کشور ناہید - زمین کی بیٹی کی تصویر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-02-05

کشور ناہید - زمین کی بیٹی کی تصویر

Kishwar Naheed

"خواب پیمبری"
از: فاری شا (لندن)

نام: کشور ناہید
پیدائش: 3/فروری 1940ء (بلند شہر، بھارت)
والد: سید ابن حسن
والدہ: جمیلہ خاتون
تعلیم: بی۔اے(1959ء) ایم ۔ اے ۔ معاشیات(1961ء)
جامعہ پنجاب لاہور
شادی: 1960ء ہمراہ یوسف کامران
بیٹے: معظم کامران، فیصل کامران

تصانیف
1 کلیات: دشت قیس میں لیلیٰ
2 بری عورت کی کتھا( خود نوشت)
3 بری عورت کے خطوط
4 شناسائیاں رسوائیاں( یادداشتیں)
5 ورق ورق آئینہ(کالم)
6 باقی ماندہ خواب(مضامین)
7 لیلیٰ خالد(خود نوشت)
8 زیتون(ناول) "ترجمہ"
9 آجاؤ افریقہ(سفر نامہ)
10 خواتین افسانہ نگار(انتخاب 1930ء تا1990)
11 عورت زبان خلق سے زبان حال تک(مرتب مضامین)
12 عورت خواب اور خاک کے درمیان
13 لب گویا( غزلیں)
14 بے نام مسافت(نظمیں)
15 گلیاں دھوپ دروازے(شاعری)
16 نظمیں(تراجم)
17 فتنہ سامانی دل(شاعری)
18 سیاہ حاشیے میں گلاب( شاعری)
19 خیالی شخص سے مقابلہ( نثری نظمیں)
20 میں پہلے جنم میں رات تھی(شاعری)
21 سوختہ سامانی دل(شاعری)
22 The Scream of an ilegitimate vioce
23 Women myth and realities
24 وحشت اور بارود میں لپٹی شاعری( شاعری)

ادارت:
1 انتخاب برائے مزاحمتی ادب 1977
2 چیف ایڈیٹر برائے فیملی پلاننگ میگزین 1977ء
3 ترجمہ اور رپورٹ برائے انسانی حقوق 1978ء
4 ہمعصر اہل قلم پرکتاب 85،81،1978ء
5 سال کا منتخبہ ادب 1984ء
6 چالیس سال کا منتخبہ پاکستانی ادب 1987ء
7 منتخبہ ادب برائے سارک ممالک 1988ء
8 اداکاری وصدا کاری پر بارہ کتابیں 97۔1994ء
9 اٹھارہ منتخب مصوروں کے تذکرے 97۔1994ء
10 تدوین برائے اساتذہ موسیقی آف پاکستان 97۔1994ء
11 پاکستان کی پچاس سالہ موسیقی کی یکجائی 1997ء
12 انتخاب برائے عالمی خواتین ادب 2003ء

اعزازات:
1 آدم جی ادبی ایوارڈ 97۔1994ء
2 انعام برائے بچوں کا ادب(یونیسکو) 1974ء
3 بہترین ترجمہ نگار ایوارڈ(کولمبیا یونیورسٹی) 1984ء
4 نامزدگی برائے امریکہ سال کی منتخب خاتون 1997ء
5 منڈیلا ایوارڈ(ساؤتھ افریقہ) 1997ء
6 ستارہ امتیاز( حکومت پاکستان) 2000ء
7 نامزدگی برائے نوبیل امن انعام برائے خوتین 2005ء

تحقیق:
1 برکلے یونیورسٹی میں مس انیتا نے کشور ناہید کے شعری اور نسوانی تناظر پر ڈاکٹریٹ کی۔
2 آمنہ یقین نے لندن یونیورسٹی سے کشور ناہید کی شخصیت و فن پر تحقیق کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔
3 کشور کی فیمنسٹ تھیوری پر مقالہ تحریر کرکے مس مہوش نے نیویارک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی۔
4 پاکستان کی بیشتر یونیوسٹیز میں ایم۔ اے کی سطح پر کشور کی شخصیت و فن پر بے شمار مقالے تحریر کئے گئے۔

تراجم:
آمنہ یقین ، انصر رحمان، آصف فرخی ، بیدار بخت، داؤد کمال، ڈیرک کوپن ، فردوس علی، رخسانہ احمد اور مہوش شعیب نے کشور کا کلام اردو سے انگریزی میں منتقل کیا ہے جسے
The Distance of Shout
اور
The Scream of an illegitimate voice
کے نام سے سنگ میل پبلی کیشنز 1990 اور 2008ء میں شائع کیا ہے ۔
محترمہ کشور ناہید نے ان گنت غیر ملکی شعراء کا کلام اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے جس میں پابلونرودا، وزنی سینکی ، کینتھ بچن ، لیویولڈ ، سیدادسینگھور، فروغ فرخ زاد، رابرٹ فراسٹ، جان مشکزئی، چانگ سو کو اور ہیرا کی کے تراجم کے علاوہ نثر میں سیمون ڈی بورا کی کتابSecond Sexکی تخلیص بیبسی سدھوا کے ناول برائڈ کا ترجمہ اور لیلی خالد کی آپ بیتی کا ترجمہ بھی شامل ہے ۔

تجربہ:
ہالینڈ،ویتنام اور بھارت سے خواتین کی دستکاری، کاروبار مہارت پر مختلف کورسز کے علاوہ انتظامی امور،مالی معاملات، نشرواشاعت ، تشہیر، فلم رائٹنگ، کتب ، رسائل، جرائد ، طباعت اور ترسیل کا پچاس سالہ تجربہ ۔

سیاحت:
کشور ناہید پچاس سالہ ادبی جہاد میں کم وبیش اسی ممالک میں علمی ، ادبی کانفرسنز، سیمینار اور ورکشاپس میں شرکت کرچکی ہیں ۔ بیشتر ممالک میں انہیں بطور مقرر خاص یا مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے ۔ ان کانفرنسز ، سیمینار اور ورکشاپس کی روداد کشور ناہید اکثر اپنے اخباری کالم میں بیان کرتی رہی ہیں جسے کشور ناہید عالم گردی کا نام دیاکرتی ہیں۔

خدمات:
کشور ناہید گزشتہ نصف صدی سے قلمی جہاد کے ساتھ اہل قلم کے حقوق اور محروم طبقوں کے ساتھ خواتین کے حقوق کی جنگ ہر محاذ اور فورم پربھرپور طریق سے لڑ رہی ہیں ۔ انہوں نے اب تک گھریلو صنعت ، خود کار گھر یلو کاروبار منصوبہ ، محدود سرمائے سے کاروبار کا آغاز ، دیہی علاقوں کے لوگوں کی تعلیم و تربیت، اشیا کا معیار اور پیداوار، آبادی کے کمزور طبقوں کے لئے ترقیاتی منصوبے ، خواتین کی ترقی میں حائل رکاوٹیں ، لاہور اور پنجاب میں دستکاری سے متعلق کتب اور معلوماتی فلمیں ، قصور کے علاقے میں خواتین اور نوجوانوں کے لئے متبادل پیشوں کا اہتمام ، ایشیا فاؤنڈیشن کے تحت خواتین کے لئے مالی تعاون ، ایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے کوئٹہ ، ڈیرہ اسماعیل خان اور حیدرآباد میں خواتین کی ترقی کے منصوبہ جات، عورت فاؤنڈیشن خواتین کونسلرز کی لاہور، اٹک، سیالکوٹ میں تربیت کا اہتمام ۔ ہنر مند خواتین کی "کرافٹ کوآپریٹو" کے تعاون سے مدد ، ایکشن ایڈ پاکستان کے تعاون سے تھرپارکر،
راجن پور، کوئٹہ میں ذاتی کاروبار کی تربیت،D۔F۔I۔DاورR۔S۔P۔Nکے تعاون سے پس م اندہ علاقوں میں ہنر مند خواتین کی تربیت و رہنمائی وغیرہ۔

موجودہ ذمہ داری:
قومی مشیر برائے:
ILO/UNIDO/TVO/NRSP/PEMRA
چیئر پرسن "ہوا کرافٹ" ، اسلام آباد، لاہور۔

"زمین کی بیٹی کی تصویر"
از: اصغر ندیم سید (لاہور)

زرد اوڑھنی سے سانولی لڑکی کو باہر نکلنے کے لئے اتنی دیر لگتی ہے ۔ جتنا ایک زخم کو ہسپتال سے نکلنے کے لئے یا جتنا ایک قوم کو اپنی تاریخ کے قدموں میں گرتے ہوئے وقت لگتا ہے ۔ یا ایک چیخ کو دبے ہوئے جذبات کے نیچے سے نکلتے ہوئے ۔ یا ایک بیوی کو جنرل اسٹور میں بدلتے ہوئے جتنا عرصہ لگتا ہے ۔ یاتو اور بھی بہت سے ہیں لیکن عورتیں اس آدمی پر بہت شک کرتی ہیں جو عام زندگی میں زیادہ" یا" استعمال کرنے کا عادی ہوتا ہے ۔ لیکن میں جس خاتون کے متعلق بات کررہا ہوں وہ انسان کی اس طرح کی تخصیص کے خلاف ہے کہ اسے عورت اور مرد کے خانوں میں بانٹ کر رکھاجائے ۔ اگرچہ اس کے پرس میں بے شمار لاکرز رکھے ہیں۔ کسی میں نیلا تھوتھا ہے جو کلر بلائنڈ لوگوں کے لئے ہے ۔ کس میں مصری ہے جو اس نے زنان مصر سے چھینی ہے ۔ کسی میں"لاہور نامہ" کا محاورہ ہے ۔ جو محکمہ موسمیات کے تعاون سے پروان چڑھا ہے ۔ کسی میں منو بھائی کے گریبان کے بٹن ہیں(منو بھائی سے کسی کو یہ بھی مل جائے تو غنیمت ہے) کسی میں پیراہن یوسف کے ٹکڑے ہیں۔ کسی میں فیض احمد فیض کی جلا وطنی کی فوٹ سٹیٹ کاپی ہے ۔ کسی میں زاہد ڈار کی دلجھلی اور کتاب ہے۔ جس کے سارے ورق جڑے ہوئے ہیں۔ اور کسی میں زرد اوڑھنی ہے جسے وہ چپکے چپکے نکال کر دیکھ لیتی ہے ۔ اس کی زرد اوڑھنی پر ایک پھول کاڑھا ہوا ہے۔ جو راتوں کو کھلتا ہے ۔ عورت بھی رات کو کھلنے والا پھول ہے جو دن کو درخت بن جاتا ہے جس پر اس کے شوہر کے بچے جھولا جھولتے ہیں۔ بیوی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ شوہر اس کے ساتھ جو ٹھگی کرتا ہے ۔ کم از کم اس کا اقرار نہ کرے جھوٹ بولتا رہے ۔ یہ جھوٹ اس کا سچ ہوتا ہے ۔ اس جھوٹ کے سچ سے بچنے کے لئے اس نے زرد اوڑھنی سے ساڑھی تک کا فاصلہ طے کیا ہے اور عورت سے انسان تک کی منزل عبور کی ہیں۔
بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تلاش میں نکلیں تو اچانک سامنے دیوار آجاتی ہے ۔ جس پر لکھا ہوتا ہے کہ"پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے۔" یا لکھا ہوتا ہے یہاں سے آگے تو وہ شخص خود نہیں جاسکا آپ کدھر جارہے ہیں ۔ بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تلاش میں نکلیں تو راستے ہی راستے چوراہے اور کئی قسم کے موڑ آتے ہیں۔ بس یہاں خود کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کشور ناہید ایسی شخصیتوں میں سے ہیں۔ اگر پروگرام"کسوٹی" کے ذریعے اسے بوجھا جائے تو تین سے زیادہ سوال نہیں بنتے ۔ مثلاً مرد ہے یا عورت ہے۔ زندہ ہے یا مردہ۔ لاہور میں رہتی ہے اور بس۔ اس کے بعد آپ نے شخصیت بوجھ لی ۔ اب اگر آپ چاہیں تو بجھوانے اولے کو بیس سوالوں تک تنگ کرسکتے ہیں ۔ مثلاً یہ پوچھ کر کہ وہ جس کا ڈرائنگ روم تیسری دنیا کا "برگرالیون" ہے یا"سالٹ اینڈ پیپر" ہے یا وہ جس کے تھیٹر کے اداکار اپنے اپنے گھروں میں بھی اداکاری کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن کیا کشور ناہید کو یہاں تک بوجھ لینا کافی ہے۔ کیا وہ تین سوالوں سے بوجھی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں تین ہزار سال بھی اسے بوجھنے کے لئے ناکافی ہیں ۔ اس کے پاس کوئی ماسک نہیں ہے ۔ وہ چھپی ہوئی بھی نہیں ہے ۔ جو چیز ظاہر ہو اسے پانا تو اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے میں دن میں جگنو پکڑنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ آپ کو میری ناکامی پر ہنسنے کا پورا حق حاصل ہے ۔ بعض لوگ اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں۔ کشور کے ساتھ معاملہ الٹ ہے۔ وہ انجمن میں ذات ہے ۔ کوئی انجمن اس کے بغیر نہیں سج سکتی ۔ اگر سج بھی جاتی ہے تو گونگی رہتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تھتھی رہتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر جملے اچھالنے کی خواہش کو مٹھی میں دبائے بیٹھے رہتے ہیں۔
انہیں لب گویا کشور کے آنے کے بعد ملتے ہیں۔
اور پھر سب اپنی اپنی جیبوں سے مسکراہٹ نکال کر پہن لیتے ہیں ۔ اس لئے کہ مسکراہٹ کے علاوہ ان کی جیبوں سے آج تک کچھ نہیں نکلا ۔ ایک تو سفید پوشی کے بہانے سب کا خون سفید کردیا ہے ۔ دوسرا کھلانے پلانے کے معاملے میں یہاں کے ہر ادیب کے تعلقات اپنی بیوی سے مستقل خراب رہتے ہیں۔ بلکہ طلاقوں تک بھی نوبت آجاتی ہے ۔ چونکہ کشور ناہید کی کوئی بیوی نہیں ہے۔ اس لئے کھانے پینے کی جتنی محفلیں اس کے ہاں ہوتی ہیں، انہیں اگر ایک طرف رکھ دیاجائے تو لاہور کی زندہ دلی کا پول کھل جائے ۔ کھلانے کا کام کشور ناہید کے ذمے اور پلانے کا یوسف مرحوم کے ذمے ہوتا تھا ۔ اس لئے میرے تعلقات یوسف سے ہمیشہ اچھے رہتے تھے۔ البتہ کشور سے تعلقات ایک سے رکھنا بڑا جگرے کا کام ہے ۔ یوں سمجھ لیں کشور سے دوستی تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے ۔ خاتون کوئی بھی ہو چمٹا استعمال کرنااس کی جبلت میں شامل ہوتا ہے ۔ چاہے سوئی گیس ہی کیوں نہ آجائے ۔اور چاہے خاتون باورچی خانے سے اٹھ کر دفتر میں کیوں نہ بیٹھ جائے ۔ ایک چمٹا ہر وقت موجود رہتا ہے اور باورچی خانے میں فائلیں ! چمٹا وہ ایسے لوگوں کے لئے استعمال کرتی ہے جو اسے بہن بنانے کے لئے لمبی چوڑی تمہید باندھ کر آتے ہیں۔ یا جن کے لئے شہر کا کوئی ڈرائنگ روک کھلنے پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ یا پھر یہ چمٹا ان لوگوں پر استعمال ہوتا ہے جو اپنے شاعر ہونے کا سرٹیفکیٹ معہ ہر جہ خرچہ لینے کے لئے اس کے پاس آتے ہیں۔ یہ چمٹا ان نقادوں کو بھی اچھی طرح پہچانتا ہے جو یہ پوچھنے کے لئے وہاں آتے ہیں کہ کوئی مضمون وغیرہ تو نہیں لکھوانا۔۔۔۔۔
کشور ناہید جس شعبے میں بھی گئی ۔ وہ شعبہ اس کی وجہ سے مشہور ہوا۔ کیونکہ ادیبوں کا قبلہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اور جو لوگ اپنا قبلہ اس سے الگ کرلیتے ہیں وہ پہلے ہنستے ہیں پھر روتے ہیں ۔ ہنستے اس لئے ہیں کہ اب کشور کی محفل سونی ہوجائے گی اور پھر روتے اس لئے ہیں کہ اکیلا ٹی ہاؤس ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتا۔ سو وہ باقی زندگی یاد اللہ میں بسر کردیتے ہیں۔
کشور کو پہلے ماہنامہ پاک جمہوریت اور "ماہ نو" نکالنے پر مامور کیا گیا۔ جب اس ملک سے پاک جمہوریت پوری طرح نکل گئی اور کا م پورا ہوگیا تو اسے نیشنل سینٹر میں بٹھا دیاگیا ۔ یہاں اس کے ذمہ جمہوریت اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مذاکرے کرانے کا کام سپرد کردیا گیا اور پھر جب ملک میں دوبارہ پاک جمہوریت کو داخل ہونے کی اجازت مل گئی تو کشور ناہید کو پھر پاک جمہوریت اور ماہِ نو کا ایڈیٹر بنادیا گیا ۔ وہ جہاں بھی جاتی ہے اپنا سیکرٹریٹ ساتھ لے کر جاتی ہے ۔ یہ تو خیر دفتر ہے کشور کو اگر فائر بریگیڈ میں بھی لگادیاجائے تو وہ وہاں بھی اپنا سیکرٹریٹ قائم کرے گی ۔ بقول انتظار حسین جہاں پر سب فیصلے ہوتے ہیں۔ کس کو ان کرنا ہے کس کو آؤٹ ۔ ویسے تو اب بھی فائربریگیڈ ہی کاکام کررہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب کہیں آگ نہیں لگتی تو کبھی کبھی یہ کام اسے خود کرنا پڑتا ہے ۔
ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد ادیبوں او ر شاعروں کا ایک طبقہ ایسا پیدا ہوا ہے جس کا کام ہر دور میں گرفتار ہونا اور جیل جانا ہے ۔ اور واپس آکر اس قیام کی صعوبتیں بیان کرنا ہے ۔ جب صعوبتوں کے یہ قصے ختم ہوجاتے ہیں تو وہ دوبارہ جیل چلے جاتے ہیں ۔ عام طور پر ان کے اہل خانہ کے لئے سکھ کا زمانہ وہی ہوتا ہے جب وہ جیل میں ہوتے ہیں کیونکہ اسی زمانے میں ان کے صحن میں ایک ہاتھ کھلتا ہے جسمیں مٹھی بھر آتا۔ دال دلیہ اور دلاسہ ہوتا ہے ۔ یہ ہاتھ چپکے سے اس نظم کا خسارہ پورا کرتا ہے جس کے لفظ زنجیر کی کڑیاں بن جاتے ہیں۔ جیل جانے سے پہلے یہ ادیب اور شاعر کشور کو تلاشی دے کر جاتے ہیں۔ کہ دیکھ لو ہماری جیبوں میں معافی نامہ نہیں ہے ۔اور واپس آکر یقین دلاتے ہیں کہ ان کی رہائی صرف اس لئے عمل میں آئی ہے کہ انہوں نے جیل میں جو کچھ لکھا ہے وہ باہر جاکر سنا آئیں۔ اس لئے جونہی یہ کام مکمل ہوگا ہم واپس چلے جائیں گے ۔ ایک طرف تو کشور سے ان کا یہ تعلق ہے۔ دوسری طرف یہی لوگ کشور کے متعلق یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یار یہ کشور ہماری سمجھ میں نہیں آتی ۔ یہ اندر سے حکومت سے ملی ہوئی ہے اس نے ہمیں جیل بھجوادیا۔ اور خود باہر سے اسے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔ حالانکہ یہ بات بھی انہیں سمجھنی چاہئے کہ اگر کشور بھی ان کے ساتھ جیل چلی جائے تو ان کے بال بچوں کو کون پوچھے گا۔ اس پر ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا ۔ ایک دفعہ مجید امجد مرحوم اور ہمارے ماموں حسن رضا گردیزی جو کہ سرائیکی کے نامور شاعر ہیں مجرا دیکھنے ایک کوٹھے پر چڑھ گئے ۔ ان دنوں حسن رضا گردیزی ساہیوال میں تحصیل دار ہوا کرتے تھے۔ ابھی گانا شروع ہی ہوا تھا کہ پولیس کا چھاپہ پڑ گیا ۔ رضا طبلچی کو دھکا دے کر اس کی ٹوپی پہنی اور طلبہ بجانے لگے۔ مجید امجد جہاں بیٹھے تھے وہیں بیٹھے رہ گئے ۔ پولیس پکڑ کر لے گئی۔ وہ دل ہی دل میں گردیزی صاحب کی بے وفائی اور طوطا چشمی پر کڑھتے ہوئے اور زمانے کی بے بضاعتی پر غور کرتے ہوئے تھانے چلے گئے۔ گردیزی صاحب ان کے جانے کے بعد گھر گئے اور تھانے دار کو فون کیا اور اسے بتایا کہ وہ ایک عظیم شاعر کو حراست میں لے گیا ہے اور اگر اس نے با عزت رہا نہ کیا تو صبح اس کی پیٹی اتر جائے گی۔ چنانچہ مجید امجد اسی وقت گھر واپس آگئے اور آکر گردیزی صاحب سے اس حرکت کا گلہ کیا۔ گردیزی صاحب نے کہا اگر میں ایسا نہ کرتا تو اس وقت ہم دونوں اندر ہوتے ۔ چنانچہ کشور کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ وہ اگر باہر نہ رہے تو اندر والوں کا خیال کون کرے ۔
ویسے کشو ر اندر ہی کسی سے ملی ہوئی ضرور ہے ۔ ورنہ جو منصوبے وہ سوچتی ہے ان پر کبھی عمل نہ کرسکتی ۔ سیمون ڈی بوار نے ایک جگہ لکھا ہے کہ عورت کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ لمبے عرصے کے لئے سوچتی ہے اورPlanکرتی ہے۔ بس یہیں سے اس کے خواب ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں کشور اس بات کی تردید کرتی ہے ۔ وہ ہمیشہ لمبے عرصے کیPlaningکرتی ہے اور اس میں کامیاب بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے اسے پلاننگ کمیشن کا چیئرپرسن ہونا چاہئے ۔ اس کے پاس کام کرنے والوں کی ایک ٹیم ہے جس میں فنانسر بھی ہیں۔ خالی خولی مشورے دینے والے بھی ہیں۔ آرٹسٹ بھی ہیں۔ اداکار بھی ہیں۔کن مٹے بھی ہیں، تھتھے بھی ہیں، سواریاں ڈھونے والے بھی ہیں۔ کرسیا ں لگانے والے بھی ہیں۔ حلیم پکانے والے بھی ہیں ۔ حلیم الطبع بھی ہیں۔ منہ بسورنے والے بھی ہیں۔ گلا پھاڑ کے ہنسنے والے بھی ہیں۔
یہ سب کشور کا گروپ کہلاتا ہے ۔ بلکہ کشور گروپ آف انڈسٹریز ہے ۔ اور اسے کام کرتے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہاتھ سے کتنے کام نمٹا رہی ہے ۔ اس ہاتھ چمچہ۔ قلم، اور ٹیلی فون کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ساڑھی کا پلو بھی سنبھالنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ بھی اب سرکاری فرائض میں شمار ہونے لگا ہے ۔ اس ہاتھ کے علاوہ دوسرا ہاتھ بھی ہے جو اس نے اپنے سینے پر رکھا ہوا ہے ۔ ہم لوگ ایک ہاتھ کی مخلوق ہیں۔ ہمارا دوسرا ہاتھ مستقلاً سینے پر یا آنکھوں پر رکھا ہوا ہے ۔ ہمیں اس طرح جینے کے لئے کہا گیا ہے ۔ ہمارے جسم میں حرارت ختم ہونے لگتی ہے تو ہم ماچس کی تیلی جلالیتے ہیں۔ ہمیں کوئی گھورکے دیکھتا ہے تو ہم اپنی نظموں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کشور نے اپنی شاعری سے ایک آرٹ گیلری بنائی ہے ۔ جہاں وہ اکیلی اپنی نظموں سے باتیں کرتی ہے ۔ اپنی نظموں کو اس زمانے کا چال چلن سمجھاتی ہے ۔ تاکہ یہ نظمیں اپنے پڑھنے والوں سے بہتر کلام کرسکیں ۔ اس آرٹ گیلری میں شراب کی خالی بوتلیں رکھی ہیں۔ کسی بوتل میں سمندر کی جھاگ ہے ۔ کسی میں ہجرت کرنے والے پرندے کا ٹوٹا ہوا پر ہے ۔ کسی میں خود مختارعلاقوں کی ہوا ہے ۔ اور کسی میں رات کو کھلنے والا پھول ہے ۔ کبھی کبھی شاعری کرتے ہوئے میں نے کشور کو اس درخت کی طرح دیکھا ہے ۔ جس سے ابھی ابھی کسی نے منوں پھل ٹوکرے بھر بھر کے اتار لیا ہو ۔ اور کبھی کبھی وہ شاعری کے لباس میں پچھلی رات کا چاندبن جاتی ہے جو سمندر کو اپنی طرف گھسیٹ کر آہستہ آہستہ نیچے جارہا ہوتا ہے ۔ کشور ایک امیج سے دوسرے امیج میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ وہ اپنی نظموں میں جو سچ بولتی ہے۔ کبھی کبھی وہ لوگوں کے منہ پر نہیں بول سکتی ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ لوگوں کے حوصلے اور برداشت کے گراف سے واقف ہے ۔ اسے سستے پن ۔ سطی انداز اور گھٹیا حربوں سے شدید نفرت ہے۔ اس لئے جو دوست اس قسم کی حرکت سے مشہور ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ کشور اسے عاق کردیتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ میں مشہور ہونے سے رہ گیاہوں ۔ میں اس کے ڈر کی وجہ سے مشہوری کا ایسا کوئی کام نہیں کرتا جس سے پرواز میں کوتاہی آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ کشور کو پڑھتے ہوئے اور اس کے متعلق سوچتے ہوئے کبھی اس قسم کا خیال نہیں آیا جیسا دوسری خواتین ادیبوں اور شاعروں کے متعلق آتا ہے ۔ ہمارے ہاں خواتین ادب میں عام طور پر رعایتی اور نسوانی نمبروں سے پاس ہوتی آئی ہیں اور ان میں کچھ تو ایسی ہیں جنہیں نقاد ہارن دے کر پاس کرتے آئے ہیں۔ لیکن کشور کے ادب کو ہم کسی خانے میں نہیں ڈال سکتے ۔ اسے ہم تیسری دنیا کے مخصوص انسانی رویوں کے پس منظر اور پیش منظر میں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ بیسویں صدی کے ایک کمزور معاشرے کے محور سے پھوٹنے والا ادب ہے ۔
کشور نے گھر کو کیا دیا اور ادب کیا دیا۔ یہ مسئلہ ہماری سمجھ میں نہیں آئے گا ۔ البتہ مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا ہے کہ میرے والد نے جب اپنی محبوبہ کو میری ماں سے ملوایا تو میری ماں نے دیسی گھی کی پنجیری اس کے سامنے رکھی اور کہا کہ تم نے میرا حق مار لیا ہے ۔ خدا کے لئے میرے بچوں کا حق نہ مارنا ۔ اسی بات کے الٹ یوسف مرحوم یہاں کے ادیبوں سے یہ بات کہنے کا حق رکھتا تھا کہ تم نے میرے بچوں کا حق تو مار لیا ہے ۔ خدا کے لئے میرا حق نہ مارنا۔

ماخوذ از مجلہ : چہار سو (راولپنڈی ، پاکستان) [کشور ناہید نمبر]
جلد: 21 ، شمارہ (جولائی-اگست 2012)

Kishwar Naheed, a monograph.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں