ناول کالی دنیا - سراج انور - قسط: 06 - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-07-14

ناول کالی دنیا - سراج انور - قسط: 06


kali-dunya-siraj-anwar-ep06

پچھلی قسط کا خلاصہ :
فیروز اور اس کی ٹیم جب جان اور جیک کے پاس پہنچی تو وہ بھی جکاریوں کے چنگل میں پھنس گئے۔ پھر جان نے اپنی طویل کہانی سنائی کہ کس طرح سیارہ زہرہ کے سائنسی شعبہ کا سربراہ شاگو، جان سے ملنے اس کے گھر آیا تھا اور سوبیا دھات کی اہمیت بتائی اور کہا کہ ان کے سیارے کے ایک بدمعاش سائنسداں 'جی گا' نے ہماری دنیا میں موجود سوبیا کے ذخیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔ شاگو کی درخواست تھی کہ جان اپنے ساتھیوں کے ساتھ "جی گا" اور اس کی ٹیم کو تباہ کرے۔ اور یوں جان اور جیک 'جی گا' کی تلاش میں نکلے اور اس جزیرے میں آ کر 'جی گا' کے قبضے میں پھنس گئے۔ اس دوران جکاریوں نے جیک کی قربانی دینے کے لیے جیک کے ہاتھ باندھ کر قربان گاہ کے چبوترے پر پہنچا دیا۔
۔۔۔ اب آپ آگے پڑھیے۔

جیک کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ باربار سینے پر صلیب کا نشان بنا رہا تھا۔ نجمہ بلند آواز سے اللہ سے دعا مانگ رہی تھی اور ہم لوگ گردن نیچی کئے کھڑے تھے۔ جیک کو لے جاکر جکاریوں نے چبوترے پر کھڑا کر دیا اور پھر اسے اشارے سے بتایا کہ وہ گھٹنوں کے بل جھک جائے تاکہ جلاد آسانی سے اس کا سر اڑا سکے۔ جیک نے سمجھ لیا تھا کہ بس اب اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اس لئے وہ غریب مجبوراً گھٹنوں پر جھک گیا۔ خوف کے مارے میرے دانت بھنچے ہوئے تھے۔ ہاتھوں کی مٹھیاں کسی ہوئی تھیں۔ اپنی آنکھوں میں نے بھینچ کر بند کررکھی تھیں تاکہ قتل ہوتے وقت جیک کی صورت نہ دیکھ سکوں۔
وہی ہیبت ناک تیز سیٹی پھر سنائی دی اور اختر و نجمہ مجھ سے لپٹ گئے۔ گھنٹہ جلدی جلدی بجنے لگا۔ میرے کان جیک کی بھیانک چیخ سننے کے لئے تیار ہو گئے۔
ایک سیکنڈ گزرا۔۔۔!
دوسرا سیکنڈ گزرا۔۔!!
اور مجھے یقین ہوگیا کہ بس اب جیک کا خدا حافظ!
اچانک ایک بھیانک اور دل دہلا دینے والی چیخ سنائی دی۔ میرا دل لرز گیا۔ میں سمجھ گیا کہ جیک کا سر کٹ کر اب دور گر چکا ہوگا اور اس کی بے سر کی لاش چبوترے پر پڑی تڑپ رہی ہوگی۔ خوف اور دہشت کی وجہ سے میرے دانت آپس میں بجنے لگے۔ آنکھیں کھولتے ہوئے میں ڈرر ہا تھا کہ کس طرح ان آنکھوں سے مردہ جیک کو دیکھوں گا۔ اچانک ویسی ہی چیخ پھر سنائی دی۔
مگر یہ چیخ انسانی ہرگز نہ تھی۔ میدان میں شور بڑھنے لگا اور پھر ان چیخوں کی آوازیں ہر طرف سے آنے لگیں۔ اب میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں اور چبوترے کی طرف دیکھا۔۔۔
آپ سب جو میری اس داستان کو پڑھ رہے ہیں شاید میری اس وقت کی حالت کا اندازہ نہیں لگا سکتے ! میرے خدا نے مجھ گناہگار کی التجا قبول کر لی تھی۔ جیک زندہ سلامت چبوترے پر کھڑا حیرت سے زمین پر ایک کے بعد ایک گرتے ہوئے جکاریوں کو دیکھ رہا تھا۔

ہم سب تعجب سے آنکھیں پھاڑے چاروں طرف دیکھ رہے تھے اور ہماری سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ جکاریوں میں سے کوئی نہ کوئی یکایک زور کی ایک بھیانک چیخ مارتا۔۔۔ اور پھر دل پکڑ کر زمین پر گر جاتا۔ زوکوں کی حالت بھی خراب تھی۔ وہ اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے یوں جھوم رہے تھے جیسے انہوں نے افیون کھا لی ہو۔ ان میں سے ایک دو نے قدم بڑھانے کی کوشش بھی کی مگر لڑکھڑا کر رہ گئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی غیبی طاقت ہماری مدد کو آ گئی ہو۔
جکاریوں میں افراتفری مچی ہوئی تھی۔ گھنٹہ بجنا اب بند ہو گیا تھا۔ کیوںکہ گھنٹے کو بجانے والے جکاری بھی گھنٹے کے نیچے مونہہ کے بل گرے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا گویا کوئی قیامت آ گئی ہو۔ ان کی بھیانک چیخوں سے آسمان گونج رہا تھا۔ ہم لوگ بڑی پریشانی کے ساتھ ہر سمت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے جکاریوں کو مارنے والے اگر کچھ انسان ہیں تو وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں؟
جیک نے جب یہ حالت دیکھی تو دوڑ کر وہ ہمارے پاس آ گیا اور گھبرا کر کہنے لگا:
"سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا ہوا۔ مگر آپ وقت کیوں ضائع کر رہے ہیں۔، جلدی سے سمندر کی طرف بھاگیے۔"

اس کا یہ کہنا تھا کہ ہم اندھا دھند ایک طرف بھاگ کھڑے ہوئے مگر اس کو اب آپ ہماری بد قسمتی کہہ لیجئے کہ ہم اندھیرے میں راستہ نہ دیکھ سکے اور گھوم پھر کر پھر وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے۔ بس فرق اتنا تھا کہ یہ جگہ کالے چبوترے سے کچھ فاصلے پر ضرور تھی اور سب سے حیرت کی بات یہ تھی کہ چار جکاری اس جگہ بالکل ٹھیک حالت میں کھڑے ہوئے تھے یہ بات میرے لئے بڑی عجیب تھی کہ وہاں تو کالے چبوترے کے پاس کھڑے ہوئے جکاری خود بخود زمین پر ڈھیر ہوئے جا رہے تھے اور یہاں صرف بیس گز دوری پر یہ چار جکاری ہمیں زندہ حالت میں نظر آ رہے تھے۔
ہمیں دیکھتے ہی وہ مسکرائے۔ وہی خوفناک اور بھیانک مسکراہٹ! اور اس کے بعد آہستہ آہستہ ہمارے قریب آنے لگے۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ اس وقت مجھے خود پر کتنا غصہ آیا تھا۔۔ ہمیں چاہئے تھا کہ کالے چبوترے سے بھاگنے کی سمت ہم پہلے ہی دیکھ لیتے۔ ہماری اس بے وقوفی نے ہمیں پھر دشمنوں کے چنگل میں لاکے پھنسا دیا تھا۔۔!
جکاری بہت آہستہ آہستہ ہماری طرف رہے تھے۔ ان کی چال دیکھ کر اچانک جان نے کہا۔
"میں اب سمجھ گیا۔ ضرور یہی بات ہے۔ کوئی انسان اس جزیرے میں پہنچ گیا ہے اور اس کے پاس سوبیا کا ڈبہ ہے۔ سوبیا کے بغیر یہ خوفناک قوم کبھی نہیں مر سکتی تھی۔ چونکہ یہ جگہ وہاں سے دور ہے جہاں ہم پہلے کھڑے تھے، اس لئے سوبیا کی کرنیں یہاں تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔۔۔ فیروز کوشش کرو کہ تم بھی بچوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے رہو۔ اس طرح ہم کالے چبوترے تک پہنچ جائیں گے اور سوبیا کی قاتل کرنیں وہاں ان جکاریوں کو ضرور مار ڈالیں گی۔"

میں نے جان کی اس بات پر عمل کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔ میں پیچھے ہٹتا جارہا تھا اور سوچتا جارہا تھا کہ بھلا اس گم نام اور بھیانک جزیرے پر کوئی انسان کس طرح پہنچ سکتا ہے؟
او ر اگر پہنچ بھی گیا ہے تو پھر وہ انسان ہے کون؟ اسے سوبیا کا علم کس طرح ہوا کہ وہ ساحل کے پاس پانی میں ڈوبی ہوئی ہے!
یہ علم اگر ہو بھی گیا تو آخر وہ ہمیں بچانے کیوں آیا؟ یہ خیال آتے ہی مجھے فوراً یہ بات بھی یاد آئی کہ ہوسکتا ہے وہ انسان ہمیں بچانا نہیں چاہتا ہو، بلکہ لا علمی میں وہ ہمارا مددگار بن گیا ہو۔ سوبیا کا ڈبہ جب اس کے پاس ہے تو اسے کیا معلوم کہ اس دھات کی کیا کرامت ہے۔ وہ تو اتفاق سے سوبیا کی زہریلی کرنوں نے جکاریوں کا خاتمہ کر دیا اور اس طرح سے ہم بچ گئے۔۔۔
یہی باتیں سوچتا ہوا میں پیچھے ہٹتا رہا۔ ہم سب کی نگاہیں جکاریوں کی طرف لگی ہوئی تھیں اور انہیں دیکھتے ہوئے ہم آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے جا رہے تھے۔ اور پھر یہ دیکھنے کے لئے کہ اب کالا چبوترا کتنی دور رہ گیا ہے۔ میں نے پیچھے نظر ڈالی تو خوف کی ایک چیخ میرے مونہہ سے پھر نکل گئی۔ میرے بعد ہی اور سب نے بھی ایسی ہی چیخیں ماریں۔ وجہ یہ تھی کہ اب ہمارے پیچھے سے بھی تین زوک آہستہ آہستہ ہمیں پکڑنے کے لئے ہمارے طرف آ رہے تھے۔ یہ حالت دیکھ کر اب میں سمجھ گیا کہ اس وقت تو ہم اتفاق سے بچ گئے تھے۔ مگر اب شاید مشکل ہی سے بچیں!

زوک اور جکاری آہستہ آہستہ ہمارے قریب آتے جارہے تھے۔ موت اپنا بھیانک مونہہ کھولے ہماری طرف بڑھتی آ رہی تھی اور ہم لوگ بالکل بےبس تھے۔ میں یہ اچھی طرح جان چکا تھا کہ جوں ہی جکاری اپنے خوفناک اور دو انگلیوں والے ہاتھ ہماری طرف بڑھا کر ہمارے جسم کو چھوئیں گے تو بجلی کا وہی زور دار جھٹکا مجھے پھر محسوس ہوگا، جو بہت پہلے روحانی گھنٹہ کے نیچے مجھے ایک بار لگا تھا۔ نجمہ، اختر بیری کی طرح لرز رہے تھے۔ بلونت کا چہرہ غصے کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا اور جیک بے بسی سے اپنے ہونٹ کاٹ رہا تھا۔ وقت بہت کم تھا۔ ہمیں جو بھی کرنا تھا فوراً کرنا تھا مگر سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ کیا کریں۔۔ اچانک جان نے جلدی سے مجھ سے کہا:
"فیروز۔۔۔ کیا تمہارے پاس کاغذ قلم ہے؟"
"جی ہاں موجود ہے۔ آپ کی ڈائری اور اس میں لگی ہوئی چھوٹی سی پنسل ابھی تک میر ے پاس ہے۔"
"بس تو اندھیرے میں اہم ایک تیر چلاتے ہیں۔ خدا سے دعا کرو کہ وہ ہمیں کامیاب کرے۔ لاؤ ڈائری مجھے دو۔ جلدی! جکاری کچھ ہی دیر میں ہمارے پاس آ جائیں گے۔ وہ تو کبھی کے آجاتے مگر سوبیا کی کرنوں کا تھوڑا بہت اثر ان پر ضرور پڑ رہا ہے اس لئے وہ لڑکھڑاتے ہوئے چل رہے ہیں۔"
میں نے فوراً ڈائری جان کو دے دی۔ جان نے جلدی جلدی اس کے ایک صفحے پر کچھ لکھا اور پھر وہ صفحہ پھاڑ کر اختر کو دیتے ہوئے کہا۔
"اختر بیٹے، یہ پرچہ بندر کے گلے میں رسی سے باندھ دو اور پھر اسے جنگل کی طرف چھوڑ دو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم نے بندر کو سدھا لیا ہے اور تم اس سے بہت سی چیزیں منگوا لیا کرتے ہو!"
"ہاں پاپا۔۔۔ میں نے بندر کو سدھا لیا ہے۔۔"اختر نے جواب دیا۔
"بس لو پھر جلدی سے یہ کام کرو۔۔"

جان کی مرضی کے موافق اختر نے بندر کے گلے میں پرچہ باندھ دیا اور پھر اس کے کان میں کچھ بولی بولی، ہاتھوں سے اشارے کئے۔ اس کے بعد اس نے بندر کو جنگل کی طرف چھوڑ دیا۔ بندر جب چھلانگیں لگاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا تو میں نے جان سے پوچھا۔
"آخر اس کا مطلب کیا ہے۔ آپ نے پرچے پر کیا لکھا ہے؟"
جان نے پلٹ کر جکاریوں کی طرف دیکھا۔ جکاری اب ہم سے دس پندرہ گز دور تھے۔ ان کی چال بہت سست ہو گئی تھی۔ مگر اس کے باوجود بھی وہ بھد بھد کرتے ہوئے بڑھے چلے آ رہے تھے۔ جان نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں نے پرچہ اس شخص کے نام لکھا ہے جو اس وقت سوبیا کا ڈبہ ہاتھ میں لئے جنگل میں کھڑا اس خوفناک جگہ کو چھپ کر دیکھ رہا ہے۔ میں نے اس سے التجا کی ہے کہ سوبیا کا ڈبہ بندر کو دے دے تاکہ بندر یہ ڈبہ لے کر ہمارے پاس واپس آ جائے۔ اس کے بعد میں نے وعدہ کیا ہے کہ اس کا ڈبہ اسے واپس کر دوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس صورت میں کامیابی کی بہت کم امید ہے۔ مگر جب جان پر بنی ہو تو ایسی حماقتیں انسان سے ہو ہی جاتی ہیں۔ اور پھر کون جانے کہ یہ حماقتیں بعض دفعہ بھلائی کی راہ دکھادیں! مرنا تو ہے ہی، مگر میں ذرا کوشش کرکے مرنا چاہتا ہوں۔"
"جکاری قریب آ رہے ہیں جان صاحب۔" بلونت نے گھبرا کر کہا:
"بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچئے۔"
"طریقہ کوئی نہیں ہے ، بس صرف خدا پر بھروسہ رکھو۔ اسے اگر ہمیں زندہ رکھنا منظور ہے تو ہم ہرگز نہیں مر سکتے۔ ہمارے بھاگنے کی راہیں سب طرف سے بند ہیں۔ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔"
جان نے جواب دیا۔

ہمارا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اختر اور نجمہ تھر تھر کانپ رہے تھے ، کبھی ہم سامنے سے آتے ہوئے جکاریوں کو دیکھتے اور کبھی پیچھے سے آتے ہوئے خونخوار زوکوں کو۔۔۔ جو ہر لمحہ میں قریب سے قریب آتے جا رہے تھے۔ کچھ ہی دیر کے بعد یہ فاصلہ صر ف دو گز رہ گیا۔
جکاریوں کے بھیانک جبڑے کھلے ہوئے تھے۔ ان کے لمبے لمبے دانتوں سے رال ٹپک رہی تھی۔ ان کے چہروں کی ایک ایک آنکھ میں خون اترا ہوا تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ بس اب یہ آخری وقت ہے۔ خدا کو یہی منظور ہے کہ میں اپنے بچوں اور ساتھیوں کے ساتھ ایک گم نام جزیرے میں چند بہت ہی خوفناک اور طاقتور جانور نما انسانوں کے ہاتھوں سے مارا جاؤں۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں خدا کو یاد کیا اور پھر اختر اور نجمہ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ جکاریوں نے ہمیں بے بس اور قریب پاکر بڑی بھیانک چیخیں ماریں اور ہماری طرف جھپٹے۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر پھر وہی ہوا جو اب سے کچھ دیر پہلے ہو چکا تھا۔ اللہ کو ہماری حالت پر رحم آ گیا تھا شاید۔ اس نے ہمارے دلوں سے نکلی ہوئی خاموش دعائیں سن لی تھیں۔ ہمیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی جکاری بڑی ہیبت ناک آوازیں نکالتے ہوئے زمین پر گر پڑے۔ ان کے گرنے کے کچھ ہی دیر بعد گھاس پر کسی کے بھاگنے کی آواز قریب آنے لگی اور پھر اندھیرے میں سے کوئی چیز زمین سے اچھل کر اختر کے کندھے پر بیٹھ گئی۔اختر نے گھبرا کر چیخ ماری، مگر پھر فوراً ہی مطمئن ہو گیا۔ یہ اختر کا بندر تھا اور اس کے گلے میں اس وقت ایک چھوٹا سا ڈبہ لٹک رہا تھا۔
"خدا کا شکر ہے۔"
جان نے کہنا شروع کیا:
"میری تدبیر آخر کام دے ہی گئی۔ اور یہ سب کچھ اختر کے بندر کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر اس سفر میں یہ بندر نہیں ہوتا تو آج ہم سب ضرور مر گئے ہوتے۔"
اتنا کہہ کر جان نے بندر کے سر پر محبت کا ہاتھ پھیرا اور جواب میں بندر نے اسے دانت دکھائے۔ جان نے پھر اس کے گلے میں سے ڈبہ نکالا اور اسے دیکھ کر کہنے لگا۔
"بالکل وہی۔۔ وہی ہے ، دیکھو جیک یہ وہی ڈبہ ہے نا۔۔ مگر یہ ڈبہ کس شخص کے پاس تھا؟ اس نے آخر بندر کو بغیر سوچے سمجھے یہ ڈبہ کیوں دے دیا؟ ہمیں اس مہربان انسان کو تلاش کرنا چاہئے۔ وہ ہمارے لئے رحمت کا فرشتہ بن کر آیا ہے۔ آؤ فیروز ہم اسے ڈھونڈیں"۔

جان کا اشارہ پاکر جیسے ہی میں نے آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھایا جیک نے جلدی سے بڑھ کر میرا بازو دبایا اور ساتھ ہی آہستہ سے مجھ سے کہا کہ میں سامنے میدان کی طرف دیکھوں۔۔ میرے ساتھ ہی سب لوگ بھی میدان کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے۔ چاند ابھر چکا تھا اور اس کی پھیکی پھیکی روشنی میں میں نے دیکھا کہ دو آدمی بھاگتے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں۔ ان کے بھاگنے کے انداز سے ہی میں سمجھ گیا کہ وہ انسان ہیں۔
احتیاطاً میں نے اپنا پستول نکال لیا اور ان دونوں کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ دونوں قریب آ گئے تو میں نے دیکھا کہ وہ ہمیں دیکھ کر ٹھٹھک گئے۔ چاند ان کے پیچھے تھا اس لئے ان کے چہرے اندھیرے میں تھے۔ البتہ چاند کی روشنی ہمارے چہروں پر پوری طرح پڑ رہی تھی۔جو شخص آگے تھا وہ تو خاموش کھڑا رہا۔ لیکن جو آدمی پیچھے تھا وہ خوشی کا ایک نعرہ لگا کر دوڑا اور پھر میرے قدموں میں آکر گر گیا۔ ساتھ ہی اس نے چلا کر کہا۔
"بھگوان کا شکر ہے کہ آپ مل گئے۔۔ میرے مالک۔۔۔ مجھے پہچانئے میں کوئی غیر نہیں۔۔۔ آپ کا وہی پرانا خادم ہوں۔۔۔ سوامی!!"

آواز بے شک سوامی کی تھی۔ اندھیرے میں اگر چہرہ نہیں تو یہ آواز تو میں ضرور پہچان سکتا تھا۔ میں نے جلدی سے نیچے جھک کر سوامی کو دونوں ہاتھوں سے سہارادے کر اٹھا لیا۔ اسے غور سے دیکھا اور پھر جلدی سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ایسا کرنے سے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ مالک اور نوکر کا فرق اس وقت بالکل مٹ چکا تھا۔ ہم سب برابر تھے اور ایک ہی ناؤ میں سوار ، مصیبتوں کے سمندر میں بہے چلے جارہے تھے۔
سوامی مجھ سے لپٹ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اتنے میں وہ شخص جو بالکل خاموش کھڑا ہمیں دیکھ رہا تھا، آگے بڑھا اور سوامی سے کہنے لگا۔
"یہ وقت ضائع مت کرو، سوامی۔ جن کی تمہیں تلاش تھی وہ تمہیں مل گئے۔ اب تو جلد سے جلد اس خطرناک جگہ سے نکلنے کی کوشش کرو۔ باقی باتیں کسی محفوظ جگہ پر ہوں گی۔"

اس شخص کی بات معقول تھی۔ جکاریوں اور زوکوں کا ڈر ہمیں اس قدر تھا کہ ہم نے وہاں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اور پھر تیزی سے جنگل کی سمت بھاگے۔ سوامی اب اختر اور نجمہ کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا تھا۔ اندھیرے میں تو خیر میں کچھ نہ دیکھ سکا، البتہ مجھے یقین تھا کہ اختر اور نجمہ کے دل سوامی کو پاکر خوشی کی وجہ سے کھل اٹھے ہوں گے۔ کافی دیر تک ہم لوگ اندھا دھند ایک ہی سمت بھاگتے رہے۔ اندھیرا اتنا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ بار بار ہم میں سے کوئی نہ کوئی کسی درخت یا پتھر سے ٹکرا جاتا اور اس کی ہلکی سی سسکاری اس سناٹے میں سنائی دے جاتی۔ میں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا ویسے میرا اندازہ ہے کہ ہم لوگ شاید آدھ گھنٹے تک بغیر دم لئے لگاتار بھاگتے رہے۔ آخر ایک مقام ایسا آگیا جہاں درخت زیادہ گنجان نہ تھے۔ جگہ بے شک کھلی ہوئی تھی مگر محفوظ تھی۔ یہاں آکر ہم لوگ جلدی سے درختوں کے تنوں سے لگ کر بیٹھ گئے۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی کہ کوئی ہمارے تعاقب میں تو نہیں آ رہا؟ جب اطمینان ہوگیاکہ ایسا نہیں ہے تو جان نے کہا۔
"دشمن کو غافل تو سمجھو نہیں۔ ویسے یہ جگہ فی الحال ایسی ہے کہ کوئی ہمیں تلاش نہیں کر سکتا۔ میں آواز لگاتا جاتا ہوں، تم میں سے ہر ایک جواب دیتا جائے تاکہ میں سمجھ لوں کہ کوئی شخص کم تو نہیں ہے۔"
جان نے باری باری ہر ایک کا نام پکارنا شروع کیا۔ سب جواب دیتے گئے۔ مگر آخر میں معلوم ہوا کہ بلونت غائب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ لگ گیا کہ سوامی کے ساتھ آنے والے نوجوان کا نام امجد ہے۔ بلونت کی ہم سب کو فکر تھی کہ آخر وہ کہاں گیا۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک دور سے کسی کے بھاگنے کی آواز قریب آتی سنائی دی۔


Novel "Kaali Dunya" by: Siraj Anwar - episode:6

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں