بانسری والا - افسانہ از طلعت فاطمہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-02-09

بانسری والا - افسانہ از طلعت فاطمہ

bansri-wala-short-story

میں شہر کی بھاگتی دوڑتی روزمرہ کی زندگی کی چکی میں پستی، صبح کی روپہلی کرن اور شام کی لالی سے ماورا اپنے گھریلو امور میں الجھی نہایت کثیف اور بدمزاج ہوتی جا رہی تھی۔ ذرا ذرا سی باتیں دماغ کا پارہ چڑھا دیتیں اور جھلاہٹ اور بےحسی دھیرے دھیرے میری شخصیت میں سرایت کرنے لگی۔ معمول کے مطابق آج بھی کچن اور دیگر کاموں سے فراغت کے ساتھ ہی چند گھڑی آرام کرنے کی غرض سے بستر پہ لیٹی کہ یہ لمحے عزیز از جان لگتے تھے اور تھکے ہارے شکستہ جسم کو دوبارہ سےچارج کر کے پھر سے ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل بنانے کا ذریعہ تھے۔ سو جسم نے جب دوبارہ چارج ہونا شروع کیا اور ذہن و دل کو سکون کا احساس ہوا تو پھر سے کچن میں رکھی چائے کی پتیلی کھنکھنا کر مجھے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی۔ شکر کی بوتل اپنی خوشامد بھری میٹھی باتوں سے اور چائے پتی کا ڈبہ اپنی کڑوی کسیلی ہدایات سے مجھے دوبارہ کچن میں آنے کا حکم صادر کرنے لگا۔ گو کہ ابھی مکمل چارج ہونے کے لیے مجھے کچھ اور وقت آرام کی طلب ہو رہی تھی مگر دودھ کی ہانڈی نے سفید لٹھے چہرے کے ساتھ مجھے گھوری لگائی اور پانی نے میرے مزید آرام کرنے کے ارادے پہ پانی پھیرتے ہوئے مجھے چائے بنانے پہ مائل کیا سو ناچار آدھے چارج کے ساتھ ہی میں بادل نخواستہ دوبارہ کام میں جت گئی۔


شام کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں کھڑکی کے راستے میرے جسم و جاں میں نئی تراوٹ پیدا کر رہی تھیں اور میں جو فطرت اور اس کی دل فریبی کی دلدادہ تھی لیکن مصروفیاتِ زندگی نے اس قدر الجھا دیا کہ موسم کی دلکشی، پرندوں کی چہچہاہٹ، سورج کی کرنیں، چاند کا حسن اور ہواؤں کی سرگوشیاں سننے سے محروم ہونے لگی۔ لیکن جب شام کا سہانہ سا موسم اور ہواؤں کے ساز پہ جھومتے پیڑ نے مجھے بھی اپنی سرمستیوں میں شرکت کی دعوت دی اور میں ان کی دعوت پہ لبیک کہنے کے بجائے خود کی بے دلی سے بنائی چائے بھی مزے سے پیالی میں انڈیلتے ہوئے کچن میں لگی کھڑکی جو سڑک کی جانب کھلتی تھی اور جہاں سے فرحت بخش ہواؤں نے مجھے سر سبز و شاداب پیڑ کے رقص و سرود میں آنے کا عندیہ دیا تھا، وہیں کھڑکی کے قریب بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لینے لگی۔
اور پیڑ پہ پڑتی اسٹریٹ لائٹس کی مدھم روشنیوں میں نہائے برگ و بار کے حسن نے مجھے بھرپور چارج کر دیا اور میں دنیا جہاں کی ہر سوچ و فکر سے آزاد خود کو اُسی پیڑ کی شاخ پہ بیٹھے پتیوں اور پھولوں سے ہم کلام ہوتے سرشاری محسوس کرنے لگی۔ تبھی کہیں دور سے بانسری کی مدھر دھن ہواؤں کے ساز پہ بہتی میرے کانوں میں رس گھولنے لگی اور مجھے گمان گزرا کہ شاید یہ بھی میرا تصور ہی ہے ورنہ شہر کی اس بھیڑ بھاڑ اور پُر شور زندگی میں بانسری کی مدھرتا کہاں سننے کو ملتی ہے؟


لیکن دھیرے دھیرے جب بانسری کی خوبصورت آواز، میں تیزی آتی گئی تو میں خوشگوار احساس کے ساتھ کھڑکی سے سامنے نظر آنے والی سڑک پہ نگاہ دوڑانے لگی کہ آخر یہ آواز آ کہاں سے رہی ہے؟ لیکن سڑکوں پہ مسافروں اور گاڑیوں کی آمد ورفت کے علاوہ کچھ بھی نظر نہ آیا تو خود کو یہ کہہ کر سمجھانے کی کوشش کی کہ سڑک کے اطراف کئی دکانوں پہ خریداری کرنے کی غرض سے رُکنے والی کسی گاڑی میں ہی بانسری کی یہ دل فریب دھن بج رہی ہوگی کیوں کہ اکثر کسی نہ کسی گاڑی میں فلمی نغمے اور تیز میوزک کا شور بجتا رہتا ہے۔ لیکن یہ بانسری کی مدھر دھن پہلی بار سننے کا اتفاق ہوا ۔
شاید میری اس تصوراتی خوشی میں مزید چار چاند لگانے کو کوئی میرے ہی جیسا ذوق رکھنے والا یہ مدھر دھن سن رہا ہوگا۔ یہ سوچ کر ہی میں بانسری کی آواز میں کھوئی دور بہت دور برندابن پہنچ گئی جہاں کرشن کنھیا اپنی پگڑی میں مور پنکھ لگائے کسی پیڑ سے ٹیک لگائے ہاتھوں میں بنسی لیے اپنے ہونٹ کے لمس سے انوکھا راگ چھیڑ رہے ہیں اور برندا بن، کاشی اور متھرا کی گلیوں میں بسنے والی گوپیوں کا من موہ رہے ہیں۔ یہ گوپیاں جب پنگھٹ پہ پانی بھرنے جاتی ہیں تو کرشن کی بنسی کی سریلی صدا ان کے قدم روک لیتے ہیں اور وہ سب دھیرے دھیرے اپنی پائل کی جھنکار کو شری کرشن کی بنسی کی تال سے ملانے لگتی ہیں اور ہر چیز سے بے خبر بانسری کے رس کو اپنے کانوں میں گھلتا محسوس کرتی ہیں۔


آج ان ہی گوپیوں میں سے ایک گوپی میں بھی خود کو تصور کر رہی تھی اور احساس ہو رہا تھا کہ کیوں بنسی بجیّا کی بنسی سن کر گوپیاں کھینچی چلی آتی تھیں ۔میں آنکھیں موندے اپنے تصور میں بہت دور نکل گئی تھی تبھی ایک بچے کی آواز کہ" بھیا یہ بانسری کتنے کی ہے؟ " مجھے تصوراتی دنیا سے کھینچ کر حقیقت کی دنیا میں لے آئی۔
بانسری کی دھن بجنی بند ہو گئی اور کسی کے بولنے کی آواز کانوں میں پڑی:
"چھوٹی بڑی ہر سائز کی بانسری ہے جس کی قیمت اس کے مطابق ہے"
اور یہ آواز سن کر میں نے جب ذرا آگے بڑھ کر کھڑکی سے نگاہ نیچے راستے کی طرف کی تو وہاں ایک پندرہ، سولہ سالہ لڑکا پرانی سی قمیض جس کا رنگ بھی واضح نہیں ہو پا رہا تھا اور تقریباً ویسے ہی ہم رنگ پتلون پہنے موجود تھا۔ لڑکا کاندھے پہ بانس کا ڈنڈا لیے ہوئے تھا جس میں چھوٹی، بڑی، رنگ برنگی مور پنکھ لگی بانسریاں جھول رہی تھیں اور اپنی قیمت اور فروخت ہونے کے کرب سے بے چین تھیں۔


میں اسے دیکھ کر سوچنے لگی کہ یہ بانسری بیچنے والا اتنا باصلاحیت لڑکا کیسی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ کسی فنکار یا قددردان کی نگاہ اس پہ پڑ جائے تو اس کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ابھی میں یی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ بچہ جو بانسری خریدنا چاہ رہا تھا بِنا بانسری خریدے مایوس سا وہاں سے جانے لگا، شاید اس کے پاس شاید اتنے پیسے نہیں تھے۔ میں نے فوراً اسے آواز دی اور کہا کہ جو بانسری تمہیں پسند ہے وہ لے لو اور میرے لیے بھی ایک مور پنکھ والی بانسری لے آؤ، اس کی قیمت میں ادا کر دوں گی۔
بچہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثر سے مجھے تکنے لگا۔ بانسری والا بھی میری آواز سن کر اوپر نظریں اٹھائے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں بےحد شفاف اور جھلمل کر رہی تھیں۔ میں نے مسکرا کر اس کا خیر مقدم کیا اور اسے اشارے سے رکنے کو کہا اور جلدی سے کچن سے نکل کر کمرے میں آئی۔ الماری میں رکھے اپنے پرس سے پیسے نکالے اور دوڑ کر سیڑھیاں اترتے ہوئے دروازے تک پہنچی اور ہاتھ ہلا کر اس بچے اور بانسری والے کو متوجہ کرنے لگی۔ بچہ خوشی سے اُچھلتا کودتا ننھے کرشن کنھیا کی طرح میری طرف آنے لگا اور اس کے پیچھے بانسری والا بھی سبک روی سے آتا دکھائی دیا۔ جب وہ دونوں میرے دروازے تک پہنچے تو میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے میں جھولتی رنگ برنگی بانسریوں پہ ہاتھ پھیرا۔ ان کی نزاکت اور حسن نے مجھے الگ سی سرشاری عطا کی اور جب ان کی قیمت دریافت کی تو اندازہ ہوا کہ اتنی خوبصورت اور مدھر بانسریاں محض چند پیسوں میں بِک رہی ہیں۔ ان کو بنانے اور پھر رنگ بھرنے میں ہی کاریگروں کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہوگی پھر ان کے وجود میں اتنے سوراخ کیے جاتے ہیں کہ وہ اذیت سے چیخ اٹھتی ہوں گی لیکن یہ چیخ ہی ان کی زندگی کا ماحصل بن جاتی ہے جو سننے والوں کو ان کے درد سے آشنا کرنے کے بجائے ان کی سریلی دھن میں کھو جانے پہ مجبور کر دیتی ہے۔


میں نے بانسری والے سے ان بانسریوں کی اتنی ارزاں قیمت کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا:
"اب لوگوں میں اس کی اہمیت کا احساس نہیں رہا اس لیے کم قیمت رکھی ہے تاکہ یہ بِک سکیں اور مجھے دو وقت کی روٹی مہیا کرا سکیں۔ یہ میری ہی تخلیق ہیں۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں تراشا ہے اور خوبصورت رنگ بھرے ہیں۔ یہ مجھ سے شکوہ بھی کرتی ہیں کہ مجھے اتنا حسن دے کر پھر کیوں خود سے جدا کرتے ہو تو میں بے بسی سے کہتا ہوں کہ اس کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔"


بانسری والے کی بات سن کر میں بھی بانسری کے کرب کو اپنے دل میں محسوس کرنے لگی۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا تو اس نے دھیرے سے کہا: "موہن"!!
"موہن؟ موہن تو شری کرشن کا ہی ایک نام ہے۔ اس لیے تم اتنی اچھی بانسری بجاتے ہو"۔
میں نے اس کا نام زیر لب لیتے ہوئے اس سے کہا تو وہ دھیمی مسکان کے ساتھ کہنے لگا:
"میں تو صرف نام کا موہن ہوں، کام کا نہیں اگر کام کاہوتا تو یوں اپنی قیمتی تخلیقات کو اتنی سستی قیمت پر فروخت نہ کرتا۔"


مجھے موہن کی آواز میں گہری اداسی محسوس ہوئی ۔میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی نمی در آئی ہے جسے اس نے مجھ سے چھپانے کے لیے نظریں موڑ لیں۔ میں نے اس سے مخاطب ہوکر کہا:
"تم کام کے بھی موہن ہو تبھی تو تمہارے لبوں سے لگ کر یہ بانسریاں موہنی سُر میں گنگنانے لگتی ہیں اور تمہاری جدائی میں بین بھی کرتی جاتی ہیں"۔
موہن خاموش اور نرم مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگا تبھی وہ بچہ جو بانسری خریدنے کا خواہش مند تھا اور کافی دیر سے ہماری گفتگو سے بیزاری محسوس کر رہا تھا درمیان میں بول اٹھا:
"دیدی جلدی کرو نا۔ مجھے گھر بھی جانا ہے۔ آپ لوگ کیا بول رہے، مجھے سمجھ میں بھی نہیں آرہا۔ بس مجھے یہ سب سے بڑی اور سندر والی بانسری دلا دو، پھر جتنی باتیں کرنا ہے آپ دونوں کو کرتے رہنا۔۔۔"
بچے کی بے چینی اور معصومیت بھری باتوں سے ہم دونوں ہی ہنس پڑے اور اس کی من پسند بانسری کی قیمت میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا دی اور جب اس نے بجانے کے لیے اپنے ہونٹوں سے لگائی تو اس سے ٹھیک سے بج ہی نہ سکی۔
بانسری والے نے اسے بانسری کو صحیح طریقے سے پکڑنے اور پھر بجانے کو کہا تب بھی وہ نہیں بجا پایا اور ناراضگی سے اس بانسری کو زمین پہ پھینکتے ہوئے کہنے لگا:
"بھیا نے مجھے خراب بانسری دی ہے اس لیے یہ بج ہی نہیں رہی" اور وہ منہ بسور کر وہاں سے بھاگ گیا۔


زمین پر شدت سے گرنے کے باعث بانسری دو حصوں میں منقسم ہو گئی اور میں اور موہن بے ساختہ اسے اٹھانے کے لیے جھکے تو ایک حصہ موہن نے اٹھایا اور ایک میں نے۔ اس نے شرمندگی سے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ وہ ٹوٹا ہوا حصہ بھی مجھے دے دیں تاکہ میں اسے دوبارہ ٹھیک کر سکوں اور بدلے میں دوسری اچھی بانسری لے لیں اور اس کی قیمت ادا کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
میں نے موہن سے کہا کہ کوئی بات نہیں مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے ایک الگ سی انسیت ہے آپ مجھے وہ دوسرا حصہ دے دو میں اسے جوڑ کر اپنے پاس رکھ لوں گی۔ اس نے پھر دوبارہ مجھے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے وہ حصہ مجھے دے کر جانے لگا۔ میں نے اسے پھر مخاطب کیا:
"کیا تم دوبارہ اس طرف آؤ گے؟"
جواباً اس نے کہا کہ نہیں میں تو ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے ادھر آ نکلا ہوں اور ابھی مزید سفر باقی ہے۔


موہن یہ کہتا ہوا دور بہت دور نکل گیا اور میرے ہاتھوں میں تھمی ٹوٹی ہوئی بانسری اسے افسردگی سے جاتا دیکھتی رہی۔ میں بہت دیر تک اپنے دروازے پہ کھڑے ہوکر اس کو نظروں سے اوجھل ہونے تک تکتی رہی اور پھر وہ ٹوٹی بانسری لیے اپنے کمرے میں آگئی اور اسے جوڑنے میں مصروف ہو گئی۔ کافی مشکلات کے بعد بالآخر وہ جڑ گئی گرچہ درمیان میں ایک باریک سی لکیر اس کے حسن کو ماند کر رہی تھی لیکن جب میں نے اسے اپنے لبوں سے لگایا تو اس کی مدھر دھن اور بھی خوبصورتی سے راگ چھیڑ نے لگی۔ اپنی محنت کے اس حصول پہ میں سرشار ہو اٹھی اور اسے اپنے کچن میں لگی ایک کیل پر ٹانگ دیا۔


خوبصورت رنگ برنگی مور پنکھ لگی یہ بانسری میری بیزاری کو دور کرنے اور کچن کی دیگر اشیا کی یکسانیت میں اپنے انوکھے راگ سے حسن پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ اب اس کی مدھر دھن سن کر چائے پتی، چینی، دودھ، مسالحے اور برتن ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے غالباً مسرور ہو کر میرے ساتھ رقص کرنے لگے۔ کھڑکی سے نظر آنے والے پیڑ کی دعوت پر ہم سب ایک ساتھ وہاں پہنچ گئے اور طعام کا بھرپور لطف اٹھایا۔ پھر جوں ہی میں نے بانسری کی مدھر دھن بجائی تو دور بہت دور موہن کی بنسی کی دُھن سے مل کر ہماری شام بے حد حسین ہو گئی !!

***
طلعت فاطمہ
ریسرچ اسکالر (پی ایچ ڈی)، شعبۂ اردو، عالیہ یونیورسٹی، کولکاتا۔
Email: talatfatma04[@]gmail.com

Bansri wala. Short Story by: Talat Fatma

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں