معیار اردو - اردو محاورات کی لغت - فصاحت جنگ جلیل - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-12-13

معیار اردو - اردو محاورات کی لغت - فصاحت جنگ جلیل

fasahat-jung-jaleel
"معیار اردو"، تذکیر و تانیث (فصاحت جنگ جلیل کی پہلی نثری تالیف ، 1908) کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے جو 1924ء میں حیدآباد دکن میں شائع ہوئی۔ (172) صفحات پر مشمل ڈیمی سائز کی یہ مختصر اور اہم کتاب زبان اردو کے محاورات کا لغت ہے۔ اس اختصار کے متعلق خود مولف نے ابتدائی صفحات میں یوں لکھا ہے:
اردو زبان بہت وسیع ہے۔ سب محاورات کا احصا اس کتاب میں کہاں ممکن تھا۔ جو روز مرہ میری زبان پر تھا اور جو خیال کرنے سے ذہن میں آیا اس کو قلم بند کر دیا۔۔
یہ مختصر تالیف "ہرچہ بقامت کمتر بقیمت بہتر" کی مصداق ہے۔
(بحوالہ: معیار اردو، ص:12 ، اشاعت:1934)

دیباچہ اس کتاب کا قاضی تلمذ حسین رکن شعبہ تالیف و ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن نے لکھا ہے اور بڑی علمیت و قابلیت کے ساتھ لکھا ہے۔ پیرایہ بیان سلیس اور تفہیمی ہے۔ یہ دیباچہ پڑھنے کی چیز ہے ۔ اتنا تفصیلی اور مکمل ہے کہ اس کو پڑھ کر کتاب کی افادیت اپنی پوری جامعیت و خصوصیات کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے ۔ قاضی صاحب نے معیار اردو کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور جو نکات بیان کئے ہیں وہ کتاب کے بالاستیعاب مطالعہ میں بہت ممد و معاون ہوتے ہیں:
حضرت جلیل ایسے شاعر یگانہ اور ادیب فرزانہ کی کسی تصنیف کے متعلق مجھ ایسے شخص کا قلم اٹھانا ایک ایسی جسارت ہے کہ دنیائے ادب شائد ہی اسے قابل خیال کرے ۔۔۔ اس پائے کے مستند و مسلم استاد زماں کا اردو کے محاورات کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دینا اردو زبان پر اور اردو زبان کے بولنے والوں پر ایک احسان عظیم ہے ۔ یہ مختصر کتاب جن خوبیوں کی جامع ہے اس کا صحیح اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ حضرت مصنف نے اگرچہ اختصار کے خیال سے اسناد حذف فرمائے ہیں مگر درحقیقت اسناد کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ آپ خود سند ہیں۔
یہ مختصر رسالہ اردو والوں کے لئے شمع ہدایت ہے ۔ اس کی روشنی میں ہم بے راہروی سے ہر طرح محفوظ رہ سکتے ہیں اور صحیح طور پر محاورات کا استعمال کرسکتے ہیں۔
(بحوالہ: قاضی تلمذ حسین، دیباچہ معیار اردو، ص:1 ، اشاعت:1934)

اس تحریر کی آئندہ سطروں میں دیباچہ نگار نے کتاب کی خوبیوں کا فنی تجربہ کیا ہے ۔ اس کی روشنی میں حسب ذیل خصوصیات قابل ذکر قرار پاتے ہیں۔


اگرچہ محاورات کی ترتیب لغات کے اصول پر رکھی گئی ہے لیکن کہیں کہیں اس سے ارادتاً انحراف بھی کیا گیا ہے ۔ یہ انحراف زیادہ تر اس ضرورت سے ہوا ہے کہ بعض محاورات جو ہم معانی ہوتے ہیں یا ادنی تغیر سے استعمال ہوتے ہیں ان کو الفاظ مابعد کی ترتیب تہجی کا لحاظ کئے بغیر ایک ساتھ لکھدیا گیا ہے اور بریکٹ کی علامت بنا دی گئی ہے۔ مثلاً
بددماغ ہیں۔ بد مزاج ہیں : مغرور ہیں
بات پلے باندھنا۔ بات گرہ میں باندھنا : یاد رکھنا۔
خدا سے مل گئے۔ خدا کے پاس گئے ۔ خدا کے گھر گئے : مر گئے۔
باتیں بگھارتے ہیں۔ باتیں بناتے ہیں۔ باتیں چھانٹتے ہیں : چرب زبانی کرتے ہیں۔


ایک نازک مرحلہ محاورہ اور مثل میں امتیاز کرنا ہوتا ہے ۔ اس تفریق کے لئے بہت بڑی اجتہاد کی ضرورت ہے اور یہ ایسے شخص سے ممکن ہے جس کا اجتہاد بہمہ وجوہ مسلم و مستند سمجھا جائے ۔


محاورات تصریف کے متحمل نہیں ہوتے ۔ اگر تصریف ہوتی بھی ہے تو بہت شاذ۔ لیکن اس ذرا سی تصریف میں معنی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً
بیل منڈھے چڑھنا = کام پورا ہونا
بیل منڈھے چڑھے = اولاد بڑھے
کروٹ لینا = پہلو بدلنا
کروٹ بھی نہ لی = توجہ نہ کی، پروا نہ کی
فاتحہ پڑھنا = ایصال ثواب کرنا
فاتحہ پڑھو = چھوڑو۔ ہاتھ اٹھاؤ
قدم بقدم چلتے ہیں = پیروی کرتے ہیں
قدم بہ قدم ہیں = مساوی ہیں

3 (الف)۔
جہاں کوئی محاورہ تھوڑی تبدیلی کے ساتھ دو طرح استعمال ہوتا ہے وہاں زیادہ مستعملہ رائج محاورے کو اصل قرار دے کر دوسرے کا ذکر تشریح میں کر دیا ہے ۔مثلاً:
الٹی چھری سے حلال کرتے ہیں = سخت بے دردی کرتے ہیں۔ کند چھری بھی کہتے ہیں۔
پانی پی پی کے کوسنا = ہر وقت کوسنا، پانی پی پی کے دعا دینا بھی کہتے ہیں۔
ڈھول کے اندر پول = ظاہر بہت کچھ باطن ہیچ۔ پول کی جگہ خول بھی بولتے ہیں۔
ایک بات ہزار منہ = ہر شخص چرچا کرتا ہے۔ ایک منھ ہزار باتیں بھی کہتے ہیں۔


بسا اوقات ایک لفظ کے تغیر سے، جو بظاہر قریب المعنی ہوتا ہے محاورہ کا مفہوم کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے ۔ بظاہر سیدھے سادھے الفاظ ہوتے ہیں مگر محاوروں کا صحت کے ساتھ سمجھنا اور سمجھانا بجائے خود ایک دشوار کام ہے ۔ مگر دیکھئے جلیل کس سلاست روی کے ساتھ ان مرحلوں سے گزر جاتے ہیں ، ان کا ذہن کس طرح مفہوم تک پہنچتا ہے ۔ مثلاً
باگ اٹھادی = گھوڑے کو تیز کر دیا
باگ چھوڑ دی = آزادی دیدی
باگ موڑ دی = بیان کا رخ بدل دیا


محاورات اگرچہ الفاظ منفردہ ہیں مگر مفہوم کے اعتبار سے ان کا حال بھی تقریباً الفاظ منفردہ ہی جیسا ہے ۔ محاورات کے مفہوم کی تہہ تک پہنچنے اور اس کی تشریح کے لئے بالعموم بہت زیادہ الفاظ درکار ہوتے ہیں، لیکن۔۔ جلیل کا کمال ہے کہ تشریح میں ایسے مختصر اور جامع الفاظ استعمال کئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ تشریحی الفاظ میں ندرت یہ رکھی ہے کہ وہ خود محاورے کے اجزاء معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً
آنکھیں سینکتے ہیں = نظارہ کرتے ہیں۔
گنبد کی آواز = جو کہو گے وہی سنو گے
خشکہ کھاؤ = چل دو
دال نہیں گلتی = بس نہیں چلتا
زمین پر پاؤں نہیں رکھتے = بہت مغرور ہیں۔
کس کھیت کی مولی ہو = کیا حقیقت


جہاں جن محاورات کی مزید تشریح کی ضرورت تھی وہاں محل استعمال ایسا بتایا ہے کہ مفہوم خود بخود واضح ہو گیا ہے ۔ مثلاً
قارورہ ملا ہوا ہے = بد لوگوں کی نسبت کہتے ہیں۔
حلق میں کانٹے پڑ گئے = سخت تشنگی کی جگہ کہتے ہیں۔
بھر مار کر دی = کثرت کی جگہ کہتے ہیں۔
چمڑی جائے دمڑی نہ جائے = بخیل کی نسبت بولتے ہیں۔


اس کتاب "معیار اردو" میں وہ محاورے بھی شامل ہیں جن میں عورتوں اور مردوں کے درمیان امتیاز ہے یعنی ایسے محاورے جو عورتوں کی زبان پر ہیں اور انہیں کے لئے مخصوص ہیں۔ یا عورتوں کے ایسے محاورے جنہیں مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں یا ایسے محاورے جن میں مردوں اور عورتوں کے استعمال میں قدرے فرق ہے۔ ایسے تمام محاورات کے ساتھ جلیل کی نپی تلی وضاحت بڑا لطف پیدا کر دیتی ہے۔ مثلاً
جلاپا ہے = رشک ہے۔ بیشتر عورتیں بولتی ہیں۔
آنکھیں پھوٹیں = ایک طرح کی قسم ہے۔ زیادہ عورتیں بولتی ہیں۔
ارواح نہیں بھرتی = نیت نہیں بھرتی۔ عورتوں کی زبان
کانا پھوسی = کان میں باتیں۔ عورتیں کاناباتی بھی کہتی ہیں۔


ایسے محاورات جن کے معنی و مفہوم اور استعمال میں دلی و لکھنؤ کا اختلاف ہے، ان کی وضاحت بھی اس لغت کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ مثلاً
بکھرنا = منتشر ہونا۔ دہلی میں مچلنے کے معنی میں بھی مستعمل ہے ۔
بوڑھی عید = تیس کے چاند کی عید ۔ دہلی میں کہتے ہیں۔

مختصر یہ کہ اردو کے کئی لغت یوں تو شائع ہو چکے ہیں ان میں بھی محاورات کا احاطہ کیا گیا ہے لیکن تحقیق کے سلسلے میں محاورات کی تلاش میں بڑی دقت ہوتی ہے اس لئے ضرورت ایسی کتاب کی تھی کہ محاوروں تک آسانی سے رسائی ممکن ہو۔ یہ کتاب اسی ضرورت کے تحت لکھی گئی ہے۔ اردو میں کوئی دوسری کتاب شاید ہی ایسی ہو جس سے اس سہولت، اس صحت اور اس قدر کم وقت میں غرض پوری ہو سکے ۔

ماخوذ:
امام الفن فصاحت جنگ جلیل مانکپوری (جانشین امیر مینائی) - حیات شخصیت فن
تالیف: ڈاکٹر علی احمد جلیلی (سن اشاعت: 1993)

Maeyaar-e-Urdu, a book by Fasahat Jung Jaleel on Urdu proverbs. Article by: Ali Ahmad Jaleeli

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں