برقی دنیا اور مطالعہ - مضمون از سحر اسعد - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-05-04

برقی دنیا اور مطالعہ - مضمون از سحر اسعد

electronic-world-and-reading-culture

کہتے ہیں کہ جن اقوام میں کتاب کی تخلیق، اشاعت اور مطالعے کا عمل رک جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں درحقیقت وہاں زندگی کا عمل رک جاتا ہے۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور میں یہ شکوہ عام ہے کہ کتب بینی کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے۔ کیوں کہ اب ہر چیز اسکرین پر دستیاب ہے، کتب بینی کی جگہ اب انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ اس برقی دنیا میں موبائل ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ ، ٹی وی اور ویڈیو گیمز جیسے تفریحی ذرائع ہمارا سارا وقت نگل لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی فنکاریاں ہمیں اس قدر مصروف رکھتی ہیں کہ ہم کتابوں، رسالوں اور اخبارات کے مطالعے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔کم کتب بینی کی مختلف وجوہات ہیں جیسے: صارفین کی کم قوت خرید، ڈیجیٹل انفارمیشن کی ترویج، تیز رفتار زندگی، اچھی کتابوں کا کم ہوتا رجحان، لائبریریوں کے لیے مناسب وسائل کی عدم فراہمی، خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا وغیرہ۔
آج ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جو سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی اور ایجادات و اختراعات کا دور ہے۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ ڈیجیٹل بازار میں ایک نئی چیز وجود میں آجاتی ہے۔ گذشتہ کچھ دہائیوں میں جہاں کمپیوٹر، ٹکنالوجی اور انٹرنیٹ کی دنیا میں کئی اہم کام ہوئے ہیں جن کے ذریعے ہم تک بے شمار سہولتیں، آسانیاں بلکہ ضرورت سے زیادہ معلومات پہونچ رہی ہیں ایسے میں کتابیں لکھنے، شائع کرنے اور مطالعہ کرنے کے عمل میں بھی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔
ترقی کے اس دور میں جہاں ہر چیز کمپیوٹرائزڈ ہو رہی ہے اسی ترقی کی دین الیکٹرانک کتابیں بھی ہیں۔ اب کتابوں کی جلدوں نے بھی ڈیجیٹل شکلیں دھار لیں اور اسکرین پر جلوہ افروز دکھائی دیتی ہیں۔ حتی کہ ورقی کتابیں مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی آن لائن ملنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کتابوں کے آن لائن دستیاب ہونے سے بہت سہولت پیدا ہوگئی ہے اور بہت سی نادر و نایاب کتابیں بھی ہماری دسترس میں آگئی ہیں۔ لوگوں کو گھر بیٹھے ہی انٹرنیٹ کے ذریعے نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہوجاتی ہیں۔ اور بہت سے لوگ کتب خانوں میں جاکر رسائل، ناول اور کتابیں پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
پہلے کے وقتوں میں کسی عمدہ اور معیاری کتاب کا مطالعہ، لائبریری جاکر اسے تلاش کرنا، پھر اس پر گھنٹوں تبصرہ کرنا، کسی پرانے کتابی نسخے کو تلاشنا، اپنی مطلوبہ گمشدہ کتاب کے مل جانے پر خوش ہونا، رات دیر تک کتابوں میں سر دیے مطالعہ کرنا ہمارے مشاغل ہوا کرتے تھے۔اب وقت بدلا، ہم نے ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھا۔ سوشل میڈیا کا دور چلا۔ اور وقت کی ضرورت کے تحت کتب نے ای۔ بکس کی شکل اختیار کرلی۔ اب بآسانی کتابیں موبائل میں پی۔ڈی۔ایف کی شکل میں محفوظ کرلی جاتی ہیں۔ مگر اب وہ کتابوں کی مہک، کاغذ کا لمس اور ہاتھ میں کتاب کو محسوس کرنا ممکن نہیں رہا۔ حتی کہ شاعر کو کہنا پڑھا:
کاغذ کی یہ مہک،یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی


برقی کتابوں کے اس طوفان کے سامنے ورقی کتابیں بسا اوقات مزاحمت کرتی نظر آتی ہیں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کی صنف الگ الگ ہے اور ان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اب آف لائن اور آن لائن مطالعے کے سلسلے میں لوگوں کے دو گروپ بن گئے ہیں۔ دونوں گروہ کے اپنے اپنے دلائل اور وجوہات ہیں جن کی بنا پر وہ اپنے موقف کو ترجیح دیتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ڈیجیٹل مطالعہ کو پسند کرنے کی کیا وجوہات ہیں:


1۔ کتابوں کی خریداری پر آنے والے اخراجات:
یہ بات سچ ہے کہ آج کی اس ہوشربا مہنگائی کے دور میں جہاں اکثر چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں کتابیں بھی مہنگائی کی اس مار سے بچ نہیں سکیں۔ اور پھر جب لوگ مجلد کتابوں کا متبادل پی ڈی ایف کی صورت میں پاتے ہیں تو آن لائن مطالعے کو ترجیح دیتے ہیں۔


2۔ کتابوں کی عدم دستیابی:
پہلے کے دور میں بہت سی نادر و نایاب کتابوں کے بارے میں ہم سنتے تھے مگر دستیاب نہ ہوسکنے کے سبب مطالعہ سے محروم رہتے تھے۔ لیکن انٹرنیٹ کی وسیع دنیا نے بہت سی قیمتی اور شاہکار کتابوں کا ذخیرہ کرلیا ہے جس کے سبب ہمیں اپنی من پسندیدہ کتابیں انٹرنیٹ پر مل جاتی ہیں اور ہم آن لائن مطالعے کو پسند کرتے ہیں۔
3۔ ٹیکنالوجی کے طفیل اب ہم ڈرائیونگ کرتے ہوئے، کھانا پکانے کے دوران، یہاں تک کہ کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے بھی کتابیں پڑھنے کے بجائے سن سکتے ہیں۔
اسی طرح برقی کتاب کی آن لائن طباعت کا خرچ کم ہوتا ہے، قیمت بھی کم ہوتی ہے بلکہ زیادہ تر مفت میسر ہوتی ہے، بیک وقت لاتعداد لوگ اسے پڑھ سکتے ہیں۔ مختصر یو ایس بی یا کارڈ میں لاکھوں کتابیں آسکتی ہیں، کمال سرعت کے ساتھ چند سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیلائی جاسکتی ہیں، دوران مطالعہ اس پر حاشیہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی کتاب کے وزن کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرپڑتا، اسے نکالنے کے لیے لائبریری نہیں جانا پڑتا، اس کے پھٹنے کا اندیشہ نہیں۔


دوسری طرف آن لائن مطالعہ کے مخالفین بھی بہت ہیں اور الکٹرانک کتب کے تئیں متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی۔ ڈی۔ ایف بھی کوئی کتاب ہوتی ہے۔ نہ اسے ہاتھوں میں اٹھایا جاسکتا ہے، نہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو ذہن و دماغ کو معطر کرتی ہے، اور نہ اسے گود میں رکھ کر اس کے لمس کو محسوس کیا جاسکتاہے۔ اور ورقی کتاب پڑھنے کے خواہشمند لوگوں کے دلائل کچھ یوں ہیں:
1۔ کتابیں ہاتھ میں لے کر پڑھنا اچھا لگتا ہے۔
2۔ کتابوں کی خوشبو مطالعہ کی طرف راغب کرتی ہے۔
3۔ اسکرین دیکھتے رہنے کے نقصانات کے برعکس آنکھوں پر زور نہیں پڑتا۔
4۔آن لائن مطالعے میں وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پہ آنے والے پیغامات سے مطالعے کا تسلسل برقرار نہیں رہتا جب کہ کاغذی کتاب پڑھنے کے وقت ایسی کوئی دشواری نہیں پیش آتی۔
4۔ ہم کبھی بھی کسی بھی وقت کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ فون میں مطالعے کے سبب بیٹری ختم ہونے کا اندیشہ ہوتا ہےبلکہ اسکرین ٹائم میں اضافہ ہوتا ہے اور صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


دونوں گروہوں کے دلائل اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ کتابوں کی خوبصورت دنیا کی ویرانی کا شکوہ بجا ہے۔ کتب خانے خالی ہوتے جارہے ہیں، کتابیں ڈیجیٹلائزڈ ہوتی جارہی ہیں۔ ہر کوئی مفت کی کتاب کو کمپیوٹر یا موبائل میں ڈال کر پڑھ لینے کی فکر میں ہے۔ لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ کتابوں کی بالادستی کسی دور میں بھی کم نہیں ہوسکتی ہرچند کہ آج کے دور میں لوگوں کی اکثریت انٹرنیٹ کا استعمال زیادہ کرنے لگی ہےلیکن انٹرنیٹ کے ذریعے کتابوں کے شوق میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ کا انقلاب آنے کے بعد معلومات، قصے کہانیاں کتابوں کی حدود سے باہرآگئیں اور کتاب کی ایک نئی صنف ای۔بکس میں سماکر پوری دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئیں۔ای۔بکس کے ذریعے ہم اپنی پسندیدہ کتاب کو نہ صرف خود پڑھ سکتے ہیں بلکہ اسے پل بھر میں دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود اپنے عزیز کے پاس بھی بھیج سکتے ہیں۔
بہت سی چیزوں کا حقیقی لطف و مزہ ان کی اصل شکل میں ہی ملتا ہے۔ کتابیں بھی ان ہی چیزوں میں سے ایک ہیں۔ انسان کو بوقت ضرورت مطالعہ کے لیے موجودہ سہولت بخش طریقہ کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن باضابطہ مطالعہ کے لیے سابقہ طرز کو باقی رکھنا اور اسی انداز میں کتابوں سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ یہ صرف ایک روایت کی پاسداری نہیں بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ مطالعہ کا اصل لطف حاصل کرنے کا ایک وسیلہ ہے۔
برقی کتاب اور ورقی کتاب دونوں کے اپنے اپنے امتیازات و خصائص ہیں۔ کسی ایک نوع کو دوسرے پر فوقیت نہیں دی جاسکتی۔لہٰذا آج کے دور میں ضروری ہے کہ ہم کتابوں سے اپنا رشتہ برقرار رکھیں، سوشل میڈیا کی رنگا رنگ دنیا میں کھوکر ہم ورقی کتابوں کے مطالعے کو نہ چھوڑیں اور بوقت ضرورت برقی کتب سے بھی استفادہ کریں۔
ہم نشینی اگر کتاب سے ہو
اس سے بہتر کوئی رفیق نہیں

***
سحر اسعد (بنارس)
saharasad739[@]gmail.com

Electronic world and reading habit. - Article: Sahar Asad

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں