دکن میں اردو شاعری - از پروفیسر نورالحسن نقوی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-07-01

دکن میں اردو شاعری - از پروفیسر نورالحسن نقوی

urdu-poetry-in-deccan

تاریخ ہندوستان کا مطالعہ کیاجائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انگریزی سلطنت کے قیام سے پہلے جنوبی ہند بالعموم شمالی ہند کے اثر اور حکمرانی سے تقریباً آزاد رہا۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ شمال کو جنوب پر اقتدار حاصل ہو گیا لیکن جلد ہی اس اقتدار کا خاتمہ بھی ہو گیا۔ اس کے باوجود یہ کہنا غلط ہوگا کہ شمال کے اثر سے دکن کلیتاً آزاد رہا۔


شمالی ہندوستان جب مسلمان بادشاہوں کے زیر نگیں آگیا تو ان کی نظریں دکن کی طرف بھی اٹھنے لگیں۔ علاء الدین خلجی پہلا مسلمان بادشاہ تھا جس کی فوجیں تیرہویں صدی عیسوی میں دکن پہنچیں لیکن اس نے اپنی فتوحات کو مستحکم نہیں کیا۔ چنانچہ اس کے لشکر کے ساتھ جو زبان و تہزیب دکن پہنچی وہ کوئی دیرپا نقش قائم نہ کر سکی۔
اس کے کافی عرصے بعد یعنی چودھویں صدی میں محمد شاہ تغلق نے دکن میں دیوگری کو دولت آباد کا نام دے کر اپنا پایۂ تخت بنایا۔ اس نے دہلی کی تقریباً کل آبادی کو حکماً دولت آباد منتقل کر دیا۔ سپاہیوں اور شاہی ملازموں کے ساتھ اہل حرفہ، فقراء اور صوفیا بھی بڑی تعداد میں دکن پہنچے۔ ان کے ساتھ نئی زبان و تہذیب بھی دکن پہنچی اور وہاں اس کے دیر پا اثرات ہوئے۔ صوفیا کے اثرات ان میں سب سے نمایاں ہیں، بول چال کی جس زبان کو یہ حضرات اپنے ساتھ دکن لے گئے تھے اسی سے انہوں نے تبلیغ کا کام کیا اور وعظ و پند میں اسی زبان کو استعمال کیا۔


تغلق بادشاہوں کی حکومت کمزور ہو گئی تو دکن آزاد ہو گیا اور وہاں بہمنی سلطنت قائم ہو گئی۔ ایران و عرب سے قافلے برابر شمالی ہندوستان چلے آ رہے تھے اس لئے وہاں بدیسی تہذیب اور بدیسی زبان یعنی فارسی کے اثر میں کمی نہیں ہوئی لیکن دکن کا معاملہ مختلف تھا۔ یہاں مقامی اثرات کا بول بالا تھا اور دیسی زبان کی ترقی روز افزوں تھی۔ فرشتہ نے اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھا ہے کہ سرکاری کاموں کے لئے دیسی زبان ہی استعمال کی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ وہاں جلد ہی اردو زبان نے رواج پا لیا۔

یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
اردو شاعری کے دبستان - از پروفیسر نورالحسن نقوی

پندرہویں صدی میں بہمنی سلطنت ٹوٹ کر پانچ ریاستوں میں تقسیم ہو گئی لیکن ہمارے نقطہ نظر سے ان میں سے صرف دو ریاستیں اہم ہیں۔ پہلی بیجا پور دوسری گولکنڈہ۔
بیجا پور میں عادل شاہی ریاست قائم ہوئی اور گولکنڈہ میں قطب شاہی۔
عادل شاہی خاندان کی سلطنت کا آغاز 1490ء سے ہوا۔ اس خاندان میں آٹھ بادشاہ ہوئے۔ یہ سب عالم اور علم دوست تھے، ان کے عہد حکومت میں شعر و ادب کو خوب فروغ ہوا۔ حالانکہ تصنیف کا سلسلہ بہمنی دور میں ہی شروع ہو چکا تھا۔ اس دور کے سب سے اہم مصنف خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ہیں۔ یہ حضرت نظام الدین اولیاء کے خلیفہ اور خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی کے شاگرد تھے۔ 1399ء یا اس کے آس پاس گلبرگہ پہنچے اور وعظ و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ اس کام کے لئے انہوں نے عام بول چال کی زبان یعنی اردو کا انتخاب کیا۔ تصوف سے متعلق متعدد رسالے ان سے منسوب کئے جاتے ہیں۔ مثلاً معراج العاشقین، ہدایت نامہ ، تلاوۃ الوجود اور رسالہ بارہ ماسہ۔ لیکن یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ انہی کی تصانیف ہیں یا ان سے منسوب کر دی گئیں؟ ان کے پوتے عبداللہ حسینی بھی ایک مشہور صوفی گزرے ہیں۔ جنہوں نے نشاۃ العشق کا ترجمہ کیا۔ سلطان احمد شاہ بہمنی کے دور میں ایک درباری شاعر فخر الدین نظامی نے مثنوی "کدم راؤ پدم راؤ" لکھی۔


پندرہویں صدی کے دکن میں جو نام قابل ذکر ہیں ان میں ایک اہم نام شاہ میراں جی شمس العشاق (1497ء۔1562ء) کا ہے۔ انہوں نے اپنے متصوفانہ خیالات نثر اور نظم دونوں میں پیش کئے۔ ان کی تصانیف خوش نامہ اور خوش نغز دو مثنویاں اور شہادت التحقیق ایک طویل نظم ہے۔ ایک نثری تصنیف شرح مرغوب القلوب بھی ان سے یادگا ہے۔ نمونۂ کلام ملاحظہ ہو ؎
تو قادر کر سب جگ سب کو روزی دیوے
تو سبھوں کا دانا بینا سب جگ تج کو سیوے


شاہ میراں جی کے بیٹے شاہ برہان الدین جانم (1554ء۔ 1599ء) بھی ایک صوفی اور عالم تھے۔ ان کی کئی شعری تصانیف موجود ہیں۔ مثلاً وصیۃ الہادی، رموز الواصلین، اور بشارت الذکر۔ ان سب کا موضوع تصوف ہے۔ انہوں نے غزلیں اور دوہے بھی کہے۔ ان کی زبان سادہ اور سہل ہے جسے وہ کہیں دکنی اور کہیں گجری (گجراتی اردو) کہتے ہیں لیکن زبان وہی ہے جسے ہم 'قدیم اردو' کہہ سکتے ہیں۔ بعض نثری تصانیف بھی ان سے یادگار ہیں ، جن میں کلمۃ الحقائق سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کے کلام کا نمونہ یہ ہے ؎
کاٹا چھانٹا پھل اور پھول
شاخ برگ سب دیکھ اصول
نہ اس خالق مخلوق کوئے
جیسا تیسا دیکھا ہوئے


برہان الدین جانم کے صاحبزادے امین الدین اعلیٰ بھی صاحب قلم بزرگ تھے۔ انہوں نے نظم اور نثر دونوں میں طبع آزمائی کی۔ محب نامہ، رموز السالکین ، گنج مخفی اور وجودیہ ان سے یادگار ہیں۔


دکن میں اردو شاعری : بہمنی سلطمت کے زوال کے بعد

اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ بہمنی سلطنت کا زوال ہوا تو دکن پانچ خود مختار ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ تھیں۔ احمد نگر ، گولکنڈہ، بیدر، بیجا پور اور گجرات۔
احمد نگر میں نظام شاہیوں نے حکومت قائم کر لی تھی ، لیکن یہ چھوٹی سی ریاست کوئی خاص ترقی نہ کر پائی اور نہ اس قابل ہو سکی کہ شاعروں اور فن کاروں کی سرپرستی کر سکے۔ شعر و شاعری کی بنیاد تو بہرحال پڑ چکی تھی اور اس کا سلسلہ جاری رہا۔ ریاست احمدنگر میں اشرف بیابانی اور حسن شوقی دو قابل ذکر شاعر ہوئے۔


اشرف بیابانی - 1459ء۔ 1528ھ

سید شاہ اشرف بیابانی فقرآباد میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد رشد و ہدایت میں مشغول ہوئے۔ان کی تین تصانیف دستیاب ہیں۔ لازم المبتدی ، واحد باری اور نوسرہار۔ لازم المبتدی ایک طویل نظم ہے۔ واحد باری عربی ، فارسی اردو کی منظوم لغت ہے۔ نو سرہار مثنوی ہے جس میں واقعات کربلا کا بیان ہے۔ یہی ان کی سب سے زیادہ مشہور تصنیف ہے۔ 1503ء میں لکھی گئی۔ زبان سادہ اور سہل ہے۔ یہاں اس کا ایک شعر پیش کیا جاتا ہے۔
اے نو باباں نو سرہار
قیمت اس کی لاکھ ہزار


حسن شوقی - وفات 1633ء

شیخ حسن نام اور شوقی تخلص تھا۔ یہ اپنے زمانے کا نامی شاعر گزرا ہے۔ نظام شاہی سلطنت کو زوال ہوا تو یہ عادل شاہی سلطنت سے وابستہ ہو گیا۔ اور سفارت کے عہدے پر فائز ہوا۔ اس کی دو مثنویاں اور کچھ غزلیں ملتی ہیں۔ ایک رزمیہ مثنوی 'ظفر نامہ نظام شاہ' ہے ، جو جنگ تالی کوٹ کی فتح کے موقع پر لکھی گئی۔ یہ جنگ وجیا نگر کے راجا اور دکن کے مسلمان بادشاہوں کے درمیان ہوئی تھی۔ اس مثنوی سے واقعات جنگ کے علاوہ اس زمانے کے رسم و رواج اور تاریخ و معاشرت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ دوسری مثنوی 'میزبانی نامہ' ہے، جو سلطان محمد عادل شاہ کی شادی کی تقریب پر کہی گئی۔ اس میں پہلی مثنوی کی بہ نسبت زیادہ شعریت پائی جاتی ہے۔ شوقی کی غزلیں بھی بہت پرکشش ہیں، انداز یہ ہے ؎
ہمارا حسن ہے شوقی معلم ذہن کوں تیرے
سبق کچھ عنصری کا یا درس کچھ انوری کا ہے


گولکنڈہ پر قطب شاہی خاندان حکمراں تھا۔ اردو ادب پر اس خاندان کے بڑے احسانات ہیں، انہوں نے شاعروں اور عالموں کی بڑی قدر کی۔ اس لئے یہاں اردو ادب کے سرمایے میں بہت اضافہ ہوا۔


محمد قلی قطب شاہ - 1525ء۔۔ 1612ء

قطب شاہی خاندان کا سب سے مقبول بادشاہ اور اس عہد کا بہت بڑا شاعر گزرا ہے۔ وہ فن تعمیر اور خوش نویسی کا بھی بڑا دلدادہ تھا۔ اس نے اپنے ملک کی تہذیب کو اختیار کیا اور وہاں کا لباس پہنا۔ اس نے اردو کے علاوہ تلنگی زبان میں بھی شعر کہے۔ اس نے اردو کا ایک ضخیم کلیات چھوڑا ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی اور مختلف میلوں، تہواروں اور تقریبوں کے سلسلے میں بہت سی نظمیں کہیں جو اس دیوان میں شامل ہیں۔ اس کی بہت سی نظموں میں عام انسانوں کے جذبات بیان ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے گیت آج بھی اس علاقے میں گائے جاتے ہیں۔ اس نے ہر قسم کے موضوعات پر شعر کہے لیکن اسکے پسندیدہ موضوعات میں: مذہب اور عشق۔ اس کے محل میں بہت سی حسین بیگمیں تھیں لیکن ان میں سے بارہ کو وہ بہت عزیز رکھتا تھا ، جن کا ذکر وہ بارہ پیاریوں کے نام سے بار بار کرتا ہے۔ وہ وصال کا شاعر ہے ، اور اپنی محبوباؤں سے اختلاط کا مزے لے لے کر ذکر کرتا ہے۔


مقامی تہذیب نے محمد قلی قطب شاہ کو بہت متاثر کیا۔ ہندو کلچر کے اثرات اس کی زندگی اور شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں مگر وہف ارسی شاعری اور اس کی روایت سے اچھی طرح واقف ہے۔ فارسی کے شعری سرمایے سے اس نے فائدہ اٹھایا اور فارسی سے تشبیہات و استعارات مستعار لئے لیکن ساتھ ہی ہندی کے نرم و شیریں الفاظ سے اس نے اپنے کلام کو دلکش بنایا۔اسی امتزاج یعنی فارسی اور ہندی کے شیروشکر ہوجانے سے اس کے کلام میں ایک خاص ادبی شان پیدا ہوگئی ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق اس کے کلام پر رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ محمد قلی قطب شاہ کا کلام چار سو برس پہلے کا ہے لیکن موجودہ زمانے کی عشقیہ شاعری کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو پتا چلے گا کہ صرف زبان میں تھوڑا سا فرق ہے، ورنہ وہی باتیں، وہی بحریں وہی مضمون اور وہی طرز ادا۔


محمد قطب شاہ - عہد 1611ء۔ 1625ء

محمد قطب شاہ، سلطان محمد قلی قطب شاہ کا بھتیجا تھا۔ اپنے چچا کی وفات پر تخت نشین ہوا اور تقریباً پندرہ سال حکومت کی۔ اپنے چچا سے اس نے بہت کچھ سیکھا تھا۔ اور اسی کی طرح اہل کمال کا قدرداں تھا۔ خود شاعر تھا اور شاعروں کی سرپرستی رکتا تھا۔ فارسی اور اردودونوں زبانوں میں اس کے دیوان موجود ہیں۔ اس نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرکے قادر اکلامی کا ثبوت دیا ، اس کے شعروں میں سادگی کے ساتھ لطافت پائی جاتی ہے۔ نمونہ کلام یہ ہے ؎


پیاسا نولا من ہمارا لبھایا نزاکت عجب سبز رنگ میں دکھایا


عبداللہ قطب شاہ - عہد 1625ء۔تا 1672ء

محمد قطب شاہ کے بعد عبد اللہ قطب شاہ تخن نشین ہوا اور پچاس سال تک حکومت کرتا رہا۔ اپنے بزرگوں کی طرح اس نے بھی علما شعرا اور اہل کمال کی سرپرستی کی جس کے نتیجے میں علم و ہنر نے ترقی کی اور شعروشاعری کو خوب فروغ ہوا ، عبداللہ قطب شاہ خود بھی شاعر تھا۔ اس نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہے ، ایک شعر ملاحظہ ہو ؎


جو کچھ راز پردے میں ہیں غیب کے سو مخفی نہیں اس پہ ہے آشکار


وجہی - وفات: 1659ء

ملا اسد اللہ وجہی قطب شاہی دور کا سب سے بڑا شاعر و نثر نگار گزرا ہے۔ ابراہیم قطب شاہ کے زمانے میں اس کی ولادت ہوئی ، محمد قلی قطب شاہ کے زمانے میں وہ ملک الشعرا کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اسے نثر اور نظم دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ سب رس اس کا نثری کارنامہ ہے جسے اردو نثر کی تاریخ میں قابل رشک مقام حاصل ہے۔ شاعری کے میدان میں اس کی مثنوی قطب مشتری نے بہت شہرت پائی۔ کلاسیکی ادب میں اس مثنوی کا شمار ہوتا ہے۔


قطب مشتری اردو کی قدیم ترین مثنویوں میں سے ایک ہے۔ یہ مثنوی 1609ء میں لکھی گئی۔ اس میں محمد قلی قطب شاہ اور مشتری کے عشق کی داستان بیان ہوئی ہے۔ اسی لئے اس کا نام قطب مشتری رکھا گیا۔ ارد ادب کے مورخوں کی رائے میں یہ وہی حسینہ ہے جو بھاگ متی کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حسین ہونے کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی میں بھی کمال رکھتی تھی۔ محمد قلی قطب شاہ زمانہ شہزادگی میں ہی اس پر فریفتہ ہوگیا تھا اور چھپ چھپ کر اس سے ملاقاتیں کیا کرتا تھا۔ بادشاہ نے پہلے تو اسے باز رکھنے کی کوشش کی مگر ایک بار جب اپنی محبوبہ سے ملاقات کے لئے شہزادے نے طوفانی دریا میں گھوڑا ڈال دیا تو باپ کی محبت جوش کرآئی۔ اس نے دریائے موسی پر پل بنوادیا کہ شہزادہ اس پار جاکر بھاگ متی سے ملاقات کرسکے۔ تخت شاہی پر بیٹھنے کے بعد محمد قلی قطب شاہ نے بھاگ متی کو حرم میں داخل کرکے قطب مشتری کا خطاب دیا اور اس کے نام پر ایک شہر بھاگ نگر بسایا۔ بعد کو اس کا خطاب حیدر محل اور اس شہر کا نام حیدرآباد ہوگیا۔ وجہی نے مثنوی میں اصل واقعات کو ذرا سا بدل کر بیان کیا ہے، خیال ہے کہ یہ مثنوی خود بادشاہ کی فرمائش پر لکھی گئی اور یہ تبدیلیاں بھی اسی کی خواہش پر کی گئیں۔


یہ مثنوی فنی اعتبار سے بہت بلند پایہ ہے۔ واقعات زنجیر کی کڑیوں کی طرح مربوط ہیں، زبان بہت رواں ہے ، فارسی الفاظ کا استعمال اس سلیقے سے ہوا ہے کہ وہ مقامی لفظوں سے گھل مل گئے ہیں۔ جذبات نگاری ، منظر کشی، معاشرت کی عکاسی اس مثنوی کی اہم خصوصیات ہیں۔ تشبیہات استعارات کے برمحل استعمال نے اسے اعلی درجے کا ادبی کارنامہ بنادیا ہے۔ غرض وجہی اپنے زمانے کا بلند پایہ شاعر تھا اور خود اسے اپنی عظمت کا احساس تھا۔ ایک شعر میں کہتا ہے ؎


نہ نیچے نہ نیچا ہے گن گیان میں سوطوطی منج ایسا ہندوستان میں


ابن نشاطی - وفات 55۔1954ء

اس دور کا دوسرا بڑا شاعر ابن نشاطی ہے۔ اس نے ایک فارسی قصے کو اردو میں نظم کرکے مثنوی کی شکل دی اور اس کا پھول بن نام رکھا۔ یہ ایک مذہبی تصنیف ہے اور اس میں پند و نصائح سے کام لیا گیا ہے ، شاعر نے داستان کا انداز اختیار کیا ہے اور قصہ در قصہ سناتا چلا گیا ہے۔ یہ سارے قصے نصیحت آمیز ہیں، ایک بادشاہ کسی درویش کو خواب میں دیکھتا ہے اور آخر کار تلاش کراکے اسے اپنے دربار میں بلا لیتا ہے ، یہ بادشاہ کو نصیحت آمیز کہانیاں سناتا ہے اور اس ااعظم کی تاثیر بیان کرتا ہے۔


اس مثنوی میں بہت سے منظر اس طرح بیان کئے گئے ہیں کہ ان کی تصویر آنکھوں میں پھرجاتی ہے۔ اس میں کردار نگاری کے اچھے نمونے بھی ملتے ہیں۔ مثنوی میں بہت سے کردار ہیں لیکن سب الگ الگ پہچانے جاتے ہیں، مثنوی میں جو زور بیان ملتا ہے وہ بھی سراہنے کے قابل ہے ، اس کی ایک اور خوبی موزوں تشبیہوں کا استعمال ہے۔


ابن نشاطی کو فارسی شاعری سے گہری واقفیت حاصل ہے۔ اس لئے اصول شاعری کا احترام کرتا ہے، قوافی کو درست طریقے سے استعمال کرتا ہے اور الفاظ کے املا میں بہت احتیاط کرتا ہے۔ قوافی کو درست طریقے سے استعمال کرتا ہے اور الفاظ کے املا میں بہت احتیاط کرتا ہے۔ اس کے نزدیک صنائع بدائع کا مناسب استعمال، صحت قافیہ کا خیال اور خوبصورت تشبیہات لازمہ شاعری ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ کہ اخلاقی تعلیم کو وہ شعروادب کے لئے ضروری خیال کرتا ہے۔


ولی - ولادت 1650ء ، وفات 1720ء اور 1725ء کے درمیان

اردو شاعری میں ولی کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ انہیں اردو شاعری کا بابا آدم کہا گیا ہے جو اس لحاظ سے تو غلط ہے کہ ان سے پہلے اس زبان میں جسے آگے چل کر اردو کہا گیا ، شعر کہنے کی روایت اچھی طرح جر پکڑ چکی تھی اور شعروادب کا ایک بڑا ذخیرہ وجود میں آچکا تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شمالی ہندوستان میں اردو شاعری کا چرچا انہی کے دم قدم سے ہوا۔


اس زمانے میں ا س عوامی زبان کو ریختہ کہاجاتا تھا جس کے معنی گرے پڑے کے ہیں۔ گویا اس زبان کو حقارت کی نظر سے دیکھاجاتا تھا، کبھی کبھار اس زبان میں بھی شعر کہے جاتے تھے مگر تفریح کے طور پر 1700ء میں ولی دہلی آئے اور لوگوں نے ان کا کلام سنا تو انہیں حیرت بھی ہوئی اور مسرت بھی کہ اس زبان میں اعلی درجے کی شاعری بھی ممکن ہے۔


دہلی میں ولی کی ملاقات سعد اللہ گلشن سے ہوئی تو انہوں نے دو مشورے دئے۔ ایک تو یہ کہ دکنی الفاظ کا استعمال کم کرو اور ان کی جگہ فارسی کے شیریں الفاظ کا انتخاب کرو۔ دوسرے یہ کہ فارسی شاعری میں جو مضامین موجود ہیں انہیں اپنی زبان میں ادا کرو۔ یہ دونوں مشورے اردو شعروادب کی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوئے۔۔ فارسی شاعری کے مضامین سے فائدہ پہلے بھی اٹھایاجارہا تھا اور فارسی افلاظ بول چال کے مقامی الفاظ کے ساتھ پہلے بھی شیروشکر ہورہے تھے۔ اب شاعری میں اس کا شعوری طور پرآغاز ہوا۔ اور اس کی شروعات کا سہرا ولی کے سر ہے۔ محمد حسین آزاد آب حیات میں لکھتے ہیں کہ ولی نے ایک زبان کو دوسری سے ایسا بے معلوم جوڑ لگایا کہ آج تک زمانے نے کئی پلٹے کھائے مگر پیوند میں جنبش نہیں آئی۔


دہلی سے دکن لوٹ کر ولی نے اپنا کام جاری رکھا۔ انہوں نے شمالی ہند کی عوامی زبان ، دکنی اور فارسی کی آمیزش سے ایک نئی زبان کو جنم دیا۔ اس وقت دکن اور شمالی ہند ایک ہوچکے تھے اور اس نئی زبان کے لئے زمین پوری طرح تیار تھی۔ چنانچہ ولی کے دہلی سے لوڑنے کے انیس برس بعد جب ان کا دیوان یہاں پہنچا تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ ولی کے کلام سے شعرائے دہلی پہلے ہی واقف ہوچکے تھے لیکن اب یہ دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ کہ وہ گری پڑی زبان جسے اہل علم حقارت سے ریختہ کہتے تھے اپنے اندر اتنے امکانات رکھتی ہے اور اس میں اتنی بلند پایہ شاعری کی جاسکتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اس زبان میں شاعری کا چرچا ہوگیا۔


ولی نے اپنی زبان اور اس کے مزاج کا خیال رکھتے ہوئے شاعری کے لئے عربی اور فارسی بحروں کا انتخاب کیا۔ فارسی کی جو ترکیبیں یہاں کھپ سکتی تھیں ان کا استعمال کیا۔ اور نئی ترکیبیں وضع کیں۔ فارسی کے اثر سے ایک فائدہ اور ہوا، اردو شاعری میں اب تک جو سطحیت تھی وہ دور ہوگئی۔


ولی نے متعدد شعری اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن غزل کو خاص طور پر اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس کے دامن کو وسیع کیا ، ولی کی زبان سادہ اور سہل ہے لیکن اس سادگی میں بھی حسن ہے۔ انہیں پیکر تراشی میں بڑی مہارت حاصل ہے ، خوبصورت تشبیہیں اور استعارے استعمال کرنے کا انہیں خوب سلیقہ ہے۔ اکثر صنائع بدائع سے بھی کام لیتے ہیں۔ خوش آہنگی نے بھی کلام ولی کے حسن میں اضافہ کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ان کے چند اشعار ؎


کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ
کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ


عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل روسوں
خطاب آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ


ادا و نازسوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھر سوں
کہ جیوں مشرق سے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ


ولی مجھ دل میں آتا ہے خیال یار بے پروا
کہ جیوں انکھیاں منیں آتا ہے خواب آہستہ آہستہ


دوسری ریاستوں کی طرح بیدر میں بھی اس عوامی زبان نے ترقی کی لیکن ایسی نہیں کہ اس کی تفصیل کا بیان کرنا یہاں ضروری ہو۔ فیروز اور قریشی دو شاعر گزرے۔ فیروز کا نام سید قطب الدین تھا۔ اس نے ایک مثنوی پرت نامہ لکھی۔ اس میں حضرت عبدالقادر جیلانی کی مدح کی گئی ہے۔ قریشی کا نام پیار محمد تھا۔ اس کی ایک نظم ولایت نامہ اور ایک مثنوی بھوگ ملتی ہے۔


بیجا پور میں عادل شاہی سلاطین نے شعروادب کی سرپرستی کی۔ یہاں عبدل ایک قابل ذکر شاعر گزرا ہے۔ یہ ابراہیم عادل شاہ کا درباری شاعر ہے۔ اس نے 1612ء میں ایک طویل نظم ابراہیم نامہ لکھی۔ دوسرا شاعر کمال خاں رستمی تھا۔ اس نے 1649ء میں خاور نامہ کے عنوان سے ایک فارسی نظم کا ترجمہ کیا۔ لیکن یہاں کا سب سے اہم شاعر نصرتی گزرا ہے ، ضروری ہے کہ اس کا ذکر قدرے تفصیل سے کیاجائے۔


نصرتی - موت:1674ء

محمد نصرت نصرتی، عالم اور علم دوست انسان تھا ، اس لئے ملا نصرتی کے نام سے مشہور ہوا۔ آبائی پیشہ سپہ گری تھا لیکن اسے بچپنے سے لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ ہوش سنبھالا تو سپاہی کے بجائے شاعر ہوا ، اور ملک الشعرائی کے رتبے پر فائز ہوا۔ کچھ لوگ اس ترقی کے سبب اس سے حسد کرنے لگے تھے۔ یہ بھی انہیں خاطر میں نہ لاتا تھا ،بلکہ ہجویں کہہ کہہ کر انہیں ذلیل کرتا تھا۔ اس سے دشمنی میں اضافہ ہوا ، آخر کار نصرتی حاسدوں کے ہاتھوں قتل ہوا، کسی شاعر نے نصرتی شہید ہے سے تاریخ نکالی، گلشن عشق ، علی نامہ، تاریخ اسکندری اور ایک دیوان اس سے یادگار ہیں۔


گلشن عشق ایک عشقیہ مثنوی ہے ، جو 1657ء میں لکھی گئی۔ اس میں منوہر و مدمالتی کی داستان عشق بیان کی گئی ہے۔ مثنوی میں پریاں اور جادو جیسے فوق فطری عناصر موجود ہیں مگر ساتھ ہی قابل ذکر جذبات نگاری اور منظر کشی بھی ملتی ہے۔ اس عہد کی تہذیب و معاشرت بھی مثنوی میں جابجا نظر آتی ہے۔


"علی نامہ" ایک رزمیہ مثنوی ہے جو 1665ء میں لکھی گئی۔ اس میں علی عادل شاہ ثانی کے دور حکومت کے ابتدائی دس برس کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ یہ شاہنامہ کے انداز پر لکھی گئی ہے۔ اس لئے اس کو دکنی زبان کا شاہنامہ کہاگیا ہے ، اس مثنوی میں واقعہ نگاری اور منظر کشی دونوں کا کمال نظر آتا ہے۔ اور جا بجا جنگ کے جیتے جاگتے منظر دکھائی دیتے ہیں۔ بلا شبہ علی نامہ کو ایک بلند پایہ مثنوی قراردیاجاسکتا ہے۔


تاریخ اسکندری ، یا فتح نامہ بہلول، بھی ایک مثنوی ہے جو 1672ء میں مکمل ہوئی۔ علی عادل شاہ ثانی کے بعد اس کا پانچ سالہ بیٹا سکندر تخت نشین ہوا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سیواجی نے ملک کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا، بہلول خاں کو مقابلے کے لئے بھیجا گیا اس نے سیواجی کو شکست دی ، اس مثنوی میں اسی کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔


دیوان نصرتی میں غزلیات کے علاوہ دوسری اصناف بھی ملتی ہیں اور اس کی قادر الکلامی کی گواہی دی جاتی ہے ، غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو ؎
خوباں کے دل کے پیار کا بندہ ہے نصرتی
کڑوا ہے دل تو موں کوں چکاتس شکر نکو


گجرات بھی کسی زمانے میں بہمنی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ لیکن چودھویں صدی کے آخر میں اس نے بھی ایک خود مختار ریاست کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ صوفیا کی تعلیمات کے سبب یہاں بھی ایک نئی زبان وجود میں آئی جسے قدیم اردو کی ایک شکل کہنا بجا ہوگا۔ یہاں ہندوی اثرات اسلامی تعلیمات میں اتنے زیادہ ہیں جتنے ملک کے کسی اور حصے میں نہیں۔

شیخ بہاؤ الدین باجن (1388ء تا 1506ء)

یہاں اس زمانے میں جو اہم صوفی گزرے ہیں ان میں ایک اہم نام شیخ بہاؤ الدین باجن (1388ء تا 1506ء) کا ہے ان کا وطن برہان پور تھا۔ موسیقی سے انہیں بڑا عشق تھا، اسی لئے باجن تخلص اختیار کیا تھا۔


شیخ باجن نے ملک کے مختلف حصوں کا سفر بھی کیا تھا، خزائن رحمت، ان کی سب سے اہم تصنیف ہے۔ اس میں دوہے بھی ہیں اور مختلف اشعار بھی۔ ایک مثنوی جنگ نامہ ساڑی وپشواز بھی ہے ان سے یادگار ہے ، ان کے اشعار دوہرے اور جکریاں (اشعار میں ذکر خدا) دستیاب ہیں اور اردو کی نشوونما میں ان کی خدمات کا ثبوت۔


گجرات کے ایک اور اہم صوفی ہیں شاہ وجیہہ الدین ، ان کی کوئی باضابطہ تصنیف تو نہیں ہے لیکن ان کے مریدوں نے ان کے ملفوظات کو یکجا کردیا تھا۔ یہ ملفوظات بھی اس علاقے کی عوامی بول چال کی زبان میں ہیں۔


خوب محمد چشتی (موت: 1614ء)

گجرات کے ایک صوفی شاعر گزرے ہیں۔ ان کے زمانے میں گجرات کی سلطنت کمزور ہوگئی تھی ، چنانچہ 1572ء میں اکبر نے اسے فتح کرلیا ، اس کے چھ سال بعد یعنی 1578ء میں خوب محمد چشتی نے مثنوی خوب ترنگ لکھی۔ اس میں اخلاق و تصوف کے مسائل حکایت کی شکل میں بیان ہوئے ہیں۔ انہوں نے شروع ہی میں واضح کردیا ہے کہ میں نے اپنے مرشد کے اقوال و ارشادات کو نظم کی شکل میں پیش کردیا ہے۔ ان کا ایک منظوم رسالہ فارسی اور ہندی عروض کے متعلق ہے جس کا نام چھند چھنداں ہے، ایک اور رسالہ بھید بھاؤ علم بدیع کے بارے میں ہے۔


خوب محمد چشتی اپنی زبان کو گجراتی کہتے ہیں اور عربی و عجمی کو ملاکر ایک کردینے کے دعویدار ہیں مگر ان کے کلام کے مطالعے سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ بھی قدیم اردو ہی کی ایک شکل ہے۔ یہاں بطور نمونہ ایک شعر پیش کیاجاتا ہے۔
جیوں میری بولی منہ بات
عرب عجم مل ایک سنگھات


***
ماخوذ از کتاب: تاریخِ ادبِ اردو (ایجوکیشنل بک ہاؤس، علیگڑھ، سن اشاعت: 1997ء)۔

Urdu Poetry in Deccan.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں