قرآنی لفظ قلب سے کیا مراد ہے؟ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-11-22

قرآنی لفظ قلب سے کیا مراد ہے؟

qurani-qalb

قرآن مجید فصحیح عربی زبان میں نازل ہوا، اس عربی زبان میں کہ جسے اہل عرب بولتے تھے اور جس سے وہ واقف تھے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔ ترجمہ: ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ تم سمجھ سکو۔ تو عرب اسی صورت قرآن مجید کو سمجھ سکتے تھے جبکہ یہ ان کی بولی میں نازل ہوتا لہذا قرآن مجید کے معانی ومفاہیم کو متعین کرنے میں ادب جاہلی کو ایک مصدر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن مجید کے کسی لفظ کے معنی معلوم کرنے سے عاجز آ جاؤ تو جاہلی شعر کی طرف توجہ دو کہ وہ عربوں کا دیوان ہے۔ تو ادب جاہلی میں غزل میں "قلب" کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ جسے ہم آج کل انگریزی میں ہارٹ (heart) کہتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ قرآن مجید کا معنی قرآن مجید سے متعین کیا جائے تو بھی یہی بات سامنے آتی ہے کہ قرآن مجید نے قلب کا لفظ ہارٹ (heart) کے معنی میں ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: فَإِنَّهَا لاَ تَعْمَى الأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى القُلُوبُ الَتِي فِي الصُّدُورِ۔ ترجمہ: آنکھیں اندھی نہیں ہو جاتی بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ تو قرآن مجید نے دل کا مقام متعین کر دیا کہ وہ سینے میں ہے۔ اور اسے اصول فقہ کی اصطلاح میں مفسر کلام کہتے ہیں کہ متکلم خود ہی اپنے کلام کی شرح کر دے۔ ایک اور مقام پر غزوہ احزاب کی سختیوں کے تناظر میں فرمایا: وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ۔ ترجمہ: اور یاد کرو جبکہ آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور دل، گلوں میں پہنچ گئے تھے۔

اب اس کاجواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ محاورتا کلام ہے۔ بھئی، محاورتا کلام بھی ہو تو کیا ناک بھی کبھی پتھراتا ہے کہ ہم آنکھ سے مراد ناک لے لیں۔ تو محاورہ بھی ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہ تو نہیں کہ اس سے جو مرضی مراد لے لیں۔ تو جس طرح آنکھوں سے مراد ناک کان نہیں ہو سکتے، اسی طرح دل سے مراد دماغ نہیں ہو سکتا۔ یہ قرآن مجید کی غلط تاویل ہے جسے خود قرآن مجید کی فصیح زبان تسلیم نہیں کر رہی۔ تو قرآن مجید کی تفسیر ہم خود قرآن مجید سے کریں تو قرآن نے واضح کر دیا کہ دل وہی ہے جو سینے میں دھڑک رہا ہے۔ اور قرآن مجید نے دل کی صفات میں تقلب یعنی دھڑکنے کو بھی بیان کیا ہے اور قلب کا لفظ تو خود دھڑکنے کے معنی میں ہی ہے۔ دوسرا ادب جاہلی سے یہ متعین ہوتا ہے کہ فصیح عربی زبان میں قلب، دل کو ہی کہتے ہیں۔

تیسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنت میں قلب کی جو تفیسر ملتی ہے، وہ یہی ہے کہ قلب اسی کو کہتے ہیں کہ جو سینے میں ہو جیسا کہ مسند احمد کی ایک صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تقوی یہاں ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف اشارہ فرما رہے تھے اور ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ اور قرآن مجید نے تقوی کو بھی قلب کی صفات میں شمار کیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔ ترجمہ: اور جو اللہ عزوجل کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یہ قلوب کا تقوی ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے "مضغة" کہا ہے یعنی وہ ایک جسمانی عضو ہے، محض لطیفہ ربانی نہیں ہے۔ البتہ لطیفہ ربانی اس جسمانی عضو میں مان لیا جائے تو اس میں حرج نہیں کہ یہ لفظی اختلاف ہے جیسا کہ بعض اہل علم کا قول ہے۔

چوتھا یہ کہ سلف اور خلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کے لفظ "قلب" سے مراد ہارٹ ہی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض نے "قلب" کا معنی "عقل" بھی لیا ہے لیکن جو اہل علم اس سے "عقل" مراد لیتے ہیں، ان کے نزدیک محل عقل یعنی جسم انسانی میں عقل کا مقام کہ جہاں عقل موجود ہے، وہ قلب ہی ہے لہذا سلف اور خلف کا اس مسئلے میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور وہ قلب سے مراد ہارٹ ہی لے رہے ہوتے ہیں، چاہے اس کا معنی عقل کر رہے ہوں۔ تو میری نظر میں یہ کہنا درست ہے کہ اس بات پر سلف وخلف کا اجماع ہے کہ قلب کا معنی ہارٹ ہے۔ اختلاف دو باتوں میں ہوا ہے؛ ایک یہ کہ عقل کا محل ومقام کیا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ روح کا محل اور مقام کیا ہے؟

قرآن مجید سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عقل کا محل اور مقام بھی دماغ نہیں، قلب ہے اور روح کا محل اور مقام بھی قلب ہی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا۔ ترجمہ: تو ان کافروں کے پاس دل ہوتے کہ جن سے یہ سوچتے۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا۔ ترجمہ: ان کے دل ہیں، مگر ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔ تو قرآن مجید نے سوچنے سمجھنے کی نسبت دل کی طرف کی ہے کہ جس سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ یہ کام تو دماغ کا ہے لہذا قلب سے مراد دماغ ہے۔ حالانکہ ذرا سا غور کریں تو قرآن مجید اس معاملے میں واضح ہے کہ انسان کا سوچنا سمجھنا دو سطح پر ہے؛ حیوانی سطح پر اور انسانی سطح پر۔

حیوانی سطح پر انسان کا دیکھنا، سننا اور سوچنا اس کا تعلق کان، آنکھ اور دماغ سے ہے لیکن انسانی سطح پر دیکھنے، سننے اور سوچنے کا تعلق انسان کی روح سے ہے کہ جس کا محل، قلب ہے اگرچہ وہ سارے جسم میں برابر طور پھیلی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فَإِنَّهَا لاَ تَعْمَى الأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى القُلُوبُ الَتِي فِي الصُّدُورِ۔ ترجمہ: آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں لیکن دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ تو اس آیت میں دیکھنے کی نسبت آنکھوں اور دل دونوں کی طرف ہے لیکن قرآن مجید نے یہ واضح کیا ہے کہ اصل بینا وہ ہے کہ جس کا دل بینا ہو۔ آنکھوں سے دیکھنے کا کام تو جانور بھی کر رہے ہیں کہ سڑک پار کرتے ہوئے وہ بھی ادھر ادھر دیکھ لیتے ہیں، شکاری جانور کو دیکھ کر وہ بھی بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

~~~~~
قرآن مجید میں قلب سے متعلقہ تین اور اصطلاحات کثرت سے استعمال ہوئی ہیں؛ فواد، صدر اور لُب۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ایمان کا محل اور مقام انسانی ذہن نہیں بلکہ دل ہے جیسا کہ مسلمان اور مومن کا فرق بیان کرتے ہوئے ایمان کے دعویدار نئے نئے مسلمانوں سے یوں ارشاد ہے: وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: اور لیکن تم یہ بات کہہ لو کہ ہم نے اسلام قبول کیا ہے اور [رہی ایمان کی بات تو] ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ ایک اور جگہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فرمایا: وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: اور اللہ عزوجل نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں کھبا دیا ہے۔

قلب سے مراد ہارٹ ہے تو صدر سے مراد انسان کا سینہ ہے۔ قرآن مجید نے ان الفاظ کو ان کے لغوی معانی میں ہی استعمال کیا ہے اور یہی ان الفاظ کی حقیقت ہے۔ اور حقیقت کی موجودگی میں مجاز مراد لینا جائز نہیں ہے الا یہ کہ اس کی کوئی صریح دلیل موجود ہو۔ قرآن مجید نے اسلام کی نسبت صدر کی طرف کی ہے بلکہ علم کی نسبت بھی صدر ہی کی طرف ہے۔ پھر اس صدر میں قلب ہے کہ ایمان کی نسبت اس قلب کی طرف ہے۔ پھر اس قلب کی کئی حالتیں ہیں، جن میں ایک فواد بھی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ۔ ترجمہ: جس کو اللہ عزوجل ہدایت دینا چاہتے ہیں تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں۔ اسی طرح قرآن مجید میں علم کی نسبت جا بجا صدر کی طرف کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا العِلْمَ۔ ترجمہ: بلکہ وہ واضح آیات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: قُلْ إِن تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ۔ ترجمہ: جو تمہارے سینوں میں ہے، اسے چھپا لو یا ظاہر کر لو، دونوں صورتوں میں اللہ تعالی اسے جانتا ہے۔

تو انسان کا دل، ایمان اور اخلاق حسنہ کا محل اور مقام ہے جیسا کہ کفر، نفاق اور رذائل کا محل اور مقام بھی دل ہی ہے۔ قلب میں ایمان اور اخلاق کی روشنی جب بڑھتی ہے تو وہ ایک نور کی صورت اختیار کر لیتی ہے کہ جس نور سے انسان کا سینہ منور ہو جاتا ہے اور اسی نور سے وہ خیر اور شر میں تمیز کرتا ہے۔ اور اسی تمیز کا نام علم ہے۔ سورۃ النور کی آیت 35 میں اسے تفصیل سے واضح کیا گیا ہے کہ بندہ مومن کے دل میں ایمان کے نور کی مثال ایک طاقچے کی سی ہے کہ جس میں چراغ ہو۔ تو یہاں طاقچے سے مراد سینہ ہے اور چراغ سے مراد دل ہے۔ اسی لیے علم کی نسبت سینے کی طرف ہے۔ اسی طرح بعض اوقات انسان کا کفر، نفاق اور رذائل کہ جن کا محل اور مقام قلب ہے، بھی حد سے بڑھ جائیں تو ان کی تاریکی اور ظلمت انسان کے سینے کو کور کر لیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض رذائل کی نسبت سینے کی طرف کی گئی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: إِنْ فِي صُدُورِهِمْ إِلاَّ كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ۔ ترجمہ: ان کے دلوں میں تکبر ہے کہ جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔

شیطان کا وسوسہ انسان کے علم میں پڑتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ۔ ترجمہ: میں اس شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔ تو اسی وسوسے کو ہم شکوک وشبہات (doubts) کہتے ہیں جبکہ انسانی خواہشات کا محل اور مقام انسان کا دل ہے کہ جنہیں ہم نفسانی خواہشات (desires) کہتے ہیں۔ انسان کو دونوں طرح سے آزمایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک مقام پر قلب اور صدر دونوں کو جمع کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ۔ ترجمہ: تا کہ اللہ تعالی جو تمہارے سینوں میں ہے، اس کی آزمائش کرے اور جو تمہارے دلوں میں ہے، اس کی چھان پھٹک کرے۔ تو ابتلاء اور تمحیص میں فرق ہے۔ ابتلاء تو علم کی ہے اور تمحیص جذبات کی ہے۔

جہاں تک فواد کی بات ہے تو یہ دل کی ایک کیفیت اور حالت ہے۔ فواد کا لغوی معنی توقد ہے جیسا کہ توقدت النار یعنی آگ کا بھڑکنا، شعلہ مارنا۔ تو فواد سے مراد جذبات کا بھڑکنا بھی ہو سکتا ہے اور معرفت کا پہلو بھی مراد ہو سکتا ہے جو کہ آگ کے بھڑکنے کا نتیجہ ہے یعنی روشنی جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: مَا كَذَبَ الفُؤَادُ مَا رَأَى۔ ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل نے اس کو نہیں جھٹلایا کہ جس کو آپ نے دیکھا۔ تو یہاں مراد مقام معرفت ہے جو دل کی ایک حالت اور کیفیت ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت میں فواد اور قلب کو جمع کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغاً إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا۔ ترجمہ: اور موسی علیہ السلام کی والدہ کا دل خالی ہو گیا تھا اور قریب تھا کہ وہ راز کو ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو مضبوط نہ کر دیتے تو۔ تو کس سے دل فارغ ہو گیا تھا، پختگی اور میچورٹی کی کیفیت سے۔

~~~~~
تو پچھلی دو اقساط سے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ "قلب" کو "دماغ" کے معنی میں لینا قرآن مجید کے ادنی سے طالب علم کے لیے بھی ممکن نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ باطنی تاویلات شروع کر دے یعنی ایسی تاویلات کہ جن کا کوئی سر پیر ہی نہ ہو۔ اور لوگوں نے قرآن مجید کی تفسیر وبیان میں ایسی تاویلات ہر دور میں کی ہیں۔ اس حوالے سے عصر حاضر میں سرسید اور پرویز کی مثالیں ہی کافی ہیں۔ دیکھیں، وہ کتنے اعتماد سے قرآن مجید کے الفاظ کی ایسی تاویل کر رہے ہوتے ہیں کہ جسے زبان سے کچھ ادنی سی بھی نسبت ہو گی تو وہ اسے سن کر قے کر دے گا لیکن وہ اسے کسی گہرے علمی نکتے کے طور بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ تو اگر آپ نے "قلب" کا معنی "دماغ" کر لیا ہے تو بھی سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کا کانٹیکسٹ یعنی عبارت کا سیاق وسباق، اس کی زبان کی ابانت، خود فصیح عربی کا اسلوب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان وغیرہ اس معنی کو کتنا قبول کرتا ہے؟ تو اس سب کا جواب نفی میں ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے۔

اب معاصرین میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مجید کا محاورہ ہے۔ لگتا ہے، انہیں محاورے کا مفہوم بھی نہیں پتا کہ محاورہ کہتے کسے ہیں۔ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ محاورہ مراد لینے سے حقیقت ختم نہیں ہو جاتی ہے۔ اب یہ جملہ اسے سمجھ آئے گا کہ جس کی لسانیات (linguistics) میں کچھ نظر ہو گی۔ اور آسان الفاظ میں مجاز مراد لینے سے حقیقت ختم نہیں ہو جاتی، وہ قائم رہتی ہے کیونکہ اس حقیقت کی وجہ سے ہی تو مجاز قائم ہے۔ اور اس پر تفصیل سے مستقل گفتگو ہم کسی اور مقام پر کر چکے ہیں۔ اور آسان الفاظ میں یوں سمجھاتا ہوں کہ جیسا قرآن مجید میں ہے: وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ۔ ترجمہ: اور دل گلوں میں آ گئے۔ تو اب اس کا محاورتا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ کلیجے منہ کو آ گئے۔

تو وہ یہ کہتے ہیں کہ کلیجہ حقیقت میں تو منہ کو نہیں آتا۔ عجیب لوگ ہیں، تھوڑا سا بھی غور نہیں کرتے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کلیجہ منہ کو آ گیا تو محاورے میں بھی کلیجے سے مراد کلیجہ ہی ہوتا ہے، پھیپھڑا نہیں۔ اور کلیجے کی کل محاورے کے ساتھ جو نسبت ہے، اس کے پیچھے ایک عقلی یا نقلی مناسبت موجود ہوتی ہے جیسا کہ کلیجہ یعنی جگر کو اہل زبان کے ہاں عموما طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے لہذا سختی کے مواقع پر کلیجہ منہ کو آنا کہا جاتا ہے، پھیپھڑا منہ کو آنا نہیں۔ تو مجاز میں بھی کوئی نہ کوئی علاقہ یعنی مناسبت ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے مجازی معنی مراد لیا جاتا ہے۔ اور آسان الفاظ میں لفظ کے حقیقی اور مجازی معنی میں ایک نسبت ہوتی ہے۔ دل سیاہ ہو جانا ایک محاورہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ دل سیاہ ہونے سے مراد ہاتھ سیاہ ہو جانا ہے یعنی یہاں دل کی سیاہی سے مراد ہاتھ کی سیاہی ہے یا دل، ہاتھ کے معنی میں استعمال ہوا ہے یا دل ہاتھ کے معنی میں اردو زبان میں استعمال ہو جاتا ہے۔

تو لفظ مجازی معنی میں استعمال ہو بھی تو بھی حقیقت سے اس کا تعلق قائم رہتا ہے، ٹوٹتا نہیں ہے کیونکہ حقیقت اس کا اوریجن ہے۔ اگر اوریجن سے تعلق ٹوٹ جائے گا تو پھر لفظ کا کوئی معنی باقی نہ رہے گا اور وہی بات ہو جائے گی جو پوسٹ ماڈرن ازم والے کہتے ہیں کہ لفظ کا کوئی معنی نہیں ہے۔ تو یہ تو اس بات کا جواب ہوا کہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں، یہ محاورہ ہے۔ تو آپ اس کو محاورہ لے بھی لیں تو بھی دل سے مراد دل ہی رہتا ہے۔ محاورے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ کل جملہ اپنے حقیقی معنی میں نہیں ہے، یہ نہیں کہ لفظ سے مراد بھی اس کا حقیقی معنی نہیں ہے۔ اسی طرح اگر لفظ کو بھی آپ ثابت کر دیں کہ وہ حقیقی معنی میں نہیں تو بھی حقیقت ختم نہیں ہو جاتی، وہ اپنی جگہ موجود رہتی ہے، صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ فی الحال یعنی اس وقت یہ لفظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہو رہا ہے، حقیقت کے ساتھ جڑے رہتے ہوئے۔

رہا یہ اعتراض کہ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن سے شخصیت کیوں نہیں بدل جاتی تو اس کا جواب بھی سامنے کا ہے کہ دین اسلام میں انسانی وجود دو حصوں میں منقسم ہے؛ جسمانی اور روحانی۔ اور انسان کی اصل شخصیت اس کا روحانی وجود ہی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا. فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا. قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا. وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ ترجمہ: اور قسم ہے نفس، اور اس کے سنوارنے کی۔ اللہ عزوجل نے اس نفس میں اس کا تقوی اور اس کا فسق وفجور دونوں الہام کر دیے ہیں۔ اور وہ شخص کامیاب ہو گیا، جس نے اس نفس کا تزکیہ کیا۔ اور وہ ناکام ہو گیا کہ جس نے اس کو مٹی میں رلا دیا۔ تو نفس، اس روح کو کہتے ہیں جو جسم میں موجود ہو۔ تو مکین اور مکان میں اصل اہمیت مکین یعنی مکان میں رہنے والے کی ہوتی ہے اور ظرف اور مظروف میں اصل اہمیت مظروف یعنی جو برتن میں ہے، اس کی ہوتی ہے نہ کہ ظرف یعنی برتن کی۔ لیکن برتن کی اہمیت بھی اس لیے مسلم ہو جاتی ہے کہ مظروف کا وجود اس کے بغیر ممکن نہیں ہے جیسا کہ برتن میں پانی، شہد یا دودھ وغیرہ۔ تو اصل اہمیت تو پانی، دودھ اور شہد کی ہی ہے لیکن ان کا وجود چونکہ کسی ظرف کے بغیر ممکن نہیں ہے تو ظرف کی اہمیت بھی مسلم ہو جاتی ہے۔

تو انسان کی روح مظروف ہے اور جسم اس کا ظرف ہے۔ اور یہ روح انسانی وجود میں ایسے ہی پھیلی ہوئی ہے جیسے کہ گلاب کی پتی میں سرخ رنگ اور کوئلے میں آگ۔ البتہ اس روح کا مرکز انسان کا دل ہے جس طرح کہ جسمانی وجود کا مرکز انسان کا دل ہے۔ انسان کی جسمانی حیات کا دارومدار اس کے دل کی حرکت پر ہے، اگر وہ حرکت میں ہے تو انسان زندہ ہے اور اگر وہ رک گیا تو انسان مر گیا جسے میڈیکل سائنس میں قلبی موت (cardiac death) کہتے ہیں، چاہے اس کا دماغ کام کر بھی رہا ہو۔ تو یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی انسان کا دل آپ نکال لیں اور وہ زندہ رہے کیونکہ وہ زندگی کا مرکز ہے۔ البتہ آنکھ، گردہ اور ہاتھ وغیرہ کے بغیر بھی انسان زندہ رہ سکتا ہے۔ اسی طرح انسان کی روح نیند میں بھی اس کے جسم سے نکل جاتی ہے لیکن اپنا مرکز نہیں چھوڑتی یعنی دل سے نہیں نکلتی، بقیہ اعضاء سے نکل جاتی ہے لہذا انسان زندہ رہتا ہے۔ جب روح دل کو چھوڑ جائے یعنی اس سے نکل جائے تو انسان مر جاتا ہے۔

تو ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن میں آپ جس ڈونر کا دل لے رہے ہوتے ہیں، وہ مر چکا ہوتا ہے یا مرنے کے قریب ہوتا ہے مثلا اس کی برین ڈیتھ (brain death) ہو چکی ہو۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی زندہ انسان کا دل نکال کر ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہو اور وہ شخص کہ جس کا دل نکالا گیا ہے، دل کے بغیر بھی زندہ رہ رہا ہو۔ تو وہ تو مر چکا ہے۔ جب وہ مر چکا ہے تو اس کی روح آسمانوں کو چڑھ گئی۔ اب تو صرف ایک عضو کی ٹرانسپلانٹیشن ہو رہی ہے کہ جس میں روح موجود نہیں ہے کیونکہ وہ تو ڈونر کی وفات کے ساتھ ہی نکل چکی ہے۔ تو انسان کا دل جذبات کا مخزن ہے کہ جس طرح کان سننے کے کام آتے ہیں، آنکھیں دیکھنے کے تو دل محبت اور نفرت کے کام آتا ہے۔ تو وہ ایک آلہ (organ) ہے اور اس آلے کا جو کام ہے، وہ وہی کام کرے گا۔

تو ایسا نہیں ہے کہ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن سے پرسنیلیٹی بالکل تبدیل نہیں ہوتی۔ ایک ریسرچ کے مطابق آسٹریا میں 47 کے قریب ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کروانے والے لوگوں پر سروے کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا تو چھ فی صد کا جواب تھا کہ ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کی وجہ سے ان کی پرسینیلیٹی تبدیل ہو گئی ہے بلکہ انہوں نے جذباتی ساخت (emotional structure) کی بات کی کہ انہیں اپنے میں وہ پہلےسے تبدیل نظر آتی ہے۔ تو یہ تعداد اگرچہ کم ہے لیکن اس سے یہ ثابت ضرور ہوتا ہے کہ یہ کہنا غلط ہو گا کہ شخصیت میں بالکل تبدیلی نہیں آتی ہے۔ 2015ء میں برطانوی اخبار ٹیلی گراف میں ایک اسٹوری پبلش ہوئی کہ دو بچوں کے ایک باپ کہ جسے ایک سائیکلسٹ نے اپنا ہارٹ ڈونیٹ کیا تھا، کو سائیکلنگ کا جنون لاحق ہو گیا۔ تو پرسینیلیٹی کے تبدیل ہونے کے شواہد موجود ہیں اگرچہ کم ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹرز عام طور پر خواتین کا ہارٹ، مردوں کو ٹرانسپلاٹ نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس سے لائف کم ہو جاتی ہے اور وہ اس کی وجہ ہارٹ کا سائز بتلاتے ہیں لیکن یہ اسٹڈیز ابھی آگے بڑھیں گی تو سائز کے علاوہ فیکٹرز بھی لازما سامنے آئیں گے جیسا کہ عورت کا ایموشنل اسٹرکچر، مرد سے مختلف ہوتا ہے وغیرہ۔ تو اب تک کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ پرسنیلیٹی دراصل اس روحانی وجود کا نام ہے جو اس جسمانی وجود کے ساتھ موجود ہے۔ جسمانی دل کے ساتھ ایک روحانی دل موجود ہے، جسم کی آنکھ کے ساتھ ایک روح کی آنکھ بھی موجود ہے۔ جسمانی یا حیوانی سطح پر دیکھنا، سننا اور سوچنا یہ جانوروں کو بھی حاصل ہے لیکن روحانی سطح پر دیکھنا، سننا اور سوچنا یہ صرف روحانی وجود کا خاصہ ہے۔ تو بلاشبہ انسانی دماغ سوچنے کا کام کرتا ہے لیکن حیوانی سطح پر۔ روحانی سطح پر تعقل اور تفکر صرف دل کا کام ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ کو قرآن مجید میں مردہ کہا گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ کیا آپ ان مردوں کو کچھ سنوا سکتے ہیں؟ تو سن تو وہ رہے تھے اور زندہ بھی تھے یعنی میڈیکل سائنس کی زبان میں لیکن ان کا سننا کانوں کا سننا تھا جیسا کہ جانور بھی گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر رستہ چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے ان لوگوں کو جو کہ کافر ہیں یہ کہا: وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ۔ ترجمہ: ہم نے بہت سے جن وانس کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے کہ ان کے دل ہیں لیکن وہ سوچتے نہیں ہیں، آنکھیں ہیں لیکن دیکھتے نہیں ہیں، کان ہیں لیکن سنتے نہیں ہیں، یہ جانور ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں، یہ لوگ غافل ہیں۔ یعنی یہ اپنی اصل حقیقت اور اپنے حقیقی وجود سے غافل ہیں اور وہ ان کا روحانی وجود ہے۔

تو اس میں بھی شک نہیں کہ کچھ شخصیت ہم پیدائشی طور لے کر آتے ہیں لیکن اکثر وبیشتر ہماری شخصیت وہی ہوتی ہے جو ہم یہاں بناتے ہیں کیونکہ اسی بنانے ہی کا تو اجر ہے۔ تو پیدائشی شخصیت کا تعلق آپ کے جسمانی اعضاء سے ہو سکتا ہے لیکن جو شخصیت ہم بناتے ہیں، اس کا تعلق روحانی وجود سے ہے۔ کچھ لوگ پیدائشی طور نرم دل ہوتے ہیں اور کچھ سخت دل جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی مٹی زمین سے مختلف جگہ سے لی تو کہیں سے وہ زمین نرم تھی تو اولاد آدم میں نرمی آ گئی اور کہیں سے وہ زمین سخت تھی تو اولاد آدم میں سختی آ گئی۔ لیکن انسانوں کی طبیعتوں میں پیدائشی فرق کافی کم ہوتا ہے، عموما وہ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، اور خاص طور اگر ایک ہی علاقے اور نسل کے ہوں تو ماحول، کلچر اور مذہب بھی ایک ہی ہونے کی وجہ سے ان کی طبیعتوں میں بہت حد تک یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ تو یہی وجہ ہے کہ اگر ہم دل کو بطور ایک عضو کے لیں تو زیادہ تر اس عضو کی منتقلی میں شخصیت کی تبدیلی زیادہ نظر نہیں آتی ہے۔

***
اسسٹنٹ پروفیسر، کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور
mzubair[@]ciitlahore.edu.pk
فیس بک : Hm Zubair
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

The meaning of Quranic term Qalb. Article: Dr. Hafiz Md. Zubair

1 تبصرہ: