فلموں سے ادب کا رشتہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-12-22

فلموں سے ادب کا رشتہ

movies-urdu-literature

فلم میں ادب ضرورتاً اور برائے نام لیا جاتا ہے، اس کے باوجود فلم مکمل طور پر ادب کی رہین منت نظر آتی ہے۔ فلم ایک ترکیبی عمل سے وجود پاتی ہے، چنانچہ اس تخلیقی چیز نہیں کہا جا سکتا۔ ایک چیز جس کی تکمیل میں بہت سے فنکاروں اور محنت کشوں کے ذہنی اشتراک، تکنیکی مہارت اور جسمانی مشقت کا عمل دخل ہو تخلیقی زمرے میں کیسے آ سکتی ہے؟
محض ان بنیادوں پر اس کو تخلیق کہنے کا کوئی منطقی جواز نظر نہیں آتا، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا اخلاقی مجبوری ہے کہ وہ چیز جس کو فلم کہا جاتا ہے، خود تخلیقی شے چاہے نہ ہو لیکن تخلیقی ادب کی کوکھ سے پیدا ہوتی ہے۔
ایک معیاری فلم کا تصور ایک کہانی ، افسانے یا ڈرامے کی تخلیق سے قبل مشکل ہے۔ اردشیر ایرانی [Ardeshir Irani] کی پہلی بولتی فلم "عالم آرا" (1931ء) پہلے پارسی تھیٹر کا مقبول ڈرامہ ہوا کرتا تھا جے سلولائڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت سے لے کر عہد حاضر تک اردو ادب کے مشہور افسانے، کہانیاں اورڈرامے فلموں میں ڈھلتے رہے ہیں، خاموش فلموں میں بھی کچھ اس طرح ہوتا رہا۔

فلم اور ادب کے باہمی رشتوں کا تناظر نہایت وسیع ہے۔ فلم سے اردو، ہندی، بنگالی،تامل، ملیالم اور پنجابی وغیرہ کے ادب سے ایک رشتہ ہے۔ لیکن فلم کی تعمیر و ترقی میں سب سے زیادہ اہم رول نبھانے والا "اردو ادب" کو مانا گیا ہے۔ کیونکہ اردو ہندوستان کے عوام کی محبوب زبان ہے۔ یہی محبوبیت اس وقت فلم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے جب اس میں اردو مکالمے بولے جاتے ہیں با نغمات اردو میں رنگے ہوتے ہیں۔ اردو زبان میں لکھے مکالموں اور نغمات نے ہمیشہ مقبولیت کی بلندیوں کو سر کیا ہے۔
دراصل ہندوستانی فلم کی اساس ہی اردو پر رکھی گئی۔ پہلی ٹاکی فلم "عالم آرا" کے مکالے منشی ظہیر نے اردو میں لکھے تھے (منشی ظہیر وہی ہیں جنہوں نے۔۔۔ ایک رات، من کی جیت، اور پریم سنگیت جیسی فلموں میں مزاحیہ رول ادا کئے تھے)۔ اسی فلم میں اردو کے سات نغمے بھی تھے۔
برصغیر کی تاریخ میں پہلا فلمی نغمہ ریکارڈ ہوا تو اس کی زبان بھی اردو تھی:
دے دے خدا کے نام پہ بابا : ہمت ہے گر دینے کی دے دے بابا
یہ نغمہ گونگی فلموں کے اداکار ڈبلیو ایم خاں کی آواز میں تھا جس کی موسیقی سید زاہد علی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے الفاظ بھی اردو کے تھے۔
بدلہ دلائے یارب تو ستمگروں سے

ہندوستانی عوام کی پسند اور ناپسند کے رجحان کے سبب سے گیت و نغمات کو فلم میں روز اول سے اہمیت حاصل ہے۔ گرچہ شروع وقتوں میں غزل ، قوالی، ٹھمری، خیال ، امیر خسرو کی کہاوتیں اور لوک گیت وغیرہ ہی فلموں میں بھرے جاتے رہے جو عموماً کتابوں کا "سرقہ" ہوتے تھے۔ 1940ء تک فلمی دنیا میں شاعروں کی خاصی کمی رہی۔ کوئی بڑی کمپنی ہی کسی شاعر کو لایا کرتی تھی۔ یوں تو تنویر نقوی 1931ء میں ہی فلموں میں پہنچ گئے تھے اور ان کے بعد کیدار شرما، علامہ آرزو لکھنوی اور دیوان شرما وغیرہ بھی فلموں سے وابستہ ہو گئے تھے، لیکن اس دور میں شاعروں کی باقاعدہ کوئی منفرد حیثیت نہیں ہوتی تھی۔ (شکیل بدایوانی سے پہلے والوں کے سلسلہ میں تو بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے)۔ انتہا یہ کہ علامہ آرزو لکھنوی جیسے مستند شاعرکو بھی 1936ء میں اداکاروں کا "ش ق" درست کرانے کے واسطے بلایا گیا تھا، جس پر تضاد کے ساتھ فلم میں نغمات کی مانگ بڑھنے گی۔ نیز یہ حقیقت عیاں ہوتی گئی کہ ادب زندگی کی تفسیر ہے۔ اور ادب کے بغیر حقیقت نگاری ناممکن ہے۔
اسی تیزی کے ساتھ فلمی دنیا میں شاعروں کی مانگ اور اہمیت بڑھتی گئی، دیکھتے ہی دیکھتے نگارستان قلم کے سارے باب شاعروں اور ادیبوں پر وا ہو گئے۔ ہر بڑا ادیب و شاعر (خصومیت سے ترقی پسند) فلم کی طرف دوڑنے لگا۔ پھر ایک دور ایسا بھی آیا ک فلمی دنیا بیشمار نغمہ نگاروں اور کہانی ، افسانے، نیز منظرنامے لکھنے والے ادیبوں و شاعروں سے کھچا کھچ بھر گئی اور سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، رامانند ساگر، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، مجروح سلطان پوری، راجندر کرشن، جانثار اختر، کیفی اعظمی اور علی سردار جعفری جیسے ادباء و شعرا فلمی افق پر چھا گئے۔
فلم کی کہانی، منظرنامے، مکالمے لکھنے کا کام ادیبوں اور گیت و نغمات تخلیق کرنے کا کام شاعروں کے سپرد ہوا (یاد رہے ابتداء میں یہی کام عام آدمی سے لیا جاتا تھا جو کسی ناول، افسانے یا کہانی وغیرہ پر منظر نامہ تیار کرتا اور کئی شاعروں کے دیوان سے مختلف قسم کی غزلیں، کہانی اور سچویشن کے اعتبارسے "سرقہ" کرتا)۔ اسی کے ساتھ ساتھ فلم میں سنجیدگی آتی گئی اور اس کا معیار بلند ہوتا گیا۔

اردو ادیبوں اور شاعروں نے فلمی زبان کو شستہ اور نستعلیق بنایا ہے، عوام کی عقل و فہم کی سطح سے ہم آہنگ کیا اور اسی چیز نے فلم کو عوام میں مقبول کر دیا۔ عوامی مقبولیت کے بغیر، نہ تو فلم کی کامیابی ممکن ہے اور نہ فلمی دنیا کی بقا۔ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر کامیاب فلموں کے پیچھے اردو افسانہ نگاروں اور مکالمہ نویسوں یا اردو نغمہ نگاروں کا نمایاں رول خاص طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

فلمی اقدار کا گراف آج کتنا بھی نیچے آ گیا ہو، پر آج بھی یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر فلم کا وزن، کہانی، منظر نامہ، مکالمے اور نغمات کے ترازو پر تلتا ہے۔ ذی شعور فلم بین انہی کو فلم کی روح سمجھتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انعام یافتہ فلموں کی کہانیاں، منظرنامے، مکالمے اور نغمے اردو کے مشہور ترین ادباء شعراء کے لکھے ہوتے ہیں۔ مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ عالمی نمائش کے لئے منتخبہ فلموں میں ایسی فلم نہیں ہوتی جس میں ادب کی چاشنی نہ ہو۔

جہاں تک معیاری اور عمدہ کہانی، منظرنامے اور مکالموں کی بات ہے تو یہ سچ ہے کہ ان کی پرکھ ہر آنکھ کو نہیں ہوتی، نہ اس کی باریک بینی اور نہ شعور کی گہرائی درکار ہوتی ہے۔ لیکن فلمی نغمات کے بارے میں تسلیم شدہ حقیقت یہ ہے کہ ان سے ہرخاص و عام یکساں طور پر متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً آج بھی بیشمار پرانی فلمیں ایسی ہیں جنہیں کوئی دیکھنا پسند نہیں کرتا لیکن ان کے گیت و نغمات زندہ جاوید ہیں۔
ابتدا سے لیکر عہد حاضرتک بہت سی فلمیں ایسی بھی ملتی ہیں جن کی کامیابی گیت و نغمات کی جانداری کے سبب ممکن ہو سکی۔ اس کے برعکس بھی کچھ ایسا ہے کہ اچھی فلمیں بھی گیت و نغمات کی بےبسی کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔
فلمی تاریخ سے ان فلموں کے نام چن لئے جائیں جن کے گیت و نغمات اردو نغمہ نگاروں (شاعروں) کی تخلیقات پر مبنی ہیں اور ان فلموں کے نام بھی اٹھا لئے جائیں جن کے مشاعروں کی تک بندی کو گیت و نغمات کا نام دیا گیا، تو دونوں کے تقابل سے یہ نتیجہ آنا ضروری ہے کہ اول الذکر گیت و نغمات کا شباب و جوانی اور ان کی مٹھاس ہمیشہ اور ہر دور میں حتی کہ دور حاضر میں بھی یکساں طور پر رہی ہے۔ انہیں آج بھی "سدا بہار" کہا جاتا ہے۔ ان کے برعکس ثانی الذکر کی عمر اور جوانی اس بھبکتے چراغ کی مانند ہوتی ہے جو گل ہونے سے قبل خوب روشن تو ہوتا ہے لیکن یکایک اس کی
روشنی فنا بھی ہوجاتی ہے۔
فلم "قربانی" کے ڈسکو گانے" ، جس کے ریکارڈوں کی فروختگی نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا، اس کے علاوہ ۔۔۔
تتک تتک توتیا جمالو
ہم تو بمبو میں تمبو لگائے بیٹھے
او ترچھی ٹوپی والے، اوئے اوئے ۔۔۔
جیسے بےانتہا بجنے والے گانے آج کہاں ہیں؟ جبکہ اس کے برخلاف اردو نغمات جن میں شعریت پائی جاتی ہے، چاہے عہد حاضر کے ہوں یا گئے وقتوں کے، ان کی عمر دراز ہوتی ہے۔
تصویر بناتا ہوں تصویر نہیں بنتی
نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جائے
اس طرح کے برسوں پرانے بے شمار نغمات آج بھی ہر جگہ سنائی دینے ہیں اور ہر خاص و عام ان کو پسند بھی کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ گیت و نغمات میں وجد آفریں ترنگیں پیدا کرنا موسیقی کا کام ہے، پر موسیقی تنہا کیف و سرور اور نشاط انگیزی پیدا نہیں کر سکتی جب تک اس کو خوبصورت الفاظ اور ان کی ترکیب و بندش کا سہارا نہ ملے۔ کیونکہ انسان کا دماغ، روح اور وجدان، الفاظ وبیان کی طلسماتی تاثیر سے بچ نہیں سکتا۔ انسان کا طرۂ امتیاز بی یہ ہے کہ اس کے پاس جذبات اور احساسات کے ہم وزن الفاظ اور قوت گویائی ہے۔ جب یہ مان لیا جاتا ہے کہ ارتقاء انسانی میں "الفاظ" کا سب سے بڑا حصہ ہے تو بات سمٹ کر فلموں تک بھی آ ہی جاتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کی متکلم فلموں کے بقا و استحکام میں ادب اور خاص طور پر اردو ادب کا بڑا حصہ ہے اور اس کریڈٹ کا بڑاحضہ فلمی دنیا کے اردو شعراء کو پہنچتا ہے جنہوں نے پورے ماحول میں الفاظ کی نغمگی بکھیری ہے۔

یہاں یہ کہنا منشا نہیں ہے کہ فلم میں خالص اردو ادب کا استعمال ہوتا آیا ہے، فلم میں ادب کا درجہ اس وقت روبہ زوال ہے۔ جنہیں فلمی ادیب کہا جاتا ہے وہ دنیائے ادب کے مستند ادیب ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام مستند شعراء و ادباء نے عوام کی عقل و فہم اور ان کے پیمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے قلمی نگارشات پیش کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں زیادہ تعداد ان نگارشات کی ہے جو نقادوں کے نزدیک ادب کے زمرے میں نہیں آتیں، لیکن اس حقیقت سے کوئی منکر نہیں کہ ان تمام نگارشات میں ادب کی چاشنی ضرور شامل ہے جس کے ذریعہ فلم جیسی سطحی چیز کا معیار بھی بلند ہو جاتا ہے۔
اس کو مجبوری کہہ لیجیے یا ضرورت کہ فلمی دنیا سے وابستہ ہرادیب و شاعر عوام کی ذہنی سے سمجھوتا کرنے پر مجبور و بے بس ہے۔ جو ابسا نہیں کر پاتے انہیں اس نگری سے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔
ٹالسٹائی نے بہت پہلے ایسے فلمی سمجھوتے کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہا تھا:
"وہ دن دور نہیں جب ہینڈل سے گھومنے والی ایک مشین (کیمرہ) ہم ادیبوں کی زندگی چکر میں ڈال دے گی اور دنیا میں لکھنے لکھانے کا نیا سلسلہ شروع ہوگا"۔

واقعی ایسا ہوا بھی، کیمرہ نے ادیبوں اور شاعروں کو چکر میں ڈال دیا۔ ان میں بہت سے ایسے ہیں جو اس مشین سے سمجھوتا کرنے پر مجبور ہیں چنانچہ ان کی نگارشات خالص ادب میں شمار نہیں ہوتیں۔ چونکہ یہ فطری طور پر شاعر و ادیب ہوتے ہیں اس لئے ان کی نگارشات و تخليقات سطحی بھی نہیں۔ اس طرح ایک معتدل معیار قائم ہو جاتا ہے جو ہر خاص و عام کے لئے پسندیدہ ہوتا ہے۔ اس کو عوامی ادب بھی کہا جا سکتا ہے، اسی پر قلم کی بنیادیں ٹکی ہوتی ہیں۔

بروک نے کہا تھا:
"لائق مردوں اور عورتوں کے لکھے احساسات اور خیالات کو اس طرح ترتیب دینا کہ پڑھنے (اور سننے) والے کو مسرت اور انبساط ہو، ادب ہے۔"
اس قول کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک دل چھوتی کہانی، حقیقت سے میل کھاتے منظر نامے، جذبات کی صحیح عکاسی کرتے مکالمے، روح پرور اور نشاط انگیز نغمے۔۔۔ صرف ادباء و شعراء کی کاوشوں سے ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں ادیبوں اور شاعروں کو فلم سے علیحدہ کر کے فلم کا تصور کیا جائے تو فلم کا بھلا کیا معیار رہ جاتا ہے؟

فلم کی کہانی، مکالمے اور نغمے اکثر اردو افسانہ نگاروں، ادیبوں اور شاعروں کے ہوتے ہیں۔ حتی کہ فلم کے نوے (90) فیصد نام بھی اردو میں ہوتے ہیں، لیکن اردو کے ساتھ یہ امتیاز مستقل برتا جاتا ہے کہ خالص اردو فلموں کو بھی "ہندی سرٹیفکٹ" زور زبردستی دے دیا جاتا ہے۔
مظفر علی جیسے لوگ یا ناصر حسین جیسی فلمی شخصیتیں چند ہی ہیں جو اپنی فلم کا سرٹیفکٹ "اردو" کا لیتے ہیں لیکن زیادہ تعداد ایسے فلمسازوں کی ہے جو اردو میں فلم بنا کر فلم کا سرٹیفکیٹ دوسری زبان کا قبول کر لیتے ہیں، اس میں ان فلمسازوں کی بھلا کیا خطا جب حکومتی مشنری بھی اردو کو فنا کرنے میں جٹی ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف انصاف کا خون ہورہا ہے بلکہ حکومتی مشینری بھی فلم کی دنیا میں بدنام ہوتی ہے۔

***
ماخوذ از کتاب: ہندوستانی فلم کا آغاز و ارتقا
مولف: ڈاکٹر الف انصاری

The relationship between literature and movies.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں