بدایوں - روہیل کھنڈ علاقہ کے تاریخی شہر کی داستاں - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-09-27

بدایوں - روہیل کھنڈ علاقہ کے تاریخی شہر کی داستاں

budaun-uttar-pradesh

ضلع بدایوں ، روہیل کھنڈ کی قسمت میں ایک نہایت شاداب جگہ ہے جس کے ایک جانب دریائے گنگ لہریں مار رہا ہے، اور دوسری جانب رام گنگا جوش و خروش میں بہتی ہوئی چلی جاتی ہے۔ ان دو ندیوں کے درمیان یہ پرفضا مقام ہے، جس کے شمال میں حصہ ضلع بریلی، مرادآباد اور رام پور
جنوب میں فرخ آباد، ایٹہ، علیگڑھ
شرق میں حصہ ضلع بریلی، شاہ جہاں پور
اور مغرب میں ضلع بلند شہر ہے۔


اس ضلع میں پانچ دریا بہتے ہیں۔ گنگا، رام گنگا، سوتھ، مہابا اور ارل۔ ان میں سے سوتھ خاص شہر کے کنارہ پر رواں ہے اس کو "یار وفادار" بھی کہتے ہیں۔


بدایوں اپنی شاندار روایات کے اعتبار سیے مہتم بالشان اور وقیع سمجھا جاتا ہے اور تاریخی دنیا میں اس کو طرۂ امتیاز حاصل ہے۔ اس شہر کی آب و ہوا کے متعلق بہت سے مقدس بھجن پرانی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان بھجنوں میں قدیم شعرائے اہل ہنود نے اس شہر کے خوبصورت نظارہ پر خیال آرائی کرتے ہوئے دریائے گنگ کو بحر آسمانی، ہرے بھرے درختوں اور قدرتی پھولوں کو بہشت کا سرمایۂ ناز بتایا ہے۔ قدرت ہر زمانے میں اپنی فیاضی کے چشمے کو رواں رکھتی ہے۔ دور حاضر میں بھی اس کی سیراب کھیتیاں، گھنے گھنے درخت اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ شہر کی آب و ہوا عمدہ ہے۔ روہیلکھنڈ کا دیگر اضلاع سے مقابلہ کیا جائے تو یہ کسی قدر گرم ہے۔ کتاب 'کنز التاریخ' کے مولف نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ یہ شہر، بریلی، مرادآباد، شاہجہاں پور ، وغیرہ کی بہ نسبت کسی قدر کوہ ہمالہ سے فاصلہ پر واقع ہے۔


اقوام کے عروج و زوال کی تاریخ سے دوش بدوش ہو کر اس شہر کے نام نے بھی کئی پلٹے کھائے ہیں۔ عہد پیشین کے مورخین نے اس کو ویدا مئو، بیدا مئو، بدھ مئو، لکھا ہے اور اس تغیر و تبدیل کے بعد 'بداؤں' اور پھر 'بدایوں' مشہور ہوا۔ شہر کے بعض قدیم الوضع لوگ اب تک اپنی روز مرہ میں "بداؤں" استعمال کرتے ہیں لیکن سرکاری کاغذات میں "بدایوں" لکھا جاتا ہے۔


اس قدم آبادی کی خاک سے مردانِ خدا، علمائے کرام، انشاء پرداز ، شاعر، مورخ پیدا ہوئے ہیں۔ انگریزی تحقیقات کے نقطۂ نظر سے 905ء میں بدھ نامی راجہ نے اس کو آباد کیا۔ 1028ء تک اس خاندان کے اقبال کا ستارہ روشن رہا۔ ہندو حکومت کے بعد یہ شہر بہادران اسلام کے شجاعانہ حملوں کا زبردست مرکز بن گیا۔ سب سے پہلے حضرت سالار مسعود غازی نے 1028ء میں حملہ کیا جن کی یادگار ابھی تک ایک میلہ کی صورت میں قائم ہے۔ جو "حظیرہ" کے نام سے مشہور ہے۔ یہ میلہ جیٹھ کے پہلے اتوار کو موضع لکھن پور میں ہوتا ہے۔
حضرت سالار مسعود غازی، محمود غزنوی کی بہن کے لڑکے اور فوج کے سپہ سالار تھے۔ بدایوں وغیرہ میں جہاد کرتے ہوئے 1033ء میں بہرائچ (اودھ) پہنچے۔ وہاں ایک مشہور مندر پر حملہ کیا اور ایک خونریز جنگ واقع ہوئی جس میں آپ نے 14/رجب 424ھ مطابق 15/جون 1033ء کو انیس (19) برس کی عمر میں شہادت پائی۔ بہرائچ میں آپ کے مزار پر جیٹھ کے پہلے اتوار کو میلہ پوتا ہے اور بدایوں کی طرح یہاں بھی پتنگ بازی ہوتی ہے۔ آپ کے مزار کے متعلق ایک بہت بڑا وقف ہے جس کا اہتمام ایک ڈپٹی کلکٹر کے سپرد ہے۔ ہندوستان کی درگاہوں کے اوقاف میں یہ سب سے بڑا وقف ہے۔
"خطیرہ" عربی زبان میں چار دیواروں کو کہتے ہیں۔ میلہ کے مقام پر ایک چار دیواری بھی ہے جس میں ایک جگہ مخصوص کر دی گئی ہے۔ عوام کا اس جگہ کی بابت خیال ہے کہ مسعود غازی صاحب کی خنضر یعنی چھنگلیا جو لڑائی میں کٹ گئی تھی، یہاں مدفون ہے۔ لکھن پور شہر کے مشرقی جانب واقع ہے۔


1186ء میں قطب الدین ایبک کا حملہ ہوا اور انہوں نے اس شہر کو فتح کیا۔ یہ وہ عہد تھا جب کہ معز الدین سام ملقب بہ سلطان شہاب الدین کی بادشاہت کا ڈنکا دہلی میں بج رہا تھا اور قطب الدین وزیر اعظم کی حیثیت سے معاملات سلطنت کی گتھیاں سلجھا رہا تھا۔


602ء میں سلطان شہاب الدین نے دنیا کو خیرباد کہا اور قطب الدین تاج و تخت کا ملک بن گیا۔
600ء میں شمس الدین التمش بدایوں کا حاکم مقرر ہوا تھا۔ اسی عرصہ میں قطب الدین کی روح جسم خاکی سے پرواز کر گئی اور اس کے بیٹے آرام شاہ نے سلطنت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ مگر وہ اپنی ناقابلیت کی وجہ سے اس گرانقدر بوجھ کو سنبھال نہ سکا۔ حکومت کے ارباب حل و عقد نے شمس الدین التمش کو بدایوں سے بلا کر دہلی کا بادشاہ بنا دیا۔ مورخین اپنی اپنی تاریخوں میں اس کے زہد، تقوی و پرہیز گاری کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کو اوصاف ظاہری اور صفات باطنی کا جامع بتاتے ہیں۔ اسی عہد میں اس کا بیٹا رکن الدین بدایوں کی گورنری کے فرائض کو حسن و خوبی سے انجام دے رہا تھا اور یہیں سے اس کو دہلی کی تاجداری کا فخر حاصل ہوا۔


شمس الدین التمش نے بلدوز بادشاہ ترکستان کو جنگ میں شکست دے کر بدایوں میں قید کیا تھا اور وہ گرفتاری کی حالت میں یہاں مر گیا۔ مدرسہ مغزیہ کے پہلو میں، عقب جامع مسجد اس کی قبر ہے۔


644 ہجری میں شمس الدین التمش کا چھوٹا بیٹا ناصر الدین محمود دہلی کا بادشاہ ہوا جس نے بیس برس سلطنت کرنے کے بعد 664ھ میں انتقال کیا اور غیاث الدین بلبن مسند آرا سے سلطنت ہوا۔ جس زمانہ میں یہ بدایوں آیا تھا انہیں دنوں میں اس شہر کے گورنر نے ایک فراش کو نشہ کی حالت میں قتل کر دیا تھا۔ جب مقتول کے بیوہ کی فریاد بادشاہ کے کان میں پہنچی تو اس نے گورنر کا جرم ثابت ہونے پر اس کے اتنے کوڑے لگوائے کہ وہ مر گیا۔ اور اس کی لاش کو شہر پناہ کے دروازہ پر آویزاں کر دیا۔ مورخین اس عہد کو غلاموں کی سلطنت کہتے ہیں۔


690 ہجری میں ملک چہجو حاکم کٹرہ مانک پور (ضلع شاہجہانپور) نے جو آتش بغاوت بھڑکا رکھی تھی اس کو مٹانے کے لئے سلطان جلال الدین خلجی نے روہیل کھنڈ کا رخ کیا۔ بدایوں پہونچ کر یہاں سے فوجیں بھیجیں ، جنہوں نے کٹرہ میں امن قائم کیا۔ ملک چہجو مغلوب ہوا۔ اور بادشاہ نے اپنے بہشتی کو جو اس کی ہمراہی میں تھا کٹرہ مانک پور کا حاکم مقرر کیا اور وہ دہلی کو روانہ ہو گیا۔


694 ہجری میں علاؤالدین خلجی نے اپنے چچا سلطان جلال الدین کو قتل کرتے ہوئے کٹرہ مانک پور میں اپنی بادشاہ کا اعلان کیا اور وہاں سے رکن الدین کا مقابلہ کرنے کے لئے جب دہلی کو روانہ ہونے لگا تو اس نے بدایوں میں قیام کیا۔ اس وقت اس کی ہمراہی میں ساٹھ ہزار سوار تھے۔ سلطان فیروز تغلق نے بھی دو سیدوں کے خون ناحق کا انتقام لینے کو بدایوں پر چڑھائی کی اور اس نے تلوار ہاتھ میں لے کر کشتوں کے پشتے لگا دئیے۔ سیکڑوں بےگناہوں کی لاشیں زمین پر پڑی ہوئی خوف اور ہیبت کا نقشہ دکھا رہی تھیں اس خونریزی کا سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ اسی زمانہ میں ملک قبول بدایوں کے حاکم مقرر کئے گئے جنہوں نے محلہ قبول پورہ آباد کیا تھا جو اس وقت تک موجود ہے۔


سید علاؤ الدین خاندان سادات کے آخری بادشاہ نے بدایوں کی آب و ہوا کو خوشگوار پاکر 854 ہجری میں سکونت اختیار کر لی اور اسی شہر میں وفات پائی (وفات: 883ھ م 1438ء)۔
سید خضر خاں کی شمع اقبال گل ہونے، 1426ء میں مہابت خاں کا مبارک شاہ کی اطاعت قبول کر لینے، 49،1446ء میں عالم شاہ کے بدایوں آنے ، اس کے وزیر کا بہلول لودی سے مل کر کچھ ملک چھین لینے، اور عالم شاہ کے مرتے دم تک ضلع پر قابض رہنے کے بعد اس کے داماد حسین شاہ نے بدایوں پر قبضہ کیا۔


1488ء میں سکندر لودی نے تخت نشین ہو کر اپنے بھائی باربک شاہ کو بدایوں اور جون پور کا گورنر مقرر کیا۔ مگر بدقسمتی سے وہ بھی باغی ہو گیا۔ 1550ء میں ہمایوں نے سنبھل اور بدایوں کے جدا جدا گورنر مقرر کئے۔ اقتدار اور حکومت کی رقابت نے دونوں گورنروں کے درمیان عداوت کی خلیج کو وسیع کیا۔ آخر کار سنبھل کے گورنر نے بدایوں کا محاصرہ کیا اور بدایوں کے ناظم کو مار ڈالا۔ وہ حکام جن کو بادشاہ نے امن کا ذمہ دار بنایا تھا، ان سب کا محض ذاتی عزت ، ذاتی نمود کی نفس آرائی کو عنوان بنا کر ایک دوسرے سے لڑنا بدایوں کی تاریخ میں ایک ایسا واقعہ تھا جس نے رعیت کے دل پر ناگوار اثر ڈالا تھا۔ ع
خود خویشتن گم است کرا رہبری کند۔


1556ء میں اکبر عہد کی شعاعوں نے روشن ہوکر بدایوں کو نظام حکومت کی نئی جھلک دکھائی۔ بادشاہ نے اس قدیم تاریخی شہر کو صوبہ دہلی کی سرکار قرار دیا اور قاسم علی خاں سرکار بدایوں نے جاگیر دار (حاکم صوبہ) مقرر ہوئے۔ اس زمانہ میں سرکار بدایوں آئین اکبری کے بموجب تیرہ محال یا پرگنوں پر مشتمل تھی جس میں موجودہ اضلاع شاہجہاں پور، بریلی، پیلی بھیت شامل تھے۔ منجملہ 13پرگنوں کے پانچ اس وقت تک ضلع بریلی اور چار ضلع شاہجہانپور میں شامل ہیں۔


1571ء میں جب کہ قنبر دیوانہ بدایوں کا حکم بن کر "دیوانہ بکار خویش ہشیار" پر عمل پیرا تھا، علی قلی خاں کی فوج نے قلعہ میں آگ لگا دی۔ اس قہر انگیز آتش کے شراروں نے شہر کی آبادی میں ہل چل پیدا کر دی تھی۔ مخلوق کا شیرازۂ عناصر منتشر ہو رہا تھا اور انسانی نگاہیں بڑے بڑے سامانوں کو خاک سیاہ دیکھ کر خدائے ذوالجلال سے رحم و کرم کی درخواست کر رہی تھیں۔
شہر اور قلعہ کے عالیشان مکانات دھوئیں کے رنگ سے ماتمی ہو رہے تھے۔ جامع مسجد کا گنبد اور محراب آگ کے شعلوں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ جن لوگوں نے قلعہ کی اونچی اونچی دیواروں پر پہنچ کر پناہ لینی چاہی تھی ان کے پیچھے آگ سلگ رہی تھی۔ لاکھوں لوگ فصیل سے نیچے گر کر دم توڑ رہے تھے۔ بیقراری کا پر آشوب تلاطم برپا ہوجانے سے ہندو و مسلمان کی تمیز جاتی رہی تھی اور لاکھوں لاشیں گاڑیوں میں بھر کر دریا کے اندر ڈالی جاتی تھیں۔ اس عہد کے مشہور مورخ ملا عبدالقادر بدایونی مولف "منتخب التواریخ" نے اس جاں سوز واقعہ کا منظر اپنے ان دو مصرعوں میں پیش کیا ہے:
چہ پرسی از بدایون وزاحوال پریشانش
کہ آیات عذاب النار نازل گشتہ در شانش


تواریخ میں آگ لگائے جانے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ علی قلی خاں نے قنبر کے غرور کا طلسم توڑنے کو اس پر چڑھائی کی تھی۔ ساکنان شہر علی قلی خاں سے ملے ہوئے تھے انہوں نے اس کو مطلع کیا کہ فلاں رات کو فلاں برج کی جانب سے حملہ کیا جائے اور سیڑھی اور کمندوں کے ذریعہ سے مدد دیں گے تاکہ فوج قلعہ میں آسانی سے داخل ہو سکے۔ جب فوج قلعہ میں داخل ہوئی اور اس نے شہر میں آگ لگا دی تو قنبر نے بھاگنا چاہا مگر گرفتار کر لیا گیا۔ پھر وہ ایک مجرمانہ حیثیت میں علی قلی خاں کے روبرو پیش کیا گیا علی قلی خاں نے اس کو اپنی اطاعت قبول کرنے کے واسطے کہا مگر اس نے اپنی رائے کو نہ بدلا اور اپنے غرور کو جتاتا رہا تو علی قلی خاں نے اس کو قتل کیا اور ایک عرضداشت کے ساتھ اس کا سر بادشاہ کی خدمت میں روانہ کر دیا۔


1719ء میں محمد شاہ نے قصبہ اوسہت اور بدایوں کے پرگنہ کو فرخ آباد میں ملا دیا اور علی محمد خاں سردار روہیلہ نے باقی حصہ پر قبضہ کر لیا۔
روہیلے قدرتی طور پر دلیر اور شجاع تھے۔ 1754ء میں اوسہت اور بدایوں بھی ان کی مقبوضات میں داخل ہو گیا لیکن جب مرہٹوں نے ان پر حملہ کیا تو انہوں نے کل خرچ دینے کے اصرار پر شجاع الدولہ وزیر اودھ کی مدد چاہی وزیر نے انگریزوں کی مدد سے روہیلوں پر حملہ کر دیا۔
اس میں شک نہیں کہ روہیلہ قوم نے بہادری کی سرزمین پر آنکھیں کھولی تھیں اور وہ افغانستان کی مشہور بہادر قوم تھی لیکن بےسر و سامانی کی وجہ سے وہ اپنے جنگی صفات کو بہترین صورت میں ظاہر نہ کر سکی اور اس کے جذبات نے جس آب و ہوا میں نشو و نما پائی تھی ان کو باقاعدہ طور پر عمل میں لانے سے مجبور رہی۔ 1774ء میں روہیلوں کو میراں پور کٹھرا کے قریب شکست حاصل ہوئی اور ان کے سردار نواب حافظ رحمت خاں مارے گئے۔


بدایوں کے سردار نواب دوندے خاں وزیر اودھ سے مل گئے تھے۔ وزیر نے فوراً حملہ کر کے بدایوں لے لیا۔ اور انگریزی حکومت سے قبل بدایوں انہیں کی حکومت میں تھا۔
1801ء میں وزیر اودھ نے کُل روہیل کھنڈ سرکار انگلیشہ کو دے دیا، اس وقت بدایوں ضلع مرادآباد کا ایک حصہ تھا۔ 1823ء میں قصبہ سہسوان اس ضلع کا مقام ہوا 1830ء میں خاص بدایوں صدر مقرر ہوا۔
1857ء میں جو مشہور ہنگامہ ہندوستان میں واقع ہوا اس کے اثر سے بدایوں بھی محفوظ نہ رہا ، اس وقت مسٹر ایڈورڈس مجسٹریٹ ضلع تھے۔ انہوں نے اپنا روزنامچہ اس زمانہ میں لکھا تھا جس کا اردو ترجمہ شمس العلماء ڈاکٹر نذیر احمد دھلوی مرحوم نے "مصائب غدر" کے نام سے کیا ہے۔
اس میں غدر کے مفصل حالات درج ہیں۔ شہر میں یہ بدامنی عین عبدالفطر کے روز بتاریخ 25/مئی 1857ء شروع ہوئی تھی۔ خزانہ لٹا، جیل خانہ لوٹا گیا، بنگلہ اور کوٹھیوں کو آگ لگائی گئی چنانچہ سول لین میں ایک عمارت اب تک موجود ہے جو "جلی کوٹھی" کے نام سے مشہور ہے۔


***
ماخوذ از کتاب: بدایوں قدیم و جدید
مصنف: نظامی بدایونی ، ناشر: نظامی پریس، بدایوں (سن اشاعت: 1920ء)

The history and culture of Budaun, Rohilkhand, Uttar Pradesh.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں