اردو ادارے اور فروغِ اردو کا منصوبہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-04-07

اردو ادارے اور فروغِ اردو کا منصوبہ

urdu-organizations

اس میں شبہ نہیں ہو سکتا کہ ہر اردو داں اردو سے محبت کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے، اردو زبان کے کچھ غیر معمولی اوصاف جو کسی دیگر ہندوستانی زبان میں نہیں پائے جاتے۔ ان دیگر زبانوں میں ہندی بھی شامل ہے جس کا صوتی کردار سنسکرت کی آمیزش کی وجہ سے نسبتاً اکھڑ سا ہے۔ علاوہ ازیں ہندی میں عربی اور فارسی کی لفظیات نہ کے برابر ہیں، لہذا جو شیرینی اور اور سلاست اردو تحریر و تقریر کا خاصہ ہے، ہندی اس سے تقریباً محروم ہے۔ اردو سے اسی محبت کی وجہ ہے کہ اردو والوں کو ہر لمحہ اپنی زبان کے زوال پذیر ہونے یا قطعاً فوت ہو جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ پچھلے دس بارہ سال میں تو اردو کے مر جانے کے خطرے سے متعلق جتنے مضامین لکھے گئے، اگر کسی علمی یا ادبی موضوع پر لکھے گئے ہوتے تو اردو زبان و ادب کو کافی فروغ ملتا۔
بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ ملک میں اردو کے فروغ کے مقصد سے قائم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی تعداد اتنی ہے کہ گننے بیٹھیں تو دفتر کے دفتر صرف ہوں۔ لیکن ساتھ ساتھ بڑی بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ کسی ادارے کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں جس کے تحت زبان کو واقعتاً فروغ دیا جا سکے۔
اردو کی بقا کے لئے اردو کو روزگار سے جوڑنے کا نعرہ بھی ڈھول پیٹ پیٹ کر لگایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اب اس نعرے نے ایک باضابطہ سیاسی مطالبے کی شکل اختیار کر لی ہے، لیکن میں اپنے دوست شجاع خاور کے شعر میں تصرف کرتے ہوئے کہوں گا؎
بات سب اردو سے روزی کی کیا کرتے ہیں
بولتا کوئی نہیں ہے کہ یہ ہوگا کیسے

آج تک کسی جانب سے ایسا کوئی منصوبہ سامنے نہیں لایا گیا جو اردو کو روزگار سے جوڑنے میں کارگر ثابت ہو سکے۔ جہاں تک اردو اداروں کا تعلق ہے تو پرائیویٹ اردو اداروں کی بات تو جانے ہی دیجیے، کیونکہ ان میں بیشتر اس قسم کی "ذاتی" تنظیمیں ہوتی ہیں جن کا وجود کاغذ تک محدود ہوتا ہے اور جن کا مقصد سرکاری فنڈ حاصل کر کے چھوٹے موٹے پروگرام اور استقبالیے منعقد کرنے تک محدود ہے۔ رہے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے جن کے پاس تھوڑے بہت تعمیری کام کرنے کے وسائل ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں تو ان کی سرگرمیاں بھی ادنی سیمینار، استقبالیہ اور اجرائے کتب تقریبات اور مشاعروں تک محدود رہتی ہیں۔
مشاعرہ تو پھر بھی ایک بہت اہم ادبی سرگرمی ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اردو شاعری جیسی شاعری دنیا کی کسی زبان میں نہیں ہے اور اردو مشاعرے جیسی ادبی تقریب دنیا میں کہیں نہیں پائی جاتی۔ غیر اردو داں حضرات کے لئے بھی مشاعرہ ایک نہایت پرکشش تفریح ہے، جس کے لئے باذوق و بےذوق کشاں کشاں چلے آتے ہیں۔ اردو کی دیکھا دیکھی ہندی نے بھی کوی سمیلن کی بدعت شروع کی، لیکن مولوی مدن تو اردو میں ہی پائے جاتے ہیں۔

اجرائے کتب کا کردار محض اشتہاری ہو گیا ہے۔ اور رہے سیمینار تو اس سے زیادہ تضیعِ اوقات و زر کا دوسرا کوئی وسیلہ شاید ہی ہو۔ ایک تو اردو کا ہر ادیب اور مدرس دنیا کے ہر موضوع پر مقالہ لکھ دیتا ہے۔ موضوعات کا اختصاص اور کسی بھی قسم کے اسپیشلائزیشن کا اردو والوں کے یہاں کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ جس شخص نے سعادت حسن منٹو پر تحقیق کر کے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہو، وہ نہایت اطمینان سے چند منٹوں میں "فلسفہ کلام اقبال" یا "غالب کی شاعری پر کلام بیدل کا اثر" جیسے ادق موضوعات پر مقالہ لکھ کر لے آئے گا۔ اب اس مقالے کی کوالٹی یا افادیت کیا ہوگی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سیمینار ویسے بھی کوئی عوامی چیز نہیں ہے اور اس کا فائدہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کوئی نہایت اہم موضوع منتخب کر کے اس موضوع کے دو تین یا چار ماہرین (اس سے زیادہ تعداد میں کسی موضوع کے ماہرین ہوتے بھی نہیں ہیں) اس موضوع پر اپنی اپنی تحقیق یا خیالات و تاثرات رقم کریں جن پر موازنہ اور بحث کے بعد کوئی نیا علمی نظریہ قائم ہو سکے۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ دئے ہوئے موضوع پر درجن بھر مقالے لکھ اور پڑھ دئے جاتے ہیں اور سیمینار کے اختتام پر مقالہ نگار اپنا اپنا لفافہ سنبھال کر گھر کی راہ لیتے ہیں۔ آج تک نہیں دیکھا گیا کہ کسی سیمینار کے بعد کسی نئے نظریے کی پیدائش یا قائمی کا اعلان کیا گیا ہو۔ سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کی اشاعت بھی بہت کم ہی ہو پاتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ اس کی لغات یعنی vocabulary سے ہوتا ہے۔ جس زبان میں جتنے زیادہ مضامین اور موضوعات کے اظہار کی قوت ہوتی ہے وہ اتنی ہی زیادہ طاقتور اور اہم زبان سمجھی جاتی ہے۔ آٹھویں سے سولہویں صدی کے نصف تک کا زمانہ اسلامی تاریخ کا دور زریں کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب مسلمانوں نے نہ صرف یونانی فلسفہ مغرب تک پہنچایا بلکہ الجبرا سے لے کر کیمیا تک مختلف سائنسی علوم میں خود بھی عظیم الشان کارنامے انجام دئے۔
یورپی زبانوں خصوصاً انگریزی، فراسی اور جرمن نے مختلف عرصوں میں اپنی اپنی زبان کو تمام سائنسی علوم کے لئے وسیع کر لیا۔ اس حد تک کہ اب یورپ کی دو چار ہی زبانیں ٹکنالوجی کے میدانوں میں انگریزی کی دست نگر ہیں۔ لیکن ایک چینی زبان کو چھوڑ کر تمام ایشیائی زبانیں انگریزی کی محتاج ہیں۔ انگریزی پڑھے بغیر آپ پائلٹ تک نہیں بن سکتے۔ عربی زبان کی ترقی بھی سترھویں صدی تک آکر تقریباً رک گئی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ علوم ہیں جن کے موجد عرب خود تھے انگریزی، فرانسیسی اور جرمن کے محتاج ہو گئے۔ اس ضمن میں سب سے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے ایران نے۔ انہوں نے زبان کے فروغ کی اہمیت کو بہت جلد محسوس کر لیا تھا اورتمام علوم جديدہ کے تقاضوں کے مطابق فارسی کی توسیع کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے سائنسدانوں نے فارسی میڈیم کے ذریعے ایٹم بم تک بنا لیا۔ زبان کے فروغ و توسیع کی اس سے بڑی مثال کم از کم اردو کے لئے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اگر 'عالمی کانفرنسوں' جیسی متنازع اور لایعنی سرگرمیوں کو چھوڑ کر تمام سائنسی علوم کے اردو داں ماہرین کو جمع کرے اور سائنس اور ٹکنالوجی کی ہر اصطلاحات کے عام فہم اردو متبادل اختراع کئے جائیں تو بہت جلد بیشتر مضامین اردو میں پڑھے اور پڑھائے جانے لگیں گے۔ اس کے بعد نہ صرف اردو کے ذریعے روزگار کے مواقع از خود پیدا ہوں گے بلکہ زبان کو ہمیشگی مل جائے گی۔

***
بشکریہ: روزنامہ "انقلاب" (دہلی ایڈیشن)۔
بتاریخ: 6/اپریل 2018
اے۔ رحمٰن

Urdu organizations and projects of Urdu promotion. Article: A. Rahman




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں