عظمت عبدالقیوم کا شعری و فکری سفر - ڈاکٹر مجاور حسین رضوی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-06-04

عظمت عبدالقیوم کا شعری و فکری سفر - ڈاکٹر مجاور حسین رضوی

azmat-abdul-qayyum
عظمت عبدالقیوم - حیدرآبادی تہذیب کی نمائندہ معزز خاتون، شاعرہ اور ادیب، سابق ریاست حیدرآباد کے ایک صوبہ دار نواب غوث یار جنگ کی دختر اور حیدرآباد کے ممتاز انجینئر عبدالقیوم خاں کی شریک حیات تھیں۔ حیدرآباد کے مشہور تعلیمی ادارہ شاداں گروپ کے چئرمین ڈاکٹر وزارت رسول خان، عظمت عبدالقیوم کی دختر شاداں کے رفیق حیات رہے ہیں۔ حیدرآباد کی مقبول عام ادبی نسائی تنظیم "محفلِ خواتین" کے بانی اراکین میں عظمت عبدالقیوم کا شمار ہوتا ہے۔ آپ کے چار مجموعہ ہائے کلام شائع ہو چکے ہیں۔ زرِ گل (1964ء)، سفر اور سحر (نعتیہ کلام، 1967)، رگِ گل (1972) اور عظمتِ وطن (1973ء)۔ سن 1961ء کے ایک کل ہند مشاعرے میں آپ کو ایک ادبی ادارہ "ادبستانِ کرنول" کی جانب سے "عظمتِ غزل" کے خطاب سے نوازا گیا۔ عظمت عبدالقیوم کی شخصت و فن پر مرتب شدہ کتاب سے ماخوذ ایک مضمون پیش خدمت ہے۔

"زرِ گل" سے "رگِ گل" تک - عظمت عبدالقیوم کا شعری و فکری سفر


اردو غزل کا مزاج ہر عہد کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ اور یہی غزل کا معجزۂ فن ہے کہ اس نے بدلتے ہوئے حالات کو سمو کر عصری حسیت کی جلوہ گری پر زور دیا ہے۔ آج غزل میں لہجہ اور تلازموں کی جو تبدیلی نظر آتی ہے وہ بھی اسی تصور کی رہین منت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آج بھی غزلوں کا وہ دبستان موجود ہے جو کلاسکیت کا دلدادہ ہے اور ذات کی دروں بینی پر زور دیتا ہے۔


عظمت عبدالقیوم ذات کی دروں بینی کی شاعرہ ہیں۔ یوں تو اردو شاعری میں شاعرات کی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے لیکن دور حاضر میں خصوصیت کے ساتھ غزل کی طرف توجہ دینے والی شاعرات میں چند ہی ایک نام لئے جا سکتے ہیں۔ ان میں عظمت عبدالقیوم بھی ہیں۔ جنہوں نے شعری روایات کی پاسداری، کلاسکی رچاؤ اور دروں بینی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ انہوں نے خود جو اپنے حالات زندگی لکھے ہیں، انہیں پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی غزلوں میں دبستانِ حیدرآباد کی وہ نشاطیہ کیفیت ہوگی جس کے میر کارواں جلیل مانک پوری تھے۔ لیکن ورق گردانی کرتے ہوئے وہ "انتساب" بھی نظر سے گزرتا ہے جو انہوں نے اپنے جواں مرگ بھائی شوکت علی خاں کے نام کیا ہے اور تبھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ غم ذات میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ وہ خود تڑپ کے زمانے کو تڑپانے کا سلیقہ پیدا کر لیتا ہے۔


ان کے اشعار میں جو کہیں کہیں حدت و تڑپ ہے وہ اسی غم ذات کی ترجمانی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ زندگی کی طویل مسافت نے انہیں وہ بصیرت بھی بخشی ہے جو بظاہر مسکرانے اور حقیقتاً آنسو پی لینے سے عبارت ہے۔ میر نے جب کہا تھا ؎
پاس ناموس عشق تھا ورنہ
کتنے آنسو پلک تلک آئے تھے
تو انہوں نے اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ ضبط غم آرزوؤں کی تشنگی اور عدم تکمیل آرزو سے ایک نئی دنیا وجود میں آئی ہے، جہاں پلکوں پہ لرزنے والے ستاروں کو طلوع ہونے سے پہلے غروب ہو جانا پڑتا ہے۔۔۔
عظمت عبدالقیوم کہتی ہیں ؎
فسانے آرزو کے آرزو میں کم نہیں ہوتے
مزہ آتا نہیں جب زندگی میں غم نہیں ہوتے


غم کی فرصت کا موضوع لاکھ فرسودہ سہی مگر جب تک انسان میں تڑپ رہے گی اس موضوع میں بھی ندرت باقی رہے گی، کہتی ہیں ؎
غم بہت ہے کہ خوشی غور طلب ہے لیکن
اتنی فرصت بھی محبت میں کہاں ہوتی ہے


ان کی شاعری کا محور غم آلود مسکراہٹ ہے یا غموں میں مسکراتے رہنا ہے۔ کہتی ہیں ؎
غم کو عظمت مسکرا کر جیتنا
زندگی سچ مچ اسی کا نام ہے


غم کو مسکرا کر جیتنے کا حوصلہ ہی دراصل ذات کی دروں بینی کی وہ منزل ہے جہاں سے عرفان و آگہی کی حدیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ان کے دو مجموعے نظر سے گزرے۔ پہلا مجموعہ 1964ء میں شائع ہوا ، جس کا آغاز ہی اس شعر سے ہوتا ہے ؎
عظمت! دعائیں دے کے شعور حیات کو
دل میں چھپالیا ہے غم کائنات کو


اس مجموعے میں تقریباً ساٹھ غزلیں ہیں، سترہ نظمیں اور قطعات بھی شامل ہیں۔ نظموں میں اپنے بھائی کے شخصی مرثیے بھی "آہ شوکت!" اور "کرن ڈوب گئی" کے عنوان سے ہیں۔ نظموں میں روایتی انداز ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ قلم کا ذائقہ بدلنے کے لئے لکھی گئی ہیں۔ البتہ دونوں شخصی مرثیوں کے ہر لفظ میں آنسوؤں کے چراغ روشن ہیں۔


ان کے دوسرے مجموعہ "رگ گل" میں ان کی شاعری پر تلوک چند محروم، جگن ناتھ آزاد، ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ، ڈاکٹر ذاکر حسین خاں، عبدالقادر سروری، عرش ملسیانی، خلیل الرحمن اعظمی اور وزیر آغاز کی آراء درج ہیں۔ سرورق کے حاشیہ پر خورشید احمد جامی اور نیاز فتح پوری کے توصیفی کلمات ملتے ہیں۔ یہ مجموعہ 1972ء میں شائع ہوا جس میں تقریباً 65 غزلیں اور گیارہ نظمیں شامل ہیں۔ تین نظمیں خالص نسوانی سماجیات سے تعلق رکھتی ہیں ، یعنی بیٹی کی شادی پر ماں کی نصیحتیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ تینوں نظمیں شدت احساس اور خلوصِ اظہار کا بڑا چھا نمونہ ہیں۔ اقبال نے کہا تھا ؎
نہ زباں کوئی غزل کی نہ زباں سے باخبر میں
کوئی دلکشا صدا ہو عجمی ہو یا کہ تازی!


عظمت عبدالقیوم کی شاعری ممکن ہے کہیں کہیں روایت کی پاسداری کی وجہ سے روایت سازی نہ ملے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بہت سارے اشعار میں وہ کیفیت نہ ہو جس سے غزل کا سوز و جاں گدازی عبارت ہے، لیکن انہوں نے غزل کی زبان کا اگر کہیں کہیں لحاظ نہیں رکھا تو اقبال کی دلکشا صدا کو ضرور اپنانے کی کوشش کی ہے۔ غزل کی تعریف کرتے ہوئے شمس رازی نے جس واماندگئ شوق اور تڑپ کا ذکر کیا ہے ، وہ یقیناً ان کے کلام کا جزو ہے۔

***
ماخوذ از کتاب: عظمتِ غزل (عظمت عبدالقیوم : فن اور شخصیت)۔
مرتب: صلاح الدین نیر۔ (ناشر: مکتبۂ شعر و حکمت، حیدرآباد۔ سن اشاعت: فروری-1988ء)۔

The poetry of Azmat Abdul Qayyum Hyderabad.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں