قرآن کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت و افادیت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-12-03

قرآن کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت و افادیت

need-and-value-of-quran-tarjuma-and-tafsir

الله تعالی نے قرآن مقدس کو رشد و ہدایت کے لئے نازل فرمایا اور اس میں زندگی و بندگی کے کل نظام بھی رکھے۔ اور قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا جو عرب میں بولی اور بھی جاتی ہے۔ عرب کے علاوہ مختلف ممالک میں مخصوص اشخاص و اہل علم عربی زبان سے واقف اور اس پر مہارت رکھتے ہیں مگر اکثر نا بلد و نا آشنا تھے، جو ایمان والے بھی ہیں اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرنے والے بھی ہیں مگر عربی زبان سے نا واقف ہیں۔
اور افراد و امم کی ترقی کا راز قرآنی تعلیمات کی پیروی اور اس کی حکیمانہ نظم و ترتیب میں مضمر ہے۔ قرآن مقدس بنی نوع انسان کی فلاح و صلاح کے جملہ اجزاء و عناصر پرمشتمل ہے۔ یہ ایک بدیہی امر ہے کہ قرآنی تعلیمات کی تعمیل قرآن کے فہم و تدبر کے بعد ہی ممکن ہے۔
قرآن عزیز جو رشد و ہدایت کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس کا معجزانہ اسلوب بیان جن حکمتوں کا جامع ہے جب تک ان سے آگاہی حاصل نہ کی جائے تب تک اس کی پیروی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم قرآنی الفاظ کے معانی و مطالب کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ علم تفسیر اسی سلسلہ میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
قرآن مقدس کو جب تک ہم اپنی زبان اردو میں ترجمہ و تفسیر کی صورت میں نہ سمجھیں گے تب تک ہمیں قرآن مقدس کی حقیقی معانی و مطالب سے آگاہی مشکل امر ہے، اسی لئے تر جمہ و تفسیر کی عوام الناس کو اس کی بے حد ضرورت ہے۔


"عصر حاضر میں عربی زبان و ادب میں مہارت باقی نہیں رہی۔ عربی الاصل خاندانوں میں عربیت کی خصوصیات مفقود ہیں۔ اس لئے اس دور میں علم تفسیر کی بیش از پیش ضرورت ہے۔ کتاب الہی جو بنی نوع انسان کی اصلاح و فلاح اور ان کے اعزاز و اکرام کو برقرار رکھنے کے کئے نازل ہوئی ہے، عظیم علمی ذخائر کی جامع ہے۔ علم تفسیران خزینہ ہائے علم کی کنجی ہے۔ جس کے بغیر قرآنی علوم معارف کا باب ادا نہیں ہو سکتا۔ خواہ لوگ قرآنی الفاظ کو دن میں ہزاروں مرتبہ دہراتے رہیں۔ ان کا مفہوم و معی تفسیر کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتا۔"
(بحوالہ: تاریخ تفسیر و مفسرین، تالیف: غلام احمد حریری۔ ناشر: ملک سنز پبلشرز، کارکانہ بازار، فیصل آباد، پاکستان)۔


مذکورہ بالا سطور کے حوالے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اور آج کے معاشرے میں تفسیر کی کتنی ضرورت ہے۔ اور اس تفسیر قرآن کی افادیت کیا کیا ہیں۔ اگر ہم تفسیر قرآن مجید کا صحیح طور پر مطالعہ کریں اور اس پر عمل کریں تو یقیناً ہمیں روشن اور تابناک زندگی مل سکتی ہے۔ اور ہمارا کھویا ہوا وقار ہمیں واپس مل سکتا ہے۔
نسخہ ہائے قرآن اور حفاظ کی کثرت کے باوصف، مسلمان جس تنزل و انحطاط میں مبتلا ہیں اس کی بڑی وجہ مندرجات قرآن سے لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کی تعداد کچھ کم نہیں اور ان کے بلاد و امصار بھی دور دراز تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارے اسلاف نے اسی قرآن مقدس کی برکت سے ترقی کی جو منازل طے کی تھیں تاریخ اور مورخین اس پر خوف زدہ ہیں اور رہیں گے۔ باوجود یہ کہ ان کی اس وقت تعداد کم تھی۔ وہ سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ قرآن نسخے بھی انہیں بسہولت میسر نہ تھے۔ حفاظ قرآن کی تعداد بھی نہایت محدود تھی، مگر پھر بھی وہ کامیاب تھے اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔


ہمارے اسلاف کی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ قرآن مقدس کے درس و مطالعہ اور اس کے بحر معانی میں غواصی کرنے کی جانب مبذول کی۔ اسی ضمن میں انہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں اور خالص عربی آداب و اطوار سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اور الله، اس کے رسول ﷺ کی بندگی و غلامی میں رہ کر زندگی و بندگی کے معیار کو عروج کمال تک پہونچایا اور آنے والی نسلوں کو درس دیا کہ اگر دارین میں کامیاب ہوتا ہے، زندگی و بندگی کے معیارکو پانا ہےتو قرآن مقدس جیسی عظیم کتاب کے قانون اور اس کے علوم و فنون کو اپنا عمل بناؤ تبھی کامیابی کی راہ مل سکتی ہے۔


ہر انسان سوچتا اپنی زبان میں ہے اور جس زبان کا اس کو علم ہوتا ہے، جب کوئی چیز اسی کی اپنی زبان میں پیش کی جاتی ہے تو وہ زیادہ دل پذیر اور اثر انداز ہو جاتی ہے۔ لہذا قرآن کی تعلیمات و احکامات کو عام کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کا ترجمہ و تفسیر اپنی زبان اردو اور دیگر مختلف زبانوں میں بھی موجود ہو تاکہ ہر زبان کا علم رکھنے والا عربی قرآن کو بآسانی سمجھ کر اس پر عمل کر سکے۔ یہ حقیقت ہے کہ قرآن کے ترجموں سے غیر عربی مسلمان نے اسلامی تعلیمات کو اپنے اندر رچایا اور بسایا اور غیر مسلموں نے بھی قرآن کی تعلیمات کو سراہا اور قرآن مقدس کی خوبیوں کا اعتراف کیا اور کئی غیرمسلموں نے اسلام میں داخلہ بھی لیا۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب قرآن کا ترجمہ و تفسیر غیر عربی زبان میں ہو، ملاحظہ فرمائیں۔


"قرآن کے غیر عربی ترجموں اور تفسیر کی وجہ سے غیر عربی داں مسلمانوں کو فقہ، شریعت اور احکام سمجھنے میں بڑی آسانی ہوئی، اس کے علاوہ اسلامی قانون اور اسلامی فلسفہ کی ترویج ہوئی۔ گویا قرآن کے ترجموں اور تفسیروں نے غیر عربی دانوں کیلئے قرآن کے مفہوم کو سمجھنے کیلیے دروازے کھول دئیے۔"
(بحوالہ: قرآن حکیم کے اردو تراجم۔ از: ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم شرف الدین، سن اشاعت: 1984، ص:74)


یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ تمام اشخاص یکساں فہم و قابلیت کے نہیں ہوتے۔ ان کی استعداد اور صلاحیتوں میں بڑا تفاوت ہوتا ہے کوئی کج فہم ہے تو کوئی زود فہم، کوئی زکی ہے تو کوئی بالکل غبی۔ اس وجہ سے کسی بات یا کلام کو سمجھنے میں ہر کوئی یکساں نہیں ہوتا۔ پھر عام لوگوں کا کلام تو الگ رہا۔ جب معاملہ اللہ کے اس کلام کا ہو جس کی جامعیت، ہمہ گیری، بسط وسعت کا کچھ ٹھکانہ نہیں۔ جس میں بے شمار مطالب، فصاحت و بلاغت، اوصاف کلام اور معنی و بدیع کا ایک چمن کھلا ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے کلام کی تشریح و تفسیر ایک ضروری چیز ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو سمجھ سکیں۔


***
ماخوذ از مقالہ: اردو میں تفاسیر قرآن کا اجمالی جائزہ
پی۔ایچ۔ڈی مقالہ از: محمد کلیم اشرف (زیر نگرانی: ڈاکٹر سلیمہ بی۔اے۔کولور)
کرناٹک یونیورسٹی، دھارواڑ، کرناٹک۔ (شعبۂ اردو و فارسی، 2017-18)

The need and the value of translating and interpreting (tafsir) the Qur'an. Article by: Md. Kaleem Ashraf

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں