جنسی توانائی کی اہمیت - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-10-01

جنسی توانائی کی اہمیت

married-life-energy-significance

جنسی توانائی کی اہمیت سے ہماری مراد ماہرین نفسیات کی زبان میں وہ امتیاز اور قدر دانی ہے جس کے تحت اس توانائی کی حفاظت ضروری ہو جاتی ہے اور شادی کرنا دشوار ہونے کی صورت میں مختلف علمی، ادبی اور فنی غرض ہر میدان میں اس توانائی کی اہمیت کا احساس دلایا جاتا ہے۔
خود رسول اللہ (ﷺ) سے منقول ہے کہ کنوارے نوجوانوں کو روزے رکھنے چاہیے (صحیح بخاری)۔ اس ارشاد سے بھی اس توانائی کی اہمیت کا احساس تیز ہوتا ہے اور دین اسلام کو اس راہ میں پیشرو ہونے کا شرف حاصل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ حکم دائمی ہے جیسا کہ بعض غیر مسلم مذہبی راہنماؤں نے اپنے عمل سے اس کو دائمی مذہبی فیصلہ کی شکل میں پیش کیا۔ جبکہ حکیم و دانا، دستور ساز حقیقی کا حکم ہے کہ جب تک شادی نہ ہو اس وقت تک عزت و عصمت کی حفاظت کی جائے اور جنسی توانائی کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے۔

مشہور دانشور ہنری میلر کہتا ہے:
"جسمانی بیماریوں سے حفاظت کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے لذتیت اور شہوت پسندی کے ہر ہر طریقہ سے کلی پر ہیز کیا جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو اس سے جسمانی سلامتی کے علاوہ اور بھی بے شمار فوائد حاصل ہونے کی امید ہے"
لیکن دیکھیں تو سہی کہ اس سے اور کون کون سے فائدے حاصل ہوں گے؟ اس میں شک نہیں کہ جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے جو موقع میسر آئے اس کے سامنے فوراً سپر ڈال دینے سے قوت ارادی اور شخصیت کا وہ طلسم ٹوٹ جاتا ہے جس کی بنیاد اسی مضبوط قوت ارادی پر قائم ہوتی ہے اور جہاں تک ہم سمجھتے ہیں شخصیت سازی کا زود اثر اور سب سے آزمودہ نسخہ یہی ہے کہ جنسی لذتیت کے بے مہار جذبے کو قابو میں رکھا جائے۔
یہ عمل ابتدا میں قدرے دشوار ضرور ہوگا لیکن اگر اس کی عادت ڈال لی جائے تو یہ طریقہ سہل اور بے حد آسان ہوگا ورنہ بصورت دیگر جو شخص شہوت اور مخصوص جنسی لذت کے پیچھے دیوانہ ہوتا ہے، ایسا آدمی دنیا کی ہر چیز کو شہوت کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ہر صاف ستھری پاکیزہ چیز اسے مشکوک نظر آتی ہے۔ بلندی اور عظمت کے حصول کے لیے اس کا حوصلہ مردہ ہوتا جاتا ہے۔ عورتوں کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے جاتا رہتا ہے۔ سماج کے ہر بندھن سے آزاد ہونے کے لیے اس کا دل بے چین ہوتا ہے اور انجام کار اکتاہٹ اور ہر چیز سے جی اچاٹ ہونے کے سوا کوئی چیز اس کے ہاتھ نہیں آتی۔
لیکن اس کے برخلاف جو شخص جسمانی خواہشات اور نفسانی تقاضوں سے اپنے آپ کو بلند رکھتا ہے، اس کی زندگی بلند درجات اور پاکیزہ احساسات سے پر ہوتی ہے۔ اس کے دل میں خوشی اور مسرت کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں جن سے پاک و صاف محبت کے چشمے جاری ہوتے ہیں۔ تب اس کے پورے جسم، اس کے دل، اس کے کل افکار پر شرافت اور عالی نسبی کی چھاپ نمایاں ہوتی ہے اور اس کی پوری زندگی رفعت و عظمت اور سر بلندی سے لبریز، ترو تازہ اور شاداب ہو جاتی ہے۔

یہ ایک بات ہوئی۔ پھر جس کی زندگی میں شادی سے پہلے متعدد عورتیں داخل ہوتی ہیں، اگر آگے چل کر اس کا کسی عورت سے نکاح ہو جاتا ہے، حقیقت میں اس کے دل کو قرار نصیب نہیں ہوتا، نہ اس کی ایک سی حالت باقی رہتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے دل میں امنڈنے والے جذبات کو سمجھنے سے بھی قاصر ہوتا ہے۔ پھر بکثرت ایسا ہوتا ہے
کہ نوبت طلاق کی آ جاتی ہے۔
جبکہ جو شخص شادی سے پہلے تک پاکیزہ اور صاف ستھرا ہوتا ہے، ایسا آدمی عورت کے احترام کا عادی ہوتا ہے، اپنی شریک حیات اور بال بچوں کی اس کے دل میں قدر ہوتی ہے۔ الفت اور محبت کے اندر اسے ابدی اور دائی تحفہ نظر آتا ہے اور مرد کی اس بے لوث محبت میں اس کی اہلیہ اخلاص اور صداقت کا گہرا اثر پاتی ہے۔ جس کے بعد وہ بھی اسے ٹوٹ کر چاہتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بس اسی کی ہو کر رہ جاتی ہے۔

آخر میں ہم عرض کریں گے کہ ازدواجی زندگی کے دوران میں بھی بےجا لذتیت سے پرہیز کرنا بے حد ضروری ہے کیونکہ متعدد چیزیں آدمی کو پرہیز کرنے اور رکنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ مثلاً یہی کہ جلد جلد حمل قرار نہ پائے ، دو بچوں کے درمیان پیدائش کا وقفہ طویل ہو اور کسی قسم کی بیماری در پیش نہ ہو وغیرہ۔
اور جو شخص شادی سے پہلے ہی اپنے اوپر قابو رکھتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کی مشق بہم پہنچاتا ہے وہ تمام حالات میں اپنی اہلیہ کی مصلحتوں اور ضرورتوں کو ان اجمال میں مقدم رکھنے کی دل سے خواہش کرتا ہے ۔۔۔۔ اس مقام پر پہنچ کر ممکن ہے قارئین یہ سوچیں کہ یہ نظریہ تو بہت خوب ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟
جواب میں ہم عرض کریں گے کہ فطرت پسند آدی ازدواج سے پہلے ٹھوکریں کھانے سے خود کو بچا سکتا ہے جس کی بکثرت مثالیں بھی پائی جا سکتی ہیں اور اگر قارئین یہ کہیں کہ اس قسم کی روک تھام کہیں صحت کے لیے مضر نہ ہو تو جواب میں ہم عرض کریں گے:

1) کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ لذتیت سے پرہیز کی صورت میں جنسی اعضا میں لاغری آ جاتی ہے لیکن صحیح حقیقت اس کے برعکس ہے اور اس صورت میں اطبا سے مراجعت ضروری ہے اور ان سے مراجعت کی صورت میں وہ بتائیں گے جن والدین نے جنسی وظیفہ کو بہتر طریقہ پر ادا کرنے کی مشق بہم پہنچائی ہے ان کی عزت وعصمت ازدواج سے پہلے بھی محفوظ اور بے داغ رہی ہے۔

2) بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وظیفہ زوجیت سے پرہیز کی صورت میں جنسی اعضا میں ہیجان پیدا ہوتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس عمل کو کرتے رہنے سے ہیجان بڑھتا ہے کیونکہ جس حد تک یہ وظیفہ ادا ہوگا متعلقہ اعضا حساس اور ان کی ذکاوت حس تادیر تیز ہوگی۔ پھر وہ دن آئے گا جب ان کے اندر کسی قسم کی قابل برداشت قوت ارادی نہ ہوگی۔ لیکن اگر عملاً احتیاط ملحوظ ہوگی تو اس کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہوگا اور رغبت اس حد تک نرم اور معتدل ہوگی کہ افکار اور خیالات میں بھی سکون آجائے گا۔

3) کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ وظیفہ زوجیت سے پرہیز کے نتیجہ میں آدمی مشت زنی جیسی گندی عادت کا شکار ہو کر رہ جائے گا کیونکہ یقینی طور پر بداطوار دوستوں اور ہیجان انگیز مناظر کی وجہ سے بعض نوجوانوں کو اس کی لت پڑ جاتی ہے اور جب ایک مرتبہ اس کا مزہ لگ جاتا ہے تو بار بار ذہن اس کی طرف منتقل ہوتا ہے کیونکہ قوت ارادی ختم ہوجانے کی وجہ سے اس کا رجحان غالب ہوتا ہے۔ اسی طرح جیل خانوں اور اس کے اندر رہنے والوں میں یہ عادت بد کہیں زیادہ پانی جاتی ہے۔ لیکن اس بد عادت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ابتدا سے ہم نے جس علاج کی جستجو کی اور جسے تیر بہدف پایا وہ یہ ہے کہ دل میں زبردست قوت ارادی اور اندرونی پاکیزگی کا جذبہ موجزن ہو۔ لیکن بایں ہمہ ہم ایسے لوگوں کو فراموش نہیں کر سکتے جو عورتوں کے پیچھے بھی لگے رہتے ہیں اور دوسروں کی بہ نسبت اس بدعادت کا خود ہی زیادہ شکار بھی ہوتے ہیں۔ بالخصوص جب انہیں اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے عورتیں میسر نہیں آتیں تو جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مشت زنی جیسی بد عادت سے زیادہ آسان کوئی اور صورت انہیں نظر نہیں آتی۔ اس لیے تمام چیزوں سے بہتر اور کارگر شکل یہی ہے کہ لذتیت سے پر ہیز کو مفید اور ضروری خیال کیا جائے ورنہ پھر کسی اور چیز سے نفع کی امید بھی دشوار ہوگی۔

4) بعض لوگ یہ نتیجہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ اجتناب اور پرہیز سے دو خطرے رونما ہوتے ہیں:

اول یہ کہ طویل عرصہ تک پرہیز کرنے کے نتیجہ میں مادہ منویہ ختم ہوتا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرض بھی بکثرت جنسی فعل انجام دینے سے لاحق ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بیماری پرہیز کے نتیجہ میں نہیں بلکہ بد پرہیزی کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔

دوم یہ کہ اس قسم کے شدید پرہیز کی وجہ سے کثرت احتلام کا عارضہ لاحق ہوتا ہے (یعنی نیند کی غفلت میں منی نکل جاتی ہے)۔ لیکن جہاں تک ہم سمجھتے ہیں، دوران احتلام خواب دیکھتے ہوئے اگر منی کا اخراج ہوتا ہے تو یہ ایک فطری چیز ہے اور اس صورت میں متعلقہ اعضا زائد منی خارج کرتے ہیں اور یہ حرج کی بات نہیں بلکہ ہم اس امر کو مہلک سمجھتے ہیں کہ نوجوان اس کو خطرناک سمجھیں۔ کیونکہ بسا اوقات ایسا بھی ہوگا کہ نوجوان احتلام کے ڈر سے غلط افکار میں پڑ جائیں گے اور یہ غلط افکار اور سیاہ تصورات ان کی نادانی اور کم فہمی کا نتیجہ ہوں گے۔

نیز ایک اور چیز سے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے کہ کبھی جنسیات کے مختلف گوشوں کا دل میں تصور کرتے رہنے سے بھی کثرت احتلام کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد بلا واسطہ یہ کام ارادہ کے ساتھ جڑ جاتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ شدید پرہیز کا نتیجہ نہیں ہوگا بلکہ روحانی پستی اور اخلاقی انحطاط اس کی اصل وجہ ہوگی۔
جہاں تک نامرد ہونے کا تعلق ہے، جس کا شکار بھی بہتیرے نوجوان ہوتے ہیں تو اس کی وجہ بھی شدید پرہیز نہیں بلکہ اس کی حقیقی وجہ دراصل مشت زنی اور بکثرت مباشرت ہے۔

بہرکیف اس موضوع پر گفتگو کافی طویل ہو سکتی ہے، اس لیے ہم قارئین کو مشہور اطبا سے مراجعت کرنے اور ان کی تصنیفات کے مطالعے کا مشورہ دیں گے۔ جس کے بعد انہیں بھی یقین ہوگا کہ ہم نے کوئی چیز گھڑ کر پیش نہیں کی ہے بلکہ یہ صحیح حقائق اور بڑی حد تک تجربہ میں آئی ہوئی باتیں ہیں۔

ماخوذ از کتاب: تحفۃ العروس
تالیف : محمود مہدی استنبولی - اردو ترجمہ : مختار احمد ندوی

The significance of sensual energy.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں