اگلی عید سے پہلے - کشمیر کے پس منظر کا ناول از آنند لہر - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-05-14

اگلی عید سے پہلے - کشمیر کے پس منظر کا ناول از آنند لہر - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

agli-eid-se-pahle_anand-lahar
آنند لہر (اصل نام: شیام سندر) (پیدائش: 2/جولائی 1951ء، پونچھ، جموں و کشمیر - وفات: 6/دسمبر 2018ء، جموں)
وادئ کشمیر کے اردو فکشن کا ایک نمایاں نام رہے ہیں جنہوں نے افسانہ، ناول اور ڈراما کی اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے تینوں اصناف میں اپنے گہرے نقوش مرتب کئے۔ سنہ 1975ء میں کشمیر یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تکمیل کے بعد آپ نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کر کے نہ صرف ریاستی ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء کی صف میں شامل ہوئے بلکہ سپریم کورٹ کے وکلاء میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
"اگلی عید سے پہلے" آنند لہر کا پہلا ناول ہے جو 1997ء میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول میں کشمیر کے بدلتے ہوئے حالات کو موضوع بناتے ہوئے انہوں نے 1947 اور 1990 کے حالات کا بڑی خوبی سے موازنہ کیا ہے۔ اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح پہلے دور (1947) میں ہندو ،مسلم اور سکھ اتحاد نے کشمیری قبائلیوں کو کامیاب بنایا اور پھر کس طرح دوسرے دور (1990) میں عسکری تنظیموں نے اس اتحاد کا گلا گھونٹ کر یہاں کے لوگوں کو مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا ہے۔
تعمیرنیوز کے ذریعے عیدالفطر 2021ء کے موقع پر آنند لہر کا یہی مختصر مگر یادگار سماجی ناول پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں پیش خدمت ہے۔ تقریباً سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 4 میگابائٹس ہے۔
کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔
آنند لہر کے افسانوی مجموعے "بٹوارہ" کے دیباچہ نگار اشرف حسین لکھتے ہیں ۔۔۔
"آنند لہر کا تعلق سرزمینِ جموں سے ہے جو تخلیقی اعتبار سے ہمیشہ ہی زرخیز رہا ہے۔ وہ ادب سے خاص شغف رکھتے ہیں۔ جب بھی ذہن کی بے قرار موجیں اظہار خیال کے لئے اکساتی ہیں وہ جذبات و احساسات کو قلم بند کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ اُن کا اظہار خیال ناولوں، افسانوں اور ڈراموں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک نامور ایڈوکیٹ ہونے کے ناتے آپ کی مصروفیات کا جو عالم ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اس کے باوجود ادبی دلچسپیوں کے لیے کس طرح وقت نکال پاتے ہیں ،یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ادبی ذوق وشوق نے اس دور جدید میں وہ مقام انھیں عطا کیا ہے جس کو بیان کرنا مشکل ہے۔
ان کے ناولوں میں۔۔۔ اگلی عید سے پہلے، سرحدوں کے بیچ، مجھ سے کہا ہوتا اور یہی سچ ہے۔۔۔ جیسے عمدہ اور بےمثال ناول شامل ہیں۔ آنند لہر کے پانچ افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ "انحراف" ان کا پہلا افسانوی مجموعہ تھا جو 2002ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد 'سرحد کے اُس پار'، 'کورٹ مارشل'، 'بٹوارہ' اور 'سریشٹا نے بھی یہی لکھا ہے' کے عنوانات سے ان کے افسانوں کے چار مزید مجموعے شائع ہوئے جنہیں اربابِ نقد و نظر نے کافی سراہا"۔
بطور قانون داں، دانشور، ادیب، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور ٹیلی ویژن پروڈیوسر، نہ صرف ریاست جموں و کشمیر بلکہ بیرون ریاست مقبولیت حاصل کرنے والے آنند لہر نے اپنی ابتدائی تعلیمی پونچھ سے ہی حاصل کی تھی پھر گورنمنٹ ڈگری کالج پونچھ سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے جموں یونیورسٹی سے بی اے اردو اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم وہ پونچھ کالج میں کالج سیکریٹری رہے اور ادبی وثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بطور پیشہ انہوں نے وکالت کا انتخاب کیا۔ وکالت پیشہ میں وہ یونین آف انڈیا کے کونسل بھی رہے۔ سال 2015 میں انہوں نے جموں و کشمیر کے آئین کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ وہ انجمن ترقی اردو ہند کے لیگل سیل اور جموں و کشمیر یونیورسٹیوں کی طرف سے اردو زبان کے فروغ سے متعلق کمیٹی کے ممبر اور 'حلقہ فکر و فن' کے بانی رکن بھی رہے۔
آنند لہر کی تخلیقات کو ناقدین نے کافی سراہا، انھیں مستند فکشن نگار قرار دیا اور ان کے کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے کئی ادبی و غیر ادبی تنظیموں نے انھیں انعام و اکرام سے بھی نوازا تھا۔
اردو زبان وادب کے تئیں خدمات کے اعتراف میں آنند لہر کو اترپردیش اور راجستھان اردو اکیڈمی کے ایوارڈ، میر اکیڈمی لکھنو ایوارڈ، پہلا مہاراجہ پرتاپ سنگھ ایوارڈ، لالہ لاجپت نرائین ایوارڈ جالندھر، جموں رتن ایوارڈ اور دیگر مختلف انعامات و اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ ونیز ہند و پاک تقسیم کے سانحہ پر مبنی ان کے ڈرامہ "بٹوارہ" پر صدر جمہوریۂ ہند نے انہیں 50/ہزار روپے کے انعام سے نوازا تھا۔
اس ناول کے دیباچے میں جگن ناتھ آزاد لکھتے ہیں ۔۔۔
آنند لہر صاحب کا زیرنظر ناول "اگلی عید سے پہلے" سرزمینِ کشمیر کی ایک درد بھری داستاں ہے جو مصنف نے خونِ دل میں انگلیاں ڈبو کر لکھی ہے۔ یہ داستان ہندوستان کی آزادی سے شروع ہو کر آج یعنی 1996ء تک پہنچتی ہے۔ سرِزمین کشمیر کی یہ درد بھری روداد جو نصف صدی پر پھیلی ہوئی ہے، ایک ایسی روداد ہے جس میں روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ کہیں کہیں متصادم بھی ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً کہیں اندھیرا فتح یاب ہوتا ہے اور کہیں روشنی۔ لیکن انجام کار روشنی ہی کامران و نصرت یاب ہوتی ہے جس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ نصف صدی کا یہ سارا سفر ناول نگار کے اپنے دل کی تجلی سے جگمگا رہا ہے۔ ناول نگار نہ قنوطی (pessimist) ہے نہ رجائی (optimist) بلکہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ دنیا سعیِ انسانی کے ذریعے بہتر ہو سکتی ہے یعنی اصلاح کا قائل (meliorist) ہے۔
بنی نوع انسان سے محبت اور بالخصوص سرزمینِ کشمیر سے محبت ناول نگار کے رگ و پے میں رچی بسی ہوئی ہے اور قاری کو یہ ناول کے شروع ہی میں نظر آ جاتی ہے۔
جہاں موضوعی اندازِ بیان سے گریز مصنف کی دیانت پر دال ہے وہیں اس ناول کی ایک نمایاں خوبی مصنف کا معروضی اندازِ بیان بھی ہے جسے مصنف نے کہیں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ خواہ وہ کشمیر سے لوگوں کی ہجرتِ مکانی کا بیان ہو یا کسی فرد سے پولیس میں بھرتی کے لیے دس ہزار کی رشوت طلب کی گئی ہو یا عمال حکومت کے مظالم کا ذکر ہو۔
اگر فن یا ادبیت مقصد پر حاوی رہے اور مقصد فن پر حاوی ہونے کے بجائے ایک موجِ زیریں کی طرح فن کا یا ادبیت کا جزو بنتا چلا جائے تو وہ مقصدی ادب صحیح معنوں میں ایک فن پارہ بن جاتا ہے اور اسے "مقصدی ادب" کا الزام دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
زیرنظر ناول میں یہ خوبی اول سے آخر تک نظر آتی ہے کہ مقصد فن پر حاوی ہونے کے بجائے فن میں ڈھلتا چلا جاتا ہے اور اس طرح ناصحانہ پابند آمیز مفہوم کو فن کا مرتبہ عطا کرتا چلا جاتا ہے۔
***
نام ناول: گلی عید سے پہلے
مصنف: آنند لہز
تعداد صفحات: 110
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 4 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Agli Eid se pahle - Novel by Anand Lahar.pdf
Archive.org Download link:

GoogleDrive Download link:

Agli Eid se pahle, a social Urdu Novel in the backdrop of Kashmir valley by Anand Lahar, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں