کوئی پیشہ چھوٹا یا حقیر نہیں ہوتا - مضمون از نقی احمد ندوی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-11-01

کوئی پیشہ چھوٹا یا حقیر نہیں ہوتا - مضمون از نقی احمد ندوی

no-profession-minor-or-insignificant
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ فارغین مدارس مسجدوں کی امامت اور مدارس و مکاتب میں درس و تدریس کا پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امامت اور درس و تدریس بہت نیک پیشہ ہے اور یقینا قابلِ تعظیم ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امامت اور مدارس و مکاتب میں تعلیمی خدمات انجام دینے والوں کی تنخواہ اتنی کم ہوتی ہے کہ ایک متوسط قسم کی زندگی گزارنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
فارغین مدرسہ دوسرے پیشوں کو اختیار کرنے میں ہچکچاتے ہیں، اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر سب سے بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے ذہن و دماغ میں یہ تصور پوری طرح بیٹھ چکا ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کا مقصد صرف دین و مذہب کی خدمت ہے اور کچھ نہیں اور امامت اور درس و تدریس سے بہتر دین کی خدمت کچھ اورہو ہی نہیں سکتی۔ حالانکہ دین و ملت کی خدمت ایک الگ چیز ہے اور ذریعہ معاش ایک الگ چیز، جب ہم انبیاء کرام کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ سارے انبیاء کا کوئی نہ کوئی پیشہ ضرور تھا۔ دین کی دعوت و تبلیغ اور خدمتِ خلق کا وہ معاوضہ نہیں لیا کرتے تھے۔
چناں چہ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ امامت اور درس و تدریس کے علاوہ کوئی اور ذریعہ معاش بہتر نہیں ہوسکتا ہے۔ بلاشبہ آپ مسجد کی امامت کریں مگر آپ کا ذریعہ معاش کچھ اور ہو، آپ مدرسہ میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں مگر آپ کی کمائی کا کوئی اور ذریعہ ہو۔ اس صورت میں خود ائمہ اور مدرسین کی اگر ایک طرف معاشرہ میں عزت اور قدرومنزلت بڑھے گی تو دوسری طرف خود ان کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں وہ دین کی خدمت اور بہتر انداز میں کرسکیں گے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ انبیاء کے ورثاء نے ہی انبیاء کے ذرائع معاش کو ٹھکرادیا، علمائے دین انبیاء کرام کے پیشوں کو اختیار کرنے میں عار تو نہیں محسوس کرتے مگر ان کی اس سنت پر عمل بھی نہیں کرتے۔ اس کی وجہ جو بھی ہو اور چاہے جو توجیہ بھی کرلی جائے مگر سچائی یہی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انبیاء کرام کے سارے پیشے اور پروفیشن عصری تعلیم کے زمرے میں آتے ہیں، دینی تعلیم کے زمرے میں نہیں آتے ۔ چناں چہ دینی علوم میں ایک بھی پیشہ اور شعبہ شامل نہیں، جن کو انبیائے کرام نے اختیار کیا تھا۔ جن پیشوں کو ہم عصری تعلیم اور ٹیکنکل و پروفیشنل کورسز کا نام دیتے ہیں وہی ہمارے انبیائے کرام کے پیشے اور پروفیشن تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کو بھیجا، حضرت آدمؑ کا پیشہ یعنی ذریعۂ معاش کاشتکاری تھا۔ ہر دور میں زراعت کی جو اہمیت رہی ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس دور میں زراعت کی انڈسٹری 2.4 ٹریلین امریکی ڈالر پر مشتمل ہے، جو ایک بلین ذرائع روزگار مہیا کرتی ہے اور کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کاشتکاری اور زراعت کے شعبہ میں دنیا کے بڑے بڑے تاجر اپنا قبضہ جمائے ہوئے ہیں، زراعت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ خود زمین جوتیں اور بیج ڈالیں بلکہ آپ مختلف ذرائع و وسائل کا استعمال کرکے زراعت کے اندر اپنا ذریعہ معاش تلاش کرسکتے ہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام کا پیشہ بڑھئی کا تھا، قرآن پاک کی آیت ہے:
"ہم نے اس پر وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں"

امریکہ میں ایک کارپینٹر کی ماہانہ تنخواہ 2017ء کے سروے کے مطابق تقریباً 3710 ڈالر تھی جو ہندوستانی روپئے میں تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار بنتی ہے۔
جو کام حضرت نوح علیہ السلام کیا کرتے تھے، اگر کوئی آدمی وہی کام امریکہ میں کرتا ہے تو ڈھائی لاکھ مہینہ کمائے گا۔ اور اگر ہندوستان میں دیکھا جائے تو ایک کارپینٹر کی تنخواہ اوسطاً پچیس ہزار ہوتی ہے۔ مگر یہ پیشہ بھی وارثین انبیاء کے نزدیک معیوب مانا جاتا ہے۔ آٹھ دس ہزار کی معمولی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے مجبور ہیں مگر دوسرا کام نہیں کرسکتے۔ شاید آپ کو معلوم ہوگا کہ انجینئرنگ اور خاص طور پر انٹرنل ڈیکوریشن کے کورسیز میں کارپینٹری کا کام سکھایا جاتا ہے جو ہمارے سماج میں کافی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یہ کام بھی ہمارے نبی کا تھا۔
حضرت ادریس علیہ السلام کا پیشہ درزی کا تھا، ظاہر ہے کہ درزی کے لفظ ہیسے حقارت کی بو آتی ہے، مگر یہ پیشہ دنیا میں کتنا مقبول اور نفع بخش ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
(الانبیاء، 80)
"اور ہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی، تاکہ تم کو ایک دْوسرے کی مار سے بچائے، پھر کیا تم شکر گزار ہو؟ "

پیشہ کوئی چھوٹا نہیں ہوتا یہ تو سبھی جانتے ہیں مگر درزی کا کام اپنے سماج میں چھوٹا مانا جاتا ہے حالاں کہ دنیا کا کوئی شعبہ ہو اس میں تنخواہ اور عزت اپنی قابلیت اور صلاحیت کے حساب سے ملتی ہے۔ ایک چھوٹی سی دکان میں کپڑا سینے والا بہت ہی معمولی پیسے کماتا ہے مگر وہی کام جب ایک فیشن ڈیزائنر کرتا ہے تو اس کی اجرت ہزاروں گنا بڑھ جاتی ہے۔ فیشن ڈیزائنگ بھی ٹیلری کے زمرے میں ہی آتا ہے، مگر مسلم سماج میں یہ تصور عام ہے کہ فیشن ڈیزائننگ کرنے والے اور اس شعبہ سے منسلک لوگ بے پردگی اور عریانیت کا مظاہرہ کرتے ہیں لہٰذا یہ شعبہ ہی غلط ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شعبہ ہمارے ایک نبی کا ہے جس کو غیروں نے اپنالیا ہے اور ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ میکنزی گلوبل فیشن انڈکس کے مطابق آج فیشن ڈیزائننگ کی انڈسٹری روز افزوں ترقی کر رہی ہے اور 2.4 ٹریلن ڈالر پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں ایکسپورٹ کمپنی کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا، جن کے اندر مختلف قسم کے کپڑے سلے جاتے ہیں اور انہیں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں اس صنعت پر بھی غیر مسلموں کا قبضہ ہے۔ کیا اس صنعت میں اپنا ذریعہ معاش ڈھونڈنا اور اسی انڈسٹری میں قدم جمانا وارثین انبیاء کے لیے مشکل کام ہے؟ ہرگز نہیں، اس کے لیے صرف ہمیں اپنے تصور اور سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
انیسویں صدی میں اسٹیل مینوفیکچرنگ ایک تیز رفتار ترقی کرنے والی صنعت بن کر ابھری ہے اور انڈسٹری کے اندر ایک انقلاب برپا کردیا ہے، کسی بھی ملک کی صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں لوہے اور اسٹیل کارول اہم ترین تسلیم کیا جاتا ہے، اور اسی صنعت سے منسلک شعبہ میں سب سے پہلے جس ہستی نے کام کیا، وہ حضرت داؤد علیہ السلام تھے، چناں چہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"ہم نے داؤدکو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا"
(سباء، 10)

حضرت داؤد علیہ السلام لوہار تھے یعنی لوہے سے مختلف قسم کاسامان بناتے تھے۔ آج اسی کو میکانیکل انجینئرنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ چناں چہ میکانیکل انجینئرنگ اور ٹیکنیشین چھوٹی بڑی فیکٹریوں میں مختلف قسم کے لوہے اور اسٹیل کا پروڈکٹ بناتے ہیں۔ مگر یہ پیشہ بھی وارثینِ نبوت سے چھوٹ گیا، کوئی ضروری نہیں کہ ہر عالم اور مدرسہ کا ہر فارغ لوہار بن جائے یا اس صنعت میں داخل ہوجائے مگر اس صنعت کو کیوں نہ ایک نبی کی سنت کے طورپر دیکھا جائے اور جن فارغین مدارس کے لیے ممکن ہے اور انہیں اس میں دلچسپی ہے، وہ اس پیشہ اور صنعت سے جڑنے کی کوشش کریں۔

حضرت الیاس علیہ السلام کا پیشہ بنکر تھا، کپڑوں کی مل انڈسٹری آج کل ہندوستان میں صرف غیر مسلموں کے پاس ہے، کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم حضرت الیاس کیس صنعت کو زندہ کریں، اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے، گوٹ فارمنگ کتنا نفع بخش بزنس ہے اس کا مطالعہ کرکے کچھ فارغین مدرسہ حضرت موسیٰؑ کی اس سنت میں اپنا ذریعہ معاش اگر تلاش کریں تو یقینا وہ کامیاب ہوں گے۔ اور ہمارے آخری نبی ﷺ نے تجارت کی، آج بل گیٹس کو کون نہیں جانتا، حضور اقدس ﷺ کی اس سنت پر عمل کرکے اگر امت مسلمہ تجارت کے میدان میں سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھے تو یقیناً ہم بھی سیکڑوں بل گیٹس پیدا کرسکتے ہیں۔

غرض یہ کہ جن پیشوں کو اختیار کرنے میں ہمیں ہچکچاہٹ ہوتی ہے وہ سارے پیشے کسی نہ کسی نبی اور رسول کی سنت ہیں اور وارثین انبیاء کا پہلا حق یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کی دیگر سنتوں کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کی سنتوں کو بھی زندہ کریں اور وہ پیشے اور پروفیشن اختیار کریں جو ہمارے نبیوں نے اختیار کیے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ امامت، درس و تدریس اور ٹیوشن کے علاوہ بھی بہت سارے شعبے موجود ہیں، جن میں فارغین مدارس نام، کام اور عزت کما سکتے ہیں اور وہ سب کے سب انبیائے کرام کی سنتوں میں شامل ہیں، اس لیےاہل مدارس کو یاد رکھنا چاہیے کہ:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

***
Naqi Ahmed Nadwi (Riyadh, Saudi Arabia)
naqinadwi2[@]gmail.com
نقی احمد ندوی

No profession is minor or insignificant, Article by: Naqi Ahmed Nadwi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں