عرب اور اسرائیل - منورما دیوان - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-05-16

عرب اور اسرائیل - منورما دیوان - پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ

منورما دیوان (پیدائش: 1935ء، لاہور) - پنجاب کے مشہور انقلابی رہنما پرنسپل چھبیل داس اور شریمتی سیتا دیوی کی دختر اور ممتاز صحافی و ادیب ظفر پیامی (دیوان بیریندر ناتھ) کی رفیقۂ حیات ہیں۔ انگریزی، ہندی اور اردو صحافت میں منورما دیوان ایک خاص مقام کی حامل ہیں۔ ہندوستان کی واحد کثیرالزبان خبر رساں اور فیچر ایجنسی پریس ایشیا انٹرنیشنل کی وہ 1971ء سے ایڈیٹر رہی ہیں۔ ان کے مضامین کے تراجم ملک اور بیرون ملک کے انگریزی، ہندی، پنجابی، مراٹھی، اردو اور عربی زبانوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ منورما دیوان ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے عراق نیوز ایجنسی کی چیف نامہ نگار بھی رہ چکی ہیں۔ سنہ 1957ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹکل سائنس میں امتیازی نشانات کے ساتھ ایم۔اے کرنے کے بعد وہ سرگرم اور فعال صحافتی زندگی سے وابستہ ہو گئی تھیں۔ یورپ، مغربی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا بشمول مختلف عرب ممالک کے انہوں نے طویل دورے کیے ہیں۔ منورما دیوان کے انگریزی مضامین ممتاز انگریزی جریدوں دی ہندو، ہندوستان ٹائمز، ٹائمز آف انڈیا اور ٹریبون کے علاوہ سرکردہ ہندی روزنامہ آج (بنارس) اور ماہنامہ 'سریتا' میں اکثر شائع ہوتے رہے ہیں۔ اردو میں ملاپ، سیاست (حیدرآباد) اور سیاست جدید (کانپور) جیسے اہم روزناموں کے علاوہ ماہنامہ 'بانو' میں بھی وہ عرصہ دراز سے لکھتی رہی ہیں۔

منورما دیوان نے مئی 1966ء میں عرب اسرائیل تنازعے پر ایک مختصر انگریزی کتابچہ تحریر کیا تھا جسے مشہور انگریزی روزنامہ "الاہرام (قاہرہ)" کے چیف ایڈیٹر محمد حسنین ہیکل نے اپنی قسم کی بہترین کتاب قرار دیا تھا۔ اس انگریزی کتابچہ کے پانچ ایڈیشن شائع ہوئے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کے ہندی اور عربی ترجمے بھی منظر عام پر آئے۔ مصری صدر جمال عبدالناصر، شریمتی اندرا گاندھی، سردار سورن سنگھ، ایم۔سی۔چھاگلہ اور دیگر کئی عرب اور ہندوستانی رہنماؤں نے اس کتاب کو تاریخی کارنامہ قرار دیتے ہوئے منورما دیوان کو داد سے نوازا تھا۔ اسی کتاب کا دو سال بعد (سنہ 1968ء میں) خود منورما دیوان نے اردو میں ترجمہ کیا اور کئی اہم اضافے بھی کیے، جس سے کتاب کا اردو روپ انگریزی کے مقابلہ میں کہیں زیادہ طویل اور ہمہ گیر بن گیا ہے۔

تقریباً نصف صدی قبل ایک حساس بین الاقوامی سیاسی و سماجی تنازعہ پر تحریر کردہ یہ کتاب تعمیرنیوز کے ذریعے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو صفحات کی اس پی۔ڈی۔ایف فائل کا حجم صرف 9 میگابائٹس ہے۔

کتاب کا ڈاؤن لوڈ لنک نیچے درج ہے۔

اس کتاب میں شامل موضوعات ۔۔۔
  • عرب اسرائیل جنگ کے کئی سربستہ راز
  • عربوں کے خلاف سامراجی سازشیں
  • ارض مقدس پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی تاریخی کڑیاں
  • عرب مہاجرین کی آنسو بھری کہانی
  • عربوں کی جدوجہد آزادی کی ولولہ انگیز داستان
  • اسرائیلی "ترقی" اور طاقت کی اصل حقیقت
  • صیہونی فلسفی یا ہٹلر کے استاد؟
  • اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مجرم
  • عرب اور اسرائیل - ہندوستان کے لیے
  • مغربی ایشیا کا مستقبل، جنگ یا امن؟
  • ہندوستان کدھر اور کیوں؟
صاحبِ کتاب منورما دیوان، کتاب کے دیباچہ بعنوان "قارئین کے نام" میں لکھتی ہیں ۔۔۔
محترم ڈاکٹر سید محمود (رکن پارلیمنٹ) کے مفصل اور جامع پیش لفظ کے بعد یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہ کتاب میں نے کیوں لکھی اور اس میں میں کیا کہنا چاہتی تھی؟ کتاب لکھتے وقت میری کوشش صرف اتنی تھی کہ ان غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے جو اسرائیلی سامراجیوں کی طرف سے دنیا بھر میں عموماً اور ہندوستان میں خصوصاً پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کے پھیلنے سے امن، آزادی، حق اور انصاف کے تقاضے بھی مجروح ہوں گے اور ہندوستان کے قومی مفاد کو بھی ضرب پہنچے گی۔ مجھے آپ کی رائے کا انتظار رہے گا کہ یہ کوشش کامیاب ہوئی ہے یا نہیں؟

اس کتاب کے اردو ترجمے کے سلسلے میں میں برادرم احمد رشید شروانی (الہ آباد) کی بےحد شکرگزار ہوں جنہوں نے میری اردو کو بڑی محنت کے ساتھ اس حد تک سنوارا اور نکھارا کہ زبان میں واقعی اصل رنگ آ گیا۔ اپنے محترم بزرگوں ڈاکٹر عابد حسین اور جناب مالک رام کی بھی میں بےحد ممنون ہوں جو اپنے قیمتی مشوروں سے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ روزنامہ "ملاپ" کے چیف ایڈیٹر شری رنبیر اور شمع گروپ کے ایڈیٹر یونس دہلوی صاحب کا بھی میں دلی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ یہ حضرات نہ صرف مغربی ایشیا پر میری تحریروں کو بڑی قدردانی کے ساتھ شائع کرتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دی ہے کہ میں نے حال ہی میں روزنامہ 'ملاپ' اور ماہنامہ 'بانو' کے لیے جو خصوصی مضامین لکھے تھے، ان کے کچھ حصے اس کتاب میں استعمال کر لوں۔

- منورما دیوان (جنوری 1968ء)

اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر سید محمود (ممبر پارلیمنٹ) لکھتے ہیں ۔۔۔
شریمتی منورما دیوان کے دل میں ظلم سے نفرت ہے وہ جہاں بھی ہو، اور مظلوموں سے ہمدردی ہے وہ جہاں بھی ہوں، وہ سب کے ساتھ انصاف چاہتی ہیں اور ناانصافی سے خواہ وہ کسی کے ساتھ کی جائے ان کو نفرت ہے اور ان ہی وجوہ کی بنا پر خود اپنے ملک میں جب وہ اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کا برتاؤ دیکھتی ہیں تو ان کو تکلیف ہوتی ہے اور ان کا قلم جنبش میں آ جاتا ہے۔

عرب و اسرائیل کا مسئلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر قلم اٹھانے سے پہلے ان ملکوں کا سفر کیا اور خود وہاں کے حالات دیکھے اور اس مسئلہ کے ہر پہلو پر پورے طور پر واقفیت حاصل کی اور جب ان کو یقین ہو گیا کہ اسرائیل، عربوں کے لیے ایک جبر و ظلم کی مشین ہے اور اس ظلم کی مشین کے کل پرزے امریکہ اور انگلستان میں بنتے ہیں، تب شریمتی منورما دیوان سے یہ صریح بےانصافی اور ظلم دیکھا نہ گیا اور ان کا قلم جنبش میں آ گیا۔

وہ عرب اسرائیل مسئلہ پر پوری معلومات پہلے ہی سے حاصل کر چکی تھی، انہوں نے ایک مختصر سا انگریزی کتابچہ اہل ملک کی معلومات کے لیے فوراً لکھ کر شائع کرایا، اب اس کا اردو ترجمہ شائع کر رہی ہیں۔ جسے مزید اضافے اور ترمیم نے اور بھی زیادہ قابل قدر بنا دیا ہے۔ جتنی ضروری معلومات ایک عام آدمی کو، جو عرب اسرائیل مسئلہ کو سمجھنا چاہتا ہے، ہونی چاہیے وہ سب انہوں نے مہیا کر دی ہیں۔ جو شخص تفصیلی حالات کے لیے وقت نہیں نکال سکتا اس کی معلومات کے لیے اور اس مسئلہ کو سمجھ لینے کے لیے اس چھوٹی سی کتاب میں کافی مواد مل جائے گا۔ منورما دیوان نے مسئلہ کا کوئی پہلو چھوڑا نہیں ہے اور مختصر مگر دلچسپ طریقہ سے ہر پہلو پر بحث کی ہے۔

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ عرب اور یہودیوں کا مسئلہ ہے یعنی دو مذاہب کا جھگڑا ہے یعنی اسلام اور یہودیت، حالانکہ ایسا بالکل نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اپنے زمانۂ عروج میں مسلمانوں نے ہر جگہ یہودیوں کو عیسائی ظلم و جبر سے بچایا۔ مثال کے طور پر ہسپانیہ کا ذکر کافی ہوگا جہاں یہودیوں پر انتہائی ظلم و جبر ہو رہا تھا اور عربوں نے پہنچ کر ان کو ظلم سے نجات دلائی اور کئی سو برس تک یہودی اس ملک میں عربوں کی حکومت کے تحت نہایت امن و امان کی زندگی گذارتے رہے۔ آج بھی جبکہ اسرائیل اور عربوں میں دشمنی اس درجہ بڑھی ہوئی ہے، ایک اچھی خاصی تعداد یہودیوں کی مصر اور دیگر عرب ممالک میں رہ رہی ہے اور اسرائیل دشمنی کے باعث ان پر کسی طرح کا تشدد نہیں کیا جاتا اور وہ ان عرب ممالک میں امن و امان کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور خوش ہیں۔ اسرائیلی یہودی ضرور ہیں لیکن وہ یہودیوں کا ایک جارحانہ فرقہ ہے جن کو مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہیں اور اس فرقہ کو آسٹریا کے باشندے ڈاکٹر ہرزل [Theodor Herzl] نے گذشتہ صدی کے اواخر میں جنم دیا اور سنہ 1897ء میں ایک کانفرنس کی اور ایک کتابچہ [The Jewish State] کے نام سے تحریر کیا اور اس میں تقریباً سیاست کے متعلق وہی خیالات ظاہر کیے جو بیس سال بعد ہٹلر نے اپنی کتاب میں پیش کیے تھے۔ ہرزل نے جمہوریت کو بیکار اور غلط چیز بتلایا اور عوام کو حکومت کا نااہل بتایا اور کہا کہ افراد ہی حکومت کے اہل ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ گویا ہرزل، ہٹلر کا استاد تھا۔

دنیا کی دوسری جنگِ عظیم کے بعد انگلستان نے فلسطین کے ایک حصہ پر عربوں کی مرضی کے خلاف یہود کو لا کر بٹھا دیا اور فلسطین کا 55 فیصد علاقہ ان کو دے دیا گیا، لیکن حالیہ جنگ سے پہلے ہی وہ 77 فیصد علاقے پر قابض تھے۔ کئی لاکھ عرب باشندوں کو اسرائیل سے زبردستی نکال دیا گیا جو آج برسہا برس سے پہاڑوں اور جنگلوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے 1948ء میں اس کے خلاف احتجاج کیا اور اپنا مشہور ریزولیوشن پاس کیا اور اسرائیل کو تنبیہ کی کہ وہ ان عرب باشندوں کو، جنہیں گھر سے بےگھر کیا گیا ہے انہیں بسا لے۔ لیکن اسرائیل نے اس کی ذرہ برابر بھی پروا نہ کی اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں ہر سال یہ تجویز دہرائی گئی لیکن اسرائیل، امریکہ اور انگلستان کے سامراجی انتہائی رعونت کے ساتھ ان تجویزوں کو ٹھکراتے رہے۔


عربوں پر یہ الزام کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور اس سے دوستانہ اور ہمسایہ تعلقات کیوں نہیں رکھتے، کہاں تک جائز ہے؟ کسی کے گھر میں کوئی باہری شخص زبردستی بٹھا دیا جائے، پھر اس سے کہا جائے کہ اس کے ساتھ دوستانہ برتاؤ رکھو، یہ کیوں کر ممکن ہے؟ یہ انسانی فطرت کے خلاف امر ہے۔

جس دن امریکہ اپنی مالی مدد بند کر دے گا جو ظاہر ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رہ سکتی تو عربوں کی مدد کے بغیر اسرائیلی ایک دن بھی اس ملک میں ٹھہر نہیں سکتے۔ آج دو مسلم ممالک ایران اور ترکی نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور ان دونوں ممالک کے ساتھ اسرائیل کی بڑی تجارت جاری ہے۔ اگر یہ لین دین بالکل ہی بند ہو جائے تو بھی اسرائیلی آسانی سے پنپ نہیں سکتے۔

ان تمام باتوں کے علاوہ جن کا تعلق صرف عرب ممالک سے ہے، اسرائیل کی طاقت تمام ایشیا کے لیے عموماً اور ہندوستان و پاکستان اور علی الخصوص عربوں کے لیے اک خطرۂ عظیم ہے۔ اسرائیل سامراج کا ایجنٹ ہے اور اس کے ذریعے اور اس کی آڑ میں امپیریلزم رفتہ رفتہ اپنا پنجہ افریشین ممالک پر جمانا چاہتا ہے۔ اس یورپی-امریکی اسرائیل کا قدم اگر فلسطین میں جم گیا تو رفتہ رفتہ نہ صرف یہ عرب ملکوں پر ہاتھ صاف کرے گا بلکہ اس کا ہاتھ امپیریلزم کی مدد سے برصغیر ہند و پاک تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

***
نام کتاب: عرب اور اسرائیل (المیہ فلسطین - ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں)
تصنیف: منورما دیوان
ناشر: افرو ایشین پبلی کیشنز، نئی دہلی (سن اشاعت: 1968ء)
تعداد صفحات: 145
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم: تقریباً 9 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ تفصیلات کا صفحہ: (بشکریہ: archive.org)
Arab Aur Israel by Manorama Dewan.pdf

Direct Download link:

GoogleDrive Download link:


Arab aur Israel, by: Manorama Dewan, pdf download.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں