دوسرے ملکوں میں پناہیں ڈھونڈنے جاتے ہیں مگر کہانی کار بیوی بچوں والے ہوتے ہیں اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں ، زمانہ سازی عملی اور ریاکاری سے مبرا ہوتے ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں شاعر عام طور پر فرار یت پسند ہوتے ہیں اور اکثر و بیشتر کشمکش حیات سے گھبرا کر ہتھیارڈال دینے اور خودکشی کر لیتے ہیں کسی کہانی کار کے خود کشی کر نے کا واقعہ ادبی تاریخ میں شاید ہی کہیں دیکھنے میں آیا ہو۔


بہت سے شاعر دشمن ملکوں میں ر باب و کباب وطاؤس شراب کی لالچ میں پناہیں ڈھونڈ ھنے جاتے ہیں۔ کتنے کہانی کا ردشمن ملکوں میں "کھاؤ پیو" برپا کرنے جاتے ہیں؟ روم کا کلاسیکی فنکار بہت فخر سے لکھتا ہے:
"روم کے بھوکے کتے بھی غیروں کی دی ہوئی ہڈیوں پر نظر نہیں ڈالتے ہیں"۔


فکشن کی ضرورت ہمیں اس لیے ہے کہ اس فن کے ماہر جھوٹی امیدوں اورفرضی خیال پرور یادوں تک میں زندگی کی بنیادی صعوبات و علائم کی نشاندہی کرتے ہیں کوئی بھی فکشن نگارودعویٰ نہیں کرتا ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہی سچ ہے وہ دوسری سچائیوں کے بارے میں بھی فراخی قلب و نظر کے ساتھ آمادہ تفکر رہتا ہے۔ فکشن نگار کا کمال یہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے مفروضات یا موہوم تصورات کے باوجود قاری کوعظیم سچائیوں تک پہنچا کرہی دم لیتا ہے۔ نتیجہ مثبت ہو یا منفی اس سے اثر پذیر ہونا قارئین کی صوابدید پر ہے۔ فکشن میں جھوٹ ضرور ہوتا ہے۔ لیکن اسے ٹام وولف اور ٹرومین کپوٹے کے انداز نظر سے دیکھئے انہوں نے تو جھوٹ محض کے لیے بھی نون فکشن کی ترکیب وضع کی ہے۔( بعض حلقوں میں اسے نیو جرنلزم بھی کہا جارہا ہے) اگر ہم ورجینیا وولف سے اتفاق کریں تو معلوم ہوگا کہ فکشن کا ہر نمونہ حقیقی زندگی کے مدوجزر سے وابستہ رہتا ہے۔ (ادیبوں کی خودنوشت کو اس نے فکشن کہا ہے جب کہ بعض حضرات نے اس کے لیےAuto-novelised version of fiction کی اصطلاح وضع کی ہے ہماری نسل کے قلم کاروں کو رسل کے مقالے Happiness/in the Modern World کے نفس مضمون کا بھی خوب علم ہے۔ مگر جدید یوں نے اسے بھی ترقی پسندتحریک کی طرح خاص مطعون کیا۔


آخری بات یہ ہے کہ اگر فکشن نہ ہوتو سماج بے مقصد و منزل ہو جائے گا۔ فکشن نگار کیسے ہی کیوں نہ ہوں زندگی میں رنگ بھرنے اور خوب کوخوب تر بنانے میں کوشاں رہتے ہیں فکشن تہذیب و معاشرت میں ایک جز وناگزیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے بلا حجت مان لینے میں حرج کیا ہے؟


***
ماخوذ از کتاب: اے دانشِ حاضر
تصنیف: قیصر تمکین۔ ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی (سن اشاعت: 2008ء)

The importance and necessity of fiction. Essay: Masood Hussain Khan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں