معیارِ اردو - اردو کے محاورات از فصاحت جنگ بہادر جلیل - تعارف کتاب
معیارِ اردو - اردو کے محاورات از فصاحت جنگ بہادر جلیل - تعارف کتاب
"معیارِ اردو" نامی یہ مختصر اور اہم کتاب (اشاعت اول: 1934ء) اردو زبان کے محاورات کا لغت ہے۔ اس اختصار کے متعلق خود مولف نے ابتدائی صفحات میں یوں لکھا ہے:
اردو زبان بہت وسیع ہے۔ سب محاورات کا احاطہ اس کتاب میں کہاں ممکن تھا۔ جو روز مرہ میری زبان پر تھا اور جو خیال کرنے سے ذہن میں آیا اس کو قلم بند کر دیا۔ یہ مختصر تالیف 'ہرچہ بقامت کمتر بقیمت بہتر' کی مصداق ہے۔
قاضی تلمذ حسین (رکن شعبہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن) اس اہم کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
حضرت جلیل ایسے شاعر یگانہ اور ادیب فرزانہ کی کسی تصنیف کے متعلق مجھ ایسے شخص کا قلم اٹھانا ایک ایسی جسارت ہے کہ دنیائے ادب شائد ہی اسے قابل خیال کرے۔ اس پائے کے مستند و مسلم استاد زماں کا اردو کے محاورات کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دینا اردو زبان پر اور اردو زبان کے بولنے والوں پر ایک احسان عظیم ہے۔ یہ مختصر کتاب جن خوبیوں کی جامع ہے اس کا صحیح اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ حضرت مصنف نے اگرچہ اختصار کے خیال سے اسناد حذف فرمائے ہیں مگر درحقیقت اسناد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آپ خود سند ہیں۔ یہ مختصر رسالہ اردو والوں کے لئے شمع ہدایت ہے۔ اس کی روشنی میں ہم بے راہروی سے ہر طرح محفوظ رہ سکتے ہیں اور صحیح طور پر محاورات کا استعمال کر سکتے ہیں۔
اردو زبان و لسانیات میں دلچسپی رکھنے والے باذوق قارئین و محققین کے لیے تعمیرنیوز کی جانب سے اس کتاب کا تعارف پیش خدمت ہے۔
اردو کے کئی لغت شائع ہو چکے ہیں، محاورات ان لغات میں بھی مل سکتے ہیں مگر خاص محاورات کی ایک مختصر کتاب اور گراں بار لغت میں محاورات کے تلاش کرنے میں بڑا فرق ہے۔ لغت میں کوئی شخص محاورہ اسی وقت تلاش کرے گا جب کسی محاورے کی تحقیق کی ضرورت پیش آ جائے۔ برخلاف ازیں یہ کتاب اول سے آخر تک دلچسپی کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے اور اس طرح محاورات پر عبور حاصل ہو جائے گا اور وہ دل نشین ہو جائیں گے۔
دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ اس میں محاورات اپنی مکمل صورت میں درج ہوئے ہیں۔ لغت میں وہ الفاظ کے تحت آتے ہیں، مثلاً:
باسی کڑھی میں ابال آیا
ایک محاورہ ہے۔ اسے لغت میں دیکھنا ہو تو پہلی فکر یہ ہوگی کہ اسے کس لفظ کے تحت دیکھا جائے؟ شاید "باسی" اور "کڑہی" اور "ابال" تین لفظوں کے پورے مباحث و مطالب کو دیکھنا پڑے گا جب محاورے کا پتہ چلے۔ اس کتاب میں اس ورق گردانی و دیدہ ریزی کی ضرورت نہیں، پورا محاورہ مکمل صورت میں اپنی مناسب جگہ پر موجود ملے گا۔
***
نام کتاب: معیارِ اردو (اردو زبان کے محاورات)
تالیف: نواب فصاحت جنگ بہادر جلیل
تعداد صفحات: 176
Meyar E Urdu - Urdu Proverbs
اردو زبان بہت وسیع ہے۔ سب محاورات کا احاطہ اس کتاب میں کہاں ممکن تھا۔ جو روز مرہ میری زبان پر تھا اور جو خیال کرنے سے ذہن میں آیا اس کو قلم بند کر دیا۔ یہ مختصر تالیف 'ہرچہ بقامت کمتر بقیمت بہتر' کی مصداق ہے۔
قاضی تلمذ حسین (رکن شعبہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن) اس اہم کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
حضرت جلیل ایسے شاعر یگانہ اور ادیب فرزانہ کی کسی تصنیف کے متعلق مجھ ایسے شخص کا قلم اٹھانا ایک ایسی جسارت ہے کہ دنیائے ادب شائد ہی اسے قابل خیال کرے۔ اس پائے کے مستند و مسلم استاد زماں کا اردو کے محاورات کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دینا اردو زبان پر اور اردو زبان کے بولنے والوں پر ایک احسان عظیم ہے۔ یہ مختصر کتاب جن خوبیوں کی جامع ہے اس کا صحیح اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے۔ حضرت مصنف نے اگرچہ اختصار کے خیال سے اسناد حذف فرمائے ہیں مگر درحقیقت اسناد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آپ خود سند ہیں۔ یہ مختصر رسالہ اردو والوں کے لئے شمع ہدایت ہے۔ اس کی روشنی میں ہم بے راہروی سے ہر طرح محفوظ رہ سکتے ہیں اور صحیح طور پر محاورات کا استعمال کر سکتے ہیں۔
اردو زبان و لسانیات میں دلچسپی رکھنے والے باذوق قارئین و محققین کے لیے تعمیرنیوز کی جانب سے اس کتاب کا تعارف پیش خدمت ہے۔
قاضی تلمذ حسین اس کتاب کے تعارف میں مزید لکھتے ہیں ۔۔۔مستند و مسلم استاذِ زبان کا اردو کے محاورات کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دینا اردو زبان پر اور اردو زبان کے بولنے والوں پر ایک احسان عظیم ہے۔ یہ مختصر کتاب جن خوبیوں کی جامع ہے ان کا صحیح اندازہ کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ ہی سے ہو سکتا ہے۔ اس کتاب کا خاص نفع ان لوگوں کے لیے ہے جو خود اہل زبان نہیں ہیں۔
اردو کے کئی لغت شائع ہو چکے ہیں، محاورات ان لغات میں بھی مل سکتے ہیں مگر خاص محاورات کی ایک مختصر کتاب اور گراں بار لغت میں محاورات کے تلاش کرنے میں بڑا فرق ہے۔ لغت میں کوئی شخص محاورہ اسی وقت تلاش کرے گا جب کسی محاورے کی تحقیق کی ضرورت پیش آ جائے۔ برخلاف ازیں یہ کتاب اول سے آخر تک دلچسپی کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے اور اس طرح محاورات پر عبور حاصل ہو جائے گا اور وہ دل نشین ہو جائیں گے۔
دوسرا اہم فرق یہ ہے کہ اس میں محاورات اپنی مکمل صورت میں درج ہوئے ہیں۔ لغت میں وہ الفاظ کے تحت آتے ہیں، مثلاً:
باسی کڑھی میں ابال آیا
ایک محاورہ ہے۔ اسے لغت میں دیکھنا ہو تو پہلی فکر یہ ہوگی کہ اسے کس لفظ کے تحت دیکھا جائے؟ شاید "باسی" اور "کڑہی" اور "ابال" تین لفظوں کے پورے مباحث و مطالب کو دیکھنا پڑے گا جب محاورے کا پتہ چلے۔ اس کتاب میں اس ورق گردانی و دیدہ ریزی کی ضرورت نہیں، پورا محاورہ مکمل صورت میں اپنی مناسب جگہ پر موجود ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے
معیار اردو - اردو محاورات کی لغت - فصاحت جنگ جلیل
اس کتاب/رسالہ کا تعارف، اشاعتی کوائف، فہرستِ مضامین اور دیگر معلومات علمی، ادبی اور تحقیقی استفادے کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔
***
نام کتاب: معیارِ اردو (اردو زبان کے محاورات)
تالیف: نواب فصاحت جنگ بہادر جلیل
تعداد صفحات: 176
Meyar E Urdu - Urdu Proverbs
Meyar E Urdu, Urdu Proverbs by Nawab Fasahat Jung Bahadur Jaleel.

گفتگو میں شامل ہوں