مکالمہ - انگریزی اصطلاحات کے تراجم ۔۔۔ کتنا ضروری ہیں؟ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-12-10

مکالمہ - انگریزی اصطلاحات کے تراجم ۔۔۔ کتنا ضروری ہیں؟

english-terms-urdu-translation

مکرم نیاز کی فیس بک ٹائم لائن سے ، انگریزی اصطلاحات کے اردو تراجم پر ایک مفید مکالمہ - بتاریخ : 4/ اکتوبر 2017
بحوالہ

Mukarram Niyaz
پروفیسر محمد ظفرالدین لکھتے ہیں:
بشکریہ بحوالہ : اداریہ 'شذرات' ، "ادب و ثقافت" (ششماہی ریسرچ و ریفریڈ جرنل) ، شمارہ:5 ، ماہ ستمبر 2017 ، ڈائرکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ پبلیکیشنز ، مانو (حیدرآباد)۔
***
ممتاز دانشور شفیع مشہدی نے سوال کھڑا کیا ہے کہ ۔۔۔ "بار خاطر نہ ہو تو عرض کروں کہ 'ایڈیٹوریل بورڈ' اور 'ریسرچ اور ریفریڈ جرنل' جیسے الفاظ کے لیے اردو متبادل دیا جا سکتا ہے"۔
اردو متن میں انگریزی الفاظ کی آمیزش ، انگریزی اصطلاحات کو من و عن قبول کرنے اور ان اصطلاحات کے لیے اردو/فارسی/عربی متبادل کی تلاش کی بحث بہت قدیم ہے۔ اس موضوع پر اکثر کوئی نہ کوئی تحریر سامنے آتی رہتی ہے۔ مگر تمام مباحث اور دلائل و شواہد کا مجموعی حاصل یہی نکلتا ہے کہ انگریزی اصطلاحات سے ہمیں مفر نہیں۔ امتداد زمانہ نے بھی یہ ثابت کیا کہ انگریزی زبان ہی ترقی کی شاہراہوں پر لے جانے والے پل کا کام کرتی ہے۔

۔۔۔ اب سے پورے ایک سو سال قبل دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ نے گرچہ اصطلاحات سازی پر خصوصی توجہ دی اور وہاں مختلف علوم کی 91 ہزار اصطلاحات وضع کی گئیں لیکن وہاں بھی یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ اردو اصطلاحات کے ساتھ انگریزی اصطلاحات بھی لکھی جاتی تھیں تاکہ طلبہ یا قارئین انگریزی اصطلاحات سے بھی واقف رہیں۔
علاوہ ازیں وہاں اردو میڈیم میں تعلیم دیے جانے کے ساتھ ساتھ انگریزی کی بھی تعلیم دی جاتی تھی اور اس کے لیے حتی المقدور انگریزی استاد کا تقرر کیا جاتا تھا۔ اس وقت دفاتر میں اور عوامی سطح پر اردو کا چلن عام تھا۔ اردو کی نہ صرف سرکاری حیثیت تھی بلکہ اسے وقار بھی حاصل تھا۔ آج ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنے میں عار نہیں ہونا چاہیے کہ دوسری کئی ہندوستانی زبانوں کی طرح اردو بھی سائنس و تکنالوجی کی زبان نہیں رہی۔ شیئر بازار اور فینانس کے میدانوں میں خالص اردو اصطلاحات سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔
اردو ذریعہ تعلیم ہو سکتا ہے۔
مادری زبان میں علم سیکھنے کی قوت و افادیت آج بھی برقرار ہے لیکن اصطلاحات اور اسماء کے ترجمے پر اصرار ہمیں ترقی کی راہ میں پیچھے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ریڈیو یا ٹی وی کی اصطلاح فریکوئنسی کو اگر ہم 'تعدد' کہیں
ڈرائیونگ کی اصطلاح ایکسلریشن کو 'اسراع'
کلوروپلاسٹ کو 'سبز مائع دان'
میٹابولزم کو 'تحول'
نیوٹریشن کو 'تغذیہ'
وائرس کو 'قشبات'
مسلس کو 'عضلات'
ری ایکشن کو 'تعامل'
وٹامنس کو 'حیاتین'
یا
ڈی ہائڈریشن کو 'ناآبیدگی' ۔۔۔
تو ہمارا طالب علم یا آج کا قاری کیسے سمجھ پائے گا؟ اور اگر کسی طرح سمجھ بھی گیا تو کیا وہ عملی میدان میں تشریف فرما اعلیٰ تعلیم یا روزگار بازار کے نمائندوں کو سمجھا سکتا ہے؟
لہذا آج یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ اردو میں انگریزی اصطلاحات کو من و عن قبول کیا جائے اور انہی کو عام کیا جائے۔ اردو کا دامن یوں بھی بہت وسیع ہے، اس میں قوت انجذاب بےپناہ ہے۔ کوئی حیرت نہیں کہ کچھ دنوں کے استعمال کے بعد وہ اصطلاحات بھی اردو اصطلاحات کی طرح زبان زد ہو جائیں!

محمد علی صدیقی
بات سمجھنے، سمجھانے اور عادت کی ہے۔ جو لوگ انگریزی اصطلاحات کو سمجھتے ہیں ان کی سمجھ بوجھ کی وجہ کیا ہے؟ یقیناً جب جب کوئی اصطلاح پہلی مرتبہ سامنے آتی ہے تو اس کے مطلب و معنی سمجھایا جاتا ہےاور اس کا ماخذ بھی کہ یہ اصطلاح کس زبان سے مستعار لی گئی ہے۔ اسی طرح اردو اصطلاحات بھی دوسروں کو سمجھائی جا سکتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ معاشرے میں جگا پا سکتی ہیں جیسا کہ انگریزی اصطلاحات نے جگہ بنائی۔ مسلسل استعمال سے جب ان کی عادت ہوجائی گی تو سمجھنے اور سمجھانے کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا۔
جن اصطلاحات کا مذکورہ مضمون میں ذکر کیا گیا ہے کیا یہ بیماریاں اردو دان طبقہ میں نہیں پائی جاتیں؟ جب تک انگریزی برصغیر میں وارد نہیں ہوا تھا تو ان بیماریوں کوکس طرح بیان کیا جاتا تھا؟ جہان من و عن کوئی ترجمہ موجود نہ ہو وہاں متبادل گھڑا جاتا ہے اور یہ کام بالعموم کوئی صاحب علم شخصیت انجام دیتی ہے مثلاً اس نے اپنے کسی مقالہ میں لکھا یا پھر کوئی مقتدر ادارہ مثلا اردو لغت بورڈ، مقتدرہ قومی زبان وغیرہ۔

Adnan Khan Kakar
اس ضمن میں دنیا کی باقی زبانوں کی تقلید کرنی چاہیے۔ علمی اصطلاحات کا ترجمہ نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں اپنی زبان میں سمویا جاتا ہے۔ انگریزی وغیرہ میں بھی جو نئی چیزیں بنائِ جاتی ہیں عام طور پر ان کے لئے انگریزی کی بجائے یونانی یا لاطینی زبان کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ صرف ہمیں ہی شوق ہے کہ ان یونانی اصطلاحوں کا عربی ترجمہ کر کے اسے اردو سمجھنا شروع کر دیں۔
ان غیر زبان کی اصطلاحات کو کسی زبان میں لاتے ہوئے صرف اس کے تلفظ پر تحریف کی جاتی ہے تاکہ اسے لکھنا اور پڑھنا آسان ہو جائے۔ ایک مشہور لفظ تو ہمارا قسطنطنیہ ہی ہے۔ کانسٹینٹینوپل لکھنا اور پڑھنا سر چکرا دیتا ہے، اس کی جگہ نستباً کم مشکل قسطنطنیہ بہتر رہتا ہے۔ ایسے ہی ٹیکنیکل جیسے آسان لفظ کو بھی پرانے لوگوں نے تکنیکی کا آسان تر جامہ پہنا دیا ہے۔ اردو ان انگریزی حروف کو ان کے تلفظ کے مطابق لکھنے پر قادر ہے، مگر ہم نے اپنی زبان میں سموتے ہوئے اپنی زبان میں لکھنے پڑھنے کی آسانی دیکھنی ہے۔
فرہنگ آصفیہ میں دیکھیں تو ایجنٹ وغیرہ جیسے الفاظ عام اردو زبان کے لفظ کے طور پر دکھائی دیتے ہیں اور ان پرانے لوگوں کو انہیں استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں تھا۔
تو انگریزی الفاظ سے اجتناب کی وجہ سمجھ نہیں آتی ہے۔

محمد علی صدیقی
جہاں کسی لفظ یا اصطلاح کا ترجمہ بجائے خود مشکل کا سبب بنے وہاں اصل لفظ کو اختیار کر لینے کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جہاں اردو الفاظ موجود ہیں ان کی جگہ انگریزی الفاظ کا ستعمال کیا معنی مثلا کھمبا ، اس کی جگہ لفظ پول کا استعمال یا پھاٹک کی جگہ گیٹ کا استعمال وغیرہ۔
اب تو عجب بات یہ ہے کہ انگیریزی زبان کی صرف و نحو بھی اردو زبان میں استعمال ہونے لگی ہے مثلا ججز، آئی جیز، کنکشنز وغیرہ۔

Adnan Khan Kakar
کیا "کھمبا" کی بجائے بلی یا ستون استعمال کرنے پر بھی ایسا اعتراض ہو گا یا یہ اعتراض صرف انگریزی سے اردو میں آنے والے الفاظ پر ہی واجب ہے اور دوسری زبانیں اس سے مستثنی ہیں؟

الفاظ استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے، گرائمر استعمال کرنے پر اعتراض میری رائے میں درست ہے۔

محمد علی صدیقی
کھمبا، بلی اور ستون الگ الگ معنی رکھتےہیں اس لیے اگر موضوع کے اعتبار سے غلط استعمال کیا گیا ہے تو پھر اعتراض ہوگا

Adnan Khan Kakar
فرہنگ آصفیہ۔
(1)

(2)


Adnan Khan Kakar
اور پاکستان کی معیاری ترین لغت "اردو ڈکشنری بورڈ" سے
سُتُون
۱۔ گول ، چوکور یا پہلودار تھم یا پایہ ، تھونی ، اِی٘نٹ ، پتّھر یا لوہے وغیرہ کا سم جسکا ایک سِرا زمین میں اور دُوسرا بلندی کی طرف ہوتا ہے ، کھم ، کھمبا ، لاٹ ، منارہ ۔
۲۔ لوہے کا کھمبا ، پیل پایہ ۔

Jawaid Humayun
شفیع مشہدی صاحب ہمارے محترم اور ممتاز افسانہ نگار ہیں ، مگر زبان اور علم ِ زبان پر ان کو وہ امتیاز حاصل نہیں ، جو دوسرے اصحاب ِ لسان کو حاصل ہے ۔
یہ ایک سچائی ہے کہ انگریزی کی ضرورت و استعمال سے مفر نہیں ، مگر صرف انگریزی کا اسیر و محتاج ہونا کسی بھی زبان و ادب کے لیے خود کشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔
مجھے یاد آتا ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی میں انگریزی ایک فیشن اور وبا کی طرح استعمال ہوتی تھی ۔ اس میں قابلِ لحاظ حد تک کمی آئی ہے ۔ اس سلسلے میں شاعر سے زیادہ فکشن نگار ذمہ دار ہیں کہ اپنی تخلیقات میں وہ راہے گاہے اردو الفاظ و اصطلاحات پیش کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مشرف عالم ذوقی اپنے ناول "لے سانس بھی آہستہ " میں یہ کوشش کرسکتے تھے ۔ رہی بات تنقید نگاروں کی تو انھیں اپنی تحریر کی زینت و زیبائی عطا کرنا ہوتا ہے کہ ان کی کمیاں ، کوتاہیاں اور تسامحات پردے میں رہیں ۔
الغرض عالم یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی زبان کے تئیں مخلص و ایماندار نہیں ہیں ۔ہر چند کہ جاں نثار یونے کی تشہیر و تمنا ضرور کرتے ہیں ۔

Jawaid Humayun
ایک بات رہ گئی کہ آجکل ، بلکہ کئی برسوں سے، فکشن تنقید میں دو الفاظ بڑے جھماکے اور۔طرح دار۔انداز میں استعمال ہوتے ہیں ۔فلاں افسانے کا " ٹریٹمنٹ" بڑا زبردست ہے اور اسی طرح کہانی کا " پیٹرن" بڑا عمدہ ہے ۔ یہ ٹریٹمنٹ اور پیٹرن مجھے آج تک سمجھ میں نہ آئے ۔

Sajjadul Hasnain
مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے سشماہی میگزین میں چھپے اس کالم کو میں نے بھی پرھا ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے بہت ہی معقول پیرائے میں ادارے نے اپنی بات کہی ہے اور موجودہ حالات اور خاص طور پر ہندوستان میں جس تیزی سے اردوسکڑتی جارہی ہے اور جس تیزی سے لوگوں نے اردو برتنے سے اجتناب شروع کردیا ہے ایسے حالات میں اردو کو سلیس بنا کر پیش کرنا ہی زیادہ مناسب و واجبی ہوگا ویسے بھی یہ پڑھنے سے کہیں زیادہ یہ سننے کا دور ہے ایسے میں الفاظ کو عام فہم اور آسان سے ٓاسان بناکر پیش کرنا مناسب ہوگا

Mukarram Niyaz
ایک واٹس اپ گروپ میں محمد شعیب (اردو ویکیپیڈیا) لکھتے ہیں۔۔۔
سوال یہ ہے کہ بچے کو سیب کی بجائے ایپل، انناس کی بجائے پائی نیپل کہنے سے ہم ترقی کر لیں گے؟ یہ تو ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں کتنی ترقی کر لی؟!
اردو تعلیم کی اب ضرورت ہی کیا رہ گئی ہے۔ محض مردہ پرستی کے لیے اردو اسکول بچے ہیں ورنہ ڈھانچا فرنگی بن چکا ہے۔

Mukarram Niyaz
ایک اور واٹس اپ گروپ میں شمس الرب صاحب نے لکھا ہے۔۔۔
پروفیسر صاحب چند مثالیں پیش کر کے جو ثابت کرنا چاہتے ہیں، وہ ناقابل فہم ہے۔ جس طرح اردو میں انگریزی اصطلاحات کو *من و عن* قبول کرنے کی بات کی جا رہی ہے، کیا اسی طرح دیگر ترقی یافتہ زبانوں مثلا جرمن، فرانسیسی، جاپانی وغیرہ زبانوں میں بھی انگریزی اصطلاحات کو *من و عن* قبول کیا جاتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ قومیں ترقی کی شاہراہ پر کیسے دوڑ رہی ہیں؟
مزید حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب 'مسلس' (muscles) کو 'عضلات' کہنے میں بھی پریشانی ہے۔ گویا اب ہمیں ہڈی کو بون، انگلی کو فنگر، ہاتھ کو ہینڈ وغیرہ وغیرہ کہنا پڑے گا؟ مزید یہ کہ اس مثال سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ہمیں اردو میں نہ صرف مفرد انگریزی لفظ کو *من و عن* استعمال کرنا چاہئے بلکہ انگریزی زبان کے جمع کے قواعد کو بھی اردو میں برتنا چاہئے۔

Mukarram Niyaz
ایک اور واٹس اپ گروپ میں ڈاکٹر اسلم فاروقی لکھتے ہیں
اردو اصطلاحات چاہے وہ ابتدا میں ثقیل ہی کیوں نہ لگیں اہل علم حضرات کو اپنی تحریروں میں استعمال کرتے رہنا چاہیے ورنہ جس رفتار سے ہماری زندگی اور زبان میں نئے انگریزی الفاظ اصطلاحات کی شکل میں داخل ہورہے ہیں اگر ان کے متبادل اردو الفاظ شامل زبان نہ کئے جائیں تو ہم اردو کی جگہ اردو آمیز انگریزی بولنے لگیں گے عوامی بول چال اور معیاری اردو دونوں میں فرق رکھنا زبان کی بقا اور ترقی کے لئے لازمی ہیں

محمد علی صدیقی
میں ترجمہ کا کام کرتا ہوں اور اس بات کا گواہ ہوں کہ بعض لوگ محض اپنی سہولت اور اردو زبان سے کم واقفیت کے باعث انگریزی زبان کے ان الفاظ کو بھی ترجیح دیتے جن کے اردو متبادل دستیاب ہیں اور عومی سطح پر بآسانی سمحھے بھی جاتے ہیں۔

Mukarram Niyaz
محمد علی صدیقی صاحب، مجھے بھی آپ کی بات سے اتفاق ہے

Ishaq Mirza Baig
اصطلاحات سازی بہت اچھا کام ہے اور اردو میں وضعِ اصطلاحات، اردو ذریعہ تعلیم کے طلباء کے لئے ضروری بھی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ وضع کردہ اصطلاحات عام فہم ہوں، آسان ادائیگی کے حامل ہوں اور عربی، فارسی کے ثقیل الفاظ سے مستعار نہ ہوں ورنہ یہ اصطلاحات صرف کتابوں کی زینت ہی بنے رہیں گے اور رواج نہ پاسکیں گے۔ املا کا بھی ایک مرحلہ پیچیدہ ہے۔ بعض قدیم مشاہیرِ اردو زبان نے اس کی طرف توجہ دلائی تھی مثلاً طوطا کی جگہ توتا، وطیرہ کی جگہ وتیرہ وغیرہ، یہاں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جو الفاظ عربی، فارسی کے اردو میں رواج پاچکے ہیں انہیں ان کے اصل املا پر ہی برقرار رکھنا چاہئیے ورنہ مشتق الفاظ کے استعمال میں ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔ انگریزی کے جو الفاظ آسان ادائیگی کے حامل ہوں انہیں جوں کا توں یا من و عن استعمال کرنا بہتر ہوگا مثلاً تھرمومیٹر یا تھرمامیٹر۔

The Urdu translation of English terms and its necessity , A facebook timeline debate. Compiled by: Mukarram Niyaz.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں