راجندر کمار - اردو کا شیدائی بالی ووڈ جوبلی کمار - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-02-16

راجندر کمار - اردو کا شیدائی بالی ووڈ جوبلی کمار

rajendra-kumar

راجندر کمار (پیدائش: 20/جولائی 1929 ، سیالکوٹ - م: 12/جولائی 1999 ، ممبئی)
بالی ووڈ فلموں کے ایسے معروف اداکار رہے ہیں، بیسویں صدی کی چھٹی دہائی میں ان کی بیشتر فلموں نے سلور جوبلی منائی، جس کی بنیاد پر فلم بینوں کے درمیان انہوں نے "جوبلی کمار" کا لقب حاصل کیا۔ 1950 سے اپنا فلمی کیریر شروع کرنے والے اس مقبول عام اداکار نے چار دہائیوں کے دوران ڈیڑھ سو کے قریب فلموں میں اپنی اداکاری کی جوہر دکھائے۔ برطانوی ہند کے علاقہ سیالکوٹ (پنجاب) کے ایک پنجابی ہندو خاندان میں پیدا ہونے والے جوبلی کمار نے ممبئی میں بعمر 70 سال زندگی کی آخری سانسیں لیں۔

جو اس دنیا میں آیا ہے وہ ایک دن جائے گا مگر مسافر کے دوست راجندر کمار کا وہ "دن" اتنی جلدی آ جائے گا اس کا سان گمان نہیں تھا۔ مسافر 7/جولائی 1999ء کی شام بریچ کینڈی اسپتال کے کمرہ نمبر 330 میں پہنچا تو وہ اپنے کمرہ میں اسپتال کے بیڈ پر لیٹے اردو کی کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ مسافر کی ان سے گھنٹہ بھر گفتگو رہی۔ سیالکوٹ (پاکستان) میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہنے لگے:
"محرم کے تعزیوں میں میں آگے آگے چلتا تھا اور ماتم کرتے ہوئے سینہ کوبی کرتا تھا۔ گھر والے بھی محرم کا پورا پورا احترام کرتے تھے، شربت کی سبیلیں لگاتے تھے۔"
پھر ملک کے بٹوارے کی بات چل نکلی تو راجندر کمار نے شعر و شاعری کا دور شروع کر دیا۔ راجندر جی اردو کے ایک اچھے شاعر ہیں مگر اپنا کلام صرف اپنے پاس ہی لکھ کر رکھتے رہے۔ انہوں نے بتایا:
"مجھے شعر و شاعری کا شوق شروع سے ہی رہا ہے۔ پہلے وقت ہی نہیں ملتا تھا، اب وقت ہی وقت ہے، اس لیے خوب لکھا ہے اور اب بھی لکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں اسپتال میں بھی ایک نظم "ہاتھ کی لکیریں" لکھی ہے مگر ادھوری رہ گئی۔ اس کا آخری حصہ گھر جا کر لکھوں گا۔"

راجندر جی کافی عرصہ سے بیمار تھے۔ ان کے جسم میں خون نہیں بنتا تھا۔ اس لیے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد انہیں خون دیا جاتا تھا۔ وہ آٹھ نو مہینے امریکہ میں اپنی بیٹی ڈمپل کے پاس بغرض علاج رہے مگر کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا۔ ممبئی میں آخری بار جون 1999 کے آخر میں جب انہیں خون دیا گیا تو ہلکا سا ہارٹ اٹیک ہوا جس کو انہوں نے ہنستے ہنستے جھیل لیا مگر 12/جولائی کی رات 3 بج کر 30 منٹ پر ہونٹوں پر مسکان لیے وہ سب کو روتا چھوڑ گئے۔

راجندر کمار نے لگ بھگ ڈیڑھ سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا تھا۔ ان کے فلمی کیریر کی ابتدا ایک معمولی ایکسٹرا کے طور پر فلم میلہ (دلیپ کمار، نرگس) سے ہوئی، پھر جوگن (دلیپ کمار، نرگس) میں بھی ایکسٹرا ہی تھے مگر اتنی دیر فلمی پردے پر رہے کہ لوگ انہیں پہچان سکے۔ یوں تو انہوں نے "وچن" ، "طوفان اور دیا" میں بھی کام کیا مگر انہیں شہرت "مدر انڈیا" کے ذریعے نصیب ہوئی۔
چراغ کہاں روشنی کہاں، دھول کا پھول، سورج، گونج اٹھی شہنائی، قانون، آس کا پنچھی، سسرال، دل ایک مندر، گہرا داغ، آئی ملن کی بیلا، زندگی، سنگم، آرزو، میرے محبوب جیسی فلموں نے جوبلی فلموں کا دور شروع ہوا تو وہ راجندر کمار کے بجائے "جوبلی کمار" کہلائے جانے لگے۔ بطور فلمساز انہوں نے "لو اسٹوری" ، "نام" ، "جراءت" اور "پھول" فلمیں بنائیں اور ٹی وی سیریلز میں بھی کام کیا۔

کفیل آزر نے ادارہ شمع کو اپنے ایک خط میں لکھا۔۔۔
ریڈیو، ٹی۔وی اور اخبارات میں جوبلی کمار یعنی راجندر کمار جی کی وفات کی المناک خبر سنی اور پڑھی۔ یہ نقصان بھی فلم انڈسٹری بہت دن تک پورا نہ کر سکے گی۔
راجندر کمار صاحب نہایت نفیس، بااخلاق اور دوسروں کا درد محسوس کرنے والے اداکار تھے۔ میں نے جب فلم انڈسٹری میں پہلا قدم رکھا تو سب سے پہلے راجندر کمار صاحب کو دیکھا تھا۔
راجندر کمار اردو کے آدمی تھے۔ ان کی جدوجہد وغیرہ کی کہانیاں تو بہت مشہور ہیں لیکن جب وہ جوبلی کمار ہو گئے تھے تب بھی ان کی سادگی اور اخلاق میں فرق نہیں آیا۔ انہوں نے فلم والوں کو ایک رسم اور سکھائی:
"سورج بہرحال شام کو ڈوبتا ہے، اس لیے پیسے کی قدر کرو، پتہ نہیں مستقبل کیا ہو۔"
تبھی سے کامیاب ہیرو، ہیروئینوں نے اپنا پیسہ بزنس وغیرہ میں لگایا۔ اور آج کی نوجوان نسل تو بہت ہی سمجھدار ہو گئی ہے۔
راجندر صاحب فلم انڈسٹری میں "کمار" کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے۔ وہ بس ایک ناکامی کا احساس لے کر گئے کہ ان کا بیٹا کمار گورو بہت کوششوں کے باوجود اور بہت اچھا ایکٹر ہونے کے باوجود کامیاب ہیرو نہ بن سکا۔
کمار صاحب سے میری جو آخری ملاقات تھی، اس میں انہوں نے کہا تھا:
"میاں کفیل صاحب! جب اداکاری کے بجائے دلیپ صاحب کا جھوٹا کھاتے تھے تو جوبلی کمار تھے اور اب اپنا کھانا آ گیا ہے تو کوئی پوچھتا نہیں۔"
ایسا سچ بہت کم لوگ بول سکتے ہیں۔
راجندر کمار جی کو شعر و شاعری کا بھی ذوق تھا اور شوٹنگ سے جب ذرا فرصت ملتی تھی تو ہم اکثر شعر و شاعری کرتے تھے۔ کمار صاحب کا انڈسٹری والوں پر بڑا احسان یہ ہے کہ انہوں نے مسقبل کو محفوظ کرنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ عملی طور پر راہ بھی دکھائی۔

شمع کے متذکرہ شمارے کے خطوط کالم میں نسیم غازی لکھتے ہیں۔۔۔
1947 میں ایک رفیوجی کی حیثیت سے ہندوستان آنے والے راجندر کمار کو کیا معلوم تھا کہ وہ آزاد ہندوستان کا سب سے خوش قسمت اداکار کہلائے گا۔
یہاں ان کی کامیاب فلموں کا تذکرہ کرنے کے بجائے ان کی نامکمل فلموں اور ان نامکمل خوابوں کا ذکر پیش ہے جن کی تعبیر راجندر کمار کو اپنی زندگی میں نہیں مل سکی۔
مدرانڈیا کے بعد محبوب خاں مرحوم کشمیری شاعری "حبہ خاتون" کی زندگی پر ایک فلم "میرا وطن" بنانے والے تھے جس کے لیے محبوب خان نے راجندر کمار اور سائرہ بانو کا انتخاب کیا تھا، یہ فلم اعلان سے آگے نہ بڑھ سکی۔
پھر محبوب خان مرحوم نے عالمی مارکیٹ کے لیے "تاج محل" بنانے کا اعلان کیا جس کے لیے انہوں نے محبوب اسٹوڈیوز میں ایک بڑا فلور بھی تعمیر کروایا جس پر 70 ایم۔ایم میں "تاج محل" کی شوٹنگ کی جا سکے۔ اس فلم کی کاسٹ میں بھی راجندر کمار شامل تھے مگر یہ فلم مہورت تک پہنچ نہیں پائی۔
"مغل اعظم" کے بعد کے۔ آصف مرحوم نے راجندر کمار اور سائرہ بانو کے ساتھ "سستا خون مہنگا پانی" شروع کی تھی۔ فلم کے ایک دو شیڈول بھی مکمل کیے گئے مگر فلم نامکمل رہی۔
راج کپور نے بحیثیت ہدایت کار اپنے کیریر کا آغاز فلم "آگ" سے کیا تھا مگر "آگ" کے بجائے وہ ڈبلیو ایچ آڈین کی رومانی نظم پر آنند راج آنند کا لکھا ہوا اسکرپٹ "گھروندہ" کے نام سے بنانا چاہتے تھے لیکن ایک نئے پروڈیوسر ڈائرکٹر کے لیے ابتدا میں ایک ملٹی اسٹار فلم بنانا مشکل مرحلہ تھا۔ اس زمانے میں راج کپور نے اس فلم میں دلیپ کمار کو بھی لینے کی کوشش کی، مگر دلیپ کمار ٹال گئے۔ برسوں بعد راج کپور نے یہی اسکرپٹ "سنگم" کے نام سے بنائی۔ اگر "گھروندہ" بنتی تو اس میں راج کپور، نرگس اور دلیپ کمار ہوتے مگر "سنگم" راج کپور، وجینتی مالا اور راجندر کمار کے ساتھ بنی اور اپنے وقت کی مقبول ترین فلم ثابت ہوئی۔
ہر باپ کی طرح راجندر کمار نے اپنے بیٹے کمار گورو کو فلموں میں متعارف کروایا۔ پہلی فلم "لو اسٹوری" بنائی جو بےحد کامیاب رہی۔ اس کے بعد انہوں نے "لورز" بنائی جو ناکام ہو گئی۔ "نام" بھی انہوں نے کمار گورو کے لیے بنائی تھی مگر اس سے کمار گورو کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ سنجے دت کے کیریر کو سہارا مل گیا۔ کمار گورو کی دیگر دو فلمیں "جراءت" اور "پھول" ناکام رہیں۔
راجندر کمار کی زندگی بھی ایک عام آدمی کی طرح سکھ سکھ کے سائے میں بیتی۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کیرکٹر آرٹسٹ کے طور پر کامیاب رہیں، یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ان کے بیٹے کو بھی دوسرے ستاروں کے بیٹوں کی طرح شہرت اور کامیابی ملے مگر ان کا یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ شاعر نے سچ کہا کہ:
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

راجندر کمار کے مقبول ترین بالی ووڈ فلمی نغمے:

***
ماخوذ از رسالہ:
ماہنامہ"شمع" شمارہ: اگست 1999

Rajendra Kumar, Bollywood Actor Director famous for his Urdu Love.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں