رشید حسن خان - قدیم ادبی روایات کا امین - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-06-21

رشید حسن خان - قدیم ادبی روایات کا امین

rasheed-hasan-khan
دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی روایت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے لیکن روایت کے ساتھ ہر شخص کا تعلق ایک سا نہیں ہوتا۔ بے شمار لوگ تو وہ ہیں جو اپنی روایت سے بے خبر اور بے گانے ہوتے ہیں۔ روایت کے ساتھ رشتہ استوار رکھنے والوں میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کے ہاں روایت کے زمانی ضابطوں کا کوئی تصور نہیں ہوتا اور جو روایت کے بارے میں ایک طرح کی ہیجانی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو روایت پرست کہاجاسکتا ہے۔ روایت پرستوں کو اس وقت زبردست بحران کا سامنا ہوتا ہے جب کسی عبوری دور کے زمانی ضابطے روایت کے چراغوں کی لو کو مدھم کردیتے ہیں جب کہ روایت پرست صرف انہی چراغوں کی روشنی میں راستہ چلنے کے عادی ہوتے ہیں۔ روایت کے ساتھ رشتہ استوار رکھنے والوں میں دوسری طرح کے لوگ وہ ہیں جن کی شخصیت میں روایت کا امتزاج عقلی اور جذباتی دونوں سطحوں پر ہوتا ہے۔ گویا ان کے ہاں روایت کا عرفان اور احترام بھی ہوتا ہے اور اس کی توسیع اور بقا کا جذبہ بھی۔ انہی لوگوں کو صحیح معنوں میں روایت کا امین کہا جا سکتا ہے۔ روایت کی مختلف جہات ہیں اور علاحدہ علاحدہ سیاق و سباق میں اس کی الگ الگ سطحیں ہیں۔ اس لئے کسی فرد واحد کے تعلق سے روایت کی تخصیص بھی ضروری ہے۔
اور جب تذکرہ رشید حسن خاں کا شروع ہواہے تو آپ یقینا یہاں میرے ہم خیال ہوں گے کہ رشید حسن خاں کا شمار ان لوگوں میں ہے جو ہماری قدیم ادبی روایت کے امین ہیں۔ روایت کی یہ امانت ان تک اور ان کے ساتھ ان کے کئی دوسرے ہم عصروں تک حافظ محمود شیرانی ، ڈاکٹر عبدالستار صدیقی ، قاضی عبدالودود اور مولانا امتیاز علی خاں عرشی جیسی شخصیتوں کے واسطے سے پہنچی ہے۔۔ روایت پرست اور روایت کے امین کے درمیان خط کھینچنا اس لئے ضروری تھا کہ ہم واضح خطوط پر اپنی بات آگے چلائین۔ روایت کے امین کا کام روایت کو ، جو ماضی کی امانت ہے، حال کی وساطت سے مستقبل تک پہنچانا ہے جو اس کا حقیقی وارث ہے۔ اس اعتبار سے گویا کسی روایت کے امین کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ماضی سے اپنی پیوستگی اور حال سے وابستگی کے ساتھ ساتھ مستقبل کی نیابت کے فرائض بھی انجام دے۔ یہ کام اتنا آسان نہیں اس لئے کہ یہاں تمام تر لیاقت اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص ذہنی رویے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ ذہنی روایہ ہے روایت کے معاملے میں ہر طرح کے تعصب اور تنگ نظری کو جھٹک کر الگ کردینے کا، ایک سائنٹفک نقطہ نظر اختیا ر کرنے کا اور حال کی ناگزیر حقیقتوں کو کھلے دل اور دماغ کے ساتھ تسلیم کرنے کا۔
مختصر یہ کہ اس ذہنی رویے کا دوسرا نام ہے روشن دماغی۔ رشید حسن خاں یقینا قدیم ادبی روایت کے پرستار اور دل دادہ ہیں۔ ان کی اب تک کی تمام زندگی اس روایت کو گلے لگاکر گزری ہے، یہاں تک کہ زندگی کے ایک خاص موڑ پر انہوں نے اس روایت کی خدمت کو مشغلۂ حیات بنالیا۔ چناں چہ پچھلے لگ بھگ پینتیس سال سے ادبی مشاغل ان کا اوڑھنا بھی ہیں اور بچھونا بھی۔ لیکن اس میدان میں ان کی شہرت اور کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہ باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ روشن دماغ بھی ہیں۔


تحقیق ایک سنجیدہ اور علمی مشغلہ ہے ، اگرچہ بعض لوگوں کی نظر میں یہ ایک انتہائی خشک موضوع ہے۔ رشید حسن خاں ایک خوش طبع انسان ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ وہ ایک کھلا ذہن رکھتے ہیں اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے میں زمانہ موجود کے انسان کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ اگر تحقیق ان کا موضوع ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دقیانوسیت کی مکری نے ان کے گرد اپنا جال بن کر انہیں اس میں قید کردیا ہو اور وہ ایسے ہی کرم کردہ سے لگنے لگے ہوں جیسی کرم خوردہ کتابوں سے انہیں عام طور پر واسطہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے قدیم ادب کے بہت سے گوشوں پر سے مکڑی کے جالے صاف کر کے انہیں آج کے سورج کی دھوپ دکھلائی ہے۔


رشید حسن خاں جب دلی آئے تو پہلے پہل کچھ دنوں ان کا قیام سر سید روڈ پہ سرسید کے مکان میں رہا۔ جامع مسجد کے اطراف میں اس وقت ڈی ڈی اے کا وہ بل ڈوزر نہیں چلا تھا جو اور چیزوں کے ساتھ جامع مسجد کے ادبی ٹھکانوں کو بھی ڈھاتا ہوا نکل گیا۔ چنانچہ روزانہ شام کو دہلی کی بیشتر ادبی شخصیتیں اردو بازار میں مولوی سمیع اللہ قاسمی کے کتب خانہ عزیزیہ، فلوراہوٹل، میر مشتاق کے ارونا ہال اور جامع مسجد کی سیڑھیوں پر قائم بھائی ظہیر کے فرینڈزٹی اسٹال المعروف بہ چنڈوخانہ پر جمع ہوتی تھیں۔ رشید حسن خاں کے ساتھ میری اور خلیق انجم کی تقریبا ً روزانہ شام کو یہیں ملاقات ہوتی تھی۔ کبھی کبھی ہم دونوں سر سرید روڈ پر ان کی قیام گاہ پر بھی ان سے ملنے چلے جاتے تھے۔ خلیق انجم اس زمانے میں کروڑ ی مل کالج سے وابستہ ہوچکے تھے اور میں بھی اپنے پی ایچ ڈی کے کام کے سلسلے میں تقریباً روز ہی دہلی یونیورسٹی جاتا تھا۔ لہذا اکثر دن کے اوقات میں بھی خاں صاحب کے ساتھ کیمپس میں ملاقات رہتی تھی۔ یہ تعلق رفتہ رفتہ ایک دوستی کے رشتے میں بدلتا گیا۔ اس طرح رشید حسن خاں سے جو قربتیں حاصل ہوئیں ان کے ذریعے ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو سامنے آئے۔ علمی پہلو بھی اور انسانی پہلو بھی۔ اور ہر پہلو انتہائی دلچسپ نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک با صلاحیت، روشن خیال اور دوست دار قسم کے انسان ہیں۔


اس گفتگو کے آغاز میں رشید حسن خاں کے تعلق سے روایت کے امین کا جو تذکرہ چھڑا تھا اسی کی روشنی میں رشید حسن خاں کے بارے میں ایک بات یہ کہنی ہے کہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ ہماری جھولی مٰں اپنی روایت کا جو کچھ بھی سرمایہ ہے، اسے ہمیں پوری فراغ دلی کے ساتھ اپنے خردوں میں تقسیم کرتے رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ خاں صاحب ادب کے طالب علموں کے لئے اپنا دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہی نسل روایت کے مستقبل کے سفر کی ساتھی ہے۔ جن لوگوں کو رشید حسن خاں سے قربت حاصل ہے اور جو ان سے مسائل ادب پر صلاح مشورہ کرتے رہتے ہیں ، ان کی تحریر و تقریر پر رشید حسن خاں کے کان اور نگاہ برابر لگے رہتے ہیں تاکہ ان کے ہاں اگر کہیں کوئی کوتاہی ہے تو وہ اس سے انہیں برملا آگاہ کردیں۔ نوجوانوں کی وہ نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ وہ ان کے لئے نئے نئے موضوعات بھی تجویز کرتے ہیں اور متعلقہ ماخذوں کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔ وہ اس نازک سے فرق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ طالب علم کس سلوک کے مستحق ہیں اور ادب کی قد آور شخصیتوں مثلاً پروفیسر محی الدین قادری زور اور پروفیسر آل احمد سرور وغیرہ کے ساتھ علمی مجادلے کے کیا تقاضے ہیں۔


تحقیق اور متنی تنقید رشید حسن خاں کے دو خاص میدان ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اعلا پایے کی تحقیق اور تنقید کے نمونے ہمارے سامنے پیش کئے ہیں بلکہ تحقیق اور متنی تنقید کے اصول و ضوابط پر کتابیں بھی تالیف کی ہیں۔ اس طرح وہ تحقیق اور عملی تحقیق دونوں کے مرد میدان ہیں۔ ان کے تحقیقی قول و فعل میں تضاد ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے اور یہی دراصل کسی شعبہ علم میں خصوصی مہارت کے صحیح معنی ہیں۔ اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ تھیوری کے تو بڑے ماہر ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر جب خود کچھ کرنے بیٹھتے ہیں تو کوئی مثالی کام انجام نہیں دے پاتے۔ دوسری طرح کے لوگ وہ ہیں جو خداداد صلاحیت کے بل پر اچھا کام تو سر انجام دے لیتے ہیں لیکن نئے کام کرنے والوں کی تربیت کی صلاحیت ان میں نہیں ہوتی۔ رشید حسن خاں کا امتیاز یہی ہے کہ وہ دونوں محاذوں پر چاق و چوبند ہیں۔


ہر شعبہ علم میں اصلاح اور ترمیم کا سلسلہ برابر جاری رہنا چاہئے تاکہ ہر زمانے میں اس میں تازگی اور توانائی برقرا ررہے۔ یہ کام روایت پرستی کے بل پر نہیں بلکہ روایت سازی کی قوت کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ رشید حسن خاں کے علمی کارناموں میں ان کی کتاب اردو املا اس کی روشن مثال ہے۔ اس کتاب میں اردو املا سے متعلق انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے عہد تک کے تمام مباحث کو سمیٹا ہے بلکہ سائنٹفک انداز میں طریقۂ املا میں مناسب اور موزوں اصلاحات اور تبدیلیوں کے ذریعے اس کو ایک نئی شکل دینے کی بھرپور کوشش ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے عبارت میں رموز اوقاف کے استعمال پر شدت کے ساتھ زور دیا ہے جس کا اردو میں خاطر خواہ رواج نہیں۔ اسی طرح املے کے سلسلے میں بھی انہوں نے ہمارے ذہن کو صاف کیا ہے۔ تاہم ضروری نہیں کہ املا سے متعلق آپ رشید حسن خاں کی ہر بات کو من و عن قبول کرلیں۔ ان کی بعض تجاویز سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا ہے۔ دوسری طرف ایسے اسکالر بھی ہیں جنہوں نے اردو املا کی بنیاد پر املا کے مسائل پر کتابچے شائع کرڈالے حالانکہ اردو املا جیسی ضخیم کتاب کے بعد اگر ضرورت تھی تو اس بات کی کہ اس کتاب کی ایسی تلخیص تیار کی جاتی جس کے مطالعے سے اردو کے اساتذہ اور طلبہ کو یہ آگاہی بہم پہنچائی جاتی کہ عبارت کیسے لکھیں۔ یہ کام بھی بعد میں خود رشید حسن خاں ہی نے انجام دیا۔ بہر حال املا کے معاملات میں رشید حسن خاں کی خصوصی دلچسپی آگے چل کر بڑی مبارک ثابت ہوئی۔ میرے نزدیک ’فسانہ عجائب‘ اور ’باغ و بہار‘ کی تاریخی تدوین املا کے معاملات میں رشید حسن خاں کی اسی دلچسپی کا ثمرہ ہے۔ اب آپ’فسانہ عجائب‘ اور ’باغ و بہار‘ میں رجب علی بیگ سرور اور میرا امن دہلوی کو براہ راست بولتے ہوئے سن سکتے ہیں۔


رشید حسن خاں نے اس بات پر بھی بجا طور پر زور دیا ہے کہ تحقیق کی زبان صاف، سادہ اور دو ٹوک ہونی چاہئے ، ان کے نزدیک تحقیق، دلائل اور ثبوت کی بنیاد پر مروجہ حقائق کے رد و قبول اور نئے حقائق کی دریافت کا عمل ہے۔ اس اعتبار سے عبارت آرائی، طول کلام، انشا پردازی، صفات اور مغلق الفاظ کا استعمال تحقیق کے لئے غیر مناسب ہی نہیں نقصان دہ ہے۔ انہوں نے اپنی تحریر اور تقریر دونوں میں بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ ادبی تحقیق کا تعلق براہ راست ادب سے ہے لیکن بجائے خود تحقیق کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ویسی ہی لچھے دار زبان میں گفتگو کرے، جو سحر البیان، گلزار نسیم، فسانہ عجائب اور باغ وبہار جیسی تخلیقات میں استعمال ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک تحقیق کی زبان دستاویزی ہونی چاہئے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ آخر دستاویزی زبان اپنے قاری کو گرفت میں کیسے لے۔ جان دار تحقیق میں جاسوسی ناول کا ساسپنس ہوتا ہے، حقائق کی اندھی گپھا میں ٹٹول ٹٹول کر چلنے کا ساسپنس۔ جو محقق یہ سسپنس پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے پھر دستاویزی زبان ہی راس آتی ہے۔


جیسا کہ میں جانتا ہوں ، رشید حسن خاں بنیادی طور پر مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کے پاس یونیورسٹی کی کوئی ڈگری نہیں پھر بھی ہندوستان کی بیشتر یونیورسٹیوں میں وہ توسیعی خطاب دینے کے لئے بلائے جاتے ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات کے ممتحن بنائے جاتے ہیں۔ بمبئی، جموں، حیدرآباد، اور دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں انہیں برابر دعوت دی جاتی ہے۔ ان کی جو قدرومنزلت ہندوستان میں ہے وہی پاکستان میں بھی ہے۔ وہاں بھی لوگ ان کے ادبی منصب اور مرتبے سے پوری طرح واقف ہیں۔ مشفق خواجہ صاحب، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور ڈاکٹر وحید قریشی جیسی پ اکستان کی مقتدر شخصیتں ان کی قدردان اور مداح ہیں۔


جو شخص رشید حسن خاں سے ذاتی طور پر کبھی نہ ملا ہو، وہ ان کے کارناموں اور شہرت کو دیکھ کر یہی اندازہ لگائے گا کہ یہ صاحب یقینا کوئی مردم بیزار قسم کی چیز ہوں گے جو بس ہمہ وقت اپنے لکھنے پڑھنے کے کام میں مصروف رہتے ہوں گے اور باہر کی دنیا سے انہیں کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔ لیکن رشید حسن خاں کے بارے میں یہ درست نہیں۔ وہ بالکل نارمل انسان ہیں۔ وہ ایک طرف پرانی وضع داریوں اور رکھ رکھاؤ کے قائل ہیں اور انتہائی سلیقے سے انہیں اپنی زندگی میں برتتے ہیں تو دوسری طرف ان کی زندگی کے مشاغل و معمولات میں وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو انہیں آج کے زمانے کا آدمی ثابت کرتی ہیں۔ ان کے ادبی فتوحات کم نہیں لیکن انہوں نے یہ فتوحات سماجی رشتوں کی قیمت پر حاصل نہیں کیں۔ انہوں نے اپنے اوقات و شب و روز کو پورے توازن اور اعتدال کے ساتھ اپنے علمی کاموں ، اپنے دوستوں اور عزیزوں اور مشاغل و تفریحات میں تقسیم کیا ہے۔ آپ سوال کرسکتے ہیں کہ پھر خاں صاحب نے تحقیقی کام کا اتنا انبار کیسے لگا دیا۔ اس کا ایک سیدھا سا جواب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ سلامت روی اور وقت کے صحیح استعمال کے اصول پر قائم رہے ہیں۔ وہ اگر پٹھان ہیں تو اسی حد تک کہ غلط آدمی اور غلط بات کے ساتھ کبھی مصالحت نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ ان کی زندگی میں قابل رشک توازن اور اعتدال ہے۔ اپنے علمی مشاغل پر وہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے صرف چند ہی گھنٹے صرف کرتے ہیں اور اپنے اس معمول پر وہ سختی سے کاربند رہتے ہیں۔ لمبی لمبی قلانچیں بھرنے والے خرگوشوں کو جھاڑیوں میں سوتا چھوڑ کر اپنے اس استقلال کے بل پر وہ فتوحات کے جھنڈے گاڑتے چلے جارہے ہیں۔


خاں صاحب یعنی رشید حسن خاں دہلی یونیورسٹی کے گوائر ہال میں لگ بھگ تیس پینتیس سال رہے۔ گوائر ہال کے عملے ، ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ اور اساتذہ سب کے ساتھ خاں صاحب کے خوشگوار تعلقات تھے۔ یہ تمام لوگ خاں صاحب کے روزانہ کے معمولات سے باخبر تھے اس لئے کہ ان معمولات میں کبھی سرمو فرق نہیں آتا تھا۔ اگر آپ کسی وقت بنا بتائے خاں صاحب سے ملنے گوائر ہال چلے گئے اور وہاں خاں صاحب کے کمرے پر تالا لگا ہوا پایا تو آس پاس کے لوگ بتادیں گے کہ خاں صاحب اس وقت کہاں ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ گیٹ پر بیٹھے چوکیدار ہی سے خاں صاحب کے بارے میں پوچھ لیں گے تووہی بتادے گا کہ خاں صاحب نکل چکے ہیں یا ابھی نہیں نکلے ہیں۔ خاں صاحب کے معمولات یہ ہوتے تھے کہ صبح ساڑھے سات بجے تک ڈائننگ ہال پہنچ جاتے۔ ڈائننگ ہال میں ان کی نشست مخصوص تھی ہمیشہ وہیں بیٹھتے۔ ناشتے سے فارغ ہوکر آٹھ بجے ڈائننگ ہال سے نکل کر کمرے پر واپس نہیں جاتے تھے بلکہ سیدھے دہلی اسکول آف اکنامکس کے کافی ہاؤس کا رخ کرتے۔ یہاں بھی ان کی میز مخصوص تھی جہاں وہ ایک گھنٹہ بیٹھتے۔ کافی ہاؤس کے بیرے ان کے مزاج اور مذاق سے بخوبی واقف تھے۔ ان سے صرف مسکراہٹ کی زبان میں گفتگو ہوتی۔ ریٹائرمنٹ سے پہلے کافی ہاؤس کے بعد کی اگلی منزل شعبہ اردو ہوا کرتا تھا۔ جہاں سے ایک بجے سے کچھ پہلے لنچ کے لئے اٹھ جایا کرتے تھے اس دوران کبھی کبھی اگر میں مل گیا تو مجھے بھی لنچ کی دعوت دے کر ساتھ گوائر ہال لیتے گئے۔ گوائر ہال کے باہر ایک کارندہ میز بچھا کر بیٹھتا ہے جو گیسٹ ٹکٹ کاٹتا ہے۔ ہال کے ممبر یہاں پہلے پیسے دے کر اپنے مہمان کا ٹکٹ لیتے ہیں پھر مہمان کے ساتھ کھانے کے لئے ہال میں داخل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ کارندہ بخوبی جانتا ہے کہ خاں صاحب کی اپنے مہمان کو کھانا کھلانے کی تہذیب کیا ہے۔ خاں صاحب اپنے مہمان کو لے کر سیدھے کھانے کی میز پر پہنچتے تھے۔ مہمان کے ساتھ مزے مزے کی باتیں ہورہی ہیں ، کھانا بھی چل رہا ہے اور اسی دوران نہ جانے کب بحسن و خوبی گیسٹ ٹکٹ والا معاملہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ شام کو خاں صاحب کناٹ پیلس کے کافی ہاؤس میں بھی اسی انداز سے رونق افروز ہوتے تھے۔ خاں صاحب اپنے زمانے میں ہاکی کے کھلاڑی تھے اس لئے دہلی کے شیواجی اسٹیڈیم میں ہونے والے ہاکی کے میچ بھی وہ اتنی ہی پابندی سے دیکھتے تھے ادھر کچھ برسوں سے ان کا یہ شوق ختم ہوگیا ہے۔


مجھے جب کبھی خاں صاحب سے کوئی صلاح مشورہ کرنا ہوتا تو میں صبح ساڑھے سات بجے سے کچھ پہلے گوائر ہال پہنچ جاتا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مجھے گوائر ہال پہنچتے پہنچتے ساڑھے سات سے کچھ اوپر ہوگئے۔ دیکھا تو خاں صاحب کے کمرے پر تالا پڑا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ ڈائننگ ہال گئے ہیں، آٹھ بجے تک آجائیں گے ، میں انتظار میں کمرے کے آگے ٹہلنے لگا۔ ٹہلتے ٹہلتے آٹھ بجے، پھر آٹھ بج کر پانچ منٹ ہوگئے لیکن خاں صاحب نہیں لوٹے۔ کچھ دیر اور انتظار کرکے ڈائننگ ہال کے سامنے پہنچا، بیرے سے پوچھا تو پتا چلا کہ آٹھ بجے نکل چکے ناشتہ کرکے۔ دوڑ کر گیٹ پر آیا تو چوکیدار نے بتایا، خاں صاحب تو گئے باہر۔ اب میں دوڑتابھاگتا اسکول آف اکنامکس کے کافی ہاؤس پہنچا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ خاں صاحب مزے سے بیٹھے کافی کی چسکیاں لے رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی بولے، آؤ برادر۔ اسی کے ساتھ بیرے کو کافی کا اشارہ ہوا۔ میں نے کہا، خاں صاحب مجھے پانچ منٹ کی دیر ہوگئی تھی۔ آپ کے کمرے کے آگے ٹہلتا رہا، کہ آپ ناشتے سے فارغ ہوکر ادھر آئیں گے اور آپ سیدھے نکل آئے۔ خاں صاحب نے کہا، جب آپ وقت مقررہ پر نہیں آئے تو میں سمجھا آج آپ گول ہوگئے ، میں بھی اپنے رستے ہولیا۔ ایک دو بار اور میرے ساتھ یہی ہوا۔ پھر خاں صاحب کے ساتھ یہ طے ہوا کہ اگر میں آپ کے ناشتے پر جانے سے پہلے نہ پہنچ پاؤں تو سمجھ لیجئے لیٹ ہوگیا ہوں۔ اب ناشتے کے بعد آپ سے ملاقات ہوگی اس لئے آپ ناشتے سے فارغ ہوکر اسکول آف اکنامکس جانے کے بجائے کمرے پر ہی واپس آئیں۔ اس پر خاں صاحب نے فرمایا کہ اگر کسی روز سرے سے آپ آئے ہی نہیں تو میرا توسارا معمول درہم برہم ہوجائے گا۔ میں نے یقین دلایا کہ ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔


خاں صاحب لباس کے بارے میں بھی وضع کے پابند ہیں۔ گرمیوں میں بش شرٹ، پتلون اور چمڑے کے براؤن رنگ کے سینڈل پہنتے ہیں۔ جاڑوں میں پوری آستین کی قمیض، پتلون اور وہی براؤن رنگ کا لیس والا جوتا۔ بش شرٹ اور قمیض ہمیشہ چیک کی ہوتی ہے، ہاتھ پر ویسٹ اینڈ کمپنی کی گھڑی۔ خاں صاحب کے کمرے پر جائیے تو ان کی میز پر چمک دار سکوں کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں لگی ہوئی ملیں گی۔ پوچھنے پر پتا چلے گا کہ یہ بس کے لئے ہیں۔ خاں صاحب بس میں کنڈکٹر کو کبھی بڑا نوٹ نہیں دیتے ، ہمیشہ پورے پورے پیسے دئیے اور جلد سے جلد اس سے خلاصی حاصل کی۔ وہ کنڈکٹر کو نوٹ دے کر اس جھنجھٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ یہ کہے کہ ٹھہریے باقی پیسے بعد میں دوں گا یا اگر دے تو پھٹے پرانے نوٹ پکڑا دے، جس سے اس کے ساتھ ایک اور جھک جھک میں پڑنا پڑے گا۔


رشید حسن خاں یاروں کے یار ہیں۔ منافقت سے انہیں سخت نفرت ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ ان کی بے تکلفی ہے، ان سے ان کی خوب گاڑھی چھنتی ہے۔ لیکن عام طور پر وہ کم آمیز ہیں۔ اس لئے کس و ناکس کے ساتھ ہنسی مذاق تو کیا بات بھی احتیاط سے اور مختصر کرتے ہیں۔ بعض دوسروں سے گاہے گاہے جاکر خود ملاقات کرنا بھی ان کی وضع میں شامل ہے۔ ان میں ایک تو غلام ربانی تاباں مرحوم تھے ، ان کے علاوہ بیگم ممتاز مرزا اور مخمور سعیدی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ چوں کہ خاں صاحب ادب کے قدیم سرمایے پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ تنہا اس سمندر کے تمام موتی نہیں چن سکتے اس لئے وہ اپنے ذہن میں طرح طرح کے موضوعات سوچتے رہتے ہیں۔ یہ موضوعات وہ ان نوجوانوں کو تجویز کرتے ہیں جو تحقیق کے میدان میں نئے نئے وارد ہورہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی وہ رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ جنہوں نے مدرسے کی تعلیم بھی حاصل کی ہے انہیں تو خاص طور پر وہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ کلاسیکی ادب سے متعلق موضوعات پر ریسرچ کریں تو خاص طور پر اس لئے بھی کہ آج کے زمانے کا ہر طالب علم اس طرح کے موضوعات پر تحقیق کرنے کا اہل نہیں۔


میں نے اس مضمون کے آغاز میں رشید حسن خاں کو روایت کا امین کہا تھا اور اس حیثیت سے انہیں روایت پرستوں سے ممتاز قرار دیا تھا۔ لہٰذا اپنی اب تک کی تمام گفتگو میں برابر یہی کہنے کی کوشش کرتا رہا ہوں کہ رشید حسن خاں کا شمار ان لوگوں میں ہے جن کے ہاں روایت کے عرفان اور احترام کیس اتھ اس کی توسیع اور بقا کا جذبہ بھی ہے۔ یہ اجداد کی رہنمائی میں اخلاف کو قیادت سونپنے کا عمل ہے۔ روایت کے عرفان اور احترام کے لئے عقل و ادراک کی ضرورت ہے اور اس کی توسیع اور بقا کے لئے قوت عمل اور جوش کی۔ یعنی یہ دیوانگی عقل کا وہ سودا ہے جسے میر نے شعور سے جنوں کرنے کا نام دیا ہے۔

***
ماخوذ از کتاب: گھنے سائے (کچھ خاکے کچھ شخصی مضامین)۔
مصنف: اسلم پرویز۔ (ناشر: دلی کتاب گھر، دہلی۔ سن اشاعت: مارچ-2010ء)۔

Rasheed Hasan Khan

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں