آئین ہند - لسانی اقلیتوں کے مفادات سے متعلق دفعات - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-02-22

آئین ہند - لسانی اقلیتوں کے مفادات سے متعلق دفعات

آئین ہند میں درج لسانی اقلیتوں کے مفادات سے متعلق دفعات
ثقافتی اور تعلیمی حقوق
29۔ (1)
بھارت کے علاقہ میں یا اس کے کسی حصہ میں رہنے والے شہریوں کے کسی طبقہ کو جس کی اپنی الگ جداگانہ زبان، رسم الخط با ثقافت ہو، اس کو محفوظ رکھنے کا حق ہوگا۔
29۔ (2)
کسی شہری کو ایسے تعلیمی ادارہ میں جس کو مملکت چلاتی ہو یا جس کو مملکتی فنڈ سے امداد ملتی ہو، داخلہ دینے سے محض مذہب، نسل، ذات، زبان یا ان میں سے کسی کی بنا پر انکار نہیں کیا جائے گا۔

اقلیتوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق
30۔ (1)
تمام اقلیتوں کو خواہ وہ مذہب کی بنا پر ہوں یا زبان کی ، اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہوگا۔
(1-الف )
فقرہ (1) میں محولہ کسی اقلیت کے قائم کردہ اور زیرانتظام کسی تعلیمی ادارے کی کسی جائداد کے لازمی حصول کی نسبت کوئی قانون بناتے وقت مملکت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ ایسی جائیداد کے حصول کے لیے ایسے قانون کی رو سے مقرہ یا اس کے تحت تعیین شدہ رقم ایسی ہو جس سے اس ضمن کے تحت ایسا حق، جس کی ضمانت دی گئی ، محدود یا ساقط نہ ہو جائے۔
30۔ (2)
مملکت تعلیمی اداروں کو امداد عطا کرنے میں کسی تعلیمی ادارے کے خلاف اس بنا پر امتیاز نہ برتے گی کہ وہ کسی اقلیت کے زیر انتظام ہے خواہ وہ اقلیت مذہب کی بنا پر ہو یا زبان کی۔

زبان جو پارلیمنٹ میں استعمال ہوگی
120۔ (1)
حصہ 17 میں کسی امر کے باوجود لیکن دفعہ 348 کی توضیعات کے تابع پارلیمنٹ میں کاروبار ہندی یا انگریزی میں ہوگا:
بشرطیکہ راجیہ سبھا کا میر مجلس یا لوک سبھا کا اسپیکر یا وہ شخص جو اس حیثیت سے کام کر رہا ہو، جیسی کہ صورت ہو، کسی ایسے رکن کو، جو اپنے مطلب کا اظہار پورے طور پر ہندی یا انگریزی میں نہ کر سکتا ہو، ایوان کو اس کی اپنی مادری زبان میں خطاب کرنے کی اجازت دے سکے گا۔
120۔ (2)
بجز اس کے کہ پارلیمنٹ قانون کے ذریعہ دیگر طور پر توضیع کرے، اس آئین کی تاریخ نفاذ سے پندرہ سال کی مدت منقضی ہونے کے بعد یہ دفعہ اس طرح نافذ ہوگی گویا کہ الفاظ "یا انگریزی میں" اس سے حذف کیے گئے ہوں۔

زبان جو مجلس قانون ساز میں استعمال ہوگی
210۔ (1)
حصہ 17 میں کسی امر کے باوجود لیکن دفعہ 348 کی توضیعات کے تابع کسی ریاست کی مجلس قانون ساز کام کاج اس ریاست کی سرکاری زبان یا زبانوں میں یا ہندی میں یا انگریزی میں ہوگا:
بشرطیکہ قانون ساز اسمبلی کا اسپیکر یا قانون ساز کونسل کا میر مجلس یا وہ شخص جو اس حیثیت سے کام کر رہا ہو، جیسی کہ صورت ہو، کسی ایسے رکن کو، جو اپنے مطلب کا اظہار پورے طور پر مذکورہ بالا زبانوں میں سے کسی زبان میں نہ کر سکتا ہو، ایوان کو اس کی اپنی مادری زبان میں خطاب کرنے کی اجازت دے سکے گا۔
210۔ (2)
بشرطیکہ ہماچل پردیش، منی پور، میگھالیہ اور تری پورہ کی ریاستوں کی مجالس قانون ساز کے تعلق سے یہ فقرہ اس طرح نافذ رہے گا گویا کہ الفاظ "پندرہ سال" کے بجائے جو اس آئین میں آئے ہیں، الفاظ "پچیس سال" قائم کیے گئے ہوں:
مزید شرط یہ کہ اروناچل پردیش، گوا اور میزورم ریاستوں کی مجالس قانون ساز کے تعلق سے یہ فقرہ اس طرح نافذ رہے گا گویا کہ الفاظ "پندرہ سال" کے بجائے جو اس آئین میں آئے ہیں، الفاظ "چالیس سال" قائم کیے گئے ہوں۔

ریاست کی سرکاری زبان یا زبانیں
345۔
دفعات 346 اور 347 کی توضیعات کے تابع ریاست کی مجلس قانون ساز، قانون کے ذریعہ، اس ریاست میں استعمال ہونے والی کسی ایک یا زیادہ زبانوں یا ہندی کو اس زبان یا ان زبانوں کی حیثیت سے اختیار کر سکے گی جس کا یا جن کا اس ریاست کی تمام سرکاری اغراض یا ان میں سے کسی غرض کے لیے استعمال کیا جانا ہو:
بشرطیکہ جب تک اس ریاست کی مجلس قانون ساز، قانون کے ذریعہ دیگر طور پر توضیع نہ کرے، انگریزی زبان ان سرکاری اغراض کے لیے اس ریاست کے اندر استعمال ہوتی رہے گی جن کے لیے وہ اس آئین کی تاریخ نفاذ کے عین قبل استعمال ہوتی تھی۔

ایک ریاست اور کسی دوسری ریاست یا کسی ریاست اور یونین کے مابین مراسلت کے لیے سرکاری زبان
346۔
وہ زبان جس کا یونین میں سرکاری اغراض کے لیے استعمال فی الوقت مجاز کیا گیا ہے، ایک ریاست اور کسی دوسری ریاست اور کسی ریاست اور یونین کے مابین مراسلت کے لیے سرکاری زبان ہوگی:
بشرطیکہ اگر دو یا زیادہ ریاستیں متفق ہو جائیں کہ ہندی زبان ایسی ریاستوں کے مابین مراسلت کے لیے سرکاری زبان ہوگی تو وہ زبان ایسی مراسلت کے لیے استعمال ہو سکے گی۔

اس زبان کے متعلق خصوصی توضیع جسے ریاست کی آبادی کا ایک حصہ بولتا ہو
347۔
اس بارے میں مطالبہ کیے جانے پر صدر، اگر وہ مطمئن ہو کہ کسی ریاست کی آبادی سے قابل لحاظ تناسب کی خواہش ہے کہ وہ ریاست کی کسی زبان کے استعمال کو جس کو وہ بولتے ہیں، تسلیم کرے تو ہدایت کر سکے گا کہ ایسی زبان بھی اس ریاست بھر میں یا اس کے کسی حصہ میں اس غرض کے لیے، جس کی وہ صراحت کرے، سرکاری طور پر تسلیم کر لی جائے۔

شکایتوں کے ازالہ کی درخواستوں میں استعمال ہونے والی زبان
350۔
ہر شخص کو کسی شکایت کے ازالہ کے لیے یونین یا کسی ریاست کے عہدہ دار یا حاکم کو ان زبانوں مین سے کسی زبان میں جو یونین یا اس ریاست میں، جیسی کہ صورت ہو، استعمال ہوں، عرض داشت پیش کرنے کا حق ہوگا۔

ابتدائی درجے میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی سہولتیں
350 (الف)۔
ہر ریاست اور اس ریاست کے اندر ہر مقامی حاکم کی کوشش ہوگی کہ لسانی اقلیتی زمروں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کے ابتدائی درجے میں مادری زبان میں تعلیم دینے کی کافی سہولتیں مہیا کرے اور صدر، کسی ریاست کو ایسی ہدایتیں اجرا کر سکے گا جو ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے وہ ضروری یا مناسب سمجھے۔

لسانی اقلیتوں کے لیے خاص عہدیدار
350 (ب)۔ (1)
لسانی اقلیتوں کے لیے ایک خاص عہدہ دار ہوگا جس کا تقرر صدر کرے گا۔
350 (ب)۔ (2)
اس خاص عہدہ دار کا فرض ہوگا کہ اس آئین کے تحت لسانی اقلیتوں کے لیے دئے ہوئے تحفظات کے متعلق سب امور کی تفتیش کرے اور صدر کو ان امور پر ایسے وقفوں سے، جن کی صدر ہدایت دے، رپورٹ کرے اور صدر ایسی ساری رپورٹوں کو پارلیمنٹ کے ہر ایوان میں پیش کروائے گا اور متعلقہ ریاستوں کی حکومتوں کو بھجوائے گا۔


ماخوذ از کتاب:
بھارت کا آئین (یکم جولائی 2013ء تک ترمیم شدہ)
ناشر: قومی کونسل برائے فروٖغ اردو زبان، نئی دہلی۔ (سن اشاعت: 2013)

Constitution of India - Provisions related to interests of linguistic minorities

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں