ملت اسلامیہ کی دختران پر بےجا رسومات و مطالبات کا قہر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-05-13

ملت اسلامیہ کی دختران پر بےجا رسومات و مطالبات کا قہر

unjust-rituals-and-demands-wrath
ملتِ اسلامیہ میں بڑھتی ہوئی بےجا رسومات اور لڑکے والوں کے مطالبے، ملت کی بیٹیوں کیلیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ لڑکی کے ماں باپ اور بھائی بھی اس بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ اخباری و الکٹرانک میڈیا کی تازہ اطلاعات کے مطابق احمدآباد کی عایشہ کی خودکشی کے واقعہ نے کئی انسانوں کے دل و دماغ کو رنجیدہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس سانحہ کی وجہ جہیز کا مطالبہ اور بیوی کو تکلیف پہنچانے والی شوہر کی نازیبا حرکات بتائی گئیں۔

آخر کب ملت اسلامیہ کے لڑکے کے والدین کی انسانی آنکھ کھلے گی؟ کب ملت میں پنپنے والے بےجا اور غیروں کی رسومات سے باز آئیں گے؟ جیسے۔۔۔
منہ میٹھے کی رسم، منگنی کی رسم، چوٹی کی رسم، عیدی کی رسم، شادی کی تاریخ کے تعین یعنی رضا کی رسم، سانچق کی رسم، نکاح کے دن لڑکی والوں سے کم از کم 1000 افراد کے لیے پچیس تا تیس قسم کے پکوان کا انتظام پر دباؤ، نکاح کے دوسرے دن ناشتہ، دوپہر اور شام کے کھانے کا لڑکے کے گھر کی خواتین کے ذریعہ مطالبہ، نکاح کے دن دلہن کو بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آنے کی خواہش، لڑکے کے لیے کم از کم ایک موٹر سائیکل کی خواہش، نکاح و ولیمہ کے مواقع پر نوشہ کیلیے دو عدد جوڑوں (کم از کم پچیس ہزار روپیے مالیتی) کی مانگ، ایک برانڈڈ گھڑی کی خواہش، دوچار سونے کی انگوٹھیاں جو دور سے دعوتیوں کو نظر آئیں، اگر ہو سکے تو لڑکے کو پانچ لاکھ روپیے نقد بطور گھوڑا جوڑا دینے کی خواہش تاکہ ولیمہ کی دعوت اچھی طرح کی جا سکے اور سماج میں لڑکے والوں کی ناک اونچی رہے۔

جہاں مہر کے مقرر کرنے کا تعلق ہے وہاں پانچ ہزار ایک روپیہ کی روایت پر ڈٹے رہنا۔ یہ مراحل تو صرف شادی کی تقریب تک سمٹے ہوے ہیں۔ آگے لڑکی اللہ کے فضل سے حمل سے ہو تو اس دوران کے مطالبات اور ہی ہیں۔ پہلے دن سے ڈیلیوری کے دواخانوں کے تمام اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری لڑکی کے ماں باپ کے کندھوں پر ہی ہوگی۔ جب لڑکی ماں بنے گی، تب چھلہ کے نام سے کم از کم پانچ سو افراد کو کھانے کی دعوت اور پیدا ہونے والی اولاد اور اس کے ماں باپ کے ساتھ ساتھ دادا دادی کو کپڑے بنوا کر زبردستی کی خوشی کا اظہار کرنا لازمی روایت بن چکی ہے۔

مسلمانوں میں مذکورہ بالا رسومات اور دبے الفاظ میں کیے جانے والے مطالبات کا پورا کرنا ایک لڑکی کے ماں باپ کی عین ذمہ داری بنا دی گئی ہے، اگرچیکہ ماں باپ اور لڑکی کے بھائی دس دس پندرہ پندرہ لاکھ روپیے کے قرض دار ہی کیوں نہ بن جائیں۔ پھر ان قرضوں کو ادا کرنے کے لیے ایک طرف ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے تو دوسری جانب ضعیف باپ مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور تیسری جانب ایک جوان بھائی ناجایز کاموں پر اتر آتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے استحصالی نظام کے ماحول کے زیراثر کسی بیٹی یا بہن کا انجام ویسا ہی نکلے گا جس کی ایک مثال اوپر بیان کردہ عائشہ کا واقعہ ہے۔

آخر کب مسلمان لڑکوں کے ماں باپ کی ظالمانہ آنکھ سے پردہ اٹھے گا اور وہ اپنے جھوٹے مسکراتے چہروں کی آڑ میں ڈھاتے ظلم سے باز آئیں گے؟
کب مساجد کے امام و خطیب، محلہ واری کمیٹیاں، تنظیمیں اور انجمنیں، شہر و اضلاع و ریاستی بلکہ قومی سطح پر ان بے جا رسومات اور جان لیوا مطالبات کو انفرادی و اجتماعی طور پر روکنے کی کوشش کریں گے، جس کی ان حضرات پر ہر لحاظ سے ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔
کسی بھی سچے کام کی شروعات میں یقینا مشکلات اور تاخیر کا سامنا لازم ہے پر سعی مسلسل ایک دن انشاء اللہ ضرور کامیابی کا سامنا کرے گی۔ ورنہ غلط کام اور ظلم کو سہتے و دیکھتے رہنے سے ایک دن ساری امت متذکرہ ظلم میں غرق ہو جائے گی اور اس کا تباہ کن انجام آنے والی نسلوں کیلیے تاریخ کے سیاہ باب کی شکل میں سامنے آئے گا۔

دنیا شاہد ہیکہ جب بھی انسانوں پر ظلم روا کیا گیا، ہزاروں انسان اپنی جان گنوا بیٹھے، لیکن ایک طویل عرصہ کے بعد یہی انسان بیدار ہوئے اور تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوے ظلم سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ترکیبیں ایجاد کیں اور اپنے اس کاز میں کامیاب بھی ہوئے۔ جس کی بہترین مثال دنیا میں موجود "جمہوری نظام" سے لی جا سکتی جس کی بدولت "ظالمانہ بادشاہت" کا خاتمہ عمل میں آیا اور یوں عام انسان اپنے انسانی حقوق کے سائے میں سہولت سے سانس لے رہا ہے۔
اندھیرے یوں ہی نہیں جاتے صرف سوچ لینے سے
چراغ یوں ہی نہیں جلتا جلانا پڑتا ہے

لہذا اب ملت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہیکہ مذکورہ بیجا رسومات و مطالبات والی شادیوں کا اجتماعی بائیکاٹ کریں اگرچیکہ یہ بڑا کٹھن مرحلہ ہوگا اور ہو سکتا ہے اس میں کافی وقت لگے اور شدید مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑے۔
اللہ تعالی ملت کے ہر فرد کو اس جانب سوچنے اور اس کے تدارک کی طرف پہل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ لڑکے والوں کے سینے میں پنپنے والی ناجائز خواہشات اور مطالبات کا ناسور ہمیشہ کیلیے دفن ہو جائے اور ملت کی بیٹیاں ہر لحاظ سے محفوظ رہتے ہوے اللہ تعالی کی عطا کی گئی زندگی کو سکون سے گزار سکیں۔
***
ایس۔ ایم۔ عارف حسین
اعزازی خادم تعلیمات، مشیرآباد، حیدرآباد۔ موبائل: 09985450106
[email protected]
ایس۔ ایم۔ عارف حسین

Unjust rituals and demands, a wrath on the daughters of Islam, Article by: Arif Hussain S.M.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں