مارکیٹنگ اور تشہیر - اخلاقی اور مذہبی حدود و ضوابط - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-12-27

مارکیٹنگ اور تشہیر - اخلاقی اور مذہبی حدود و ضوابط

marketing-advertising-moral-religious-terms-conditions

مارکیٹ انگریزی کا لفظ ہے اور مارکیٹ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ عربی میں اسے "سوق" جبکہ اردو کی پرانی اصطلاح میں اس کے لئے "منڈی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
اسلام کی تاریخ میں 'سوق عکاظ' یعنی عکاظ کا میلہ بڑا مشہور ہے جہاں حضور ﷺ بنفس نفیس عامۃ الناس کے سامنے اسلام کی دعوت دینے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً تمام ممالک میں جگہ جگر مختلف قسم کے میلے اور منڈیاں فصلوں اور موسموں کے لحاظ سے لگا کرتی تھیں جس میں خرید و فروخت کے علاوہ فن کے مظاہرے اور ثقافت کی عکاسی بھی ہوا کرتی تھی۔
انسان نے جب سے مل جل کر رہنا سیکھا ہے اس وقت سے کسی نہ کسی صورت میں مارکیٹ کا تصور موجود رہا ہے۔ کبھی یہ اجناس اور اشیاء کے لین دین سے ہوتی تھی، پھر جب نقدی (کرنسی) کا رواج ہوا تو مال کی قیمتیں لگنی شروع ہوئیں۔ سرمائے کے ریل پیل اور وسائل نقل و حمل کی وجہ سے طرح طرح کی انسانی ضروریات مارکیٹ میں آئیں اور ان کی تشہیر اس انداز سے کی جانے لگی کہ انسان چاہے نہ چاہے اسے خزیدنا ہی پڑتا ہے۔
دور حاضر میں مارکیٹ انسانی زندگی میں ایک اہم اور فعال جگہ ہے اور معاشرے پر نہ صرف اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ موجودہ دور میں مارکیٹ نے ایک بنیادی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ مارکیٹنگ ایک مضمون کے طور پر یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے اور مارکیٹنگ میں ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ یوں آج کل زندگی کا کوئی شعبہ مارکیٹنگ سے خالی نہیں رہا۔

کسی گاؤں یا قصبے میں قائم چھوٹی سی دکان جسے ہٹی (عربی میں بقالہ) کہتے ہیں اور جہاں بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں سب سے چھوئی مارکیٹ کہلاتی ہے۔ پھر کسی گاؤں یا قصبے میں اور بعض اوقات بڑے شہروں اور مضافات میں بعض مارکٹیں وقتی ہوتی ہیں۔ بعض مارکیٹیں مخصوص دنوں اور موسموں کی ہوتی ہیں، جہاں سبزیاں، پھل، اجناس، غلے وغیرہ فروخت ہوتے ہیں۔ مزارع اپنا سامان لا کر بیچتے ہیں۔ سعودی عرب میں حراج سوق التمر (کہجوروں کی مارکیٹ)، سوق
العسل (شہد کی مارکیٹ) اور اس طرح کے مختلف مناطق کی اپنی مقامی اشیاء کی مارکیٹیں ہوا کرتی ہیں۔ پاکستان، ہندوستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں مال موییشیوں کی منڈیاں لگتی ہیں اور مختلف شہروں میں مختلف دنوں میں ہوتی ہیں اور تاجر ہفتے کے ہر دن کسی نہ کسی مارکیٹ میں اپنا مال بیچتے ہیں۔
مارکیٹنگ کا ایک بنیادی حصہ اس کی تشہیر (ایڈورٹائزنگ) ہوتی ہے۔ اگر کسی کمپنی یا ادارے کے لئے مارکیٹنگ اس کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تو بذات خود مارکیٹنگ کے لئے اس کی روح اس کی ایڈورٹائزنگ ہے۔ اس مقصد کے لئے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تشہیری ادارے، ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں موجود ہیں۔ کسی بھی پیداوار کی تشہیر پر اس کی خرید کا دارومدار ہوتا ہے۔ پھر انسانی نفسیات ہے کہ آج کل چھوٹے بڑے زیادہ اثر میڈیا اور ٹی وی وغیرہ سے ہی لیتے ہیں۔ آج اگر کسی چینل پر کسی چیز کی بھرپور تشہیری مہم چلتی ہے تو کل بڑے بوڑھے اور جوان ہر کوئی مارکیٹ میں اس چیز کو ڈھونڈنے کے لئے سرگرداں رہتا ہے۔ یہی وہ شعبہ ہے جس سے خریداری بڑھتی ہے اور سرمایہ دار کا سرمایہ بڑھتا ہے۔
نت نئی ڈیزائنوں اور مختلف رنگوں کے انتخاب اور نمونوں پر کسی بہترین مارکیٹنگ کا انحصار ہے۔ باقاعدہ ڈیزائننگ کا بھی ایک شعبہ ہوتا ہے جو مارکیٹ کے حساب اور طلب کے مطابق نئی نئی پرکشش چیزیں ڈیزائن کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مارکیٹ میں نت نئے ملبوسات، مشینریاں اور گاڑیاں پیش ہوتی رہتی ہیں۔
ایڈورٹائزنگ اور ڈیزائننگ طلب میں اضافے اور فروخت میں وسعت کا ذریعہ ہے۔ آج کل کی مارکیٹنگ میں مسابقت کا یہ عنصر تمام کمپنیوں میں جاری و ساری رہتا ہے۔ مارکیٹ کے اندر مختلف تاجروں کے درمیان مسابقت اور ایک دوسرے سے زیادہ سرمائے کا حصول ایک فطری امر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملکوں کے ملک اور کمپنیوں کی کمپنیاں مارکیٹ میں اپنے پیدوار کی اہمیت بڑھانے میں مصروف رہتی ہیں۔

معاشرے میں امن و امان ، ملک کے معاشی نظام میں استحکام اور لوگوں کے وسائل رزق اور قوت خرید بھی مارکیٹ کی وسعت کا باعث ہے۔ اگر کسی ملک کے خلاف انتشار، بدامنی ، خطرات ، لوڈ شیڈنگ اور توانائی کے بحران کی باقاعدہ اور منظم مہم چلائی جاتی ہے تو مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہاں نہ مارکیٹنگ ہو، نہ سرمایہ دار سرمایہ کاری کرے اور نہ ہی اس ملک کے لوگوں کی بے پناہ خداداد صلاحیتوں سے اس ملک کی پیداوار بڑھے۔ کیونکہ اگر واقعی توانائی کا اتنا بحران نہ ہو، حکومت کی متوازن تجارتی پالیسی ہو، ٹیکسوں کا مناسب نظام ہو اور غیر یقینی صورت حال نہ ہو تو مارکیٹنگ ترقی کرتی ہے۔

اسلام انسانی تجربے کا ایک حصہ ہے اور تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اسلام ایک مؤثر قوت کے طور پر داخل ہوا اور اس نے حیات انسانی کو سنوارنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
اسلام مقامی مارکیٹ سے لے کر بین الاقوامی مارکیٹ کو تسلیم کرتا ہے۔
حضور ﷺ کے زمانے میں مارکیٹنگ میں لین دین اور معاملات طے کرنے میں فریب، استحصال اور جھوٹ کا کافی عمل دخل ہو چکا تھا۔ اس لئے حضور ﷺ نے اس کی اصلاح کے لئے عملی اقدامات کئے اور تجارت کو ایک معزز پیشہ قرار دیا۔ آپ ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار (مارکیٹ) اس وقت ایک ناپسندیدہ جگہ بن چکی تھی، لیکن شریف آدمی کا وہاں جانا مجبوری تھی۔ حضور ﷺ نے اخلاقی کمزوریوں کا علاج فرمایا ، تجارت کو مقدس پیشہ قرار دیا اور مارکیٹ کی اصلاح کے احکامات صادر فرمائے۔
حضرت عبداللہ بن رفاعہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
قیامت کے دن تاجر فاسق کے طور پر اٹھیں گے الا یہ کہ انہوں نے اللہ سے ڈر کر بھلائی اور سچائی کا کاروبار کیا ہو۔
(دارمی، کتاب البیوع)

آپ ﷺ بازار تشریف لے جاتے اور ناپ تول میں کمی اور دھوکہ و فریب دہی کی عملی ممانعت فرماتے۔ آپ ﷺ نے جھوٹی قسموں سے منع فرمایا۔ حضرت ابوقتادہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا:
تمہیں خرید و فروخت میں زیادہ قسموں سے بچنا چاہئے کیونکہ اس سے بظاہر تجارت چلتی نظر آتی ہے مگر ایسا کرنا برکت کو مٹا دیتا ہے۔ (مسلم، کتاب البیوع)

کم تولنے اور ناپنے کے بارے میں قرآن نے واضح ہدایات دی ہیں:
پیمانہ پورا بھر کر دو اور نقصان نہ کیا کرو اور ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ کرنے پھرو۔
(شعراء: 182)

آج مارکیٹنگ میں مادہ پرستانہ اور سرمایہ دارانہ فکر کے غلبے کی وجہ سے تشہیر کو کھلی چھٹی دی گئی ہے۔ سیاست، معیشت، صنعت ، تجارت، زراعت اور روز مرہ کی ضروریات کا انحصار بھی تشہیر اور ایڈورٹائزنگ پر ہے اور ذرائع ابلاغ تشہیر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ یورپ میں صنعتی انقلاب کی وجہ سے اشیائے پیداوار میں جو فراوانی آئی ہے، اس کے لئے منڈیاں تلاش کرنا اور لوگوں کو ان کی خریداری پر آمادہ کرنا با قاعدہ ایک فن بن گیا ہے۔ موجودہ کمرشیل دور میں اشتہارات کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ دیواروں سے لے کر بڑے بڑے سائن بورڈ، اخبارات و جرائد کے صفحات، ریڈیو، ٹی وی پر اشتہارات ہی اشتہارات ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان اشتہارات ہی میں گھرا ہوا ہے۔
ان خوش نما اشتہارات کے پیغامات غیر شعوری طور پر نہ صرف ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں بلکہ زندگی کے موضوعات بن گئے ہیں۔ تشہیر کا شعبہ عملاً علم کی صورت اختیار کر گیا ہے اور تجارتی مقاصد کے لئے لوگوں کی نفسیات اور کمزوریوں اور حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر اشیاء کی تشہیر کی جاتی ہے تا کہ لوگوں کو ہر صورت خریداری پر آمادہ کر سکیں۔ تشہیر میں فواحش و منکرات کا لحاظ نہیں رکھا جاتا اور عموماً ماڈل گرلز کي نیم برہنہ تصاویر، کھلاڑیوں، فنکاروں اور گلوکاروں کی خدمات لی جاتی ہیں جبکہ اسلام کا اس کے بارے میں اصول بالکل واضح ہے:
جولوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا و آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
(النور: 19)

تشہیر میں بڑی ہوشیاری سے مبالغے اور جھوٹ سے کام لیا جاتا ہے۔ مال کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سگریٹ، جس پر تمام حلقوں کا اتفاق ہے کہ صحت کے لئے مضر ہے اس کے پینے والے کو فاتح کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔
اسلام مارکیٹنگ میں اخلاقی قدروں کو پامال کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ مارکیٹنگ سمیت زندگی کے ہر معاملے میں میٹھے بول اور اطمینان بخش انداز کی تلقین کرتا ہے اور جھوٹ اور فریب کاری سے بچنے کی تاکید کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دوا، جو انسانی ضرورت ہے اور اس پر انسان کی زندگی اور موت کا دارومدار ہے، اس کی قیمتیں دنیا کے ہر کونے میں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ اس کا ایک بنیادی سبب بھی ہے کہ دوا ساز کمپنیاں ڈاکٹروں، انسانیت کے مسیحاؤں کو بڑے بڑے
تحائف سے نوازتی رہتی ہیں، مختلف کانفرنسوں کے نام سے بیرون ملک کے دوروں کا بندوبست کرتی ہیں اور ان کی تفریح اور اخراجات پر ملین کے ملین رقومات خرچ کرتی رہتی ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ سرمایہ دار تو اپناخالص منافع لیتا ہی رہتا ہے اور یہ اضافی اخراجات دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جس کی قوت خرید غریب کے بس سے باہر ہوتی ہے۔ دوسری طرف غیر معیاری ادویات مارکیٹ میں پھیلتی ہیں جس سے مریضوں کو مطلوبہ شفا نہیں ملتی اور بیمار علاج در علاج کے چکروں میں زندگی تک سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

مارکیٹنگ کے لئے، اسلام کی تعلیمات میں صداقت اور ایفائے عہد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ مارکیٹنگ میں بالعموم مبالغہ آمیزی اور بدعہدی کا چلن رہتا ہے۔ حضور ﷺ جو خود امانت و صداقت کا بہترین نمونہ تھے، آپ ﷺ نے صداقت اور ایفائے عہد پر زور دیا ہے اور لین دین میں اس کا خیال رکھنے کو مفید قرار دیا ہے۔ قرض اور مالی لین دین جو مارکیٹنگ کا ایک حصہ ہے، لیکن اس میں اکثر لوگ کوتاہی کرتے ہیں۔ اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"جب آدمی مقروض ہوتا ہے، بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔ (بخاری)

حضرت ابوسعیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن)، نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی)
ایفائے عہد کے بارے میں فرمایا: .
"اس شخص کا کوئی دین نہیں جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اور اس شخص کا ایمان نہیں جو امانت کا خیال نہیں رکھتا۔ (مسنداحمد)

حضور ﷺ کے زمانے سے قبل مارکیٹنگ اور تجارت میں بعض غلط طریقے رائج تھے اور جس کو لوگ کاروباری زندگی کا حصہ تصور کیا کرتے تھے، لیکن حضور ﷺ نے ان تمام طریقوں کو جن میں دھوکہ یا فریقین میں سے کسی ایک کا نقصان ہوتا، ممنوع قرار دیا۔ مارکیٹنگ کا سب سے فاسد اور ظالمانہ طریقہ سودی لین دین تھا جسے آپ ﷺ نے قطعاً حرام قرار دیا۔ قرآن و سنت میں اس کے بارے میں شدید وعید آئی ہے جس کو بحیثیت مسلمان، ہمیں مارکیٹنگ کی دنیا میں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے آج کی مارکیٹنگ بعض فاسد طریقوں سے بھری پڑی ہے۔ بنکوں کا پورا نظام سود پر قائم ہے۔ سٹہ اور جوا لاٹری کی شکلوں میں معاشی سرگرمیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے کہ تینوں برابر ہیں۔ (مسلم)
ایک جگہ ارشاد فرمایا:
تاجر کو اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہے۔ (ابن ماجہ)
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
جو شخص گرانی کی خاطر 40 دن تک غلہ روکے، اس نے اللہ کے ساتھ عہد کو توڑ دیا اور اللہ بھی اس سے بیزار ہو گیا۔ (مشکواۃ)۔

رسول کریم ﷺ رحمت للعالمین تھے اور آپ ﷺ کی رحمت اور انسانیت پر یہ احسان ہے کہ مارکیٹنگ کی تمام باطل اور فاسد راہوں کو بند کر کے جائز اور پاکیزہ کاروبار اور تجارت کو برقرار رہنے دیا تاکہ معاشرے میں غیر صالح اجزا راہ نہ پا سکیں۔ آنحضرت ﷺ نے مارکیٹنگ کو پاکیزہ کیا اور اسے اخلاقی اور انسانی قدروں سے مالا مال کیا۔ حضور ﷺ کی اصلاحات کی وجہ سے مسلم مارکیٹ پر اخلاقی قدروں کا اثر غالب رہا۔ مسلمانوں نے مارکیٹنگ میں صداقت اور حسن عہد کے شاندار نمونے چھوڑے ہیں۔ مسلمان تاجروں کی اخلاقی تاثیر کی وجہ سے کئی قوموں نے اسلام قبول کیا اور کئی ممالک کا اسلامی تشخص انہی سچے اور امانت دار تاجروں کا رہین منت ہے۔ عصر حاضر میں مارکیٹنگ میں کئی خرابیاں ہیں اور بدقسمتی سے مسلمانوں نے بھی انہیں اپنا لیا ہے حالانکہ مارکیٹنگ کوئی ایسا موضوع نہیں کہ مسلمان اسے نظر انداز کر دیں بلکہ مارکیٹنگ کی اصلاح پر پورے معاشرے کی اصلاح کا انحصار ہے۔

جن معاشروں کی مارکیٹنگ میں امانت، دیانت، صداقت اور حسن عہد کا خیال نہیں رکھا جاتا، اسے اخلاقی بگاڑ اور روحانی فساد سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔ مسلمانوں کی تو عبادات اور دعاؤں کی قبولیت کا دارومدار پاگیزہ مارکیٹنگ کے ساتھ منسلک ہے۔ یہی وجہ ہے مسلم معاشرے میں مارکیٹنگ کا پاک ہونا ضروری ہے اور یہ عبادت سے کم نہیں۔
مارکیٹنگ مسلمانوں کی دیانت داری کی تجربہ گاہ ہے اور مارکیٹنگ ہی مسلمانوں کی اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہے۔ مارکیٹنگ کے بارے میں پاک صاف اسلامی اصول، انسان دوستی، شفقت، رحمت اور باہمی انس و محبت کا مرکز ہیں۔ مارکیٹنگ ہی ایک ایسا ادارہ ہے کہ اس کی درستگی سے صحت مند ثقافت، تہذیب و تمدن کو فروغ ملتا ہے۔ مارکیٹنگ کے مثبت اثرات سے معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے، باہمی اخوت، اعتماد اور دیانت داری پر مبنی مارکیٹنگ ہی معاشرے کو صالح افراد کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

***
بشکریہ:
روزنامہ اردو نیوز (جدہ) ، 'روشنی' مذہبی سپلیمنٹ، 17/فروری 2012۔

Marketing and advertising - moral and religious Terms and Conditions

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں